’’ عافیہ کے لیے سب سے پہلے آواز عمران خان نے اُٹھائی ۔۔۔۔‘‘ کیا پاکستانی وزیر اعظم عافیہ صدیقی کو رہا کرانے جارہے ہیں؟ حامد میر نے پاکستانی قوم کو بڑی خبر دے دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی حامد میر کا اپنے حالیہ کالم میں کہنا ہے کہ 2003ء میں جبری گمشدگیوں کے خلاف یہ پہلی موثر آواز تھی جو عمران خان نے بلند کی تھی۔عمران خان کو اپنے پروگرام میں بلانے پر حکومت ناراض ہوئی تھی تو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے مہربانی کرتے ہوئے

ہمیں حکومت کے غضب سے بچا لیا۔لیکن عمران خان عافیہ صدیقی کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔حامد میر نے اپنے کالم میں یہ بھی لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے مجھے اس وقت بلایا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان ایک گمراہ آدمی ہے جو پرویز مشرف کی نفرت میں القاعدہ اور طالبان کے ہاتھوں کھیل رہا ہے۔اس دوران عمران خان نے برطانوی صحافی ریڈلے کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور دعویٰ کیا کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قید ہے،2007ء میں مشرف حکومت کے خلاف وکلاء کی تحریک نے حالات ہی بدل دئیے۔مشرف نے اپنا اقتدار ڈولتا دیکھ کر عافیہ صدیقی کو افغانستان کے شہر غزنی سے گرفتار کروا کر امریکہ پہنچا دیا۔پرویز مشرف کا اقتدار تو 2008ء میں ختم ہو گیا لیکن عافیہ صدیقی کا المیہ ختم نہ ہو سکا۔2010ء میں انہیں اقدامِ قتل کے جرم میں 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔عافیہ صدیقی کو امریکی جیل میں پہنچانے والے مشرف آج خود عبرت کا نمونہ بن چکے ہیں۔اس المیے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے والےعمران خان آج پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔لیکن وزیراعظم بننے کے بعد وہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر خاموش ہیں۔امید رکھنی چاہئیے کہ عمران خان اس المیے کو ضرور ختم کر دیں گے جو مشرف نے شروع کیا تھا اور امریکی جیل سے پاکستان کی بیٹی کو رہائی ضرور دلوائیں گے۔جب کہ دوسری جانب قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر ٹوئٹر پر نمبر1 ’’ٹاپ ٹرینڈ‘‘ بن گیا۔ٹوئٹرٹرینڈشروع ہوتے ہی ہزاروں کی تعداد میں عافیہ موومنٹ کے رضاکار #PakistanAwaitsAafia ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ میں شامل ہوگئے جس کے باعث ابتدائی چند منٹوں میں ہی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کا مطالبہ’’ نمبر 1‘‘ ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا۔ یہ سلسلہ کئی گھنٹوں رات گئے تک جاری رہا۔عافیہ وطن واپسی ٹوئٹر ٹرینڈ کے دوران انتہائی مختصر وقت میں دنیا بھر سے 27 ہزار سے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔ٹوئٹر ٹرینڈ میں حصہ لینے والے زیادہ تر افراد نے اس امید کا اظہار کیا کہ عمران خان ماضی کے حکمرانوں سے مختلف ثابت ہوں گے۔وہ دورہ امریکہ کے موقع پر قوم کی بیٹی کو فراموش نہیں کریں گے اور ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کا وعدہ پورا کریں گے جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید سے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے معاملہ میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔