پاکستانی معیشت کا اللہ خافظ، ڈالر کی نئی قیمت 250 روپے ۔۔۔۔ پاکستانیوں کو انتہائی خوفناک خبر سنا دی گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گیلپ سروسے حکومتی معاشی پالیسیوںپر عدم اعتماد ہے آئندہ سال ڈالر 250 روپے تک پہنچے کی باتیں ہو رہی ہیں حکومت گرانے سے متعلق ابھی تک فیصلہ نہیں کیا تاہم مڈٹرم الیکشن جمہوری مطالبہ ہے عمران خان بائیس سال تک جو کہتے رہے اس

کا بالکل الٹ کر رہے ہیں سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا معاشی ٹیم میں نئے چہرے لائے گئے حکومتی ٹیم میں شامل کچھ چہرے پرانے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ایمنسٹی سکیم جیسی چیزیں بہت اہم ہیں انہوں نے کہا حکومت مارکیٹ کو اپنے اعتماد میں نہیں لے سکی تحریک انصاف حکومت کا رویہ اور زبان اپوزیشن والی ہے ان کو اب تک یقین نہیں ہو سکا کہ وہ اقتدار میں آ چکے ہیں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومتی صفوں میں غیر سنجیدگی ہے اور وزراء بچگانہ حرکتیں کرتے ہیں قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کو جواب دینے پر فواد چوہدری ، مراد سعید اور حماد اظہر کی آپس میں لڑائی ہو گئی تھی انہوں نے کہا کہ حکومت گرانے متعلق مسلم لیگ ن نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا یہ خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائیں گے مڈٹرم الیشکن جمہوری مطالبہ ہے لیکن ابھی اجتماعی طورپر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ گیلپ سروے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوام کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار ہے لوگ بینکوںمیں پیسے رکھنے کے بجائے کیش میں کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں حالات یہ ہیں کہ اگلے سال ڈالر 250 روپے تک پہنچنے کی باتیں ہو رہی ہیں معاشی صورتحال کی سمت کس طرف ہے یہ سمجھ سے باہر ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان قومی سطح کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے مشرف کے دور میں ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا بائیس سال جو باتیں کرتے رہے آج اس کا بالکل الٹ کر رہے ہیں جس شخص کے قول و فعل میں اتنا بڑا تضاد ہو وہ ملک کیسے چلا سکتاہے انہوں نے کہا کہ سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا حکومت تبدیل کرنے کے لئے سیاسی حربے استعمال کریں گے خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم بن گئی ہے مشاورت کے لئے اجلاس کی تجویز آئی ہے عید کے بعد مشاورتی اجلاس مین پارٹی پالیسی پر بات کی جائے گی اور بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر طے کریں گے کہ پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے ۔