مہنگائی کا جن بے قابو:سونے کی فی تولہ قیمت نے ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے

کراچی(ویب ڈیسک)سونے کی فی تولہ قیمت 600 روپے اضافے کے ساتھ 89 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔نجی نیوزکے مطابق ملک میں سونے کی قیمت میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے، اور سونا ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑتا ہوا 89 ہزار روپے فی تولہ کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔عالمی مارکیٹ

میں سونے کی فی اونس قیمت دوسرے روز بھی مستحکم رہی تاہم ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے نے ایک بار پھر 600 روپے فی تولہ کی اڑان بھری اور 89 ہزار روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جب کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں دس گرام سونے کی قیمت 514 روپے اضافے کے ساتھ 76 ہزار 303 روپے ہوگئی۔ اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1110 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت 951 روپے 64 پیسے پر مستحکم رہی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکا نے اپنے ذمے پاکستان کے واجبات میں مزید 44 کروڑ ڈالرز کی کمی کر دی، کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو طے شدہ 7.5 ارب ڈالر موصول ہونا تھے، تاہم صرف 3.2 ارب ڈالرز کے واجبات ہی موصول ہو سکے۔ تفصیلات کے مطابق ایک جانب تو امریکا افغان جنگ کے خاتمے کیلئے اور اپنی باعزت واپسی کیلئے پاکستان سے مدد کرنے کی بھیک مانگ رہا ہے، تو دوسری جانب امریکی حکومت پس پردہ پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا کے درمیان بظاہر یوں معلوم ہوتا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کچھ برسوں کے دوران تعلقات پر جمنے والی برف کافی حد تک پگھل گئی ہے۔ امریکا نے اپنے ذمے پاکستان کے واجبات میں مزید 44 کروڑ ڈالرز کی کمی کر دی، کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو طے شدہ 7.5 ارب ڈالر موصول ہونا تھے، تاہم صرف 3.2 ارب ڈالرز کے واجبات ہی موصول ہو سکے یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ امریکا پاکستان کے واجب الادا 9 ارب ڈالرز ادا کرنے پر غور کر رہا ہے۔تاہم امریکا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا ہے۔امریکا نے کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کی امداد میں 44 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کمی کر دی ہے۔ امریکا کو کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو 7.5 ارب ڈالر ادا کرنا تھے، تاہم اب تک امریکا نے پاکستان کو صرف 3.2 ارب ڈالرز ہی ادا کیے ہیں۔ جبکہ امریکا کل امداد 7.5 ارب ڈالر سے کم کرکت 4.1 ارب ڈالرز کی سطح تک لے آیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکا کو جو مدد فراہم کی گئی، تو یہ رقم اس تمام مدد کے اخراجات ہیں۔ امریکہ یہ رقم دے کر پاکستان پر احسان نہیں کرتا، بلکہ یہ پاکستان کے جائز اخراجات ہیں۔ تاہم اب امریکا نے بنا کوئی وجہ بتائے پاکستان کے واجبات میں 44 کروڑ ڈالرز سے زائد کی کٹوتی کر دی ہے۔