’’ وزیر اعظم پر بنی گالہ میں خود کش حملہ ہوسکتا ہے ۔۔۔‘‘عمران خان کی جان کو شدید خطرہ ، سینئر صحافی کے خبر بریک کرتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دوڑیں لگ گئیں

اسلام آباد (نیوزڈیسک) سینئر صحافی تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کو سیاسی خطرات اور معیشت کے حوالے سے خطرات کے علاوہ جان کا خطرہ بھی ہے۔ دوسرا انہیں سکیورٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ سکیورٹی کا مسئلہ نہ صرف ملک

کو بلکہ عمران خان کی ذات کو بھی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ یہ بات ہو چکی ہے کہ عمران خان کو کئی دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد یہ کہا گیا کہ ان پر خود کُش حملہ ہو سکتا ہے جس کے پیش نظر ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پارک لین میں پچیس فیصد شئیرز ہیں جبکہ میگا منی لانڈرنگ کیس میں بھی بلاول بھٹو زرداری کا نام آ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے پہلے ریاست کی بات کر لیتے ہیں۔ پہلے ریاست کی بات آ تی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کو سیاسی خطرات اور معیشت کے حوالے سے خطرات کے علاوہ جان کا خطرہ بھی ہے۔ دوسرا انہیں سکیورٹی کا مسئلہ بھی ہے۔ سکیورٹی کا مسئلہ نہ صرف ملک کو بلکہ عمران خان کی ذات کو بھی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ یہ بات ہو چکی ہے کہ عمران خان کو کئی دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد یہ کہا گیا کہ ان پر خود کُش حملہ ہو سکتا ہے جس کے پیش نظر ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ عمران خان کو بطور وزیراعظم پاکستان اب بھی کئی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ اعلیٰ فورم پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ بنی گالہ میں وہ جس جگہ رہائش پذیر ہیں وہ علاوہ محفوظ نہیں ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے آس پاس

سارا جنگل ہے جہاں رات کے وقت لائٹ بھی نہیں ہوتی۔ وہاں پر اگر کسی کا بھی جانے کا اتفاق ہو تو وہاں موجود سکیورٹی گارڈز ٹارچ کی روشنی میں عمران خان کی رہائش گاہ پر لے کر جاتے ہیں۔ اگر سکیورٹی گارڈز سے دریافت کیا جائے تو ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات ہیں کہ رات کے وقت اس جگہ پراندھیرا رکھا جائے۔ عمران خان کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے باعث اب سکیورٹی الرٹ بھی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا کہ میں پہلے ہی اپنے پروگرام میں اس طرح کی بات کر چکا ہوں کہ یہ جو دھڑا دھڑ چینیوں کی پاکستانیوں سے شادیاں ہو رہی ہیں ان پر نظر رکھی جائے ، پھر ایسا پہلے پاکستان میں کبھی بھی نہیں ہوا کہ چوبیس ، ارتالیس اور بہتر گھنٹوں میں چینیوں کی شادیوں کا سکینڈل سامنے آگیا اور پھر ان سے اسلحہ برآمد اور پتہ نہیں کیا کیا خبریں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ پھر یہ انکشاف سامنے آیا کہ چینی لڑکے پاکستانی لڑکیوں کو چائینہ میں لیجا کر انکے اعضاء نکال کر بیچتے ہیں اور پتہ نہیں انکے ساتھ کیا کیا کرتے ہیں ، عجیب پر اسرار قسم کی خبریں پچھلے کچھ گھنٹوں میں ایک دم سے سامنے آئی جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ چین کی پاکستان میں ایک بڑی انوسٹمنٹ موجود ہے ، چین پاکستان کا ایک ہمیشہ سے دوست رہا ہے ، لیکن اس سارے معاملے پر چین کی جانب سے بھی سخت رد عمل دیکھنے میں آیا کہ پاکستان میں یہ سنسنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ، کچھ واقعات ہمارے نوٹس میں ہیں جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان جب چینیوں کو ویزہ جاری کرتی ہے تو براہ کرم پاکستانی قونصلیٹ کو تحقیق کر لینی چاہیئے کہ آیاں چینی باشندے پاکستان میں شادیاں کرنے جا رہے ہیں یا پھر کاروبار کرنے ؟ کچھ واقعات کو ہم حکومت پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر حل کر چکے ہیں، لیکن یہ سنسنی پھیلا کر تعلقات کو خراب کیا جارہا ہے جو کہ ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے ، یہی بات چین نے بھی کہی اور شاہ محمود قریشی بھی یہی بات کرتے دکھائی دیئے ۔ جیسے ہی چین اور پاکستان کی جانب سے اس واقعے پر رد عمل دیا گیا تو پھر اس طرح کی خبریں آنا بند ہوگئیں ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کیا کہا؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں ۔۔۔: