Categories
پاکستان

وفاق میں (ن)لیگ کی حکومت آتے ہی ڈی جی نیب لاہور کسے تعینات کر دیا گیا؟

لاہور(نیوز ڈیسک) شہزادسلیم کودوبارہ ڈی جی نیب لاہورتعینات کردیاگیا۔تفصیلات کے مطابق شہزاد سلیم کو ایک بار پھر ڈی جی نیب لاہور تعینات کر دیا گیا جبکہ موجودہ ڈی جی نیب لاہورجمیل احمدکوآگاہی ونگ اسلام آبادمیں تعینات کردیاگیا۔واضح رہے کہ شہزادسلیم کاچند ماہ پہلےلاہورسےاسلام آبادتبادلہ کیاگیاتھا اور ان کی جگہ جمیل احمد کو ڈی جی نیب لاہور تعینات کیا گیا

تھا۔ْ تاہم اب شہزاد سلیم کی دوبارہ نیب لاہور میں واپسی ہو گئی ہے۔

Categories
پاکستان

نواز شریف کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کرنے سے روکنے کی درخواست دائر!! اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی بڑا قدم اُٹھا لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کرنے سے روکنے کی درخواست دائر کردی گئی،اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کے روز سماعت کریں گے۔اے آر وائے نیوز رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے نعیم حیدر نے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اشتہاری مجرم ہے، پاسپورٹ

جاری کرنے سے روکا جائے اور درخواست پر آج سماعت کرکے نواز شریف کی گرفتاری کا حکم دیا جائے۔نواز شریف کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر رجسٹرار ہائی کورٹ آفس نے بینچ تشکیل دے دیا اور وکیل کی پیر کو سماعت کی استدعا منظور کرلی۔درخواست میں نواز شریف، سیکریٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ کو فریق بنایا گیا۔درخواست میں نواز شریف کو واپسی پر گرفتار کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔اسلام آباد کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کے روز سماعت کریں گے۔خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں نواز شریف اور اسحاق ڈار کے پاسپورٹ کی تجویز کروانے کا فیصلہ بھی کرلیاگیا ،نواز شریف اور اسحاق ڈار کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو چکی ہیں ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کے نئے پاسپورٹ کے اجراء کیلئے درخواستیں تیار ہیں جبکہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے بھی درخواست تیار کر لی گئی ہے اسحاق ڈار کا پاسپورٹ ساڑھے تین سال قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے منسوخ کرادیا تھا ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کے پاسپورٹ کے اجراء کے بعد وطن واپسی ہوگی اور وہ سعودی عرب میں عمرہ ادا کرکے پاکستان واپس آئینگے۔

Categories
پاکستان

ساری گیم میں آصف زرداری نے فائدہ اُٹھا لیا! صدر ، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئر مین سینیٹ کا عہدہ پیپلز پارٹی کو دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت میں بھرپور نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ کا عہدہ اتفاق رائے سے پیپلزپارٹی کو دیا جائے گا۔اے آر وائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کے بعد زرداری ہاؤس میں کابینہ کے حوالے سے حتمی مشاورت ہوگی۔نو سے زائد وفاقی وزراء کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا اور

مشاورت کے بعد کابینہ میں ناموں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق راجہ پرویز اشرف اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے متوقع امیدوار ہیں جبکہ سینیٹ چیئرمین کے لئے یوسف رضا گیلانی متوقع امیدوار ہو سکتے ہیں ۔قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی نئی کابینہ کے ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کا قلمدان رانا ثنا اللہ جب کہ وزارت اطلاعات ونشریات کا قلمدان مریم اورنگزیب کو دیےجانے کا امکان ہے۔ پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف کو اسپیکر کیلئے نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی نشست جے یو آئی کو دیے جانے امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 12 وزراء جب کہ پیپلزپارٹی کے 7 ، جےیوآئی کے 3 اور ایک وزیر مملکت ہو گا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی ملاقاتپیپلزپارٹی کے 7 جےیوآئی کے 3 اور ایک وزیر مملکت ہوگا۔ ایم کیو ایم کو پورٹ اینڈ شپنگ کی وزرات، اور ایک دوسری وزارت دی جائے گی۔ایم کیو ایم کو پورٹ اینڈ شپنگ کی وزرات دی جائے گی، باپ پارٹی اور بی این پی مینگل کو بھی 2،2 وزارتیں دی جائے گی۔ اے این پی کو وزارت مواصلات دی جائے گی۔سندھ کا گونر ایم کیو ایم ، پنجاب کا پیپلزپارٹی ، کے پی کے کا گورنر جے یوآئی اور بلوچستان کا بی این پی مینگل سے ہو گا۔ دوسری جانب سابق وزیر اطلاعات و رہنما تحریک انصاف فوادچوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کے ایک اشارے پر 125 ارکان اسمبلی نے استعفے امپورٹڈ حکومت کے منہ پر دے مارے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں فوادچوہدری نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل مریم نواز نے اپنے دو ایم این ایز کو کہا استعفیٰ اسپیکر کے منہ پر مارو تو دونوں نے مریم بی بی کو کہا مذاق میں بھی ایسا نہ سوچنا۔

Categories
پاکستان

علی امین گنڈا پور تو بڑے چھپے رُستم نکلے! 30 کروڑ لے کر اندر ہی اندر کیا گیم ڈال دی؟ عمران خان بھی حیران

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،گزشتہ 3 روز سے آزاد کشمیر میں بحران چل رہا تھا کہ تحریک انصاف کے 25 لوگوں نے اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریک عدم اعتماد

جمع کروائی تھی اس حوالے سے گزشتہ روز سردار عبدالقیوم نیازی نے عمران خان کے ساتھ بنی گالہ میں اہم ملاقات بھی کی تھی۔ذرائع کے مطابق عمران خان اور سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات خوشگوار نہیں رہی۔ذرائع کے مطابق سردار عبدالقیوم نیازی نے عمران خان کے سامنے علی امین پر الزام لگایا کہ انہوں نے 30 کروڑ روپے لیکر میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کی سازش کی۔ذرائع کے مطابق سردار عبدالقیوم نیازی کے الزامات پر عمران خان حیران رہ گئے اور انہوں نے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دیدی۔ذرائع سے پتا چلا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ شاہ محمود قریسی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے ان کے الزامات کو پزیرائی نہیں بخشی اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کل آگے بڑھے گی۔قریبی رفقاء سے صلح مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ سرنڈر نہیں کریں گے بلکہ بھرپور طریقے سے سازش کا سامنا کریں گے۔ اسی سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے سینئر ترین وزیراعظم سردار تنویر الیاس سمیت 5 وزراء کو برطرف کر دیا ہے۔ذرائع وزیراعظم آزاد کشمیر نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کی کارروائی مکمل نہیں ہو سکے گی، اگر عمران خان نے پارٹی ارکان کو تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا نہ کہا تو سردار عبدالقیوم نیازی مستعفی ہو جائیں گے جس کے بعد یہ تحریک عدم اعتماد ختم ہو جائے گی۔ اگر تحریک عدم اعتماد ختم ہو گئی تو پھر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کو نئے قائد ایوان کے لیے نیا الیکشن شیڈول جاری کرنا پڑے گا جس میں سردار تنویر الیاس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر مشتمل اتحاد بھی اپنے نام دیگا اور حالات اسی طرح رہے تو یہ بازی پلٹ بھی سکتی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آزاد کشمیر میں وزارت عظمیٰ کا بحران مزید سنگین سے سنگین تر ہوتا نظر آ رہا ہے اور اس حوالے سے آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Categories
پاکستان

’’جنرل افتخار بابر نے نیا کٹا کھول دیا ہے، ترجمان پاک فوج کو ۔۔۔۔‘‘ شیخ رشید بھی کھل کر بول پڑے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل افتخار بابر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہاکہ جب چیزیں ٹھنڈی ہورہی ہیں تو جنرل بابر افتخار نے نیا کٹا کھول دیا ہے انہیں اس وقت موجودہ بحران میں پریس کانفرنس کی ضرورت نہیں تھی۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ عمران خان جلد کال دینے والے ہیں ایک مہینے میں ساری چیزیں عام ہونے جارہی ہے کہ

کون کون اس سازش میں ملوث ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جس طرح سے عمران خان کو اتارا گیا بچے بچے کو پتہ چل جائے گا، شیخ رشید احمدکا کہنا تھا کہ جب سے پیدا ہوا ہوں یہی سن رہا ہوں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور اس پر یقین رکھتا ہوں۔سب کو یقین ہے کہ اس اقدام میں عدلیہ یا فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایکسٹینشن نہ لینا آرمی چیف کا درست فیصلہ ہے اب حالات بھی ایکسٹینشن والے نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ترجمان پاک فوج نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے اور ان کی پوزیشن بھی یہی ہونی چاہئے تھی۔ گزشتہ روز پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ29 تاریخ تک کا وقت دیتا ہوں عمران خان کو امن کے راستے سے واپس لائیں گے۔ شیخ رشید نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے صدام اور قذافی کے ساتھ کیا کیا دنیا کو پتہ ہے لیکن آج قوم عمران خان کے پیچھے نکل آئی ہے۔ پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا ہے کہ اب یہ صدرکیخلاف بھی تحریک لائیں گے ہم صدرکیخلاف ہونیوالی تحریک کوناکام کریں گے۔ انہوں کے کہا ہے کہ ہم عمران خان کوامن کے راستے سے واپس لائیں گے عمران خان کیلئے ایک مہینے بعدجیلوں کوبھردیں گے۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ بوٹ پالش والے، پلیٹ لیٹس اوپر نیچے والے واپس آگئے ہیں ہم عمران خان کو واپس لائیں گے قوم عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے۔

Categories
پاکستان

فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کو دھچکا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کو فارن فنڈنگ کیس کا 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔ جمعرات کو جسٹس محسن اختر کیانی نے محفوظ فیصلہ جاری کردیاجس کے مطابق عدالت نے اکبر ایس بابر کو فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی سے الگ کرنے اور انہیں ریکارڈ دینے سے روکنے کی پی ٹی آئی کی درخواست بھی مسترد کردی۔اسلام

آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابر کے خلاف درخواست خارج کردی اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، الیکشن کمیشن نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو پی ٹی آئی کی دائر درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

Categories
پاکستان

ارشاد بھٹی اور شاہ زیب خانزادہ آپس میں جھگڑ پڑے! وجہ کیا بنی؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ارشاد بھٹی اور اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ دوران پروگرام آپس میں جھگڑ پڑے۔جیو ٹی وی کے پروگرام میں جب ارشاد بھٹی کو بولنے کا موقع ملا تو انہوں نے کہا کہ بڑی مہربانی جنید بھائی میں آج آپ کو ڈپٹی سپیکر نہیں کہوں گا بلکہ سپیکر کہوں گا کیونکہ بحث اتنی آگے چلے گئی ہے کہ میں بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی ہوں۔ ارشاد بھٹی نے شاہ زیب

کے فقر ے کے جواب میں کہا کہ بڑے بھائی شاہ زیب نے بڑا خوبصورت فقرہ بولا کہ اگر عمران خان اپنا من مرضی کا کمیشن بنواتے ہیں اور فیصلہ ان کے خلاف آ جاتا ہے تو وہ پھر بھی نہیں مانیں گے۔ارشاد بھٹی نے اس موقع پر شاہ زیب خانزادہ سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا مجھے اپنے علم اور فراست سے بتا سکتے ہیں کہ پچھلے 74سالوں میں کوئی ایک فیصلہ ایسا ہوا ہو جس کو کسی سیاسی جماعت نے اپنے خلاف آنے پر قبول کیا ہو؟اس کے جواب میں شاہ زیب خانزادہ نے درمیان میں بولتے ہوئے کہا کہ ن لیگ 2008 کا الیکشن ہار گئی تھی لیکن انہوں نے زرداری کی حکومت کو تسلیم کیا تھااور ایسے ہی 2013 میں پیپلز پارٹی ہار گئی تھی اور ن لیگ جیت گئی تھی جس کو زرداری نے مانا تھا۔جس پر ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ زرداری نے 2013 والے الیکشن کو آر او کاالیکشن کہا تھا۔اس کے جواب میں شاہ زیب خانزادہ بولے کہ چاہے جو بھی کہا ہو لیکن انہوں نے فیصلہ تو قبول کیا تھااور وزیراعظم نواز شریف سے صدر زرداری نے حلف لیا تھا۔اس موقع پر ارشاد بھٹی نے شاہ زیب خانزادہ سے کہا کہ آپ جب چاہیں بات کریں لیکن مجھے ٹوک دیتے ہیں،جس کا جواب دیتے ہوئے شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ اگر آپ سوال مجھ سے کریں گے تو آپ کو جواب بھی میں ہی دوں گا۔اس پر ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ آپ بھی تجزیہ کار ہیں اور میں بھی تجزیہ کار ہوں، اس کے جواب میں شاہ زیب خانزادہ نے کہا تو پھر آپ اپنا تجزیہ دیں مجھ سے سوال نہ کریں۔اس طرح دونوں صحافیوں کے درمیان دوران پروگرام لفظی جنگ چھڑی رہی۔

Categories
پاکستان

اسحاق ڈار یا مفتاح اسماعیل ؟شہباز شریف کی حکومت میں وزیر خزانہ کون ہو گا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) نئی حکومت نے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ منتخب کر لیا ہے، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر مفتاح اسماعیل کے علاوہ کابینہ کے باقی ارکان کا بھی اعلان کر دیں گے۔ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی سربراہی کریں گے

Categories
پاکستان

’’عمران خان کی ہدایت پر شاہ محمود قریشی نے خط میں۔۔۔۔‘‘ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے مبینہ خط کی سازش کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر اس خط کی زبان اور الفاظ میں تین مرتبہ تبدیلی کرائی جس پر پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر اسد مجید نے شدید احتجاج بھی کیا اور اپنا استعفیٰ بھی پیش کردیا۔ اب ذرائع کا کہنا ہے

کہ اسد مجید، سیکرٹری خارجہ اور سابق مشیر قومی سلامتی معید یوسف آئندہ چند دنوں میں ایک پریس کانفرنس کرکے اس لیٹر گیٹ کا کچاچٹھا کھولیں گے اور عوام کو اس کی حقیقت بتائینگے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسد مجید پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا اور انہیں سابق حکومت خاموش کرنے کیلئے کہتی رہی کہ اگر انہوں نے زبان کھولی تو تمام ملبہ ان پر ڈال دیا جائیگا اور ان کی سروس بھی متاثر ہوسکتی ہے جس پر اسد مجید نے خاموشی سے اپنااستعفیٰ سیکرٹری خارجہ کو بھجوادیا جو اب بھی ان کے پاس ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب نئی حکومت کے آنے کے بعد اسد مجید پاکستان واپس آرہے ہیں اور وہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کے بلائے جانے پر سیکرٹری خارجہ کے ساتھ شرکت کرینگے اور اس خط کی حقیقت سامنے رکھیں گے جبکہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا بھی امکان ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے خطوط کو بھی ڈی کلاسیفائیڈ نہیں کیا جاسکتا لیکن عمران خان کے حکم پر یہ خط ڈی کلاسیفائیڈ کرکے مختلف اداروں کے سربراہوں کو بھیجا گیا جو کہ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور اس پر عمران خان کیخلاف آرٹیکل 6کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق حکومت کے کچھ لوگ اس سارے معاملے میں وعدہ معاف گواہ بننے کو بھی تیار ہیں۔

Categories
پاکستان

تحریک انصاف نے چندے کی اپیل کر دی

کراچی(نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف نے شہرِ قائد میں ہونے والے جلسے کے لیے چندے کی اپیل کردی۔سابق وفاقی وزیر علی حیدر زیدی اور پی ٹی آئی رہنما نے ٹوئٹر پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ اپنی پارٹی کے بینک اکانٹ کی تفصیل شیئر کی۔علی حیدر زیدی نے اپنے ٹوئٹ میں اوورسیز پاکستانیوں اور ملک میں موجود پی ٹی آئی کے جیالوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو

لوگ کراچی جلسہ کے لیے چندہ دینا چاہتے ہیں، براہ کرم! درج ذیل پی ٹی آئی آفیشل اکانٹ میں چندہ دیں۔اس اپیل پر ٹوئٹر صارفین کی جانب ملے جلے ردعمل سامنے آئے، کسی نے عمران خان اور ان کی جماعت پر تنقید کی تو وہیں کچھ صارفین نے چندہ دینے کی ہامی بھی بھری۔

Categories
شوبز

’’شادی کی رات نکاح کے بعد فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا ‘‘ مگر کیوں؟ دو بچوں کی ماں اداکارہ مدیحہ رضوی کے اہم انکشافات

کراچی (نیوز ڈیسک )گزشتہ 8 سال سے کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے والی اور دو بچوں کی والدہ اداکارہ مدیحہ رضوی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے شادی کی رات نکاح کے بعد فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا۔مدیحہ رضوی نے 2014 میں ساتھی اداکار حسن نعمان کے ساتھ شادی کی تھی اور دونوں کو دو

بچے بھی ہیں۔اداکارہ نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں پہلی بار اپنی ازدواجی زندگی میں کھل کر بات کی اور کئی انکشافات کرکے مداحوں کو حیران کردیا۔اداکارہ نے کیریئر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جب نوجوانی میں ہی عمران اشرفاور حماد فاروقی کی والدہ کا کردار ادا کیا تو انہیں اس طرح کے ہی کرداروں کی پیش کش ہونے لگی۔ان کے مطابق ‘آنگن’ میں زائد العمر خاتون کا کردار ادا کرنے کے بعد انہیں ڈیڑھ سال تک والدہ کے کرداروں کی پیش کش کی جاتی رہی اور وہ ہر ہدایت کار کو کام کے لیے منع کرتی رہیں۔ازدواجی زندگی پر بات کرتے ہوئے مدیحہ رضوی نے اعتراف کیا کہ شادی سے قبل وہ اور حسن نعمان 11 سال تک بہترین دوست بنے رہے اور ان کے اہل خانہ بھی ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے تھے۔اداکارہ کے مطابق حسن نعمان نے دوستی ہونے کے چند سال بعد ہی ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے انہیں شادی کی پیش کش کی تھی مگر انہوں نے ان سے رشتہ ازدواج میں بندھنے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حسن نعمان کو بتایا کہ وہ ان کے بہترین دوست ہیں اور ان کے ساتھ ہوتے ہوئے ان کے جذبات اْس طرح نہیں ہوتے، اس لیے وہ ان سے شادی نہیں کر سکتیں۔مدیحہ رضوی کا کہنا تھا کہ حسن نعمان شادی سے قبل ہر ویلنٹائنز ڈے پر آکر انہیں تحفے دیتا، ان سے اظہار محبت کرتا اور پھر شادی کی پیش کش کرتا مگر وہ ہر بار انکار کردیتیں۔ انہوں نے بتایا کہ چوں کہ وہ حسن نعمان کو اپنا دوست مانتی تھیں، اس لیے وہ ان سے متعلق دوسری طرح کی سوچ رکھتی ہی نہیں تھیں۔مدیحہ رضوی نے یہ بھی بتایا کہ معاشرہ یا لوگ غلط کہتے ہیں کہ لڑکا کبھی لڑکی کا دوست بن ہی نہیں سکتا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں صرف دوست بھی بن سکتے ہیں۔اداکارہ نے بتایا کئی سال کے بعد جب انہیں شادی کرنے کا خیال آیا تو ان کے ذہن میں صرف حسن نعمان ہی کا نام آیا اور پھر انہوں نے خود انہیں فون کرکے شادی کرنے کا کہا۔ اداکارہ کے مطابق جب انہوں نے حسن نعمان کو علی الصبح فون کرکے شادی کی پیش کش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ ان سے ہی شادی کریں گی۔مدیحہ رضوی نے بتایا کہ لیکن جس رات ان کی شادی ہو رہی تھیں، انہیں اس وقت بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید وہ کچھ غلط کر رہی ہیں، اس لیے انہوں نے نکاح کے بعد وہاں سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے سہیلیوں کے کمرے کے باہر کھڑکی کے برابر میں سیڑھی لگانے کی ہدایات تک کردی تھیں مگر پھر اچانک ان کے کمرے میں حسن نعمان آگئے اور ان کے فرار ہونے کا منصوبہ بھی ملتوی ہوگیا۔مدیحہ رضوی کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد ان کے درمیان مزید محبت ہوئی اور اب ان کے دو بچے بھی ہیں اور وہ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

Categories
پاکستان

’’عمران خان کو اقتدار سے نکالا اور اب پاکستان سے نکالیں گے‘‘ جے یو آئی نے بڑا اعلان کردیا

کراچی(نیوز ڈیسک )جمعیت علماء اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے نکالا ہے اور اب پاکستان سے بھی نکالیں گے۔پشاور میں عمران خان کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے اسلم غوری نے کہا کہ انڈیا، اسرائیل اور یہودی ایجنٹ کو اپنے آقائوں کے پاس بھیج کردم لیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بیساکھیوں کے ذریعے قوم پر مسلط ہونے والے کی نااہلی پوری قوم پر عیاں ہوچکی ہے، خط کا چورن ایکسپائر ہوگیا، قوم کو دھوکہ دینا خمیر میں شامل ہے۔ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ یہودی ایجنٹ کو در در کی خاک چھاننے پر مجبور کردیا ہے، عوامی امنگوں کی ترجمان جلد قوم کو مہنگائی اور بیروزگاری سے چھٹکارا دلائے گی۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 سال مسلط شخص کو خواب میں بھی اقتدار نصیب نہیں ہوگا، عمران خان کی تقریر حسب سابق جھوٹ اور الزام تراشی پر مبنی تھی۔اسلم غوری نے کہا کہ عالمی برادری کی موجودہ حکومت کو مبارکباد کا پیغام ثبوت ہے کہ خط کا شوشہ دھوکہ دینے کے لئے دیا گیا۔

Categories
پاکستان

’’پیپلز پارٹی بلیک میل کر رہی ، ایم کیوایم بھی کنفیوژن کا شکار یہ حکومت نہیں چل پائے گی ‘‘

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس وقت دو بیانیے عوام کے سامنے ہیں اور بیانیے جانچنے کا صرف ایک ہی پیمانہ انتخابات ہے، فیصلہ اب عوام نے کرنا ہے۔ ایک بیان میںشاہ محمود قریشی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر 5 روز سے امپورٹڈ حکومت

نامنظور ٹاپ ٹرینڈنگ میں ہے،کراچی میں 16 اپریل کو پشاور جیسا جلسہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نہیں چل پائے گی، پیپلز پارٹی بلیک میل کر رہی ہے، ابھی یہ فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ بلاول وزیر خارجہ بنیں گے یا نہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلاول نے انٹرویو میں کہا وزارت خارجہ کا فیصلہ سی ای سی کرے گی، کون نہیں جانتا کہ یہ فیصلے سی ای سی نہیں کرتی، دراصل ان کے درمیان ایک کنفیوژن دکھائی دے رہی ہے۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ پچھلے 3 سال سے مہنگائی پر ہماری حکومت کو ہدف تنقید بنا رہے تھے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا، اب مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں تنخواہوں میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیوایم بھی کنفیوژن کا شکار ہے، ووٹر فیصلہ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

Categories
پاکستان

پاکستانی بڑے جھٹکے کے لیے ہو جائیں تیار نئی حکومت کا بھی عوام پر رحم نہ کھانے کا فیصلہ،پٹرول کی قیمت میں 83 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری تیار کر لی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) 16اپریل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت ساڑھے 83 روپے فی لیٹر تک اضافے کی تجویز دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ٹیکس اور

لیوی کی شرح، فل لیوی اور ٹیکس کی بنیاد پر قیمتوں کی تجاویز ارسال کی ہیں۔ذرائع کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ورکنگ پیٹرولیم ڈویژن کو بھیج دی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی ورکنگ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور لیوی کی شرح پر بھی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور جی ایس ٹی صفر ہے، ورکنگ 17فیصد جی ایس ٹی اور 30 روپے فی لیٹر لیوی کو ہٹائے بغیر کی گئی۔ذرائع کے مطابق صرف موجودہ ٹیکس شرح پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 51 روپے 30 پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے، موجودہ ٹیکس شرح پر پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق ٹیکس شرح پرمٹی کے تیل کی قیمت میں 36 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 38 روپے 89 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے فُل لیوی اور جی ایس ٹی کے ساتھ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز بھجی ہے۔ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 30 روپے اور جی ایس ٹی 17 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے اور ان دونوں کو شامل کرکے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق فل لیوی اور ٹیکسز کے ساتھ پیٹرول کی قیمت میں 83 روپے 50 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 77 روپے 56 پیسے اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق فل لیوی اور ٹیکس کی بنیاد پر لائٹ ڈیزل 77 روپے 31 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حتمی فیصلہ وزارت خزانہ وزیراعظم کی مشاورت سے کرے گی، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اپریل سے ہونا ہے۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے عہدے سے ہٹنے سے قبل 22 فروری کو اعلان کیا تھا کہ بجٹ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی تاہم تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہوگئی اور اب شہباز شریف ملک کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔

Categories
پاکستان

امریکہ نے پاکستان سے اڈے یا فضائی استعمال کے لیے حدود مانگی یا نہیں ؟؟؟ڈی جی آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس کے بعد عمران خان کا “ابسلوٹی ناٹ” والا بیانیہ بھی دم توڑ گیا

روالپنڈی(ویب ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پاکستان سے کسی قسم کی کوئی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت طلب نہیں کی گئی۔ان کی طرف سے اگر ایسی کوئی اجازت طلب بھی کی جاتی تو بھی ہمار ا جواب ابسلوٹی ناٹ ہی ہوتا

یاد رہے اس سے قبل عمران خان متعدد مقامات پر کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے ان سے فضائی حدود کے استعمال کیاجازت طلب کی جس پر ان کو ابسلوٹی ناٹ کہہ دیا گیا

Categories
پاکستان

عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن دیا یا نہیں،آرمی چیف بنی گالا خود گئے یا عمران خان نے مدد کے لیے بلایا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام حقائق سے پردہ اٹھا دیا

روالپنڈی(ویب ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس سے خطاب۔ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں، ہمیں اس معاملے سے باہر رکھا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کے سامنے مطالبات اسٹیبشلمنٹ کی طرف سے نہیں رکھےگئے بلکہ جب یہ ڈیڈ لاک برقرار تھا تو وزیراعظم آفس سے آرمی چیف کو اپروچ کیا گیا کہ اس میں بیچ بچاؤ کی بات کریں، سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے پر تیار نہیں تھی تو آرمی چیف اور ڈی جی وہاں گئے، مختلف رفقاء سے بیٹھ کر تین چیزیں ڈسکس ہوئیں کہ کیا کیا ہوسکتا ہے، ان میں استعفیٰ، تحریک عدم اعتماد کی واپسی اور اسمبلیاں تحلیل کرناشامل تھیں، تیسرے آپشن پر وزیراعظم نےکہا کہ یہ قابل قبول ہے، ہماری طرف سےان سے بات کریں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تیسری آپشن پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ قابل قبول ہے، ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کریں جس پر آرمی چیف پی ڈی ایم کے پاس گزارشات لے کر گئے اور ان کے سامنے یہ گزارش رکھی جس پر سیر حاصل بحث ہوئی لیکن اپوزیشن نے اس پر کہا کہ ہم ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

چھٹی حس!وہ حس جو دماغ کے اندرونی حصے میں ہونے کے باوجود انسان کو خطرے سے بروقت آگاہ کرتی ہے

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی محققین نے ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ چھٹی حِس دماغ کے اندرونی حصے میں ہوتی ہے اور خطرے کے وقت متحرک ہو جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چھٹی حس کے بارے میں ابھی تک کوئی تحقیق اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچی، تاہم ایک حالیہ ریسرچ اسٹڈی سے

محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چھٹی حِس خاص طور پر دماغ کے اندورنی حصے میں موجود ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسان کو لاحق خطرہ دماغ کے اس حصے میں موجود حس کو متحرک کرتا ہے، اور ایسے احساسات مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ چھٹی حس دراصل پانچ حواس سے ہٹ کر واقعات کو دور سے سمجھنے کی صلاحیت ہے، یہ حس ہمیں بعض جذبات سے متعلق بھی معلومات فراہم کرتی ہے اور خبردار کرتی ہے۔ محققین نے چھٹی حس کی کئی اقسام بتائی ہیں، مثلاً کوئی واقعہ ہونے سے پہلے پیش گوئی کرنا، یا خیالات کو پڑھنا چھٹی حس کی اعلیٰ ترین سطح میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ چھٹی حس کے بارے میں یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ لوگوں میں چھٹی حس ایک دوسرے سے کتنی مختلف ہوتی ہے، عموماً لوگ اسے ایک اضافی حس سمجھتے ہیں جو انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ رد عمل کے لیے تیار رہا جائے۔ جن لوگوں کی چھٹی حس طاقت ور ہوتی ہے، وہ جذباتی اور نفسیاتی طور پر مستحکم، اندرونی طور پر خوش اور خود اعتماد ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کے سماجی تعلقات وسیع ہوتے ہیں اور یہ کامیاب ہونے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ کیا چھٹی حس میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟ جی ہاں اس کے لیے آپ یہ مشق کر سکتے ہیں کہ کسی چیز کا تجزیہ محض اپنی اندرونی جبلت سے کریں،

یعنی اس چیز کا عقلی تجزیہ نہ کریں، اس سے اندرونی جبلت کا شعور تیز ہوگا۔ اپنے خوابوں کو یاد رکھنے کی کوشش کریں، کیوں کہ خواب وہ خیالات اور احساسات ہیں جو آپ کے لا شعور میں پوشیدہ ہیں۔ کسی کاغذ کا خالی ٹکڑا لیں اور کوئی بھی سوچ جو آپ کے دماغ میں گھوم رہی ہے اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ لکھ لیں، لکھنے سے آپ کا لا شعوری ذہن مضبوط ہوگا۔ اپنے اردگرد کے لوگوں اور بے جان اشیا کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر توجہ دینا سیکھیں تاکہ آپ کو باریک چیزیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ اور جب آپ کسی سے بات کر رہے ہوں تو پوری توجہ مرکوز کریں، اور اس کی تبدیلیوں اور موڈ کو دیکھیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

“مالٹا”یورپ کا وہ ملک جس کی زبان میں عربی الفاظ بکثرت شامل ہیں

مالٹا(ویب ڈیسک) 1964ء میں برطانوی پارلیمان نے قانونِ آزادی کے تحت مالٹا کو ریاست تسلیم کرلیا، جس کی سربراہ ملکۂ برطانیہ رہیں اور 1974ء میں اسے جمہوریہ مالٹا کی حیثیت سے شناخت کیا جانے لگا۔ 1813ء میں برطانیہ نے اس سرزمین کو اپنی کالونی بنایا تھا۔ یہاں کے باشندوں نے طویل جدوجہد اور

جنگ کے بعد آزادی حاصل کی۔ بحیرۂ روم کے کنارے واقع مالٹا جزیرہ قدرتی حُسن اور تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی دنیا میں‌ مشہور ہے۔ والیٹا اس کا دارالحکومت ہے۔ رقبے کے لحاظ سے مالٹا دنیا کے چھوٹے ممالک میں شامل ہے۔ اس جزیرے پر یونانی، رومن، بازنطینی، عرب، نارمن، ہسپانوی، فرانسیسی، اور برطانیہ کا راج رہا۔ ان اقوام کے رنگ مالٹا کی تہذیب و ثقافت سے جھلکتے ہیں اور تاریخ پر اس کے گہرے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس تہذیب اور ثقافت کا اثر خاص طور پر یہاں کے طرزِ‌ تعمیر سے نمایاں ہوتا ہے۔ مالٹا میں‌ کئی قدیم اور تاریخی مقامات موجود ہیں جو فن و ثقافت اور تاریخ کے شیدائیوں، سیروسیّاحت کے شوقین افراد کے لیے باعثِ کشش ہیں۔ مالٹا کی سرکاری زبان مالٹی (مالٹیز) اور انگریزی ہے جب کہ اس خطّے میں ہسپانوی، اطالوی، رومی اور برطانوی دور کے علاوہ عرب دور کے اثرات بھی نمایاں ہیں، لیکن زبان کی بات کی جائے تو یہ بات دل چسپی خالی نہیں‌ کہ مالٹیز زبان فرانسیسی، ہسپانوی اور اطالوی زبانوں کے زیرِ‌اثر نہیں‌ بلکہ یہ سامی زبان ہے اور عربی اور عبرانی کے گروپ سے اس کا تعلق ہے۔ مالٹا کے قدیم اور تاریخی علاقوں کے ناموں میں اب بھی لمدینہ (المدینہ)، غین طیبہ، غین الکبیرہ مشہور ہیں۔ عرب گیارھویں صدی تک یہاں‌ حکم راں رہے تھے اور بعد میں اس جزیرہ پر ہسپانیہ کے کیتھولک حکم راں غالب ہوگئے تھے۔ آج یہاں اکثریت عیسائی مذہب کی پیروکار ہے جب کہ مسلمان دو فی صد ہیں۔

تاہم مالٹیز زبان کا ڈھانچا عربی کا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ یورپی اور انگریزی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہوگئے۔ مالٹا کو دنیا کا محفوظ اور پُرامن ملک بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی قدیم معبد اور دوسری تاریخی عمارتیں موجود ہیں جب کہ مختلف ادوار میں کھدائی کے دوران یہاں سے تہذیبی آثار اور قدیم اشیا و نوادرات بھی برآمد ہوئے ہیں‌ جو مقامی میوزیم کا حصّہ ہیں‌۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

یورپ کے نواب چارلس تھیوڈور نے اپنے محل میں‌ مسجد کیوں تعمیر کروائی تھی؟

لاہور(وب ڈیسک) وسطی یورپ میں ترک ثقافت اور عثمانی دور کے اثرات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پر جرمنی اور آسٹرین سلطنت میں طرزِ‌ تعمیر اور گھروں میں سجاوٹ و بناوٹ پر ترک ثقافت کے رنگ غالب رہے ہیں، کیوں کہ عثمانی دور میں زیادہ تر فتوحات انہی

علاقوں‌ میں‌ ہوئی تھیں۔ یورپ کے نواب اور امرا نے خاص طور پر جنگِ ویانا کے بعد مشرقی طرزِ تعمیر اور خاص طور پر ترک ثقافت اور سجاوٹ میں بہت زیادہ دل چسپی لی۔ وہ ترکوں کے اثاثے اور ان کی چھوڑی ہوئی اشیا جمع کرنے اور انھیں نوادرات کے طور پر محفوظ کرنے لگے تھے۔ یہ ایک رجحان اور شوق تھا جس کی جھلک یورپ کے مختلف شہروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اٹھارھویں صدی میں‌ جرمنی متعدد ریاستوں میں‌ بٹا ہوا تھا۔ ان میں باویرا بہت مشہور ریاست ہے اور وہ چارلس تھیوڈور کا زمانہ تھا جو باذوق اور ثقافت و تمدّن میں‌ دل چسپی لینے کے لیے مشہور ہے۔ تھیوڈور نے ریاست میں مختلف عمارتیں تعمیر کروائی تھیں۔ انہی میں ایک محل بھی شامل تھا جس کے ساتھ ایک باغ اور خوب صورت مسجد بھی تعمیر کی گئی تھی۔ اس محل کا نام schwetzingen ہے جس کے لیے تھیوڈور نے ایک فرانسیسی ماہرِ تعمیرات کی خدمات حاصل کی تھیں۔ یہ مسجد عبادت گاہ کے طور پر استعمال نہیں کی گئی اور اسے صرف تھیوڈور کی مشرقی ثقافت اور طرزِ تعمیر‌ میں دل چسپی کا مظہر کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کی دیواروں پر عربی اور جرمن زبانوں میں مختلف اقوال لکھے گئے تھے جو دنیا کی بے ثباتی کو بیان کرتے ہیں اور انسانیت کی خدمت اور فلاح و بہبود کے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ دو میناروں اور ایک کشادہ ہال کے ساتھ اس مسجد کے ستون اور خوب صورت طاقچے گہرے رنگوں سے مزیّن ہیں۔ مسجد کے اندر روایتی عبادت گاہ کی طرح منقش محرابیں اور ستون موجود ہیں جب کہ اندر سے کھڑے ہو کر اس کے بلند گنبد کا نظّارہ بہت خوب صورت معلوم ہوتا ہے اور سیر و سیّاحت کی غرض سے آنے یہاں آنے والوں‌ کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

سعادت حسین منٹو کی بیگم صفیہ منٹو!جس کی وجہ سے سعادت،سعادت حسین منٹو بنا

لاہور(ویب ڈیسک) بہت کم لوگ جانتے ہیں اور بہت ہی تھوڑا لکھا گیا ہے اس خاتون کے بارے میں جس نے ہمیشہ اپنے ساتھی کا ساتھ دیا جسے ہم سب آج تک یاد رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ صفیہ دین اگر سعادت حسن منٹو سے شادی نہ کرتیں

اور صفیہ منٹو نہ بنتی تو شاید اتنی مشہور نہ ہوتی۔لیکن، یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ منٹو بھی اتنے مقبول نہ ہوتے اگر صفیہ ہر اچھے برے وقت میں شوہر کے ساتھ کھڑی نہ ہوتیں، جہاں اچھے وقت بہت کم اور برے زیادہ ہی تھے۔ منٹو اور صفیہ دونوں ہی 11 مئی کو پیدا ہوئے، (شوہر 1912 میں جبکہ بیوی 1916 میں) سیاہ فریم کے چشمے، دونوں کا کشمیر سے تعلق اور دونوں ہی کے ناموں کا پہلا لفظ ایس سے شروع ہوتا تھا، لیکن شاید یہ مماثلت وہیں ختم ہوگئیں۔ منٹو کو ہر چیز بہترین پسند تھی ، کوئی بھی چیز ہو انہیں بہترین ہی چاہئے ہوتی جبکہ صفیہ نہایت سادہ تھیں، مشکلات کے دور میں زیادہ کی طلب نہ تھی۔ منٹو بے باک تھے اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے جبکہ صفیہ نہایت شرمیلی تھیں۔ گھر والوں کی مرضی سے 1936 میں شادی کرنے کے بعد منٹو نے ‘میری شادی’ کے نام سے ایک مضمون لکھا، جس کے بعد جلد ہی دونوں کو آپس میں لگاؤ ہوگیا۔ دہلی کے آل انڈیا ریڈیو میں کام کرنے کے بعد منٹو بمبئی واپسی آئے جہاں ان دونوں کے بہترین دن گزرے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں انہوں نے اپنا پہلے بیٹے عارف کو کھودیا، اس صدمے نے انہیں توڑ دیا تھا لیکن ایک دوسرے سے مزید قریب بھی کردیا۔ اس کے بعد ان کی تین بیٹیاں ہوئیں۔ منٹو نے ایک بار لکھا تھا، ‘ہوسکتا ہے میں فحش کہانیاں لکھتا ہوں، ایک جوکر ہوں، لیکن میں ایک شوہر اور والد بھی ہوں’۔وہ اکثر شور شرابے میں لکھتے ، جیسے بچے ان کے ارد گرد کھیل رہے ہوتے جبکہ وہ دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہتے۔

منٹو ایک ماڈرن شخص تھے اور یہ بات صفیہ سے ان کے تعلق میں واضح طور پر جھلکتی تھی، وہ صفیہ کی ساڑھیوں کو استری کرتے، اس دور میں کھانا پکاتے جب مرد کچن میں پاﺅں بھی نہیں کھتے تھے، بیوی کے بال بناتے اور بیٹیوں کو کھانا بھی کھلاتے۔ انہوں نے اپنی تمام کہانیاں صفیہ کو سنائیں اور انہیں اپنے ہمراہ تمام مشاعروں اور عوامی اجتماعات میں لے کر گئے۔ منٹو کا اصرار تھا کہ بیوی انہیں پہلے نام سے پکارے جو اس دور میں کسی گناہ سے کم نہیں تھا۔ ان کی والدہ نے اسے قبول نہیں کیا تو صفیہ نے اس مسئلے پر قابو پانے کے سا صاحب (سعادت صاحب کو چھوٹا کردیا) پکارنے لگیں۔ تقسیم برصغیر کے بعد منٹو نے لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا یہ اب بھی ایک اسرار ہے اور اگرچہ متعدد افراد اس حوالے سے قیاسات کا اظہار کرتے ہیں، جیسا میں نے اپنی فلم میں بھی کیا، مگر اس حقیقت پر دو آراءنہیں کہ وہ منٹو کی زندگی کے سخت ترین دن تھے۔ ممکنہ طور پر صفیہ کے لیے زیادہ سخت تھے جو خاموشی سے اپنے اور منٹو کے درد کو سہتی رہیں۔ منٹو کا ذہن اور جسم سستی شراب کے باعث بگڑ گیا تھا جبکہ تقسیم کی تکلیف بتدریج اسے ختم کررہی تھی اور محبوب بمبئی کو کھونا ایک حقیقت بن چکی تھی۔ منٹو کی کہانیوں میں مبینہ فحاشی پر بار بار عدالتی مقدمات نے انہیں نیچے لاپھینکا اور صفیہ کے پاس زیادہ امید نہیں رہی۔ منٹو نے کبھی انہیں کہا تھا ” میں اتنا لکھ لیتا ہوں کہ تمہیں کبھی بھوکا نہیں مرنے پڑے گا”، مگر اس وقت وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ان کی تحریریں ہوں گی جو انہیں فاقہ کشی پر مجبور کردیں گی۔ خوش قسمتی سے اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے خاموش متاثرہ شخص نے مشکلات کا سامنا کرنا شروع کیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

ان کی بیٹیاں جو منٹو کی وفات کے وقت 5، 7 اور 9 سال کی تھیں، اپنے بچپن کی دھندلی یادیں رکھتی ہیں۔ وہ حیرانی سے اسے خوش باش تصور کرتی ہیں، جب ان کی ماں اور دیگر رشتے داروں نے انہیں مشکلات کا احساس بھی نہیں ہونے دیا۔ وہ محبت سے اپنے والد کو یاد کرتی ہیں جو لایعنی جملے بولتا، سیگریٹ کے پیکٹ کی پنی سے چھوٹی تصاویر بناتا، امرود کاٹتا اور انار چھیلتا اور اسے کھاتا تاکہ ان کا گھوڑا بن کر سیر کراسکے۔ صفیہ اکثر منٹو کی کہانی کو سب سے پہلے پڑھتیں اور ان کی سوچ منٹو کے لیے اہمیت رکھتی، ایک دفعہ انہوں نے ایک افسانہ حمید اور حمیدہ صفیہ کے نام سے چھپوایا۔ وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں صفیہ کے کردار کا اعتراف کرتے تو اس لیے حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے بارے میں اتنا کم کیوں لکھا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے منٹو کے خاندان سے متعدد قیمتی لمحات ملیں جو میں کسی کتاب میں تلاش نہ کرپاتی۔ ان میں سے جس ایک چیز نے مجھے حیران کیا وہ یہ تھی کہ شعلہ بیان اور بے باک شخص نے کبھی اپنی آواز صفیہ کے سامنے بلند نہیں کی اور متعدد بار معذرت بھی کی۔ اس شخص کے بارے میں متعدد اسرار ہمیشہ موجود رہیں گے، مگر جتنی میں نے تحقیق کی اتنا ہی میں نے دریافت کیا۔ مجھے بتدریج احساس ہونے لگا اس کی شخصیت کے اسرار سامنے آنے لگے ہیں۔ جس فلم پر میں کام کررہی ہوں اس میں منٹو اور اس کی دنیا کی ایک جھلک آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہوں۔