دورہ امریکہ : عمران خان کے ارد گرد موجود مشیر انہیں بے عزت کرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لہٰذا خان صاحب چند چیزوں کا خیال رکھیں ۔۔۔۔ نامور صحافی کا مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کو عہدہ جلیلہ سنبھالے ابھی ایک برس مکمل نہیں ہوا۔ شنید ہے کہ ان کو دورہ امریکہ کی دعوت مل گئی۔ اگرچہ اس بات کا امکان نہایت کم ہے کہ یہ دورہ ری شیڈول ہوجائے۔ لیکن یہ عمران خان کے ارد گرد شہد کی مکھیوں کی طرح اقتدار کے

نامور کالم نگار طارق محمود چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ رسیلے چھتے سے چمٹے ان کے مشیر ہیں۔ جو ان کی سبکی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ابھی گزشتہ ہفتہ کی بات ہے ایک ٹی وی چینل نے اچانک خبر بریک کردی کہ جناب وزیر اعظم کو دورہ روس کی دعوت مل گئی ہے۔ کوئی حیران کن بات نہیں۔ پاکستان خطہ کا اہم ترین ملک ہے۔ اس کو اگنور نہیں کیا جاسکتا۔ حیرانی اس انداز گفتگو پر ہوئی جس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹر ہیجان کا شکار ہورہا تھا۔ سربراہان مملکت اس طرح عامیانہ انداز میں سرکاری دوروں کی دعوت نہیں دیا کرتے۔ لیکن مسئلہ پی ٹی آئی کا ہے جس کے کسی باخبر فرد نے رپورٹر کو خبر دی ہوگی۔ ان کے نزدیک اپنے پارٹی چیئر مین کی یہی بڑائی ہوگی۔ دوسرا شک دعوت کی ٹائمنگ سے پڑا۔ پتہ چلا جس کانفرنس میں شرکت کے دعوت دی گئی وہ ابھی ستمبر میں ہونا ہے۔ سکرین پر خبریں اتنا شور مچاتی ہیں کہ کبھی خاموشی رہنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اتوار کے روز روسی وزارت خارجہ نے اس بریکنگ نیوز کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ باقاعدہ تردید کردی کہ کوئی دعوت ہی نہیں دی گئی تو دورہ کیسا۔ پی ٹی آئی تو ابتدائی چند دنوں میں ایسی ہی بونگیاں مار کر پوری قوم کو شرمندہ کرایا تھا۔ کسی مشیر خاص نے خبر لیک کہ جناب وزیر اعظم کو مبارک باد کیلئے فرانس کے صدر کا تین دفعہ فون آیا۔ لیکن انہوں نے فون سننے سے انکار کیا۔

اپنے تئیں احباب تحریک انصاف ایسی خبریں لگوا کر کپتان کی امیج بلڈنگ کرتے ہیں۔ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کپتان اتنا دبنگ ہے کہ سپر طاقتوں کے صدور کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ برا ہو پاکستان میں فرانس کی سفارتخانہ کے کسی نمائندہ کا جس نے وضاحت کی ان کی جانب سے کوئی فون نہیں آیا۔ اس وقت بیچارے مشیران کرام کو معلوم نہ تھا کہ کپتان کی امیج بلڈنگ الٹی پڑھ جائے گی۔ اور ایک وقت آئے گا کہ نچ کے یار منانا پو ئے گا۔ اور ایک نہیں کئی شہزادوں کی گاڑیاں چلانا پڑیں گی۔ بات کسی اور جانب نکل گئی۔ بات شروع ہوئی تھی جناب وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی۔ ذرا سن گن لینے نکلے تو وزارت خارجہ سے لیکر دیگر متعلقہ محکموں کے ذمہ دار افسران سر پکڑ کر بیٹھے تھے۔ پوچھا کیا ہوا۔ پتہ چلا کہ عملی طور پر ایک ہفتہ باقی ہے لیکن کوئی شیڈول نہیں۔ کون ساتھجائے گا معلوم نہیں۔ کوریج کیسے ہوگی۔ کون کرے گا۔ اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔ اہم ترین دورہ ہے۔ پھر پتہ چلا کہ جناب وزیر اعظم کا اصرار ہے کہ وہ سفیر پاکستان کے گھر ٹھہریں گے۔ جب کہ امریکی سیکورٹی اداروں کا موقف ہے کہ سیکورٹی طریقہ کے مطابق سربراہ مملکت مخصوص مقامات پر ہی ٹھہر سکتے ہیں۔ ایسے مقامات جو سیکورٹی کے لحاظ سے کلئیر ہوں۔ خیر مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں کہ حل نہ ہو۔ سرکاری افسر کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی بیچ میں سے نکل جائے اور یہ کام حکومت کو کرنے دے۔ اصل ایشو یہ دورہ اور اس کا ایجنڈا ہے۔

یہ دورہ نہایت تاریخی ہے۔ عیار امریکی اس خطے میں نئی بساط بچھا رہے ہیں۔ اور مستقبل کی نقشہ گری کرتے ہوئے وہ اپنی کمر پر لدا ہوا بوجھ اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف سترہ سالہ افغان جنگ کو نئے موڑ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بساط بچھائے بیٹھے ہیں۔ ابھی کل ہی دوحہ میں مذاکرات ہوئے۔ جس کے اختتام پر زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کاروں سے ملاقات کی۔ اور اس ملاقات کے بعد وہ چین روانہ ہوگئے۔ جہاں سے وہ واشنگٹن جا کر مذاکرات کی حتمی رپورٹ دینگے۔امریکی چاہتے ہیں کہ طالبان مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے تو واپسی کا شیڈول تیار کیا جائے ۔ اور اس سے پہلے افغانستان میں صدارتی انتخابات کرا کے وسیع البنیاد حکومت قائم کر دی جائے ۔ ان الجھنوں سے نمٹ کر امریکی چین کے سامنے کھڑے ہوکر اقتصادی اور دفاعی میدان میں مقابلہ کر سکیں۔ اس حوالے سے پاکستان اور بھارت کا کردار اہم ہے۔لہٰذا اس کی کوشش ہوگی کہ جناب وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے ہر ممکن دبائو بڑھایا جائے ۔ ابھی کل ہی امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو متنازعہ معاملات کے حل کیلئے مذکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ایسے مزید بیانات اور واقعات ہوسکتے ہیں۔ لہٰذ اس وقت ضرورت یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس دورہ کا ایجنڈا تیار کیا جائے ۔ یہ سوچا جائےکہ خطہ کی صورتحال کے مطابق ہمارے منفی اور مثبت پوائنٹ کیا ہیں۔ امریکہ خطہ میں ایران کے ساتھ الجھا ہوا ہے۔ اس صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس دورہ سے پاکستان کیلئے کیا حاصل کرنا ہے۔ ایسے مواقع سالوں بعد آتے ہیں۔ یہ موقع ضائع نہیں جانا چاہئے۔(ش س م)