نیا گورنر اسٹیٹ بینک کس کے کہنے پر لگایا ؟ وزیراعظم عمران خان نے خود ہی بتا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے مشاورتی اجلاس میں انکشاف کیا کہ نیا گورنر سٹیٹ بینک لگانا ہماری مجبوری بن گیا تھا کیونکہ نیا گورنر سٹیٹ بینک لگانے کی شرط آئی ایم ایف نے عائد کی تھی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ طارق باجوہ کو ہٹا کر رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک

بنانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ملک میں بینکاری کے نظام میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ ڈالرز کی قیمت میں اضافہ کی روک تھام کر سکیں جس کا وہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے رضا باقر کی تقرری پر اپوزیشن سمیت اپنی پارٹی دیگر رہنماؤں کے تمام اعتراضات کو بھی مسترد کر دیا ہے، اس سے قبل بھی یہ خبر تھی کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار شاہد مسعود نے کہا کہ جتنے بھی لوگ آ کر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئے ہیں، پھر چاہے وہ رزاق داؤد ہوں، چاہے وہ حفیظ شیخ ہوں۔ اب حفیظ شیخ کو دیکھ لیں کہ وہ کتی اچھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لائے ہیں جس میں کہا گیا کہ باہر کا پیسہ لائیں جبکہ حفیظ شیخ صاحب تو خود باہر رہتے ہیں۔باقر رضا کے بارے میں بھی اسد عمر کو کہا گیا تھا کہ اس بندے کو نہ لانا اس کی وجہ سے بربادی ہو سکتی ہے۔ عمران خان کے آس پاس ایسے لوگ بٹھا دئے گئے ہیں جن کے اسٹیک نہیں تھے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر رضا باقر آئی ایم ایف کی نوکری چھوڑ کر پاکستان خدمت کے لیے آئے ہیں، انہیں انگریزی، اُردو اور پنجابی زبانیں آتی ہیں ۔ان کا تعلق ملتان کے قریبی علاقہ وہاڑی کے ایک گاﺅں 571 ای بی سے ہے اور یہ وہیں کے رہنے والے ہیں۔ڈاکٹر رضا باقر پاکستان آنے سے پہلے آئی ایم ایف کے لئے مصر میں کام کر رہے تھے۔