پوری دنیا ہکا بکا رہ گئی ۔۔۔ پاکستان اور ترکی نے مل کر کیا بڑا کام کرنے کا اعلان کر دیا؟ جان کر آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

اسلام آبا(ویب ڈیسک )ِوفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ تعلقات تعظیم اور ایک دوسرے پر بھروسے کی وجہ سے قائم ہیں،دونوں ملکوں کے درمیان ایوی ایشن سیکٹر میں مزید تعاون بڑھایں گے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق ترکی کے سفیر مصطفی یرداکل

سے ملاقات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ہوا بازی کے شعبے میں باہمی تعلقات پر اتفاق رائے کیا۔وفاقی وزیر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہتھرڈ، فورتھ اور فریڈم ٹریفک رائٹس کے تحت پاکستانی اور ترکش ایئرلائنز کارگو کے لیے لامحدود پروازیں چلا سکتی ہیں۔ترک سفیر مصطفی یرداکل نے واضح کیا کہ ترکی بھی پاکستان سے اپنے روابط بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔واضح رہےکہ پاکستان اورترکی کے مابین ایئرسروس ایگریمنٹ 1972میں ہوا،پی آئی اے اور ائیربلیو اس معاہدہ کے تحت ترکی میں آپریشنل ہیں جبکہ ترکی کی طرف سے ترکش ایئر لائن اور پیگاسس ائیرلائن استعمال ہوتی ہے.دونوں ممالک کے ایوی ایشن سیکٹر کے مابین 20 اکتوبر 2015 کو ایک اور ایم او یو پر دستخط ہوئے.اس معاہدے کے تحت پاکستانی ایرلاین استنبول انقرہ اور چار اور شہر میں آریشن جاری رکھیں گےجبکہ ترکش ایئر لائن کراچی، اسلام آباد، لاہور ،ملتان، فیصل آباد، کوئٹہ اور سیالکوٹ میں آپریشنل ہوں گے . دونوں ممالک کی ایئرلائنز 47 فلائٹ چلا سکتی ہیں.استنبول اور کراچی کے درمیان ہفتہ وار 14 فلائٹس,استنبول اور لاہور کے درمیان ہفتہ وار 7 فلائٹس,استنبول اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 7 فلائٹس,استنبول ملتان کے درمیان ہفتہ وار 7 فلائٹس,استنبول اور فیصل آباد کے مابین ہفتہ وار 4 فلایٹس,استنبول اور کوئٹہ کے درمیان ہفتہ وار 4 فلائٹس,استنبول اور سیالکوٹ کے درمیان ہفتہ وار 4 فلائٹس رکھنے پر معاہدہ ہوا. درمیان ہفتہ وار 7 فلائٹس,استنبول اور فیصل آباد کے مابین ہفتہ وار 4 فلایٹس,استنبول اور کوئٹہ کے درمیان ہفتہ وار 4 فلائٹس,استنبول اور سیالکوٹ کے درمیان ہفتہ وار 4 فلائٹس رکھنے پر معاہدہ ہوا.