بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اور آئے روز شہادتوں و ہلاکتوں کی اصل وجہ یہ پالیسی ہے ۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بڑے کام کی بات کہہ ڈالی

راولپنڈی(ویب ڈیسک) بھارت کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی مسلسل گولہ باری کے نتیجے میں4؍ سالہ بچہ اور 2؍نوجوان شہید اور 10سے زائد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج نے بوفورز توپوں سے شہری آبادی پر بدترین گولہ باری کی اور ٹیٹوال سیکٹر پر مارٹر گولوں اور وادی جہلم

میں کھلونا نما بم سے حملے کئے ، بھارتی اشتعال انگیزی کی وجہ سے کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقوں میں تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں ۔ پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سرحدی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں نئی دہلی کی پالیسیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہیں ، انڈین فوج جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے ۔ بعد ازاں پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پھر طلب کیا اور کنٹرول لائن فائرنگ پر احتجاج کیا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سرحدی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 10ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش ہے ،دنیا کو آگاہ کریں گے ، توجہ مشرقی سرحد پر رہی تو افغان بارڈر متاثر ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح 9بجے بھارتی فوج نے ٹیٹوال سیکٹر سے بھارتی مارٹر کا گولہ فائر کیا ہے جوکہ چلہانہ پہالیاں میں ساجد نامی شخص کے مکان کی چھت پرلگنے سے مکان تباہ ہوگیا ہے۔ گھر کے اندر چار سالہ بچہ ایان علی ولد صدیق موقع پر شہید جبکہ گھر کے دیگر دس افراد زخمی ہوگئے ۔ ادھر پولیس کے مطابق ضلع جہلم ویلی میں بھارتی فوج کی طرف سے پھینکا گیا کھلونا بم پھٹنے سے دو نوجوان عقیل ولد خورشید سکنہ میراکلاں، وسیم ولد اکرم سکنہ بانڈی جاں بحق ہوگئے ہیں۔شدید گولہ باری کے بعد ایل او سی کے ملحقہ علاقوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے اسکول بازار بدستور بند ہیں۔شاہرائے نیلم ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہے۔ سیاحوں کو بحفاظت محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیاہے ۔

گذشتہ روز کی گولہ باری سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی لیب پر گولہ لگنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ محکمہ برقیات کی رہائشی عمارتوں اور دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔کارگل جنگ کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے بوفورز توپوں کا استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے کرسٹل بم شہری آبادیوں میں پھینکے گئے ہیں۔ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ چھوٹی بوتل نما یا کسی بھی قسم کی مشکوک چیز دیکھنے پر ہاتھ لگانے سے گریز کیا جائے۔ ادھر پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پھر طلب کیا اور کنٹرول لائن فائرنگ پر احتجاج کیا،ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے خبردار کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کی بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے ۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت 2 برسوں میں 1970مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے، بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سیزفائر کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیرمیں ناکامیوں پر بھارتی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے ،سیز فائرکی خلاف ورزی کا موثر جواب دیا جائے گا۔ ٹوئٹر پرجاری بیان میں ڈی جی آئی ایس پی نے کہاکہ ہر قیمت پر شہریوں کا تحفظ یقینی بنایابنایاجائے گا،بھارتی فوج جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ادھر چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کے ہمراہ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے بھارت مسئلہ کشمیر پر حقیقت سے نظریں چرا رہا ہے، مسئلے پر تیسرے فریق کی ثالثی مانتا ہے اور نہ ہی دو طرفہ مذاکرات کیلئے تیار ہے،اگر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام چاہتے ہیں تو مسئلہ کشمیر جیسی رکاوٹ کو دور کرنا ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں 10ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش ہے،اس معاملہ کو برسلز ، یورپی یونین ،جرمنی فرانس، ماسکو، بیجنگ اور اس طرح کی پاورز کی ساتھ اٹھائیں گے۔ جو لوگ پہلے مسئلہ کشمیر سننےکوتیارنہیں تھےاب وہ اسکےحل کیلئے کوشاں ہیں۔مشرقی سرحد پر کشیدگی ہمارے لئے تشویشناک ہے۔افغانستان کی صورتحال مشرقی سرحد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے،مشرقی سرحدپر توجہ رہی تو افغان سرحد کی صورت حال پراثرپڑتا ہے،اس معاملے کو بھی زیرغور رکھنا ہے،افغان امن عمل میں پاکستان اپنا مصالحانہ کردار ادا کر رہا ہے ،ہم افغان امن عمل میں اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کر رہے ہیں،پاکستان نے امن کے فروغ اور دہشتگردوں کو شکست دینے کیلئےجو کردار ادا کیا وہ دنیا نے دیکھا ہے۔