’’ مجھے قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی موت کا سن کر اطمینان ہوا۔۔۔‘‘ پی پی رہنماء کے صاحبزادے کی حادثاتی موت پر یہ بد ترین بات کس شخص نے کہی؟ پوری قوم غم و غصے میں مبتلا

لالہ موسیٰ (نیوز ڈیسک ) پیپلز پارٹی سنڑل پنجاب کے صدر قمرالزمان کائرہ کے صاحبزادے اُسامہ کائرہ گذشتہ روز جی ٹی روڈ پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے جس کے بعد قمر الزمان کائرہ کو تعزیتی پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے اور سیاسی مخالفین نے بھی ان کے جوان بیٹے کی موت پر

دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ سیاسی اختلافات ایک طرف لیکن دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں بھی کچھ سیاسی مخالفین نے حد پار کر دی اور اُسامہ کائرہ کی موت کو قمر الزمان کائرہ کے لیے ایک ”سبق” قرار دے دیا۔قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی موت پر ٹویٹر پر ایک صارف نے سنگدلی کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ خبر سُن کر کچھ اطمینان ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کے لیے ہی قوم کا پیسہ لوٹتے ہیں اور اب ان کا بیٹا اس دنیا میں نہیں رہا۔اللہ کرے کہ اب یہ لوگ اس سے کچھ سبق سیکھیں۔جس پر ایک صارف نے جواب دیا کہ میں نے اُسامہ کائرہ کی کچھ ویڈیوز دیکھی ہیں وہ آنکھوں میں چمک رکھنے والا ایک معصوم بچہ تھا۔اطلاعات ہیں کہ اُسامہ کی گاڑی ایک موٹرسائیکل سوار کو بچاتے ہوئے کنٹرول سے باہر ہو گئی تھی، اگر اُس کی گاڑی موٹرسائیکل سوار کو ٹکر مار دیتے تو ہم یہی سنتے کہ حرام کا پیسہ ہے اور ایک سیاسی عہدیدار کے بیٹے نے موٹرسائیکل سوار کو ٹکر مار دی، ہمیں کبھی بھی کسی کے بارے میں پیشگی رائے قائم نہیں کرنی چاہئیے۔ایک اور صارف نے لکھا کہ تم جیسے لوگ بد ترین لوگ ہیں۔مجھے پاکستان پر ترس آتا ہے کیونکہ یہاں تم جیسے سنگدل اور بے حس انسان رہتے ہیں۔ایک صارف نے انجینئیر مزمل کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ تمہیں اپنے ٹویٹس پر شرمندہ ہونا چاہئیے۔ تمہیں لوگوں کا دکھ بانٹنے کا طریقہ سیکھنا چاہئیے۔ توبہ کریں ، آپ نے تھر کی بات اور اس حادثے کا غلط موازنہ کیا ہے۔اپنے ایک اور ٹویٹ میں بھی انجیئیر مزمل نامی اس ٹویٹر صارف نے لکھا کہ اللہ کرے کہ قمر الزمان کائرہ کو سبق حاصل ہوگیا ہے۔جس بیٹے کے لیے انہوں نے پیسہ لوٹا وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔ لہٰذا اب یہ لوگ ہمیں ہمارا پیسہ واپس کر دیں۔ ایک صارف نے انجینئیرمزمل کے تمام بیانات کا ملبہ وزیراعظم عمران خان پر ڈال دیا اور کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ہماری نسل کے ساتھ کیا کردیا ہے کہ ان میں اس قدر نفرت ہے۔ یہ کچھ نوجوان لڑکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ کسی کی موت پر خوشی منانا اچھی بات ہے۔یہی نہیں بلکہ دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر بھی کئی ایسے بیانات گردش کر رہے ہیں جس سے سنگدلی اور بے حسی صاف صاف جھلکتی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگرچہ یہ حادثہ قابل افسوس ہے لیکن اس طرح کے واقعات سے خاندانی سیاست کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ سوشل میڈیا سائٹس پر کچھ لوگ ایسے کمنٹس بھی کر رہے ہیں کہ دوسروں کے بچوں کا حق مار کر کھانے والوں کے اپنے بچے مر رہے ہیں۔