فنکاروں کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت پر پابندی کا معاملہ ۔۔۔ طارق جمیل میدان میں آگئے، حقیقت پوری قوم کے سامنے رکھ دی

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) ممتازعالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ اداکاروں اور فنکاروں کی جانب سے ٹیلی ویژن پر رمضان ٹرانسمیشن کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئےمولانا طارق جمیل نے کہا کہ رمضان ٹرانسمیشن کا مقصد خیر خواہی کی بات کرنا ہے۔طارق جمیل نے کہا کہ دین کی

بات کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، لیکن فضولیات میں حصہ لینا ٹھیک نہیں ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی پنجاب نے حال ہی میں اتفاقِ رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ماہ رمضان کے حوالے سے پاکستانی ٹی وی چینلز پر پیش ہونے والے پروگراموں میں شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو شمولیت سے روکا جائے۔قرار داد صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے ممبر مولانا معاویہ اعظم کی طرف سے جمع کروائی گئی تھی ۔قرار داد میں پیمرا کو سختی سے پابند کیا تھا کہ وہ ٹی وی چینلز کو پابند کرے کہ ایسے شوبز سے جڑے لوگوں کو رمضان ٹرانسمیشن میں ہر گز شامل نہ کیا جائے۔ دوسری جانب معروف عالم دین اور مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے معیشت کی بہتری کا فارمولہ بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ سود ، سٹے اور ادھار سے پاک کاروبار معیشت کی بہترین کنجی ہے، قرضے لیکر چلنا خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، جب تک سود اور جھوٹ باقی ہے معیشت کبھی سنبھل نہیں سکتی۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جتنے یہودی ہیں وہ آپس میں سودی قرضے نہیں لیتے، ان کے اپنے بینک ہیں وہ سود پر قرضہ نہیں دیتے۔اسی طرح ہمارا تاجر بازار میں دیانتداری لے ، سچائی لے آئے اور سود کو نکال دے اورجھوٹ کو نکل دے تو ملک کی معیشت بحال ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تاجر دیانتدار اور زمیندار رحم دل ہوجائیں۔ جبکہ مزدور محنتی ہوجائے تو ہماری معیشت ٹھیک ہوجائے گی۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ملک کے عزت کے ساتھ چلنے کیلئے ضروری ہے کہ خوشحالی ہو۔خوشحالی کیلئے قرضہ نہیں دوکاموں کو ٹھیک کرنا ہوگا، ایک تجارت اور دوسرا زراعت کو ترقی دینا ہوگی۔ دونوں شعبوں میں سچائی کو لانا ہوگا، مزدوروں کو مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینا ہوگی۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سود ، سٹے اور ادھار سے پاک کاروبار معیشت کی بہترین کنجی ہے۔ ہمارا سال کاروبار ادھار پر چل رہا ہے۔ ادھار میں اصل قیمتیں چھپ کررہ جاتی ہیں۔قرضے لیکر چلنا خود کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سود اور جھوٹ باقی ہے معیشت کبھی سنبھل نہیں سکتی۔ دوسری جانب وفاقی مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے آج کراچی میں تاجروں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی بدحالی کے مسائل آج کے نہیں کافی عرصے سے چل رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو ملکی قرضہ 31ہزار ارب تھا۔حکومت نے معیشت کی بحالی کیلئے مشکل فیصلے کیے۔