کبھی کے سیاسی کزن۔۔۔۔ مگر آجکل ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کے درمیان کیا دشمنی ہے ؟ ڈاکٹر شاہدمسعود کا حیران کن انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک) سینئرتجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان اور شیخ رشید کا طاہر القادری کو فون کرنا بنتا تھا، سیاست میں اتنی لڑائی بھی اچھی نہیں ہوتی،عمران خان کو چاہیے موجودہ حالات میں چودھری شجاعت کوپل بنا ئیں،چودھری شجاعت کے سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔انہوں

نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند مہینو ں سے مولانا فضل الرحمان اجلا س کریں گے، رہبرکمیٹی بیٹھے گی، کچھ نہ کچھ توایسا پس منظر میں ہورہا ہے ، جو خبروں میں نہیں آرہا ہے۔معاملات ابھی تک اپنی حتمی شکل میں طے نہیں ہوئے۔میں نے کہا کہ تھا کہ اسمبلی میں تبدیلی اور ڈیل کی بات ہوئی لیکن رک گئی۔ آج عمران خان نے پھر کہا کہ میں ڈیل نہیں کروں گا۔یہ بات بابر اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ میں ڈیل نہیں کروں گا۔شیخ رشید کی بات سنیں تو وہ بالکل الگ لگے گی۔ وہ کہتے کہ شہبازشریف پھر ان ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ملکی سیاسی معاملات ابھی درمیان میں ہی تیر رہے ہیں۔شہبازشریف کی نوازشریف سے خصوصی ملاقات ہوئی ہے۔ان کے ساتھ لیگل ٹیم بھی تھی،شہبازشریف نے نوازشریف کا خصوصی پیغام بھی بھجوایا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا سفارتی محاذ پر بڑا امتحان ہے،اسلامی اتحاد کا بیان آیا ہے ایران کے ہتھیار ہیں۔ لیکن جب اسلامی اتحاد بنا تھا تواس وقت یہ تھا کہ یہ کسی مسلم ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔لیکن اب بیان آگیا ہے۔اسی سلسلے میں عمران خان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوگی۔ انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بتایا کہ حفیظ شیخ کو ایک بار عوام کو بتانا چاہیے کہ ایف اے ٹی ایف والی کس نے بلا سر پر ڈالی ہے۔ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف گلے پڑا ہوا ہے۔ ابھی بھی ایف اے ٹی ایف خوش نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد 20ستمبر تک پاکستان میں قیام کرے گا۔انہوں نے کہا کہ فوری نجکاری کرو۔ابھی تک مقررہ ہدف تک ٹیکس بھی اکٹھا نہیں کیا؟یہ پاکستان کے گردایک دائرہ کھینچا گیا ہے۔کشمیر ، افغانستان،احتسابی ہنگامہ، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف سب آپس میں منسلک ہیں۔عمران خان سراج الحق کو بلالیں، سیاست میں اتنی لڑائی بھی اچھی نہیں ہوتی۔شیخ رشید نے طاہر القادری کو فون تک نہیں کیا۔سنجیدہ سیاستدانوں میں چودھری شجاعت اور پرویزالٰہی نے کبھی ایسی باتیں کیں؟عمران خان کا بھی فون کرنا بنتا تھا۔عمران خان کو چودھری شجاعت کو پل بنا کر کردار ادا کرنا چاہیے۔چودھری شجاعت کے سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان سب سے تعلقات ہیں۔