بریکنگ نیوز:وزیر مملکت علی محمد خان اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے درمیان شدیداختلافات، بات وزیراعظم عمران خان تک پہنچ گئی

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے وزراء ایک بار پھر متفق نہ ہوسکے۔وزیر مملکت علی محمد خان نے ضیا اللّٰہ بنگش کا خیبر پختونخوا کے اسکولوں کی بچیوں کے لیے عبایہ کے اقدام کو احسن قرار دیا۔دوسری طرف وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے خیبرپختونخوا میں طالبات پر برقعہ اور چادر کی پابندی کے فیصلے

پر تنقید کی تھی۔علی محمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ضیااللّٰہ بنگش کا خیبرپختونخوا میں اسکول کی بچیوں کے لیے عبایہ، برقعہ اور چادر کو لازمی قرار دینا احسن اقدام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حجاب عین اسلام اور مدنی ریاست و آئین کے مطابق ہے، اس کو عجلت میں واپس لینے کے اقدام سے متفق نہیں، فیصلے کو واپس بحال کیا جائے۔وزیر مملکت نے اعلان کیا کہ طالبات کے عبایہ جیسے احسن اقدام پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے بات کروں گا۔اس سے قبل خیبرپختونخوا میں طالبات پر برقعہ اور چارد کی پابندی کے فیصلے پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے تنقید کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکوں کی بدتمیزی کی سزا کیوں کر لڑکیوں کو دی جائے، جو لڑکیوں کو تنگ کریں انہیں سزا ملنی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے وزراء ایک بار پھر متفق نہ ہوسکے۔وزیر مملکت علی محمد خان نے ضیا اللّٰہ بنگش کا خیبر پختونخوا کے اسکولوں کی بچیوں کے لیے عبایہ کے اقدام کو احسن قرار دیا۔شیریں مزاری نے مزید کہا کہ ہمیں جنرل ضیا الحق کے دور کی طرف نہیں پلٹنا چاہیے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے صوبائی حکومت کی جانب سے حکم منسوخ کیے جانے کو سراہتے ہوئے اسے دانشمندی قرار دیا۔اس سے قبل چائلڈ میرج بل پر بھی وفاقی وزرا آمنے سامنے آگئے تھے، 3 وفاقی وزراء نے بل کی مخالفت جبکہ ایک وزیر نے حمایت کی تھی۔چائلڈ میرج کی مخالفت کرنے والے وزرا میں وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان شامل تھے جبکہ بل کی حمایت شیریں مزاری نے کی تھی۔