19 جولائی کو پیشی : مریم نواز کے خلاف نیب کا مقدمہ کتنا سخت ہے ؟ آئینی ماہرین نے بتا دیا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب ) کی احتساب عدالت میں مریم نواز کے خلاف تازہ استدعا دہرا مقدمہ ہے ۔ ان پر جعلی دستاویز پیش کرنے کا الزام ہے ۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے انہیں 9 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۔13 کے تحت

نامور صحافی طارق بٹ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مریم کے خلاف یہ دہرا مقدمہ ہوگا۔ بیرسٹر عمر سجاد نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو ایک ہی جرم یا الزام میں دوبار سزا نہیں دی جا سکتی، جب ملزم خود اپنے خلاف ہی گواہی پر مجبور ہو ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب کسی شخص پر مقدمہ چلایا جائے، چاہے اسے سزا ہو یا بری کر دیا جائے، اسی الزام میں اس پر دوبارہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ یہ عالمگیر اصول ہے رابطہ کرنے پر نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ نیب کی عدالت سے درخواست زائد المعیاد، تاخیر سے اور قومی احتساب آرڈیننس اور آئین کے متضاد ہے ، جب مقدمہ مکمل ہوگیا، سزا سنا دی گئی اور اپیل دائر کرنے کا وقت بھی گزر گیا تو نیب کی جانب سے درخواست دائر کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ جنوری 2018 میں نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر احتساب عدالت کے 8 نومبر 2017 کے جاری حکم کے خلاف درخواست واپس لے لی تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ نیب کو احتساب عدالت کا فیصلہ قبول ہے جبکہ نیب آرڈیننس کی دفعہ۔ 30 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت فیصلہ سناتے وقت دستاویزات میں جعل سازی کا نوٹس لیتی۔