افسوسناک خبر۔۔۔ میر حاصل بزنجو کو اسپتال منتقل کر دیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینیٹر اور نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر میر حاصل بزنجو کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹر میر حاصل بزنجو کو طبیعت خرابی پر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق میر حاصل بزنجو کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہیں اور ان کی کیمو

تھیراپی کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ کل پاکستانی سیاست کا انوکھا اپ سیٹ دیکھنے کو ملا جس میں اپوزین کے 64 سینیٹرز ہار گئے اور حکومت اور انکی اتحادیوں کے 34 سینٹر جیت گئے، اسی حوالے سے سینئر تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ اصل میں حالات ہی ایسے ہیں کہ پوری قوم ہنس رہی ہے، صادق سنجرانی صاحب خود ہنس رہے ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد والے بھی کمرے بند کر کے ہنس رہہے ہیں کہ انکے ساتھ کیا ہوگیا، بلاول کو بتانا چاہیئے تھا کہ کس نے کونسے سینیٹرز کو کیا آفر کی ہے، اس وقت آپ کہہ رہے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ ہوگئی ہے، بہت زیادہ پریشر تھا یہ ہو گیا وہ گیا، ہو سکتا ایسا ہوا ہے، لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ کونسے سینٹرز صادق سنجرانی کے لیے خاموشی کے ساتھ کمپین چلا رہے ہی ں اور ایسے ہی سینٹر مسلم لیگ ن کی صفوں میں بھی شامل تھے، مسلم لیگ ن کے سینٹرز کو ہم دو تین صحافیوں کے علاوہ بھی پورا پاکستان جانتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ لوٹا، یہ وہی لوگ ہیں جو 2003 میں کسی اور جماعت تھے،2008 میں کسی اور،2013 میں کسی اور اب 2018 میں مسلم لیگ ن ایک نئی انقلابی جماعت کے سینیٹرز بن بیٹھے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ انہوں نے کس قسم کے لوگوں کو سنیٹ کے ٹکٹ دیئے تھے، جس قسم کے لوگ تھے انہوں نے بالاکل اسی قسم کا رزلٹ دے دیا ہے، 64 لوگوں نے سینیٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، اصول کی سیاست کر رہے ہیں اور کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیں گے، لیکن جیسے ہی وہ خفیہ رائے شماری کے لیے گئے ووٹ کاسٹ کرنے لگے تو فوراً انکا ضمیر ہی جاگ گیا، جب کسی کا ضمیر جاگتا ہے تو پھر یو نہی ہوتا ہے ،لیکن یہ جو ضمیر جاگا ہے یہ لگتا ہے کہ صادق سنجرانی کی قاتل مسکراہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، پاکستان میں اکثر بڑی وارداتیں نامعلوم افراد ہی کرتے ہیں، کل پاکستانی تاریخ کی انوکھی افراد ہوئی ہے جو نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی ہے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ اس وقت بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور شہباز شریف کو سوچنا ہوگا کہ انہوں نے ٹکٹ کیسے اور کن لوگوں کو دیئے کیونکہ اننہیں اب اپنی جماعت میں جمہوریت قائم کرنی ہوگی، ایسے لوگوں کو آگے لانا ہوگا جو پارٹی کے پرانے ورکر ہیں، جنہوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں لیکن اگر انکی جانب سے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے جو وارداتیں ڈالتے ہیں تو پھر نتیجہ انکے سامنے ہے اور ایسا ہی نتیجہ آیا کرے گا۔