’’عثمان بزدار تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے ۔۔۔۔‘‘ وزیراعلیٰ پنجاب کو عمران خان نے طلب کر لیا، آگے کیا ہونے والا ہے ؟ بڑی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پنجاب پولیس ریفارمز کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اسلام آباد طلب کر لیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پنجاب پولیس کی کارکردگی سے ناخوش ہیں.تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نےوزیراعلیٰ پنجاب کواسلام آبادطلب کرلیا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے

اور پولیس ریفارمز سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کریں گے اور بریفنگ دیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پنجاب میں پولیس گردی کے واقعات پر ناراضگی اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں ، جہاں ان کی وزیراعظم سے ون آن ون ملاقات ہوگی ، جس میں پنجاب پولیس نظام میں اصلاحات پر بات چیت کریں گے جبکہ زونز اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔یاد رہے پنجاب میں 8 ماہ میں پولیس کی حراست میں 17 ملزمان کی ہلاکتوں کا انکشاف ہوا تھا ، ذرائع کے مطابق 14 ہلاکتوں پر 84 پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں، پنجاب پولیس ناقص کارکردگی کو بچانے کے لیے واقعات کو دبانے پر مصروف عمل ہے۔خیال رہے چند روز قبل بھی اے ٹی ایم کارڈ چرانے والے صلاح الدین کو پولیس نے دوران حراست تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا اور پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیا تھا ، جس کے بعد انچارج سی آئی اے سمیت چار پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہبازگل نے کہا کہ پولیس تشدد اور ٹارچر کیلئے نہیں عوام کی خدمت کے لیے ہے، پنجاب میں کچھ اصلاحات فوری اور کچھ لانگ ٹرم میں لائیں گے، آئندہ کبھی ٹارچرسیل ملا تو ڈی ایس پی اور ڈی پی او پرمقدمہ ہوگا۔تفصیلات کے

مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان شہبازگل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا لیڈر مستقبل کا سوچتے ہیں، قوم قائداعظم محمد علی جناح کی احسان مند ہے ، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ٹارچر سیل بنا رکھا ہے، آج دو قومی نظریہ پوری دنیا پر آشکار ہوچکا ہے.شہباز گل کا کہنا تھا کہ کشمیرمیں ظلم ہویا کہیں اور،ظالم کواس کی قیمت چکانی پڑتی ہے، کےپی میں پولیس کا نظام ٹھیک کرنے میں ڈھائی سال لگے تھے، شادی میں ہوائی فائرنگ کیلئے ایس ایچ او کو پیسے دیے جاتےہیں، پنجاب میں غلط ایف آئی آر کرانے کا ریشو سب سے زیادہ ہے، پنجاب پولیس میں ہمارے اپنے ہی رشتے دار فرائض انجام دیتے ہیں۔کشمیرمیں ظلم ہویا کہیں اور،ظالم کواس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا وزیراعظم کا واضح پیغام ہے پولیس لوگوں کی خدمت کیلئے ہے، بحیثیت قوم ہمارے اندر صبر نہیں، معاشرے میں کون ہے جو تشدد کرنیوالے رشتےدار سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا پنجاب پولیس کوئی مریخ سے آئی ہے، آب زم زم کا پانی ایئرپورٹ پرلیٹ ہوجائےتو اندر گھستے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ خود احکامات دے کر ایا گیا، ہمیں اپنے اداروں کو درست کرنا ہے ، کسی کو کسی صورت تشدد کرنے کی اجازت نہیں۔وزیراعظم کا واضح پیغام ہے پولیس لوگوں کی خدمت کیلئے ہے۔شہباز گل نے کہا ملزم پرتشدد کرانے کیلئے بھی مخالفین پولیس کو پیسے دیتے ہیں، ہماری اپنی پارٹی کے لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک آزاد بورڈ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ٹھیک کرنا ایک مشکل کام ہے ، پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، پنجاب حکومت پولیس کا نظام ٹھیک کرکے دے گی، شہریوں میں پولیس کا ڈر ختم کریں گے، تھانے کے قریب ایک باکس لگانے لگے ہیں، تھانےکےقریب باکس آر پی اواورڈی پی او کھول سکیں گے، لوگوں کی باکس میں جمع شکایات پرتھانوں کی ریٹنگ ہوگی۔وزیراعظم جوحکم کریں گےوزیراعلیٰ وہ مانیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں کرپشن اورپرفارمنس کم ہےتوہم ذمہ دار ہیں، عثمان بزدارکووزیراعظم نے 5سال کیلئےوزیراعلیٰ بنایاہے، جو گالم گلوچ کرتےہیں وہ پورےسسٹم کوخراب کرتےہیں، وزیراعظم جوحکم کریں گےوزیراعلیٰ وہ مانیں گے، ہمیں کام کرنےدیں،کچھ چیزیں بگڑی ہیں ٹھیک کرنےدیں۔