پہلے آپ نے ان کا طیارہ گرادیا اور اب ۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹ پر کل ایسی نامور شخصیت نے جواب دے ڈالا کہ پورے ملک میں دھوم مچ گئی ، بھارتی شرم سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے

لاہور(ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے انگلینڈ کو فائنل میں پہنچنے پر اس طریقے سے مبارکباد دی ہے کہ بھارتیوں کے زخم ایک بار پھر ہرے ہوگئے۔ دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کو ہرا کر فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی برطانوی کرکٹ ٹیم کو ٹوئٹر پر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبارک باد دی ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں انتہائی ذو معنی انداز میں الفاظ کا استعمال کیا اور کہیں بھی بھارت کا نام نہیں لیا لیکن سمجھنے والے سمجھ گئے کہ کس کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ انہوں نے لکھا دونوں فائنلسٹ ٹیموں نے کامیابی کے ساتھ کھیل کے میدان میں ’لائن‘ کراس کی اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ دونوں ٹیموں کیلئے تاریخ رقم کرنے کے یکساں مواقع ہیں کیونکہ دونوں ہی پہلی بار ورلڈ کپ جیتیں گے۔ خیال رہے کہ انگلینڈ سے بھارتی ٹیم جان بوجھ کر راﺅنڈ میچ ہاری تھی تاکہ پاکستان ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی کو ناممکن بنایا جاسکے لیکن پاکستان کی جگہ سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیم نیوزی لینڈ نے ہی بھارت کو سیمی فائنل میں آﺅٹ کلاس کردیا تھا۔ بھارت کے سیمی فائنل سے باہر ہونے پر بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی قسم کا پیغام دیا تھا جس میں انہوں نے ’ سرپرائزڈ بائی نیوزی لینڈ‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو ہرانے والی دونوں ٹیموں (نیوزی لینڈ اور انگلینڈ) کے فائنل میں پہنچنے پر بھارتیوں پر ٹوئٹر کے ذریعے ’ ہلکا پھلکا تشدد‘ کیا تو رکن قومی اسمبلی اسد عمر بھی میدان میں آگئے۔ اسد عمر نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کے جواب میں کہا پہلے آپ نے ان کا طیارہ گرادیا، پھر آپ نے ان پر ایک ایسی چائے کی کوالٹی کے ذریعے تشدد کیا جو انہیں گھر پر میسر نہیں آتی اور پھر آپ نے انہیں ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر بے رحمانہ طریقے سے ٹرول کرنا شروع کردیا۔ اسد عمر نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے درخواست کی کہ ’ ان کے ٹوٹے دلوں پر کچھ ترس کھاﺅ۔‘ خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے برطانوی کرکٹ ٹیم کے فائنل میں پہنچنے پر اپنے پیغام میں کہا تھا دونوں فائنلسٹ ٹیموں (نیوزی لینڈ ، انگلینڈ) نے کامیابی کے ساتھ کھیل کے میدان میں ’لائن‘ کراس کی اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ دونوں ٹیموں کیلئے تاریخ رقم کرنے کے یکساں مواقع ہیں کیونکہ دونوں ہی پہلی بار ورلڈ کپ جیتیں گے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بھارت نے 26 فروری کو پاکستان کی ’لائن‘ کراس کی تھی جس کا جواب 27 فروری کو ابھی نندن کی شکل میں پوری دنیا کے سامنے آیا تھا۔