عمران خان بغیر وردی کے پرویز مشرف ہیں

لاہور (نیوز ڈیسک) میثاق معیشت اور سابقہ معاملات کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کا مشورہ تو آصف علی زرداری نے عمران خان کو دے دیا ہے مگر خان صاحب ہیں کہ این آر او کی طرف آتے ہی نہیں۔وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے کہ وہ ان کرپٹ سیاستدانوں سے لوٹا ہوا پیسا بھی نکلوائیں

اور انہیں جیل میں بھی خوار کریں تاہم اپوزیشن بھی اب ایک ہو چکی اور مل کر پی ٹی آئی کی حکومت کو ٹف تائم دینے کے لیے تیار ہو چکی ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت اور پرویز مشرف کی حکومت میں صرف وردی کا فرق ہے، مشرف نے وردی پہنی تھی جبکہ عمران خان نے وردی نہیں پہنی ہوئی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ نیب والے مجھ سے اپنی استعداد کے مطابق سوال کرتے ہیں، نیب کا میرے ساتھ رویہ عزت والا ہے اور میں بھی نیب حکام کی عزت کرتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کو چارٹر آف معیشت کی تجویز دی تھی مگر وہ اس طرف نہیں آرہے، وہ اس تجویز کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن تاریخ میں یہ بات آگئی ہے۔چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بلاول بھٹو اپنا موقف اپنائیں گے، کمان ان ہی کے ہاتھ میں ہے اور ان کی اپنی سوچ ہے، جیسے وہ کہیں گے ویسا ہوگا۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہم بیٹھ گئے ہیں مگر عمران خان کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہے، جو آسانی سے آتا ہے اسے جمہوریت کی قدر نہیں ہوتی۔ان کا کہناتھا کہ عمران خان سیاسی قوت سے نہیں آئے، انہیں احساس ہی نہیں کہ عوام کو کیا مشکلات ہیں، جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے، لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ انہیں جانا پڑے گا۔وزیر اعلیٰ سندھ کی ممکنہ گرفتاری کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ یہ افواہیں ہیں، ان پہ کان نہ دھریں۔این آر او کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر این آر او ہوتا تو میں یہاں نہ بیٹھا ہوتا۔مسلم لیگ (ن) سے پیپلز پارٹی کے ماضی کے تنازعات کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انسان چوٹ کھا کر سیکھتا ہے، انہوں نے بھی چوٹ کھائی ہے ہم نے بھی کھائی ہے۔امید ہے کہ آئندہ ہمارے تعلقات اچھے رہیں گے۔