چوہدری شجاعت کی حالت انتہائی تشویشناک، اب کہاں اور کس حال میں ہیں؟ افسوسناک اطلاعات موصول

برلن (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک خبر آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ کے سربراہ جرمنی میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت سخت تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین کے انتقال کا دعویٰ کیا جارہا تھا


لیکن خاندانی ذرائع نے ان خبروں کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آرہی ہے۔خیال رہے کہ چوہدری شجاعت حسین کو جرمنی میں انتہائی تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے جہاں خاندان کے افراد اور دوست احباب ان کی تیمار داری کیلئے موجود ہیں۔مونس الہیٰ نے ایک روز قبل ایک ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ ق لیگ کے سربراہ کو جلد ہی جنرل وارڈ میں منتقل کردیا جائے گا۔مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت روبصحت ہیں۔سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کے انتقال کی خبریں سامنے آئیں تو مونس الہٰی بھی میدان میں آگئے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مونس الہٰی نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین جرمنی میں روبصحت ہیں ، ان کی صحت میں بہتری کے حوالے سے ہم سب لوگ مطمئن ہیں۔ اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی چوہدری شجاعت کی خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جرمنی میں چوہدری شجاعت کے اہلخانہ سے بات ہوئی ہے اور وہ روبصحت ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق چوہدری شجاعت بہت جلد اپنے پاکستان واپس آنے والے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے وزیر اعظم عمران خان کا ابتدائی شیڈول تیار کر لیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان 23 ستمبر چار روزہ دورے پر نیویارک کمرشل پرواز کے ذریعے روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں وزیراعظم عمران خان ملائیشین ہم منصب سمیت متعدد عالمی رہنماوں سے سائڈ لائن ملاقاتیں کریں گے۔وزیر اعظم عمران خان سے امریکہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور تاجروں کی بھی ملاقاتیں ہوں گی۔ وزیراعظم عمران خان جنرل اسمبلی کے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور مظالم کواٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کی رات امریکہ سے واپس روانہ ہوں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیر اعظم کی آمد سے قبل امریکہ پہنچیں گے۔