تم دیکھتے ہی رہ جاو گے اور حکومت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔۔۔ تحریک انصاف میں اختلافات کے پس پشت کونسی طاقت نکلی؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو توڑنے میں ہم کسی کے ساتھ نہیں، حکومت ہٹانے میں سب کے ساتھ ہیں،پاکستان ایک گلدستہ ہے، اس کو منتشر کون کررہا ہے؟ کراچی میں آپ کو سب قومیتیں ملیں گی، آج 149 کا تذکرہ کیا جارہا ہے،بھیڑے کی طرح

حکومت بہانے مت بنائے، فیڈریشن کی بات کرے،جیوے میرا پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور سندھ، تبھی بنے گا پاکستان، اور پارلیمان چلے گا۔ جمعہ کو اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہاکہ پاکستان ہمارے لیے بہت بڑی نعمت، چھاؤں اور پہچان ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاق ایک گلدستہ ہے اس کو کون تباہ کر رہا ہے یہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں ان کو قوم اور ملک سے کوئی لگن نہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے،کچرے پر سیاست نہیں ہوتی،کچرا تو لاہور میں بھی بہت ہے اس کا کبھی ان کو کوئی خیال نہیں آیا یہ بس آپس میں ہمدردیوں کی سیاست ہے ۔انہوں نےمزید کہاکہ حکومت کو ہٹانے میں ہم سب کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو توڑنے میں ہم کسی کے ساتھ نہیں اور اس حوالے سے قیادت نے واضح کہہ دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جیوے پنجاب، جیوے سندھ، جیوے کے پی اور جیوے بلوچستان سے ہی وفاق بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اچھے جذبے کا اظہار اسد عمر نے کیا، ان کا فوکس مسلم ریاست تھا جس کو ہم آج بھی مانتے ہیں اور آنیوالی نسلیں بھی مانیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر تاریخ کا حوالہ آپ دیتے ہیں تو پھر اس کا کریڈٹ بنگال اور سندھ کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی اپنی تاریخ بنالے تو پھر کیا کہیں،جب سندھ میں الیکشن ہوئے تو آدھی نشستیں کانگریس اور آدھی مسلم لیگ نے جیتیں۔ انہوں نے کہاکہ جی ایم سید پکے مسلم لیگی تھے اور قائد کے آگے جھنڈا لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ تین نشستیں مسیحی افراد کی تھیں، جو غیر جانبدار ہوگئے، تین دن گھنٹی بجتی رہی۔ انہوں نے کہاکہ نوید قمر کے نانا میرا محمد شاہ سپیکر تھے، سندھ اسمبلی نے قراردار منظور کی اور لیاقت علی خان نے جھنڈا لہرایا۔ انہوں نے کہاکہ سندھی اسی وجہ سے تھوڑے سے مغرور ہیں، پاکستان سب نے ملکر بنایا لیکن قرارداد صرف بنگال اور دوسرا سندھ میں منظور ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک گلدستہ ہے لیکن اس کو منتشر کون کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم گریز کررہے ہیں مگر حکومت نے پھر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں آپ کو سب قومیتیں ملیں گیں، لیکن 149 کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھیڑے کی طرح حکومت بہانے مت بنائے، فیڈریشن کی بات کرے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ایک لچر شخص ہندوستان کا حکمران ہے، کشمیر کی صورتحال سامنے ہے،اس وقت ایران کی صورتحال، افغان مذاکرات صورتحال سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ذمہ دار لوگ ایسے خطرات میں ایسی بات کرینگے تو صورتحال تشویشناک ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جیوے میرا پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور سندھ، تبھی بنے گا پاکستان، اور پارلیمان چلے گا۔