شانداربریکنگ نیوز: تمام گاڑیوں کے ٹوکن، ٹول اورٹرانسفر ٹیکس ختم، مگر بس اس چھوٹی سی شرط پر۔۔ عمران حکومت نے دل خوش کر دینے والا اعلان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نئی حکومت جب سے اقتدارمیں ائی ہے کہ تب سے ملک میں تبدیلیاں لا رہی ہے ، اور اب پنجاب حکومت نے عوام کو ایک بڑی خؤشخبری سنا دی ہے ، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام گاڑیوں کے ٹوکن، ٹول اور ٹرانسفر ٹیکس ختم کر دیے جائیں۔

اسکے بدلے میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ اضافی کر دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے گاڑیوں کے ٹوکن، ٹول اور ٹرانسفر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اب شہریوں کو گاڑی کے ٹوکنلگوانے نہیں پڑیں گے، ٹول ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی ٹرانسفر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، محکمہ ایکسائز نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اس کے بدلے میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپیہ اضافی کر دیا جائے۔ اس اقدام سے گاڑیوں کے ٹوکن لگائے جانے اور ٹرانسفر کے دوران کی جانے والی کرپشن ختم ہو جائے گی اور شہریوں کو بار بار ایکسائز دفتروں کے چکر بھی نہیں لگانے پڑیں گے، محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ اگر ٹول،ٹرانسفر اور ٹوکن ٹیکس ختم کر کے صارفین سے فی لیٹر پٹرول پر ایک روپیہ فصول کیا جائے تو صارفین کو بھی آسانی ہو جائے گی اور حکومت کو بھی 9ارب روپے کی جگہ12ارب روپے ریونیو ملے گا، ایکسائز کا محکمہ پہلے ٹوکن اور ٹرانسفرٹیکس کی مد میں ہر سال 9ارب روپے جمع کرتا ہے لیکن اگر پٹرول کی فی لیٹر فروخت میں ایک روپیہ وصول کیا جائے تو محکمہ سالانہ 12ارب روپے اکٹھا کر کے خزانے میں جمع کروا سکے گا۔ اس اقدام سے کرپشن روکنے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو آسانی ہو جائے گی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ ٹیکس ملنے کی وجہ سے ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ گاڑی پر ہر سال 15000روپے سے 30000روپے ٹوکن ٹیکس دینا پڑتا ہے

جب کہ گاڑیکی ملکیت ٹرانسفر کرنے کی فیس بھی ہزاروں میں وصول کی جارہی ہے لیکن اب یہ تمام ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ایکسائز کے محکمہ میںکرپشن ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی، اس سے قبل عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستانیوں کا خون کریں گے تو ایسی غلط فہمی میں نہ رہنا کیونکہ کچھ بھی کیا تو یہاں سے جوابی کارروائی ہوگی، تھر کے علاقے چھاچھرو میں صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے بعد پاکستان میں پہلا جلسہ تھر والوں کے ساتھ ہے، تھر اس لیے آیا کہ پورے ملک میں یہ سب سے پسماندہ علاقہ ہے جو سب سے پیچھے رہ چکا ہے، لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، یہاں پچھلے تین چار سال میں 1300 بچے خوراک نہ ملنے سے مرچکے ہیں، اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے، وزیراعظم نے تھر کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجرا کا اعلان کیا اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سارے اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، ہمارے ہیلتھ کارڈ آج سے ایک لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ملیں گے، اس کارڈ سے ہر خاندان 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا علاج کسی بھی سرکاری کا پرائیوٹ اسپتال سے کراسکتا ہے، ہم یہ تمام کارڈ تھر کے لوگوں کو پہنچائیں گے۔۔