پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنا مسلم لیگ (ن) کی خاتون گلو بٹ ’ فرزانہ بٹ ‘ کو مہنگا پڑ گیا، ایسا قدم اُٹھا لیا گیا کہ لیگی خواتین بھی دنگ رہ گئیں

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور میں پولیس اہلکار پر حملہ کرنے والی ن لیگ کی خاتون رہنما کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز جب حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا تو اس موقع پر ن لیگ کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ن لیگ کی خاتون رہنما نے پولیس اہلکار پر حملہ کیا اور اس کے منہ پر تھپڑ بھی مارے۔خاتون نے نوجوان پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کر دی جس کے بعد انہیں نیب کے دفتر پہنچا دیا گیا۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری اور نیب آفس منتقلی پر نیب کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنان نے احتجاج کیا اور کافی زیادہ نعرے بازی بھی کی۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کی ایک خاتون گلو بٹ بھی دیکھنے میں آئیں ۔ مسلم لیگ ن کی سابق خاتون رکن پنجاب اسمبلی فرزانہ بٹ نے نیب کے دفتر کے باہر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو تھپڑ مارے اور خوب دھکے دئے۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں نے خاتون ہونے کے ناطے مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق رکن اسمبلی پر نہ تو ہاتھ اُٹھایا اور نہ ہی ان کی بدتمیزی کا کوئی جواب دیا۔ سوشل میڈیا پر فرزانہ بٹ کی یہ ویڈیو وائرل ہو گئی جس پر صارفین کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اب وہ نہیں رہی جو نہتے شہریوں اور بالخصوص خواتین پر ہاتھ یا ہتھیار اُٹھائے۔ اس ویڈیو سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بدتمیزی سے پیش آنے کے باوجود پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے خاتون لیگی رہنما کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔کچھ صارفین نے پنجاب پولیس میں آنے والی اس تبدیلی کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو دیا تو کچھ لوگوں نے آج کی یہ ویڈیو ، گلو بٹ کا واقعہ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا موازنہ کرنا شروع کر دیا ۔ انٹرنیٹ صارفین کاکہنا تھا کہ پنجاب پولیس مزید سیاسی نہیں رہی۔ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد پنجاب پولیس کو سیاست سے پاک کر دیا ہے۔واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے بعد سے لاہور میں جگہ جگہ لیگی کارکنان احتجاج کر رہے ہیں اور نیب مخالف نعرے بازی کر رہے ہیں۔تاہم اب پولیس اہلکار کے ساتھ بدتیمزی کرنے والی سابق خاتون رکن پنجاب اسمبلی فرزانہ بٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے بعد ن لیگ کی خاتون رہنما کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔