اس دن دراصل میرے گھر کے دروازے پر کیا ہوا تھا ؟ مہمند میں ایک خاتون کے ہاتھوں سیکورٹی فورسز کے جوان کی ہلاکت کے پس پردہ کہانی کیا نکلی ؟ خاتون نے بی بی سی کی نمائندہ کو سب کچھ بتا دیا

پشاور (ویب ڈیسک) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند کی تحصیل صافی میں تقریباًدو ہفتےقبل پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ ایک مقامی خاتون نے مبینہ طور پر فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کو بغیر اجازت گھر میں گھسنے کی کوشش پر گولی مار دی ہے۔

بی بی سی کی ایک اسپیشل رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ علاقے کے مکینوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر اس خاتون نے ایسا اپنے دفاع میں کیا، تاہم پولیس کے مطابق ابھی تفتیش جاری ہے اور وہ حقائق کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔پولیس نے ابھی تک اس مقدمے میں کسی کو نامزد نہیں کیا ہے۔ جن خاتون کے گھر کے باہر ایف سی اہلکار محمد شریف کے قتل کا واقعہ پیش آیا انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں اس واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ تحصیل صافی سے تعلق رکھنے والی خاتون کے مطابق ’وہ ایک عجیب، رات تھی۔ اس رات کو بھولنے کی کوشش کرتی ہوں مگر وہ مجھے ڈراؤنے خواب کی طرح یاد رہتی ہے۔ میں اپنی بیٹی اور بہو کے ہمراہ گھر میں اکیلی تھی۔ میرا خاوند اور میرے بیٹے شہر میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے علاقے کے اکثر مرد دوسرے علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ علاقے کے لوگ ایک دوسرے کو باپ دادا کے زمانے سے جانتے ہیں، کوئی کسی کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ سب مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’علاقے کے لوگ جانتے ہیں کہ ہم اکثر گھر میں اکیلے ہوتے ہیں اس لیے دن کے وقت بھی کوئی غیر مرد ہمارے گھر نہیں آتا بلکہ علاقے کی خواتین اور رشتہ دار ہماری خیر خیریت معلوم کر لیتی ہیں، اگر کوئی ضرورت ہو تو وہ پوری کر دیتی ہیں۔ مگر اس رات جو ہوا وہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔‘

خاتون کا الزام ہے کہ وہ شخص زبردستی ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا انھوں نے بتایا کہ ’اس رات کوئی بارہ بجے کے بعد پہلے میں نے ٹارچ کی روشنی دیکھی تو نظر انداز کر دی کہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ٹارچ استعمال کرتے ہیں جس کے بعد میں نے نماز پڑھی اور پھر سونے کی کوشش کرنے لگی کہ اچانک گھر کے اندر کچھ گرنے کی آواز آئی۔۔۔ ساتھ ہی اب واضح طور پر آوازیں سنیں کہ دروازے کے ساتھ کوئی موجود ہے۔‘میں نے پوچھا کہ ’کون‘؟ تو اس نے کہا کہ ’دروازہ کھولو‘، جس پر میں نے کہا کہ ’ہر گز نہیں‘، گھر میں کوئی مرد موجود نہیں ہے۔تحصیل صافی کی مکین خاتون نے الزام عائد کیا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ میرا جواب سن کر واپس چلا جاتا یا اپنا کام بتاتا مگر اس نے دھمکی دی کہ وہ دروازہ توڑ دے گا۔‘ان کا الزام ہے کہ ’میں نے دروازے میں لگی ہوئی کنڈی کی آواز سنی تو سمجھ گئی کہ وہ کسی طرح دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا ہے تو میں نے اس سے کہا کہ بھائی خدا کے لیے ایسے نہ کرو، دن کے وقت آنا اور اگر تمھیں کام ہے تو باہر سے بتاؤ۔ ساتھ ہی وقت حاصل کرنے کے لیے اس کی منت سماجت کرنے لگی۔‘’اس دوران میں گھر میں موجود اپنی بیٹی اور بہو کو ایک کمرے میں بند کر کے چھت پر چلی گئی۔‘ان کے مطابق ’چھت پر جا کر میں نے اس کو دوبارہ قرآن پاک کا اور جرگے کا واسطہ دیا

اور ساتھ میں نے اس کو بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ میرا خاوند راج مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے جبکہ بیٹے ہتھ ریڑھیاں چلاتے ہیں۔ مگر اس نے نہ تو قرآن کی پرواہ کی اور نہ ہی میری منت سماجت کی۔ چھت پر سے واضح طور پر مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اب وہ دروازہ پھلانگ کر اندر آنا چاہتا ہے۔‘اس موقع پر میں نے ایک مرتبہ پھر اس سے کہا کہ ایسے مت کرو اور ساتھ میں نے کہا کہ اچھا رکو، ایسے اندر مت آؤ میں نیچے آکر دروازہ کھولتی ہوں، ساتھ ہی اپنے خاوند اور دیگر رشتہ داروں کو فون کیے جنھوں نے مجھے حکومت والوں کے نمبر دیے۔ میں نے حکومت والوں کو بتایا کہ ہمارے گھر کے سامنے حکومت کا آدمی آیا ہوا ہے جو زبردستی اندر آنا چاہتا ہے۔ مجھے فون پر مختلف لوگوں سے بات کرتے ہوئے دس، پندرہ منٹ لگے ہوں گے اور اس دوران میں چھت پر سے بھی نیچے اتر آئی تھی۔‘اس کے سر پر جنون سوار تھا‘خاتون کے بقول وہ شخص وردی میں نہیں تھا لیکن بار بار یہ کہتا تھا کہ وہ ’حکومت والا‘ ہے۔ان کا الزام ہے کہ اس دوران اس شخص نے ایک بار پھر دروازہ پھلانگ کر اندر آنے کی کوشش کی اور ان کی منت سماجت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔وہ کہتی ہیں ’میں دیکھ چکی تھی کہ وہ کسی بھی لمحے دروازے سے کود سکتا تھا۔ اس پر میری منت سماجت یا اس کی ماں، بیٹی، بہن کے واسطوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

یہ میرے لیے فیصلے کا لمحہ تھا اور میں فیصلہ کر چکی تھی۔‘’میں اچھی طرح سمجھتی اور جانتی تھی کہ اگر وہ گھر کے دروازے کے اندر کود گیا اور اندر پایا گیا تو اس کا کیا مطلب ہو گا؟ اس کے ہمیں کیا نتائج بھگتنا ہوں گے اور اگر وہ دروازے کے باہر پایا گیا تو پھر اس کا کیا مطلب لیا جائے گا۔‘علاقے کے مکینوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر اس خاتون نے ایسا اپنے دفاع میں کیا خاتون نے مزید کہا کہ ’دروازے کے باہر پائے جانے کی صورت میں ہر کوئی سمجھ لے گا کہ وہ ہی قصوروار ہے اور ہم مظلوم اور بے گناہ ہیں جبکہ اندر پائے جانے کی صورت میں ہماری بات کا کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس کے سر پر جنون سوار تھا۔ مجھے وہ کرنا تھا جس سے میں خود کو بچا پاتی۔ اندر کمرے سے میری بیٹی اور بہو مجھ سے التجا کر رہی تھیں اور سسکیاں لے رہی تھیں کہ میں دروازہ کھول دوں، وہ بھی میری مدد کریں گی اور مل کر مقابلہ کریں گے مگر یہ ممکن نہیں تھا۔‘ اطلاعات کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل اس شب ہونے والی ہلاکت گولی لگنے سے ہوئی ہے، تاہم پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس مبینہ واقعے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج میں مکینوں نے دعویٰ کیا کہ ’مقتول سکیورٹی اہلکار جس کا تعلق فرنٹئیر کور سے تھا ایک گھر میں داخل ہوا۔ واقعے کے وقت گھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا اور خاتون نے سکیورٹی اہلکار پر گولی چلائی جس کے بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔‘

’ایف آئی آر میں خاتون کا ذکر نہیں‘ضلع مہمند کے ڈی پی او عبدالرشید کی جانب سے بھجوائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق واقعے کا ملزم نامعلوم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تحصیل صافی کے علاقے مہمند گیٹ کے محلہ سید خان کور میں ایک بجے پیش آیا، جس کی اطلاع اڑھائی بجے ملی اور ایف آئی آر ساڑھے تین بجے درج کر دی گئی۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ ایف آئی آر میں نہ تو کسی عورت کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ درج ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکار نے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی، ڈی پی او مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیس میں تفتیش ہو رہی ہے اور ابھی واضح نہیں کہ ہوا کیا ہے۔ موبائل ڈیٹا سے پتا چلے گا، ابھی یہ معلوم کر رہے ہیں کہ کیا کوئی عورت اتنی جرات کر سکتی ہے کہ وہ گولی مار سکے یا یہ کوئی اور قصہ ہے۔ کوئی اور بھی اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ جس عورت کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کے ہاتھوں قتل ہوا ہے، اس کا بیان مظاہرین سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق ’عورت کا کہنا ہے کہ اس کے گھر کے سامنے کسی نے سکیورٹی اہلکار کو قتل کیا ہے۔‘ حکام کے مطابق اس واقعے میں ابھی کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے ضلعی انتظامیہ کے ذرائع سے ہی بی سی کو معلوم ہوا کہ

واقعے کے وقت علاقے میں کوئی سرچ آپریشن نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی بلا اجازت کسی کے گھر میں اس طریقے سے داخل ہوا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات کے تحت آلۂ قتل تو واپس نہیں کیا گیا تاہم خاتون کا موبائل لوٹا دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی تردید کی گئی تھی کہ متعلقہ ایف سی اہلکاروں کی تعداد دو تھی اور ایک زخمی حالت میں فرار ہو گیا ہے۔اس واقعے کے بعد علاقے کے مکینوں نے کئی گھنٹوں تک احتجاج کیا تھا۔ حکومت نے کلیئر کر دیا ہے‘ خاتون کے خاندان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان سے حکومت کے تمام اعلیٰ افسران نے ملاقاتیں کی ہیں اور بتایا ہے کہ ان پر کیس نہیں چلے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ علاقے میں اس طرح کا واقعہ پیش نہ آئے۔ ان کے مطابق انھیں حکومتی یقین دہانیوں پر اعتماد ہے کیونکہ حکومت نے مشران اور علاقے کے لوگوں کی موجودگی میں جرگہ کر کے انصاف دینے کا کہا ہے۔ واقعے کے بعد احتجاج کی قیادت کرنے والے عوامی نیشنل پارٹی ضلع مہمند کے صدر نثار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس واقعے سے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ سیاسی پارٹیوں کے قائدین سمیت لوگ صبح سے ہی اکٹھے ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس موقع پر تمام قائدین نے مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ اس سے پہلے کہ نوجوان اشتعال میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھا لیں،

ہمیں ان کو پُرامن رکھ کر اپنی آواز بلند کرنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد دھرنے کا آغاز کیا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے پہنچنا شروع کر دیا۔ ’اس موقع پر مہمند ایجنسی سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ممبر قومی اسمبلی ساجد خان بھی دھرنے میں پہنچے۔ پھر انتظامیہ نے ہمارے ساتھ رابطے کرنا شروع کر دیے اور ہم نے بھی مذاکرات کے عمل کا آغاز کیا۔‘ نثار خان کے مطابق ’اس میں پہلی شرط یہ ہی تھی کہ ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار کے قتل میں کسی کو نامزد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کو نامعلوم قتل کہا جائے، کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی بلکہ حقیقت میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان کو ایف آئی آر میں درج کیا جائے گا اور اس بات کی تحقیق کی جائے گی کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کے ہمراہ اور کون کون تھا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘ نثار خان نے مزید بتایا کہ جب انتظامیہ کے افسران نے ہمارے مطالبات منظور کرنے کا اعلان کیا تو اس موقع پر ساجد خان نے اس بات کی ضمانت فراہم کی تھی کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ساجد خان کی ضمانت پر ہم لوگوں نے احتجاج ختم کیا، مگر جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کی کاپی ہمیں بعد میں ملی ہے اور اس میں اصل واقعات کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں کسی کو نامزد تو نہیں کیا گیا مگر یہ کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکار کو نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے، حالانکہ تمام افسران اور انتظامیہ ہمارے ساتھ متفق تھے کہ یہ عزت، جان و مال پر حملہ تھا اور واقعہ سیلف ڈیفنس کا ہے۔‘ ان کے مطابق ’اب قتل کے واقعے کی ایف آئی آر سے ہمیں یہ شبہ ہے کہ کسی بھی وقت اس میں گرفتاریاں وغیرہ کی جا سکتی ہیں اور یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔‘ نثار خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے تحفظات سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا ہے اور یہ سب پر واضح کر دیا ہے کہ قبائل سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر عزت پر حملہ قبول نہیں کریں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ معاملے کو اصل حقائق کی روشنی میں قانونی طور پر بھی ہمیشہ کے لیے حل کر دیا جائے اور کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے۔‘ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی ساجد خان سے ان کا موقف جاننے کے لیے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔(ش س م)