خان جی : اگر عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کو وزیر مک مکا بنا دیا جائے تو ۔۔۔۔۔۔ نامور صحافی نے انوکھی اور دلچسپ بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) معزز قارئین!۔ 24 جولائی 1994ء کو مجھے ( اُن دِنوں ) میرے کرم فرما ، ملک کے نامور کلاسیکل گلوکار اُستاد بڑے روشنی خان کا ایک خط موصول ہُوا جس، میں اُنہوں نے لکھا تھا کہ۔ ’’ ایک خبر کے مطابق۔ سابق صدر غلام اسحاق خان اب اپنا بیشتر وقت پڑھنے لکھنے

نامور کالم نگار اثر چوہان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور کلاسِیکی موسیقی میں گزاریں گے۔ افسوس کہ اِس سے قبل سابق صدر غلام اسحاق خان ، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور سابق قائدِ حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو نے کلاسِیکی موسیقی سے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ورنہ اُن کے اور ملک کے حالات کچھ اور ہوتے۔ جب تک راجے ،مہاراجے ، بادشاہ اور شہنشاہ کلاسیِکی موسیقی اور کلاسیِکی گلوکاروں کے قدر دان رہے اور اُن کی سرسرپرستی کرتے رہے، راگ وِدّیا سے انسانیت کو فائدہ پہنچتا رہا۔ راگ ملہار گایا جاتا تو ، رِم جھم ، رِم جھم برکھا برستی تھی۔ راگ دیپک گانے سے آگ جل اُٹھتی تھی۔ مریض کے سرہانے راگ گانے سے مریض صحت یاب ہو جاتا تھا ۔ مَیں نے راگ ایمن ؔ گا کر خلیجی جنگ بند کرادِی تھی اور سپیشل راگ گا کر سوویت یونین جیسی سُپر پاور کو ٹکڑے ٹکڑے کردِیا تھا ۔ اگر سابق صدر اسحاق خان اپنے دورِ حکومت میں میرا راگ سُنتے تو اُن پر بُرا وقت نہ آتا۔ اگر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف میرا راگ سُنتے تو اُنہیں کی حکومتیں قبل از وقت ختم نہ ہوتیں ۔ مَیں اب بھی اپنے ملک اور قوم کی خدمت کے لئے تیار ہُوں۔ اگر عام انتخابات سے قبل مجھے ٹیلی ویژن پر ’’ راگ سیاست‘‘ گانے کا موقع دِیا جائے تو عوام لوٹوں اورلفافوں کے بجائے دیانتدار اور مُخلص نمائندے منتخب کریں گے اور مُلک حقیقی معنوں میں تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر چل پڑے گا‘‘۔

آپ کا مُخلص ایوارڈ یافتہ کلاسیکل گلوکار اُستاد بڑے روشنی خان ’’راگ جمہوریت‘‘ مَیں نے جواب میں 27 جولائی 1994ء کو اپنے کالم ’’راگ جمہوریت ‘‘ میں اُستاد بڑے روشنی خان کو مخاطب کرتے ہُوئے لکھا کہ ۔مجھے تو کلاسیِکی موسیقی کی افادیت اور آپ کی اہمیت کا احساس ہے لیکن، افسوس کہ آج کا دَور ، راجوں ، مہاراجوں ، باشاہوں اور شہنشاہوں کا دَور نہیں اور جہاں کہیں بادشاہت ہے وہاں کے بادشاہ کلاسیِکی موسیقی کا ذوق نہیں رکھتے ۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ ’’راگ سیاست ‘‘کے بجائے ’’ راگ جمہوریت‘‘ کا الاپ شروع کریں !۔ سیاستدانوں کے بجائے عام آدمی کو فائدہ پہنچائیے لیکن، ممکن ہے کہ جب آپ ٹیلی ویژن پر ’’ راگ جمہوریت‘‘ گانے کا الاپ کریں تو ، واپڈا والے پورے ملک کی بجلی بند کردیں۔ واپڈا والے بھلا کسی بڑے روشنی خان کو کیسے برداشت کریں گے؟۔ اُستادِ محترم !۔ کیا آپ کوئی اِس طرح کا راگ گا سکتے ہیں کہ’’ سیلاب اپنی تباہ کاریاں ختم کردے ؟ یا مہنگائی کا سیلاب رُک جائے اور ہر غریب شخص حلال کی کمائی سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھر سکے؟‘‘۔ کیا آپ کوئی ایسا راگ بھی گا سکتے ہیں کہ جہیز نہ ہونے کے باعث غریبوں کی بیٹیاں اپنے ماں ، باپ کے گھروں ہی میں بیٹھی بوڑھی نہ ہو جائیں ؟۔ کیا آپ کا کوئی راگ قتل و غارت، چوری ڈکیتی او ر غنڈہ گردی کو روک سکتا ہے ؟۔ کیا کوئی راگ مظلوموں کو انصاف اور ظالموں کو سزا دِلوا سکتا ہے ؟

۔ کیا آپ اپنے کسی راگ کی شکتی سے ’’ لوٹا کریسی‘‘ اور ’’ پلاٹو کریسی‘‘ میں کوڑھ پھیلا سکتے ہیں؟۔ بس اللہ کا نام لے کر ’’ راگ جمہوریت‘‘ شروع کردیجئے اور اُس وقت تک گاتے رہیے جب، تک میرے اور آپ کے پاکستان میں جمہوریت کی روشنی پوری طرح پھیل جائے۔ اثر چوہان عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی! معزز قارئین!۔ مجھے نہیں معلوم؟ کہ اُستاد بڑے روشنی خان حیات ہیں اور اگر ہیں تو کہاں ہیں ؟۔ مجھے تو،آج کے دَور میں لوک فنکار اُستاد عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہی ’’بڑے روشنی خان ‘‘دِکھائی دیتے ہیں ۔ مَیں اُن کا 1972ء سے “Fan” ہُوں جب، مَیں ’’ پنجاب فلم سنسر بورڈ‘‘ کا رُکن تھا ۔ لاہور میں اُن کے اعزاز میں ایک تقریب تھی تو، مَیں نے اُن کے فن کی تعریف کی تھی ۔ مَیں اب بھی معترف ہُوں۔ مَیں چاہتا ہُوں کہ ’’ وزیراعظم عمران خان ،فوری طور پر اُنہیں کسی ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کا رُکن منتخب کرا کے اُنہیں وزیر / مشیر خزانہ بنا دیں اور سُت رفتاری کا شکار قومی بجٹ گانے کی سعادت بخشیں۔ مجھے یقین ہے کہ ’’ وہ حزبِ اختلاف کے مخالف ترین ارکان کو بھی اپنے فن کا گرویدہ بنا لیں گے ‘‘۔ میرے دوست ’’ شاعرِ سیاست‘‘ تو مجھ سے بھی زیادہ جنابِ عیسیٰ خیلوی کے “Fan” ہیں ۔ فی الحال اُن کے دو شعر پیش خدمت ہیں … کیا نذیر مُک مُکا اور کیا بشیرِ مُک مُکا! دوڑتا ہے ہر کوئی ، جانب لکیرِ مُک مُکا! …O… ہیں عطاء اللہ جی ، روشن ضمیرِ مُک مُکا! اُن کو بھی ، للہ بنا دو ، تُم وزیر مُک مُکا! (ش س م)