’’ اس ملک میں اجتماعی خودکشی کا دل کرتا ہے ۔۔۔‘‘ اپوزیشن اتحاد کو دیکھتے ہوئے حسن نثار پھٹ پڑے ، دل کی بات کہہ دی

لاہور (نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی و کالم نگار حسن نثار نے کہاہے کہ یہ سارے ہی قائد ہیں ، ایک سے ایک بڑھ کرہیں، مریم اور بلاول بھی قائد ہیں ، اس ملک میں اجتماعی خود کشی کرنے کوجی کرتاہے ، صر ف ہم ہی پیرو کار ہیں ،یہ ہی لیڈر ہیں۔تفصیلات کے مطابق

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر بچھوﺅں کا جلسہ عام تھا اور ان میں سے کسی بزرگ بچھو نے پوچھا کہ قائد کون ہے ؟تو ایک بچھو نے کہا کہ جس کی دم پر پاﺅ ں رکھو ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروڈکشن آرڈر بچھوہیں ، یہ سارے قائد ہیں، کل یہ ایک دوسرے کو نوازواور سکیورٹی رسک قراردے رہے ہیں، وارداتیں ان کی ہیں اور درمیان میں ہم ہیں۔ان کاکہنا تھاکہ یہ سارے ہی قائد ہیں ، ایک سے ایک بڑھ کرہیں، مریم اور بلاول بھی قائد ہیں ، اس ملک میں اجتماعی خود کشی کرنے کوجی کرتاہے ، صر ف ہم ہی پیرو کار ہیں ،یہ ہی لیڈر ہیں۔پروگرام میں شریک سینئر صحافی ارشادبھٹی نے کہا کہ اس وقت کھال بچاﺅ اور آل بچاﺅ کے کی تحریک کی سربراہی کا معاملہ ہے ، اگر سوال کا جواب مل جائے تو قوم کی تقدیر بدل جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ رائیونڈ ملاقات میں پارٹی کا صدر کہاں تھا ؟ شہباز شریف اب تو لندن میں نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بنایا جائے کیونکہ ان کی جانب سے بڑی بھاگ دوڑ کی ہے لیکن مولانا صاحب جس دن آپ نے سلام پھیرا ، آپ کے پیچھے کوئی نہیں ہوگا ، اس لئے آپ نماز کا عمل جاری رکھیں ۔ پروگرام میں شریک سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا کہ ابھی تک جو حالات دکھائی دیتے ہیں ، اس سے لگتاہے کہ یہ اپوزیشن کے گرینڈ لائنس کی قیادت کا یہ بھاری بوجھ مولانا فضل الرحمان کے نا تواں کندھوں پر ہی آئے گا ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو نزدیک لانے میں مولانافضل الرحمان کا کردار رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی ڈر رہی ہے کہ کہیں ن لیگ اس دباﺅ کواستعمال کرکے ڈیل نہ کرلے اور ن لیگ بھی اس بات سے خوفزدہ ہے ،یہ دونوں بڑی جماعتوں ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں ، اس لئے لگتایہ ہے کہ اپوزیشن کے گرینڈ لائنس کی قیادت کرنے کا بوجھ مولانا فضل الرحمان پر ہی آئے گا ۔