بریکنگ نیوز: وزیراعظم عمران خان کا بڑا کھڑاک ۔۔۔ اہم ترین شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں انہوں نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، سیکریٹری ہاؤسنگ، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی انور علی اور معاون اطلاعات فردوس

عاشق اعوان شریک ہوئیں۔اجلاس میں کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دے دی۔اجلاس میں وزیر اعظم کو زوننگ سے متعلق قوانین کے استعمال پر بریفنگ دی گئی جبکہ انہیں معلومات تک رسائی، طریقہ کار آسان بنانے اور غیر ضروری منظوری کے خاتمے س متعلق بھی آگاہی دی گئی۔وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں تعمیراتی شعبے کی آسانی اور کاروباری بہتری کے لیے مختصر و طویل مدتی روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔اس سے قبل اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کنٹریکٹ انفورسمٹ پر عمل اور لینڈ ریونیو ریکارڈ کو مزید منظم کیا جائے۔ نظام جدید خطوط پر استوارکرنے کے لیے وسائل بروئے کار لائے جائیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی تھی کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے۔ایک اور خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے’ کامیاب نوجوان پروگرام‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں دس لاکھ نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔پروگرام کا مقصد نوجوانوں کی خودمختاری اور فلاح سے متعلق حکومتی پالیسی کو عملی شکل دینا ہے، جسے کامیاب بنانے کے لیے اقوام متحدہ نے 30ملین امریکی ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کی 7 اہم باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔1۔ سمیڈا کے اشتراک سے ملک میں آئندہ چند سالوں کے دوران دس لاکھ نوکریاں پیدا کی جائیں گی، جس سے نوجوانوں کو بقول حکومت خود مختار بنانے کا ہدف حاصل ہو سکے گا۔2۔ وفاقی حکومت نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لیے دو سو ارب روپے خرچ کرے گی۔ اس سلسلے میں 24 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔3۔ اقوام متحدہ سے ملنے والی 30 ملین ڈالرز کی امداد دو لاکھ نوجوانوں کی مالی امداد پر خرچ کی جائے گی۔4۔ تعلیم کے مواقعوں کے علاوہ نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے نوجوان روزگار تلاش کرنے کے قابل ہو سکیں۔5۔ قومی یوتھ کونسل بنائی گئی ہے، جو وزیر اعظم کے یوتھ پلز پورٹال کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی اور خوشحالی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ان کی آرا اور خیالات اکٹھا کرے گی۔ اس سے قومی پالیسیاں بنانے میں نوجوانوں کی آرا کو مدنظر رکھنا آسان ہو گا۔6۔ پروگرام کے تحت قومی یوتھ ڈیویلپمنٹ انڈکس تیار کیا جائے گا اور اس سلسلے میں 40 وفاقی اور صوبائی محکموں کی شناخت کی گئی ہے جومدد فراہم کریں گے۔7۔ محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے گی جس سے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے مزید پروگرام شروع کرنے میں مدد ملے گی، جیسے یوتھ اکنامک ڈویلپمنٹ اپماورمنٹ پروگرام اور وزیراعظم کی نوجوانوں کے لیے سبز تحریک شامل ہیں۔آئندہ چند روز میں کامیاب نوجوان پروگرام وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعدا س پر عمل شروع کیا جائے گا۔