بریکنگ نیوز : اسد عمر کے بھائی زبیر عمر بھی عمران خان کو پیارے ہوگئے

کراچی(نیوز ڈیسک) سندھ کے سابقہ گورنر اور مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے حکومت گرانے کی تحریک کی مخالفت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو 9 ماہ میں گرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں وقت دیا جانا چاہیے۔ اس سے پہلے جمعیتِ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے

کہا تھا کہ حکومت کو گرا دینا چاہیے اور سابق صدرآصف علی زرداری نے بھی اعلان کیا تھا کہ حکومت کو اب گھر بھیجا جائے گا اور اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے ن لیگ سے بھی رابطے کیے تھے لیکن ن لیگ نے حکومت کو نہ گرانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے بھی حکومت گرانے کی مخالفت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہا کہ ملک کو آگے کیسے لے کر جائے لیکن 9 ماہ میں حکومت کو گرانا نہیں چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین نے بھی اپنے گھریلو ملازمین کے نام پر بینکوں میں اکاؤنٹس کھلوائے اور اگر نیب سیاست کرے گی تو اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔ سابق گورنر سندھ نے احتجاج کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم احتجاج کرنے کا کہتے ہیں تو عمران خان نے کہتے ہیں کہ آپ احتجاج کریں ہم کنٹینر دیں گے جبکہ اعجاز شاہ کہتے ہیں کہ ہم چھترول کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی قیادت کو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی قیادت کو فی الوقت حکومت کے خلاف کوئی بھی تحریک چلانے اور کسی قسم کا بھی احتجاج کرنے سے روک دیا ہے ۔ اس حوالے سے پارٹی قیادت اور کارکنان کو ایک ’’گائیڈ لائن‘‘ دی گئی ہے جس کے مطابق اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا وقت نہیں بلکہ موجودہ حکومت کو وقت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی کارکردگی سے خود عوام تنگ آکر مسلم لیگ ن کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے حمزہ شہباز اور مریم نواز کو اس سلسلہ میں مکمل طور پر روک دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایشو پر فی الحال کارکنوں کو باہر لانے کی کوشش نہ کریں اور تمام صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل تنظیموں کو بھی اس بارے میں وضاحت کریں تاہم دوسری طرف تنظیمی معاملات کو بہتر کرنے پر زور دیا جائے واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے چند ماہ کے بعد ہی مہنگائی کا گراف اوپر چلا گیا جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتبار بھی تبدیلی سرکار سے اُٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جہاں بیان بازی ہو رہی تھی وہیں اُس بیان بازی کو فی الوقت روک دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے موجودہ حکومتی دور میں ہونے والی مہنگائی اور اس کے نتیجے میں عوام کا تبدیلی سرکار پر سے ڈگمگاتا ہوا اعتبار مکمل طور پر کیش کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس حوالے سے بس اس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ کب اور کیسے عوام اپنی ہمت ہاریں تاکہ عوام کو ڈھال بنا کر موجودہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلا جا سکے۔