وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی ویژن پر خطاب کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہوتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) دودہ کا دودہ اور پانی کا پانی ہونا چاہئیے،ہائی پاورڈ کمیشن کو غیر جانبدار ہونا ضروری ہے،وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو ایک بار حوصلہ دیا ہے۔ہمت بندھائی ہے یہ کافی حوصلہ افزا ہے کہ وزیر اعظم کہہ رہا ہے کہ انہوں نے حالات قابو میں کرلیے ہیں۔

نامور صحافی ایثار رانا اپنے ایک خصوصی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ باتیں ایک عام آدمی تب یقین کرے گا جب انہیں اپنے ارد گرد تبدیلی نظر آئے گی۔پولیس نظام بیوروکریسی کا رویہ وزرا ء کی پرتعیش زندگی سب ویسے کا ویسا ہے۔مجھے وزیراعظم کی نیت پہ کوئی شک نہیں۔لیکن انکے ارد گرد لوگ مدینے کے منافقین سے زیادہ خطرناک ہیں۔انکے ہوتے ایسا کیسے ممکن ہوگا۔اب بات تقریروں اور وعدوں سے آگے نکل چکی ہے۔لوگوں کو روٹی چاہئیے جلتا چولہا چاہئیے۔ انکا یہ کہنا کہ انکی جان چلی جائے وہ کرپٹوں کو نہیں چھوڑیں گے۔قوم اب چاہتی ہے کہ اب الزامات سے نکل کے نتائیج سامنے لائے جائیں،بہرحال وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے قوم ایک بار پھر نئے خواب کے پیچھے چلتی ہے یا نہیں اسکا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوجائے گا۔آخری بات وزیراعظم کا خطاب سوا نو بجے نشر ہونا تھا جو رات گئے نشر ہوا۔انکے خطاب میں کئی بار آواز غائب ہوئی۔اور وہ سب نہ سن سکے ایسا کیوں ہوا۔اسکے پیچھے کیا عوامل تھے،یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہیں تاہم وزیراعظم کا خطاب اس بات کی علامت ضرور ہے کہ جو باتیں وہ قومی اسمبلی میں نہ کرسکے ٹی وی پہ کردیں وہ اس خطاب سے خود پہ قائم ایک پریشر کو ضرور کم پائیں گے۔