بریکنگ نیوز: چیف جسٹس عدالت کی سربراہی سے مستعفیٰ ۔۔۔ اگلے سینئرترین جج نے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) محمد نور مسکان زئی نے وفاقی شرعی عدالت کےنئے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا۔تفصیلات کے مطابق نئے چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری سے متعلق تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں فیڈرل شریعت کورٹ کے وکلاء اور ججز نے بھی شرکت کی۔قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس گلزار احمد نے محمد نور مسکان زئی سے بطورچیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ کا حلف لیا۔یاد رہے کہ وفاقی شرعی کورٹ پاکستان میں اسلامی اور شرعی احکامات کے تناظر میں فیصلہ کرتی ہے۔ اس عدالت میں ملک سے سودی نظام کے خاتمے سمیت دیگر اہم مقدمات کی سماعت کی جا چکی ہے۔شرعی حوالے سے اسمبلی سے منظور کردہ کوئی بل ہو یا پھر کسی بھی ادارے کی جانب سے کوئی غلط اقدام شرعی عدالت میں اس کے خلاف پٹیشن دائر کی جاتی ہے۔وفاقی شرعی عدالت پاکستان 8 (آٹھ) مسلمان منصفین پر مشتمل ہے جس میں منصف اعظم (Chief Justice) بھی شامل ہیں۔ یہ تمام منصفین صدر پاکستان کی منظوری سے تعینات کیے جاتے ہیں جو پاکستان کی عدالت عظمٰی یا کسی بھی صوبائی عدالت عالیہ کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس ججز میں سے ہوتے ہیں۔وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس ریاض احمد خان تھے تاہم اُن کی مدتِ ملازمت ختم ہونے کے بعد اب یہ عہدہ نور مسکان زئی کو تفویض کیا گیا، فیڈرل شرعی کورٹ کے 8 ججز میں سے 3 کا علوم اسلامیہ و شریعت کا عالم ہونا ضروری ہے۔عدالت کے تمام منصفین 3 سال کے عرصہ کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی منصف کا دور تعیناتی صدر پاکستان کی صوابدید پر بڑھایا جاسکتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت پاکستان اپنے طور پر، کسی بھی شہری یا حکومت پاکستان (وفاقی و صوبائی) کی درخواست پر کسی بھی قانون کو جانچنے کا اختیار رکھتی ہے۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف درخواست پاکستان کی عدالت عظمٰی کے

ا پلیٹ بینچ کے دفتر میں دائر کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی بھی لاگو یا زیر غور قانون شریعت اسلامی کے منافی قرار پایا جاتا ہے تو عدالت کی جانب سے حکومت کو سفارش کی جاتی ہے کہ وہ اسے روکے یا ترمیم کرے جس کے بعد قانون میں مناسب تبدیلی مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں (بالا اور زیریں) سے اسلامی شریعت کے عین مطابق منظور کروائے جاتے ہیں۔اس عدالت کے دائرہ اختیار میں فوجداری مقدمات کی سماعت بھی شامل ہے جو حدود کے زمرے میں آتے ہوں۔ اس عدالت کا فیصلہ کسی بھی صوبائی عدالت عالیہ کے فیصلے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حدود سے متعلق کسی بھی مقدمے کی سماعت و پیروی کے لیے یہ عدالت اپنے ملازمین متعین کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر آئی تھی کہ وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس جسٹس سردار رضا نے چیف الیکشن کمشنر بنائے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔نئے مقرر کئے گئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی حیثیت سے مستعفی ہو گئے ہیں، جسٹس سردار رضا کا نام قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے تجویز کیا تھا جس کی وزیر اعظم کی جانمب سے سفارش کے بعد صدر مملکت نے انکی تقرری کا حکم دیا۔جسٹس سردار رضا نے اپنا استعفی صدر ممنون حسین کو بھجوا دیا ہے ، انہوں نے مستعفی ہونے کے بعد وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبا ن اور عملے سے الوداعی ملاقات کی تھی۔