عمرا ن خان اور آرمی چیف کے درمیان اہم ملاقات ، کیا کچھ بڑا ہونے والا ہے؟ اہم امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں ملک کی سلامتی کی صورتحال سمیت پاک فوج سے متعلق پیشہ وارانہ امور اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیراعظم عمران خان

سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم آفس میں ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے آرمی چیف کو ایف ٹی اے ایف کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تفصیلی آگاہ کیا ۔اس کے علاوہ دونوں رہنمائوں کے درمیان ملک کی سلامتی کی صورتحال ، داخلی سکیورٹی ، پاک فوج سے متعلق پیشہ وارانہ امور سمیت امن وامان اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سنیئر رہنما رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ اے این ایف کا رانا ثنا اللہ سے کیا لینا دینا تھا، اس سے بڑی مضحکہ خیز بات نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کوان کے واضح اور دلیرانہ موقف کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جعلی اعظم چھوٹے ذہن کے مالک ہیں اور رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے پیچھے براہ راست وہ خود ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ بغیرالزام راناثنا اللہ کی گرفتاری لاقانونیت اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کی گرفتاری کے لیے اداروں کو استعمال کرنا افسوس ناک ہے۔شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ راناثنا اللہ کو فوری عدالت میں پیش کرکے بتایا جائے کہ ان پر کیا الزام ہے۔صدر مسلم لیگ (ن) نے بھی وزیر اعظم کو اس گرفتاری کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنااللہ کی گرفتاری میں عمران خان کا ذاتی عناد کھل کر سامنے آگیا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا۔بلاول بھٹو نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے اور یہ گرفتاریاں حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ رانا ثنااللہ ماضی میں پی پی پی کے سخت ناقد رہے ہیں اور اب موجودہ حکومت کے خلاف ایک توانا آواز تھے اور ان کی گرفتاری حکومت کی کمزوری اور بوکھلاہٹ ظاہر کرتی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے لاہور آتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔