رانا ثنااللہ نے اقرار جرم کر لیا ، منشیات کی ٹریفک میں شامل دیگر ملزموں کے نام بھی بتا دیے ، مگر اے این ایف ارادتاً خاموش ۔۔۔۔۔ اصل کہانی کیا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) مریم نواز کی ہفتہ کے روز والی لینڈ مارک پریس کانفرنس نے بزعمِ خود انتقامی سیاست کا واویلا مچا کر جوابی انتقامی سیاست کے کئی فلڈ گیٹ کھول دیئے ہیں۔مثلاً: 1۔عدلیہ پر عوام کا اعتماد ڈانواں ڈول ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جج ارشد ملک کے اپنے بیان کے مطابق ناصر بٹ کے

نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ان کے دیرینہ دوستانہ مراسم تھے (اور ہیں) ان مراسم کی نوعیت کیا تھی اور یہ نوازشریف کیس کے فیصلے پر اثر انداز ہوئے یا نہیں ان نکات پر حکومت نے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے اور فردوس عاشق اعوان کا وہ پہلا موقف کہ اس مبینہ ویڈیو ٹیپ کا فرانزک معائنہ کروایا جائے گا اچانک دم توڑ گیا ہے۔ نون لیگ کا یہ استدلال قابلِ غور ہے کہ حکومت کے اس اچانک یوٹرن کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے…… اب کہا جا رہاہے کہ یہ معاملہ عدلیہ کا ہے، وہ جانے اور ویڈیو ٹیپ جانے! …… اگر یہ ویڈیو ٹیپ ڈاکٹرڈ نہیں بھی کی گئی تو بھی اس کا منظرِ عام پر آنا حکومت کے لئے ایک دردِ سر بن گیا ہے۔ لگ رہا ہے جج صاحب کو مستعفی ہونا پڑے گا اور اگر کیس ریمانڈ ہو گیا تو نوازشریف کو رہا کرنا پڑے گا۔ اس کیس کی سماعت پھر سے شروع ہو گی اور نہ جانے کب تک چلے اور کیا فیصلہ آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیپ نے عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ دونوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور نیب کا تو سارا ”قصرِ شیریں“ دھڑام سے نیچے آ گرا ہے۔ اس کیس کے فیصلے میں کس کا دباؤ تھا، اس پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ 2۔ مریم بی بی کی اس کانفرنس کے بعد ان کو 19جولائی کو نیب کی عدالت نے طلب کر لیا ہے۔ ایک سال پہلے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

وہ کافی دیر تک چپ رہیں لیکن پھر یکایک چپ کا روزہ اس طمطراق سے توڑا کہ حضرت اقبال یاد آ گئے:یہ خاموشی کہاں تک؟لذتِ فریاد پیدا کر ۔۔ زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں ۔۔ نیب نے جج محمد بشیر کی احتساب عدالت میں ایک ریفرنس فائل کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مریم بی بی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جو ٹرسٹ ڈیڈ فائل کیا تھا وہ جعلی تھا، اس بارے میں تحقیق کی جائے۔ احتساب عدالت نے اس ڈیڈ (Deed) کا جب بغور معائنہ کیا تو اسے جعلی پایا اور اسی لئے مریم کو 19جولائی کو طلب کر لیا ہے۔ اس طلبی پر مریم کا ٹویٹ بڑا دلچسپ ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ”میں نے چونکہ اپنی پریس کانفرنس میں حکومتی سازشوں کو بے نقاب کر دیا ہے اس لئے حکومت بوکھلا اٹھی ہے اور یہ ریفرنس میرے خلاف دائر کر دیا گیا ہے۔ میں عوام سے پوچھتی ہوں کہ کیا اس صورتِ حال میں مجھے نیب کے سامنے پیش ہونا چاہیے؟“…… نون لیگ کے رہنماؤں کا یہ موقف نیا نہیں۔ پہلے بھی وہ عوام کی عدالت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔ لیکن عوام کی عدالت نے تو گزشتہ برس کے الیکشنوں میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا…… ہمارے خیال میں یہ کیس قانونی عدالت کے فیصلے کا محتاج ہے، عوامی عدالت کے فیصلے کا نہیں۔ 2۔ ثناء اللہ جیل میں ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان کو کسی کال کوٹھڑی میں رکھا جا رہا ہے۔ گھر سے کوئی کھانا، کوئی بستر اور کوئی دوائی جیل نہیں جا رہی۔ حکومت نے سوال کیا ہے کہ جن پر کرپشن اور منشیات سمگلنگ کے کیس ہوں کیا وہ جیل میں کسی بی یا اے کلاس کے مستحق ہیں؟ رانا صاحب آج کل فرش پر بستر لگائے ہوئے ہیں اور جیل کی طرف سے باقی قیدیوں کو جس قسم کا کھانا دیا جاتا ہے، وہی کھانا سابق صوبائی وزیر قانون کو دیا جا رہا ہے …… ہائے یہ وہی وزیر ہیں جن کے ایک اشارۂ ابرو پر جیل حکام عمل کرنے میں لحظہ بھر کی دیر نہیں لگاتے تھے! بعض ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ثناء اللہ نے اقرارِ جرم کر لیا ہے، ان درجنوں لوگوں کے نام بتا دیئے ہیں جو اس ”منشیاتی ٹریفک“ میں ملوث تھے۔ ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، حکومت ان کے ناموں کے بارے میں ارادتاً خاموش ہے اور وقت آنے پر سب کچھ بتا دیا جائے گا۔……واللہ اعلم!(ش س م)