آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک ساتھ 3 سال کی توسیع کا مطلب کیا ہے ، کسے کیا پیغام دیا جا رہا ہے ؟ پاک فوج کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ افسر نے پہیلی حل کر ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان سے البتہ ایک فاحش غلطی (بلنڈر) یہ ضرور سرزد ہوئی ہے کہ انہوں نے انڈیا کے حالیہ الیکشنوں میں مودی کی جیت پر جو تبصرہ کیا تھا اور جو امیدیں لگائی تھیں کہ اب ان کے بھاری مینڈیٹ کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا

پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔تو مسئلہ تو جلد حل ہو گیا لیکن عمران خان کی امیدیں، مایوسیوں اور نومیدیوں میں بدل گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت نے جو حالیہ اقدامات اٹھائے وہ اپنی نیچر میں ”شدید“ تھے اور اسی لئے عمران خان کی مایوسی اور ان کا ردعمل بھی ”شدید“ تھا۔ ان کی اسمبلی اجلاس والی تقریر کو یاد کیجئے جس میں انہوں نے ”نیوکلیئر بلیک میل“ کے بعد ضمیرِ عالم سے ”اپیل“ کی تھی کہ وہ مسئلے کی سنگینی کا نوٹس لے۔ لیکن ہندوستان کا پرنالہ ابھی تک وہیں کا وہیں ہے۔ پاکستان کی دوسری (مغربی) سرحد پر افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان دونوں اطراف سے گویا محصور ہو چکا ہے اور اس ”حصار“ کا غالب ترین بوجھ پاکستان آرمی پر ہے۔ انڈیا اور اس کے مربی (امریکہ) نے ثالثی کی پیشکش کرکے پاکستان کو ایک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم کو اپنے تنہا ہونے کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی مین سٹریم اگرچہ پسِ دیوارِ زنداں چلی گئی ہے لیکن باہر بیٹھے ہوئے اس کے فیض یاب طبقے (Benificiaries)امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک سال تو گزر گیا، عمران خان کے باقی چار سال بھی ایسے ہی گزر جائیں اور اس کے بعد ایک بار پھر ”بہاریں“ لوٹ آئیں گی…… ایک سردار جی کو تین سال کی قید ہو گئی۔ اس کی ماں روتے روتے بے حال ہو گئی تو سردار جی بولے: ”

ماں! تو جھلّی ہو رہی ہے……اس سال جیل جا رہا ہوں …… بیچ میں ایک سال ہی تو ہے اور اس سے اگلے سال واپس آ جاؤں گا!…… اتنی سی بات پر کیا رونا؟“ عمران خان کو داخلی دلدل ہی سے نجات نہیں مل رہی تھی کہ اب مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے یہ خارجی گرداب بھی ان کو گھیرنے لگے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک عزیز ترین ساتھی اسد عمر کو جس طرح سبکدوش کیا اور اس کے بعد اندرونی نظم و نسق چلانے کے لئے بار بار مختلف اشخاص کا جو ٹرائل سسٹم جاری ہے وہ ہمارے سامنے ہے…… وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع (فوج) اور وزارتِ خزانہ چار ایسی وزارتیں ہیں جو گویا کسی بھی حکومت کے چار ستون ہوتے ہیں۔ بریگیڈیئر اعجاز، شاہ محمود، جنرل باجوہ اور حفیظ شیخ کی چار رکنی ٹیم کے کاندھوں پر آج شدید دباؤ ہے۔ وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے سے دور کرنا نہیں چاہتے۔جنرل باجوہ کا تجربہ اور پروفیشنل علم و فن نہ صرف انڈیا اور افغانستان کے عسکری پیش منظر کو بڑی اچھی طرح جانتا ہے بلکہ ان کو پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کی جوہری دہلیز تک پہنچنے کی ٹائمنگ کا بھی بخوبی ادراک ہے۔ماضی میں وہ نہ صرف چین، روس، ایران، افغانستان، امریکہ، سعودی عرب، امارات، برطانیہ، بلجیم (ناٹو ہیڈکوارٹر) کے دورے کر چکے ہیں بلکہ ان ممالک کی پولیٹکل اور ملٹری لیڈرشپ کے ساتھ بھی ان کے مراسم ہمہ پہلو ہیں۔ وزیراعظم اس لئے جنرل باجوہ کو Replace کرنا نہیں چاہتے تھے۔ رہی یہ بات کہ ایک ڈیڑھ سال کی توسیع بھی دی جا سکتی تھی اور جنرل کیانی کی طرح اکٹھے تین سال کا عرصہ (Tenure) بہت سے پاکستانیوں اور غیر پاکستانیوں کو کھٹکے گا۔ لیکن علاقائی اور بین الاقوامی حالات جس نہج پر جا رہے ہیں وہ آئندہ تین چار سال تک شائد ایسے ہی رہیں۔ چنانچہ پاکستان کو دفاعی محاذ پر آج ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جو چومکھی لڑ سکے اور جنرل باجوہ ایک ایسی ہی شخصیت ہیں …… ہمارے خیال میں ان کی باردگر یہ تقرری اس تناظر میں پاکستان کے لئے ضروری تھی۔(ش س م)