ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا بریفنگ کے دوران ان کے پس منظر پر کیا چیز بنی ہوئی تھی جس نے پوری دنیا کو سکتہ میں ڈال دیا؟ جان کر آپ بھی پاک فوج کی ذہانت کو داد دیں گے

راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور پاکستان کے لائحہ عمل اور جوابی صورتحال سے متعلق میڈیا کو خصوصی بریفنگ میںاپنے پس منظر میں کشمیر کا قومی نشان ’’چنار‘‘ آویزاں کیا ہوا تھا۔معمول کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر

کی میڈیا بریفنگ کے دوران ان کے ایک طرف تینوں مسلح افواج کے پرچم اور پس منظر سیاہ ہوتا تھا لیکن بدھ کو ہونے والی پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کا محور مقبوضہ کشمیر رہا اور ان کے پس منظر میں چنار کا نشان واضح تھا جو کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان بھی نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کر سکتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے (نو فرسٹ یوز) کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ بھارت سے جنگ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جنگ نہ ہو، جب مجبوری تو تب ہی جنگ واحد راستہ بچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر ’نو فرسٹ یوز‘ کی کوئی پالیسی نہیں ہے، جب تمام آپشنز استعمال کرلیے جائیں تو جنگ ہی آپشن بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سوچ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف 20 سال کی جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت پر اثر پڑا ہے، بھارت کی سوچ ہے کہ پاک فوج فارغ نہ ہو۔میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو وارننگ دے دی ہے کہ جتنی تکالیف کشمیریوں نے اٹھائیں ان سے دگنا بھارت کو اٹھانے پڑیں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ جنگ عزت اور غیرت کے لیے لڑی جاتی ہے نہ کہ پیسے کی بچت کے لیے، اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم مقابلہ کریں گے۔ ی جی آئی ایس پی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلئیر پالیسیز پریس بریفنگ یا جلسے جلوسوں میں نہیں بتائی جاتیں۔ یہ ریاستی پالیسی ہوتی ہے جس کا آپ کو بھی علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلئیر پالیسی پریس کانفرنس اور جلسے جلوسوں میں نہ بنتی ہے اور نہ ہی تبدیل ہوتی ہے۔ذمہ دار ریاست اس معاملے پر بات بھی نہیں کرتی کیونکہ یہ سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ جنگ میں ہتھیاروں اور فوج کی تعداد کو نہیں دیکھا جاتا ، یہ صرف حب الوطنی اور جذبے کی بات ہوتی ہے۔ آپ کو مکمل اعتماد ہونا چاہئیے ۔ یہ عوام کے کرنے کی بات نہیں ہے۔ عوام کو صرف اس بات کا یقین ہونا چاہئیے کہ ہماری اتنی صلاحیت ہے اور اگر جنگ ہوئی تو تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا اور ان پر فیصلہ لے کر عمل کیا جائے گا۔ہم پر جس ذمہ داری کا بوجھ ڈالا گیا ہے ہم اس سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ ڈی جیآئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مودی کہتا ہے ثالثی قبول نہیں ہے۔ اگر کشمیر میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو جنگ لازم ہو جائے گی۔