’’ میر صاحب آپ بس سوچیں، ہمیں کرنے دیں۔۔۔‘‘ پاکستانی افواج کیا کرنے جارہی ہے؟ میڈیا بریفنگ کے دوران حامد میر کا سوال، میجر جنرل آصف غفور کے جواب سے حال میں سناٹا چھا گیا

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) آج میجر جنرل آصف غفور پریس کانفرنس کر رہے ہیں، پریسن کانفرنس میں صحافیوں کو بھی سوال کرنے کا موقع دیا گیا، سوال کرتے ہوئے نامور اینکر و سینئر صحافی حامد میر نے سوال کیا کہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو پھر یہ بتائیے گا کہ ہماری افواج

جو ہیں وہ مشرقی سرحد پر آجائیں گی تو اس میں پاک فوج کی کیا سٹریٹجی ہوگی؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کے فیصلے اور جنگی مسائل کا حل پریس کانفرنسوں میں نہیں بتائی جاسکتی، کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، وہ ہم پر چھوڑ دیں، آپ بس یہ سوچیں کہ کرنا کیا ہے۔ سلیم صافی نے سوال پوچھا کہ ماضی میں بھی ہمیں بلیک کرنے کی کوششیں کی گئیں ،ہمارے وزراء کہتے ہیں ہمارے پاس پاؤ اور آدھے پاؤ کے بم ہیں، یہ بتائیے کہ ہمارے اسٹیٹ اور افواج پاکستان کی نیوکلیئر پالیسی کیا ہے، ہم اس کو کس حد تک ، کس جگہ پر استعمال کریں گے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایسس پی آر میجر جنرل آآصف غفور کا کہنا ہے تھا کہ صافی صاحب آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے لیکن اسکا جواب میرے قد سے بھی 12 فٹ اونچا ہے، یہ پالیسی پریس بریفنگ اور جلسے جلوسوں میں نہیں بتائی جاسکتی، یہ آُ جانتے ہیں، جو ذمہ دار ریاست ہوتی ہے وہ نیوکلئیر پالیسی کے بارے میں بات نہیں کرتی، جو آپ کے لیے سمجھنے کی بات ہے وہ صرف یہ ہے کہ جذبہ ہی سب کچھ ہے، قابلیت ہی سب کچھ ہے، آپ ان چیزوں کو سمجھے، میری درخواست ہے کہ ان موضوعات کو چھوڑ دیں، جب ملک کو خطرہ ہوگا ہم ہر قسم کا آپشن استعمال کریں گے۔ علاوہ ازیں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل

آصف غفور کا کہنا ہے کہ پوری دنیا یہ جان چکی ہے کہ پاکستان کو نظرانداز کر کے اپنے مقاصد کو پورا نہیں کر سکتے، ہمارے مشرق میں انڈیا ہے، ایک بڑی آبادی والا ملک ہے، وہاں پر آج کل ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے، اس سوا ارب والی آبادی کے ملک سے پوری دنیا کے مفادات منسلک ہیں، چائینہ ہمارے مغرب میں ہے جو کہ ہمارا دوست ہے، چائینہ کے انڈیا کے ساتھ بہت سارے معاملات ہیں لیکن چائینہ اور انڈیا اقتصادی مفادات کی خطر ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا، ہمارے ویسٹ میں افغانستان ہے، چالیس سالوں میں افغانستان نے شہادتوں اور محرومیوں کی علاوہ کچھ نہیں دیکھا، افغاننستان کی وار نے پاکستا کو بھی متاثر کیا، ایران ہمارے جنوب مغرب میں ہے انکے ساتھ ہامرے بھائیوں والے تعلقات ہیں، لیکن مڈل ایسٹ کے ساتھ متنازعہ تعلقات ہونے کے باوجود ایران برصغیر میں امن کے لیے کوششیں نہیں بلائی جا سکتی ، ہندوستان میں ایسی حکومت ہے جس نے عیسائی، سکھ ،دلت اور مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ کر دی گئی، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گاندھی کو قتل کیا، مودی حکوت نہرو کے نظریے کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے حرکات نے خے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پاکستان پچلے 40 سالوں سے دہشت گردی کے ناسور سے لڑھ رہا ہے، ان حالات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام ایک جنگ کا بیج بو رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی پہلی تقریر میں بھی امن کی بات کی گئی لیکن بھارت نے جنگی جہاز بھیجے اور منہ توڑ

جواب حاصل کیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ دو نیوکلیئر پاور میں جنگ کی گنجائش نہیں، لیکن بھارت پھر بھی ہمارے ساتھ جنگ کرنا چاہات ہے، کلبھوشن یادیو ایک اسکی مثال ہے جو پوری دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے ایک فعال کردار ادا کیا ہے، افغانستان میں امن سے مغرب کی سرحد محفوظ ہوگی ، انڈیا یہ چاہتا ہے کہ اگر پاک فوج مغرب کے بارڈ سے فارغ ہوجاتی ہے تو وہ انڈیا کے لیے خطرہ بن جائے گی اس لیے انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کو مغرب سے فراغت ملتے ہی کوئی ایسا کام کیا جائے کہ پاکستان بھرپور جواب نہ دے سکے۔ میں بھارت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ، جنگیں معیشتیں اور ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی، جنگیں جذبوں اور قوموں سے لڑی جاتی ہیں، اگر کوئی حرکت کی تو 2؎7 فروری سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ تکیلف کے باوجود پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردودوں کے ذریعے حل کیا جائے، 5 اگست کو مودی سرکار نے گیر اخلاقی اقدام نے کشمیر کی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ اب یہ مسئلہ پاکستان کے درمیان جغرافیہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ پچھلے ایک مہینے سے کشمیری عوام 72 سالوں سے سے زیادہ تکلیف میں ہیں، سیاسی لیڈر قید ہیں، ہر چیز پر پہرہ ہے، کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، بھارت اپوزیشن لیڈران بھارت کے کو سر نگر کا دوریہ نہیں کرنے دیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جو کشمیر کے لیے جو اقدامات کیے ہیں انکے کیا اثرات نکلے ہیں،