IMF ٹیم کی 16 ستمبر کو پاکستان آمد ، کیا بڑا کام ہونیوالا ہے ؟ تازہ ترین خبر

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) آئی ایم ایف کی ٹیم 16ستمبر سے20ستمبر کے دوران پاکستان کا معمول کا دورہ کرے گی ، آئی ایم ایف ٹیم کی قیادت مشرق وسطیٰ او ر وسط ایشیا کے لئے آئی ایم ایف کےڈائر یکٹر جہاد اظہر کریں گے آئی ایم ایف کے مشن چیف ارنسٹو رامیز ریگو اور پاکستان

میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا ڈابن بھی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شریک ہونگے، ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں آئی ایم ایف پروگرام کےتکنیکی پہلوئوں پر غور کیا جائیگا، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ رواں مالی سال کیلئے پرائمری خسارے کو 0.6فیصد تک لانے سے اتفاق کیا ہوا ہے اور حکومت 800ارب روپے کے نان ٹیکس ریونیو اور نجکاری سے حاصل کرنے کی توقع ہے ،ذرائع کےمطابق 800ارب روپے میں سے 200ارب روپے ٹیلی کام شعبے کے لائسنس کی تجدید فیس کی مد میں ، 300ارب روپے اسٹیٹ بنک کے منافع اور 300ارب روپے آرایل این جی دو پلانٹس کی نجکاری سے حاصل ہونگے، ٹیلی کام کمپنیوں سے لائسنس کی تجدید کی 70ارب روپے کی فیس وزارت خزانہ کو وصول ہو چکی ہے ۔ حکومت عالمی مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر سے دو ارب ڈالر کے سکوک بانڈ ز جاری کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی پہلی سہ ماہی کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم دسمبر میں پاکستان آئے گی ، آئی ایم ایف کے اصلاحات ایجنڈے کے سات فارمنس نکات ، پانچ اہداف اور 13ڈھانچہ جاتی بینچ مارک پرحکومت کی جانب سے کام تیزی سے جاری ہے، ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں رواں مالی سال کےپہلے دو ماہ میں گزشتہ برس کے مقابلےمیں 28فیصد اضافہ ہواہے، وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئی ایم ایف کے پہلی سہ ماہی کے ڈھانچہ جاتی بینچ مارک اور اہداف کو حاصل کر لیا جائے گا کیونکہ ابھی تک اصلاحات پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے کاکردگی بہت حوصلہ افزا ہے۔