مریم نواز ’’جذباتی بچی‘‘لوگوں کی گندی اور غیر اخلاقی ویڈیوز کے باوجود آپ کو یہ کام کرنا ہو گا۔۔۔ ڈاکٹر شہباز گل کے بیان نے نیا پنڈورہ باکس کھول دیا

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ’’جذباتی بچی‘‘ کی پرابلم صرف یہ ہے کہ انہیں اب جیل مینئول کے مطابق زندگی گذارانا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے وہ بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں،غیر اخلاقی ویڈیو بنانا اور پھر اسے اپنے

مقاصد کے لئے استعمال کرنا مسلم لیگ ن کا پرانا وطیرہ ہے،لوگوں کی گندی اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا،عوام آپ سے پیسے کا حساب چاہتی ہے ،جیسے کل آپ کے گھر سے گاڑی برآمد ہوئی،اب اور بھی بہت کچھ ریکور ہو گا اور آپ کو حساب دینا ہو گا ،مریم نواز کی تمام کی تمام پریس کانفرنس ایک جذباتی ڈرامے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس کےردِعمل میں اپنےمختصرویڈیو پیغام میں ڈاکٹرشہبازگل کاکہناتھا کہمریم نوازنےایک بارپھرالف لیلیٰ کی کہانی سنائی،اگر ان کی پریس کانفرنس دیکھی جائے تو اس سے یہ لگتا ہے کہ پانامہ کیس کے اندر جو سپریم کورٹ، نیب کورٹ کے ججز تھے اور پورے ملک کا عدلیہ کا نظام ہے وہ تمام کا تمام کمپرومائزڈ ، دباؤ اور پریشر میں ہے اور کہیں پر بھی آزادانہ فیصلے نہیں ہوتے،اگر یہ درست ہے تو پھر تمام ججوں جہاں سے انہیں ضمانتیں ملی وہ بھی پھر پریشرائزڈ ہو کر ملی ہوگی اور جہاں سے مریم صاحبہ کے والد کو 6 ہفتے کی عارضی ضمانت ملی وہاں بھی یہی کچھ ہوا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ایک غیر اخلاقی ویڈیو جس کے بارے میں کچھ پتا نہیں کہ وہ کون شخص ہے ؟پہلی بات تو ان سے پوچھیں کہ کون سے ان کے لوگ ہیں جو پہلے تو اس طرح کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنواتے ہیں اور پھر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی

کوشش کرتے ہیں،ان لوگوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ پہلے تو اس طرح کا انوائرمنٹ پیدا کرنا اور پھر اس انوائرمنٹ میں سے ویڈیوز نکالنا،اس ویڈیو کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ شخص کون ہے؟ایک ایسی سچویشن اور کمپرومائزڈ حالت میں جس شخص کو اپنے آپ کا نہیں پتا کہ وہ کیا بات کر رہا ہے اور کس چیز کے بارے میں بات کر رہا ہے ؟اُسے جج بنا کر ایک ویڈیو دکھائی گئی اور اُس ویڈیو پر ایک ’’جذباتی بچی‘‘جس کو آج کل صرف پرابلم یہ ہے کہ پہلے جو انہیں سہولیات حاصل تھیں ،حکومت کی گاڑی دبا کے رکھی تھی ،جیل میں جو دو دو اے سی چلتے تھے اور 2 سوا 2 سو آدمی جیل میں جا کر ملتے تھے ،جلسے ہوتے تھے اور ان کے لئے جیل کے اندر باہر سے بھی اچھے حالات تھے،اسے ہٹا کر کے جیل مینئول اور قانون کے مطابق جو سہولیات بنتی ہیں وہ آپ کو دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اب آپ بہکی بہکی اور جذباتی باتیں کر رہی اور پورے ملک کی عدلیہ کے نظام کو مشکوک بنا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آپ اور آپ کے والد جو ایک مجرم ہیں نے حکومت کی گاڑی 2016 سے دبائی ہوئی تھی جو کل آپ کے گھر سےبرآمد ہوئی ،پریس کانفرنس میں بجائے اس پر معافی مانگتے جو نہیں مانگی،پانامہ کیس میں جو کچھ بھی ہوا وہ سب قوم کے سامنے ہے،اس کے ثبوت قوم کے سامنے ہیں ،مریم نواز کی تمام کی تمام پریس کانفرنس ایک جذباتی ڈرامے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہے،ایک جذباتی اور نوزائدہ سیاسی لیڈر شپ ہے جن کو اب سمجھ نہیں آ رہی کیونکہ قوم ان کا بیانیہ قبول نہیں کر رہی،نہ وہ اپنی کرپشن کے خلاف کوئی ثبوت پیش کر سکیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی پریشانی یہ ہے کہ جن لوگوں نے کبھی بغیر سہولتوں کے کوئی جگہ نہیں گذاری تھی اب انہیں جیل مینئول کے مطابق رہنا پڑ رہا ہے بلکہ ابھی تو جیل مینئول کے مطابق رہنا پڑے گا ،اسی کے خوف سے یہ سب کچھ شروع کیا جا رہا ہے ،اس سے آپ کی جان نہیں بچے گی ،تمام لوگوں کو پتا ہے کہ یہ گندی قسم کی ویڈیوز جو غیر اخلاقی حالات میں لوگوں کی آپ بنا رہے ہیں اور پتا نہیں یہ شخص کون ہے اور کس کی ویڈیوز آپ بنا رہے ہیں؟اس سے کچھ نہیں ہونا ،عوام آپ سے پیسے کا حساب چاہتی ہے ،جیسے کل آپ کے گھر سے گاڑی برآمد ہوئی ہے،اب اور بھی بہت کچھ ریکور ہو گا اور آپ کو حساب دینا ہو گا ۔