سابق حکمرانوں سے ساڑھے 24 ہزار ارب قرض کا حساب لینے کا وقت آگیا ۔۔۔ انکوائری کمیشن کے سر براہ کو ایسا اختیار دے دیا گیا کہ تاریخ رقم ہوگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن6 ماہ میں انکوائری رپورٹ مکمل کرے گا، کمیشن کے سربراہ کو کوئی بھی ممبرلینے کا اختیار ہوگا، کمشین کا نوٹیفکیشن کل جاری کردیا جائے گا، کمیشن ساڑھے 24 ہزار قرض کا حساب کرے گا۔

انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وفاقی کابینہ کے سامنے انکوائری کمیشن کے قیام کا معاملہ رکھا گیا۔ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغرانکوائری کمیشن کے سربراہ ہونگے۔ کابینہ نے حسین اصغر کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی۔ کمیشن کے سربراہ کوکمیشن کے اندر کسی کوبھی ممبرلینے کا اختیار ہوگا۔کمیشن آف انکوائری کے قیام کے بارے میں نوٹیفکیشن کل تک جاری ہوجائے گا۔ کمیشن آف انکوائری اپنی رپورٹ 6 مہینے میں مکمل کرے گاکمیشن ساڑھے 24ہزار قرض کا حساب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں پاکستان پر 6 ہزار 690 ارب روپے قرضہ ہوگیا۔ ستمبر 2018 میں پاکستان پر30 ہزار875 ارب روپے قرضہ ہوگیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نےکہا کہ اجلاس میں دس نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پرانگلیاں اٹھانے والا ٹولہ آنکھیں نیچی رکھے، انگلیاں اٹھانے والوں کا پورا خاندان سرکاری خرچے پر پل رہا تھا۔شہبازشریف نے45 ملین روپے صرف ذاتی تشہیرپر خرچ کیے، شہبازشریف نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ بجٹ کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔ یہ آئین کا خلاف ورزی ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں کہنے والے بجٹ منظورنہیں ہونے دینگے؟ بجٹ سے ملک کی قومی سلامتی وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اصلاح کا درس دینے والے عوام کے ٹیکس کا پیسا خرچ کرتے رہے۔ وزیراعظم نے کفایت شعاری کی مہم اپنے آپ سے شروع کی۔وزیراعظم نے اپنے اخراجات کم کیے۔ بنی گالہ میں بننے والی سیکیورٹی وال پارٹی فنڈ اور وزیراعظم نے اپنی آمدن سے بنوائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں قوم مشکل وقت میں ساتھ دے۔ فردوس عاشق نے کہا کہ ماضی کے وزیراعظم نے 15-2014 میں 88 کروڑ کا بجٹ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جو استحقاق ہے اس کو عمران خان استعمال نہیں کر رہے۔ماضی میں وزیراعظم چادر سے زیادہ اپنے پاؤں پھیلاتے رہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں اضافے سے متعلق خبر کی تردید آچکی ہے۔ فردوس عاشق نے کہا کہ اسپیکر سیاسی قیدی اور کرمنل میں فرق کو واضح کریں۔ کرپشن کیسزمیں جیل کاٹنے والے خود کوسیاسی قیدی کا لیبل لگا رہے ہیں۔ بجٹ نہ منظورکرنے اور پارلیمنٹ کویرغمال بنانے والے سیاسی قیدی نہیں۔ماضی میں شیخ رشید ساڑھے 3 سال پروڈکشن آرڈرجاری ہونے کے باوجود اسمبلی نہیں لایا گیا۔ حالانکہ شیخ رشید نے کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی سمت تبدیل کرنی ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کو نیب نے پکڑا ہے اس سے استعفیٰ کیوں نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ شرکت کریں گے۔ نئے پاکستان میں سیون سٹارہوٹل میں نہیں بلکہ سفیرکی رہائشگاہ پر قیام کیا جائیگا۔ جبکہ اقوام متحدہ میں راج کماری اور نواز شریف کی نواسی تک جاتے رہے۔