بھائی ماں ہماری سارے دکھوں کو سمیٹ کر اپنے ساتھ قبر میں لے کر چلی گئی اب آپ ۔۔۔۔۔ وہ وقت جب باجی نے مجھے خودکشی کرتےروکا۔ محسن عباس حیدر نے اپنی زندگی کا یاد گار واقعہ بیان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) گزشتہ سال ایک انسٹاگرام پوسٹ میں معروف اداکار اور ڈی جے محسن عباس حیدر نے انکشاف کیا تھا کہ وہ وہ ڈپریشن جیسے مرض میں مبتلا ہیں اور یہ مرض انہیں بہت جلد ان کی جان لے لے گا۔ تاہم بعد ازاں اس پوسٹ کو انہوں ڈیلیٹ کردیا اور بعد میں ایک ویڈیو میں انہوں

نے کہا تھا کہ ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے پر وہ بہتر محسوس کررہے ہیں ‘میں آپ سب کے پیغامات، محبت، تعاون اور تشویش کے لیے شکرگزار ہوں جو آپ میرے ڈپریشن کے حوالے سے ظاہر کیا۔ ہم سب اس طرح کے مراحل سے گزرتے ہیں، ہم سب ہی کسی طرح اپنی زندگیوں اس سے دوچار ہوتے ہیں، کئی بار ہم اس پر بات کرتے ہیں، میں نے بھی ایسا کیا اور اس سے مجھے بہت زیادہ مدد ملی’۔انہوں نے مزید کہا ‘میں ایسا فرد نہیں جو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ شیئر کرتا ہے لیکن جب برداشت ختم ہوجاتی ہے تو آپ شیئر کرتے ہیں اور میں نے بھی ایسا کیا، اور جس طرح انڈسٹری کے لوگوں، میرے ساتھی اداکاروں، دوستوں اور دنیا بھر سے لوگوں نے مجھے پیغامات بھیجے، مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اسے چھپانا نہیں چاہئے، اس بارے میں بات کرنا مدد دیتا ہے اور ہمیں اس پر ضرور بات کرنی چاہئے’۔اب انہوں نے احسن خان کے ٹاک شو میں اس ذہنی عارضے کے باعث ہونے والی جدوجہد پر کھل کر بات کی ہے۔انہوں نے کہا ‘وہ میرے لیے بہت مشکل وقت تھا اور میں بس سب کچھ چھوڑ دینا چاہتا تھا، خودکشی ہی بظاہر واحد راستہ نظر آتی تھی، میں اس ارادے سے گھر سے نکل بھی گیا تھا، جب میرے خاندان کو احساس ہوا کہ میں کچھ دیر سے غائب ہوں، وہ میری تلاش میں نکلے اور میری باجی نے مجھے میری ماں کی قبر پر سوتے ہوئے دریافت کیا’۔محسن عباس حیدر

نے کہا کہ ڈپریشن اتنا شدید تھا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور وہ بہت دیر تک پیدل بھی چلتے رہے، جس کے بعد ان کا ذہن بیدار ہوا، مگر انسٹاگرام پوسٹ پر مداحوں کے فیڈبیک سے حالت میں بہتری لانے میں مدد ملی۔اس شو میں شریک اداکارہ نوشین شاہ نے نے کہا ‘میں محسن کی حالت کو سمجھ سکتی ہوں کیونکہ 7 سال تک مجھے ایسے حالات کا سامنا رہا، میں سکون آور ادویات بہت زیادہ کھانے لگی تھی، مگر اس بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتی تھی’۔ان کا کہنا تھا ‘میں پانچ وقت کی نماز بھی پڑھتی تھی مگر حالت میں بہتری نہیں آتی تھی، مجھے خود پر شرم آتی تھی، مگر ایک دن سیٹ پر میرا بریک ڈاﺅن ہوگیا اور شہروز سبزواری نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتدریج سب کچھ بتادیا، وہ مجھے ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور حالت میں بہتری آنے لگی’۔بعد ازاں احسن خان نے فیس بک پر بھی ذہنی امراض کے بارے میں بات کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ‘ڈپریشن دنیا بھر میں ایک عام مرض ہے اور 30 کروڑ سے زائد افراد اس سے متاثر ہیں، ڈپریشن مزاج میں اتار چڑھاﺅ اور روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز پر جذبات سے مختلف ہوتا ہے، خصوصاً طویل المعیاد بنیادوں پر اس کی شدت زیادہ سنگین طبی عارضہ بن سکتی ہے۔ یہ فرد کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں حالات خراب کرتا ہے، بدترین سطح پر ڈپریشن خودکشی کی جانب لے جاتا ہے، ہر سال 8 لاکھ کے قریب خودکشی کرتے ہیں، جبکہ 15 سے 29 سال کی عمر میں خودکشی اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے’۔