اسے کہتے ہیں سیاست۔۔۔ حکومت کے بڑے اتحادی ’ اختر مینگل ‘ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بڑا سرپرائز دے دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بی این پی مینگل اور حکومتی وفد کے درمیان ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے سردار اختر مینگل کا مطالبہ منظور کر لیا۔حکومت اور بی این پی مینگل کے درمیان 6 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بی این پی مینگل کے وفد کے ساتھ ملاقات میں وزیر دفاع پرویز خٹک بھی شریک تھے۔حکومت نے کمیٹی تشکیل دینے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔کمیٹی میں حکومت کی طرف سے پرویز خٹک،قاسم خان سوری اور ارباب شہزاد شامل ہوں گے جب کہ پی این پی مینگل کی طرف سے سردار اختر مینگل،جہانزیب جمالدینی،آغا حسین بلوچ اور ثناءاللہ بلوچ کمیٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے۔بجٹ کی منظوری کے لیے بی این پی مینگل کو منانا حکومت کے لیے ایک چینلج تھا۔خیال رہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ بجٹ کی تقریر سنی ہے، پڑھ کر اس حوالے سے فیصلہ کرینگے، ہم نے حکومت کا ساتھ دیا اس میں کوئی شک نہیں۔ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کا ساتھ دیا ہے، حکومت کے سامنے چھ نکات رکھے کیا حکومت ان پر پورا اتری ہے، کتنے لاپتہ لوگوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں پر حکومت کیلئے مسائل پیدا ہونگے بلکہ اپنے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں جو گرفتار نہیں ہوا وہ سیاست دان نہیں ہے، ایسے موقع پر گرفتاریوں سے اجتناب کرنا چاہئے تھا۔ بجٹ تقریر میں وزیر مملکت نے اعداد و شمار کے پل باندھ دیئے میں نے بجٹ تقریر سنی ہے مگر پڑھی نہیں پڑھ کر بجٹ کے حوالے سے ردعمل دوں گا۔حکومت کا ساتھ دیا اتحادی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ۔ ۔خیال رہے کہ حکومت اور اتحادی جماعت پی این پی مینگل کے درمیان نارضگی جاری تھی۔ 18 ستمبر کو ہونے والےقومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیراعظم عمران خان نے مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر وفاقی حکومت کو ایک بڑا دھچکا تب لگا جب حکومتی اتحادی اختر مینگل نے وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کی مخالفت کی اور جا کر اپوزیشن بنچوں میں بیٹھ گئے تھے۔ تاہم اب بی این پی مینگل نے بجٹ کی منظوری کے وقت حکومت کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔