احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کے کیس میں نیا موڑ ، گرفتار میاں طارق اور اسکے بیٹوں کے تہلکہ خیز انکشافات

ملتان(ویب ڈیسک) احتساب عدالت نمبر 2 کے سابق جج ارشد ملک کی غیر اخلاقی وڈیو اسکینڈل میں گرفتار اس ویڈیو کے مرکزی کردار میاں طارق اور اس کے بیٹے فیصل نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایکسپریس کے باوثوق ذرائع کے مطابق یہ گروہ نہ صرف عدلیہ بلکہ دیگر سرکاری افسران کو بلیک میل کر

کے اپنے ناجائزکاموں کے ساتھ ساتھ ماہانہ لاکھوں روپے وصول کرتے تھے۔اب تک کی ہونے والی تفتیش کے مطابق میاں طارق جس کے پاس ویڈیو کا ذخیرہ موجود ہوتا تھا۔ وہ ایک اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر سے متعلقہ لوگوں کو فون کرواتا تھا کہ اس کے پاس مختلف قسم کی تصاویر اور ویڈیو موجود ہیں اگر انہیں مطلوبہ رقم فراہم نہ کی گئی تو وہ یہ تصاویر اخبار میں شائع کردیں گے جب کہ جج ارشد ملک کو میاں طارق نے ایک سے زائد مرتبہ غیر اخلاقی وڈیو کے ذریعے بلیک میل کیا اور کئی مرتبہ لاکھوں روپے کی رقم بھی وصول کی اس کے ساتھ ساتھ میاں طارق اور ایک اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر پر مشتمل گروہ نے جج ارشد ملک کے ساتھ اسٹیمپ پیپرز پر کئی معاہدے بھی کیے ہوئے ہیں جج ارشد ملک نے ان کے پیسے دینے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے ارشد ملک اور اس گروہ کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں کے تمام ثبوت بھی حاصل کرلئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ میاں طارق کے بیٹے فیصل جس کے پاس یو ایس بی میں ارشد ملک سمیت دیگر لوگوں کی ویڈیوز برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ ویڈیو اسکینڈل میں ہونیوالی ڈیل کے دوران دی جانے والی وی ایٹ جیپ کو ریکور کر لیا ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ن لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل نے گرفتاری سے بچنے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل حفاظتی ضمانت کیلئے سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں اور درخواست دائر کر دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ نیب تحقیقات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں ، نیب کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے ، گرفتاری کا خدشہ ہے اس لیے حفاظتی ضمانت دی جائے ۔