عمران خان کی کفایت شعاری مہم کا وزیراعظم ہاؤس میں پچھلے 10 ماہ میں کیا حشر ہوا ؟ انصار عباسی کا ایسا انکشاف کہ آپ دنگ رہ جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی کفایت شعاری مہم اور ان کے وزیراعظم ہائوس میں نہ رہنے اور اسے یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے لگتا نہیں ہے کہ مجموعی اخراجات میں کمی آئی ہے کیونکہ وزیراعظم آفس نے نہ صرف 2018-19ء کے بجٹ میں مختص کردہ رقم سے زیادہ خرچہ کر دیا ہے

نامور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ 2019-20ء کے بجٹ میں اضافی رقم بھی مانگ لی ہے۔ عمران خان سابقہ حکمرانوں پر پرتعیش زندگی گزارنے اور وزیراعظم ہائوس میں تعینات سیکڑوں ملازمین پر سرکاری خزانے سے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں لیکن 2019-20ء کی بجٹ دستاویز دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کے تحت وزیراعظم ہائوس نے 2018-19ء میں نہ صرف زیادہ رقم خرچ کی بلکہ 2019-20ء کیلئے زیادہ رقم کا تقاضہ کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کی سابقہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے گزشتہ بجٹ میں وزیراعظم آفس کیلئے 98؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے کفایت شعاری مہم شروع کی، وزیراعظم آفس کی گاڑیاں اور بھینسیں بیچ دیں، سابقہ ملازمین کی جانب سے رکھے گئے سیکڑوں ملازمین کی بجائے صرف چند ملازمین رکھنے اور خرچے کم کرنے کا وعدہ کیا لیکن بجٹ دستاویز دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ عمران خان کے ماتحت وزیراعظم آفس نے مختص کردہ 98؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے سے زیادہ خرچہ کیا اور مجموعی طور پر یہ رقم 1.09؍ ارب روپے تک جا پہنچی۔ اب نئے مالی سال کیلئے وزیراعظم آفس کیلئے 1.17؍ ا رب روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال میں مختص کردہ رقم سے 3؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ سرکاری خزانے سے خرچہ کرکے سابقہ حکمرانوں کی جانب سے وزیراعظم ہائوس میں بادشاہی انداز میں مقرر کیے گئے سیکڑوں ملازمین کو فارغ کیا جائے گا تاکہ عوام کا پیسہ بچایا جا سکے۔

لیکن، 2019-20ء کی بجٹ دستاویز دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم ہائوس کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 7؍ کروڑ 95؍ لاکھ روپے مانگے گئے ہیں۔ تاہم، رواں مالی سال 2018-19ء میں یہ رقم 10؍ کروڑ 30؍ لاکھ تھی اور آئندہ مالی سال میں اس میں کمی کی گئی ہے۔ ریاستی نقل و حمل (کنوینس) اور گاڑیوں پر 2018-19ء میں وزیراعظم ہائوس نے 3؍ کروڑ 30؍ لاکھ روپے خرچ کیے جبکہ مختص کردہ رقم 3؍ کروڑ 79؍ لاکھ روپے تھی۔ 2019-20ء کیلئے حکومت نے 3؍ کروڑ 69؍ لاکھ روپے مختص کیے ہیں جو رواں مالی سال میں خرچ کردہ رقم سے 40؍ لاکھ روپے زیادہ ہے۔ وزیراعظم کے اسٹیٹ گارڈن اسٹیبلشمنٹ کیلئے حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے 2؍ کروڑ 40؍ لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم کو 3؍ کروڑ 36؍ لاکھ روپے سے کم کیا گیا ہے جو رواں مالی سال میں خرچ کی گئی تھی۔ نئے مالی سال کیلئے تحائف اور عطیات کی رقم 40؍ لاکھ روپے سے کم کرکے 10؍ لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ رواں سال وزیراعظم آفس کے ملازمین کے حوالے سے اخراجات لگ بھگ 30؍ کروڑ 50؍ لاکھ روپے ہیں لیکن آئندہ مالی سال میں ان میں 40؍ کروڑ 70؍ لاکھ روپے تک کا اضافہ ہوگا۔ آپریٹنگ اخراجات 2018-19ء میں تقریباً 4؍ کروڑ 30؍ لاکھ روپے رہے جبکہ 5؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے، اس مد میں آئندہ مالی سال کیلئے 4؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ صوابدیدی گرانٹ کو آئندہ مالی سال کیلئے 10؍ لاکھ روپے سے کم کرکے ایک ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ 2018-19ء میں وزیراعظم آفس کے اسٹاف اور ہائوس ہولڈ (گھریلو اخراجات) کیلئے 22؍ کروڑ 80؍ لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے لیکن خرچ 22؍ کروڑ 50؍ لاکھ روپے کیے گئے، آئندہ مالی سال کیلئے یہ رقم کم کرکے 21؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ وزیراعظم ہائوس کے مقابلے میں قصرِ صدارت کے ملازمین کی روزانہ اجرت کیلئے مختص کردہ رقم بہت زیادہ یعنی 11؍ کروڑ 50؍ لاکھ ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے اس مد میں آئندہ مالی سال کیلئے صرف 7؍ کروڑ 95؍ لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح قصرِ صدارت کے باغ کی دیکھ بھال کیلئے آئندہ مالی سال کے دوران 4؍ کروڑ 60؍ لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو وزیراعظم آفس / ہائوس کیلئے مختص کردہ رقم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ایوانِ صدر کے اسٹیٹ کنوینس اور گاڑیوں پر آئندہ مالی سال کے دوران 4؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہاں بھی وزیراعظم ہائوس کے مقابلے میں اس مد میں خرچ کی جانے والی رقم زیادہ ہے۔(ش س م)