صبح صبح شاندار خبر : عمران خان نے آئی ایم ایف کے منہ پر ایسا کرارا تھپڑ رسید کر دیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی ، پاکستانی قوم خوشی سے جھوم اٹھی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا۔ عمران خان نے مالیاتی معاملات پر اہم اجلاس پیر کو طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر آئی ایم ایف

کی شرائط میں نرمی چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس میں چھوٹ کے معاملے پر آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے اور ٹیکس وصولی ہدف کم کرنے کیلئے بھی رضامند کیا جائے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان سے حفیظ شیخ کی دو بار ملاقات ہوئی۔ مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے مالیاتی معاملات پر اہم اجلاس پیر کو طلب کر لیا، اجلاس میں کابینہ ارکان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ جس میں آئی ایم ایف مذاکرات اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر بات ہوگی۔ مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ اور متعلقہ حکام بریفنگ دیں گے۔ دوسری طرف حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائظ مان لی ہیں جس کے تحت بجلی اور گیس کے نرخ مرحلہ وار بڑھائے جائیں گے اور ٹیکس آمدن میں بھی 6 سے 7 سو ارب روپے اضافہ کیا جائے گا لیکن آئی ایم ایف ڈو مور پر بضد ہے اور حکومت کے اقدامات پر عدم تسلی بھی ظاہر کی ہے۔ ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو منانے میں مزید وقت درکار ہے، امید ہے پیر تک صورتحال واضح ہو جائے گی، ترجمان کے مطابق آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات 10 مئی کو ختم ہونا تھے تاہم آخری موقع پر کچھ ایشوز پر اتفاق نہ ہوسکا۔ ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات مزید دو دن جاری رہیں گے، اس دوران مزید پیش رفت

کا امکان ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )اور وزارت خزانہ کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کر دیا۔ آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے حکام کے درمیان مذاکرات جمعے کے روز بھی جاری رہے اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ حتمی ڈیل ہوجائے گی تاہم ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان کو 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض ملنے کی توقع ہے جس کی میعاد 3 سال ہوگی۔جمعے کے روز وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور دیگر اقتصادی ماہرین نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں مشیر خزانہ اور دیگر حکام نے وزیراعظم کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حتمی معاہدے پر بریفنگ دی اور بیل آؤٹ پیکیج سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات میں وزیراعظم کو آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مستردکردیا ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کرچکے تھے لیکن جب یہ مسودہ منظوری کیلئے دکھایا گیا تو عمران خان نے اسے مسترد کردیا۔ وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مشیر خزانہ کو ٹیکس وصولی کا ہدف کم کرنے کیلئے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس استثنیٰ سے متعلق بھی آئی ایم ایف سے مزید رعایت لی جائے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے بجٹ میں 700 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیکسز سے متعلق شرائط نرم کرنے پر تیار نہیں اور عالمی مالیاتی ادارہ ایف بی آر کا ٹارگٹ 5200 ارب روپے سے زائد مقرر کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے کی آئی ایم ایف کی شرائط مان لی ہیں، بجلی،گیس کی مد میں 340 ارب روپے 3 سال میں صارفین کی جیبوں سے نکالے جائیں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان اس سے قبل 21 پروگراموں کے ذریعے 14 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرضوں پر مشتمل پروگرام لے چکا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تین سال کے لیے آئی ایم ایف پروگرام لیا تھا۔