کیا جہاد کشمیر کی وجہ سے دنیا آزادی کشمیر کی تحریک کی مخالف ہوئی ؟ نامور صحافی نے ایسی بات کہہ ڈالی کہ آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے لئے کہیں بھی گرم جوشی نہیں ہے۔1965ء سے پہلے صورتحال اور تھی۔ مسلمان ممالک میں سے لگ بھگ نصف(تب ان کی گنتی دس بارہ سے زیادہ نہیں تھی‘ باقی نو آبادیاں تھے) پاکستان کے حامی تھے۔ خاص طور سے انڈونیشیا‘ ایران اور سعودی عرب۔ 1965ء ہی میں ایوب خاں نے

نامور کالم نگار عبداللہ طارق سہیل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مادر ملت کو صدارتی الیکشن میں جعلسازی سے ہرایا(اور پھر مبینہ طور پر کچھ عرصے بعد شہید کرا دیا)اس جعلی شکست پر سخت عوامی ردعمل کو بھانپ کر انہوں نے آزادی کشمیر کا ڈرامہ رچایا جو حقیقی مشکل میں بدل گیا۔ سوویت یونین نے معاہدہ تاشقند کر کے ہماری مدد کی۔ اس جنگ کے بعد سعودی حمایت بھی ٹھنڈی پڑ گئی اور ترکی اور انڈونیشیا کی بھی۔ ایران بدستور ہمارا حامی رہا۔ 1971ء میں دردناک واقعات ہوئے اور ایران بھی ہم سے دور ہو گیا۔ باقی دنیا میں بھی کشمیر پر ’’اصولی حمایت‘‘ کمزور پڑ گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزیر اعظم بن کر مسئلہ کشمیر کو کم از کم اصولی حد تک زندہ کیا لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے کہ تاشقند اور شملہ معاہدوں کے تحت کشمیر عالمی نہیں‘ دو طرفہ مسئلہ بن چکا تھا۔ بہرحال بھٹو صاحب کے دور میں اتنا ہوا کہ اسلامی ملکوں کا بلاک بنا جس کا سفارتی فائدہ پاکستان کو تھا۔ انہیں ہٹا کر ضیاء الحق آئے اور ساتھ ہی افغان مسئلہ چلا آیا۔ دنیا سوویت یونین کے خلاف متحد ہو چکی تھی اور بھارت الگ تھلگ کونے سے جا لگا تھا۔ قدرتی طور پر کشمیر کاز پھر سے جاگ اٹھا۔ لیکن فائدے کا یہ زبردست موقع ضیاء الحق اور ان کے رفقائے کار نے جہاد کشمیر شروع کر کے گنوا دیا۔ جہادکشمیر کی وجہ سے دنیا آزادی کشمیر کی مخالف ہوتی گئی اور بھارت میں بھی مسلمان دشمنی کی وبا پھوٹ پڑی۔ وجہ سنگ پریوار نے یہ بتائی کہ پہلے کشمیری بھارتیوں کومار رہے تھے‘ اب مسلمان ہندوئوں کو مار رہے ہیں۔ حزب المجاہدین کو احساس ہوا تو اس نے علانیہ توبہ کر لی۔ کارگل کی جنگ نے دنیا بھر میں تحریک آزادی کشمیر کا چہرہ ہی بدل دیا۔ دنیا اسے ’’دہشت گردی‘‘ قرار دے رہی تھی اور جارحیت بھی۔ یوں مسئلہ کشمیر کے تابوت میں آخری کیل پرویز مشرف نے ٹھونکی۔ مقبوضہ کشمیر کی طرف سے آنے والے دنوں میں پاکستان کے مسائل بڑھنے والے ہیں۔ عمران خاں سارے عوام کو ہائے روٹی‘ ہائے پانی‘ ہائے بجلی کی تال پر نچا رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بڑی گڑ بڑ ہوئی تو قومی یکجہتی کے لئے کون اٹھے گا۔ بہرحال ‘ خوشی ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی قلمکار اورصدا کار‘ عالمی ایجنڈے پر کشمیر آ گیا‘ کے نقارے بجا رہے ہیں۔ (ش س م)