نواز شریف اور مریم نواز کی بیرون ملک روانگی۔۔۔ شہباز شریف پاکستان میں رہ کر کیا کریں گے؟ وزیر اعظم ہاؤس اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے ہونے والے معاملات کی تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور(نیوز ڈیسک) معروف صحافی ہاروان الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور شہباز شریف کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔کچھ پیغامات شہباز شریف کی طرف سے آئے اور کچھ پیغامات وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے گئے کہ وہ اپنا لہجہ تلخ نہیں کریں گے۔ تیسرا اس تجویز پر کام شروع

ہو گیا ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف ملک سے باہر چلے جائیں گے جب کہ شہباز شریف پارٹی کی قیادت سنھبالیں گے۔یہ ابتدائی اطلاعات ہیں جو کہ بلکل درست بھی ہیں۔اس سے قبل بھی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہشہباز شریف وطن واپس آچکے ہیں اور ان کے وطن واپس آنے کے بعد مریم نواز کو نواز شریف نے واضح کہہ دیا ہے کہ اب تو اس کو فارغ کرو یعنی شہباز شریف صاحب کو بالکل سائیڈ پر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے بیک ڈور جو بھی رابطے یا ڈیل کی اور پیسے دئے ، اور یہ کہہ کر ٹال مٹول کی کہ میں کرتا ہوں بھائی جان ۔ لیکن ان سے کچھ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خبر دی تھی کہ شہباز شریف کا نام پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے فائنل ہو گیا تھا لیکن نواز شریفنے واضح اور صاف کہا تھا کہ نہیں میں ہرگز سمجھوتہ نہیں کروں گا۔شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بننے جا رہے تھے، کوئی اس بات کی تردید نہیں کر سکتا۔الیکشن سے قبل یہ معاملہ طے ہو گیا تھا ، مفاہمت ہو گئی تھی ، الیکشن کے بعد شہباز شریف نے مزید مزاحمت کی کوشش کی ، کوئی وجہ تھی تب ہی تو مریم نوازبھی خاموش تھیں لیکن ان کی کوئی بات نہیں بن سکی۔جب کہ معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ ۔شہباز شریف کا پورا پروگرام تھا کہ وہ لندن میں ہی قیام کریں گے اور ٹیسٹوں کے بہانے وہیں موسم سے لطف اندوز ہونے کا پروگرام تھا لیکن پھر مریم نواز نے نواز شریف کی بات شہباز شریف سے کروائی۔نواز شریف نے شہباز شریف سے کہا کہ آپ پہلے فلائٹ سے ہی پاکستان پہنچیں۔نواز شریف نے شہباز شریف کو کہا کہ اگر آپ پاکستان واپس نہ آئے تو میں نہ آپ کو پارٹی میں قبول کروں گا نہ خاندان میں۔کیونکہ میں یہاں جیل میں پڑا اور وہاں گھوم پھر رہے ہیں۔مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف نواز شریف کے حکم پر آئے ہیں۔