پہلا کیس دیکھ رہا ہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہو ۔۔۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس کس خاتون کے بارے میں دیئے ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی ،چیف جسٹس نے کہا پہلا کیس دیکھ رہا ہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہے، خاتون اگر 20سال سروس کرتی تو سارا ملک لے جاتی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں پنشن فنڈزمیں خاتون کلرک کی کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا خاتون پنشن ڈیپارٹمنٹ میں اپر ڈویژن کلرک ہے، خاتون کی جانب سے کرپشن کا پہلا کیس دیکھا ہے، ٹرائل کورٹ نے خاتون کو 14سال سزا سنائی ، خاتون 4سال سزا کے بعد ضمانت پر باہر آ گئی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا ایک کروڑ 39 لاکھ روپے احتساب عدالت نےجرمانہ کیا ، 50 لاکھ روپے اکاونٹ سے برآمد ہونے کا کوئی جواز نہیں دیا ، پہلا کیس دیکھ رہا ہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہے۔وکیل صفائی نے کہا منگنی کےوقت بطورحق مہر ایک کروڑ، 100تولے سونا اور گھر دیاگیا، جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا ان کی شادی تو 2005 میں ہوئی ، دستاویزات کے مطابق تو شادی کے وقت حق مہر دینے کا کہا گیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا شوہرایک پوسٹ ماسٹر تھااس کے پاس اتنی رقم کہا ں سے آئی؟ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ان کا نکاح نامہ بھی مشکوک لگ رہا ہے۔جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا نکاح رجسٹرار نے بھی اپنے دستخط سے انکار کیا ہے، خاتون اگر 20سال سروس کرتی تو سارا ملک لے جاتی، چیف جسٹس نے ملزمہ کی بہن سے مکالمے میں کہا لگتا ہے ساری کرتا دھرتا آپ ہیں، کیوں نہ اس کی سزا آپ دونوں میں تقسیم کر دیں۔عدالت نے خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی