Categories
بڑی خبر

موبائل فونز سے ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے یا نہیں؟؟ پی ٹی اے کا اہم بیان سامنے آگیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 15 اپریل سے موبائل فونز سے ٹیکس ختم کیے جانے کی اطلاعات پر اپنی وضاحت جاری کردی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے سوال کیا کہ کیا پی ٹی اے 15 اپریل سے موبائل فونز سے ٹیکس ختم کر رہی ہے؟

پی ٹی اے نے صارف کے سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال تمام صارفین رجسٹریشن کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایف بی آر کے قابل اطلاق ڈیوٹی ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ صارف نے پی ٹی اے سے پھر سوال کیا کہ ’موبائل فونز سے ٹیکس کب تک ختم کردیا جائے گا ؟ برائے مہربانی ایف بی آر سے رابطہ کریں. جس کے جواب میں پی ٹی اے نے کہا کہ اس کے لیے ایف بی آر سے رابطہ کریں۔ پی ٹی اے کی وضاحت سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی موبائل فونز سے ٹیکس ہٹائے جانے کے حوالے سے افواہیں غلط ہیں۔ وضاحت: موبائل ڈیوائسز اور ہینڈ سیٹوں کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکسز/ڈیوٹیوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں، پی ٹی اے اس غلط تاثر کہ یہ ”پی ٹی اے ٹیکس ” ہے کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ ٹیکس اور ڈیوٹیز براہ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے لاگو اور جمع کئے جاتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی اے نے یہ بھی وضاحت بھی دی کہ موبائل ڈیوائسز اور ہینڈ سیٹوں کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکسز/ڈیوٹیوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں پی ٹی اے وضاحت کرتی ہے کہ یہ ٹیکس اور ڈیوٹیز براہ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے لاگو اور جمع کئے جاتے ہیں۔ پی ٹی اے نے مزید وضاحت میں کہا کہ پی ٹی اے عوام الناس کی سہولت کے لیے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیٹا بیس (ڈی آئی آر بی ایس)کا نظام بغیر کسی معاوضے کے مہیا کررہا ہے۔ پی ٹی اے صرف ڈی آئی آر بی ایس کی شکل میں تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہےجس کے ذریعےدرخواست دہندگان اپنی موبائل ڈیوائسزکی پاکستان کے اندر استعمال کرنے کے لیےرجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ اس عمل کے دوران ٹیکسسز ایف بی آر کی طرف سے نافذ کی جاتی ہیں اور براہ راست ایف بی آر کے پاس ہی جمع ہوتی ہیں۔

Categories
شوبز

عابدہ پروین کا بھارتی گلوکاروں کے ساتھ صوفی کلام دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگیا

لاہور: (ویب ڈیسک) صوفی گائیکی کی ملکہ کہلائی جانے والی مقبول گلوکارہ عابدہ پروین کا بھارتی موسیقاروں سلیم سلیمان کے ساتھ گایا گانا ’او میرے مولا‘ یوٹیوب پر مقبول ہوگیا۔ عابدہ پروین نے بھارتی موسیقار اور گلوکار بھائیوں کی جوڑی سلیم مرچنٹ اور سلیمان مرچنٹ کے ہمراہ صوفی انداز میں گانا گاکر نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی مداحوں کے دل بھی جیتے اور صارفین نے ان کی تعریفیں کیں۔’او میرے مولا‘ کو گزشتہ ہفتے 9 اپریل کو سلیم سلیمان کے یوٹیوب چینل پر ریلیز کیا گیا تھا، جسے اب تک ڈھائی لاکھ بار تک دیکھا جا چکا ہے۔ گانے میں جہاں عابدہ پروین نے روایتی صوفیانہ گائیکی کا انداز اپنایا ہے، وہیں سلیم سلیمان نے بھی اپنے روایتی فوک انداز میں گلوکاری کرکے مداحوں کو رمضان المبارک اور ایک عید کا تحفہ دیا۔’او میرے مولا‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بولی وڈ اداکار پنکج ترپاتھی کو بھی دکھایا گیا ہے جو کہ دو بچوں کی پرورش کرنے والے تنہا والد ہوتے ہیں۔ویڈیو میں پنکج تھرپاتھی کو بانسریاں فروخت کرکے گزر سفر کرنے والے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جن کے دو کمسن بچے بھی بانسریاں فروخت کرکے ان کا ہاتھ بٹاتے دکھائی دیتے ہیں۔ گانے میں دکھایا گیا ہے کہ بانسریاں فروخت کرکے اپنا گزر سفر کرنے والے کمسن بچے کمائے ہوئے پیسوں کو والد سے چراکر ان پیسوں سے بھوکے اور غریب افراد کو فروٹ کھلاتے ہیں۔ گانے کی شاعری سمیت اس میں دیے گئے غریبوں کی مدد کے پیغام کو مداحوں نے سراہا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بھی رمضان المبارک میں ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھیں۔گانے کی ویڈیو میں عابدہ پروین کو ویڈیو لنک کے ذریعے بھارتی موسیقاروں کے ساتھ گانا گاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

Categories
شوبز

اداکار آغا علی نے اپنی اور حنا الطاف کی علیحدگی کی خبروں پر خاموشی توڑدی

کراچی: (ویب ڈیسک) اداکار آغاعلی نے اپنی اور اہلیہ اداکارہ حنا الطاف کے درمیان علیحدگی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی۔ آغا علی حال ہی میں حناالطاف کے ہمراہ ندا یاسر کے شو میں شریک ہوئے، جہاں ندا نے ان سے کہا حال ہی میں پاکستان شوبز میں ہونے والی کئی شادیوں اور مختلف تقریبات میں آپ اور حنا ایک ساتھ نظر نہیں آئے بلکہ کئی جگہوں پر الگ الگ نظر آئے جس کی وجہ سے چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ دونوں میں علیحدگی ہوگئی ہے ؟ اداکار آغا علی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت دی ’’مجھے ایسا لگتا ہے کہ لوگ آج کل ایسی خبروں کا انتظار کررہے ہیں کہ شوبز کی کون سی جوڑی کب الگ ہوجائے گی اور یہ بات مجھے بہت پریشان کرتی ہے‘‘۔ آغا علی نے مز ید کہا اگر کوئی آپ کو ایک ساتھ نظر نہیں آرہا تو آپ دعا کریں کہ وہ ساتھ ہی ہوں کیونکہ کسی کو کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی ساتھ ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ آغا علی اور حنا الطاف 2020 میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔

Categories
پاکستان

عمران خان سے اہم شخصیت کی ملاقات !!! آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے حوالے سے عمران خان کی کاوشوں کی تعریف کر دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ کے سامنے جھکنے والوں کو غلام بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اقتدار کی بجائے اقدار اور قومی آزادی و خودمختاری کا تحفظ اہم ہے،امریکی اشاروں پر متحرک کٹھ پتلیوں کو قوم کے مستقبل پر غلامی کی تاریکیاں طاری کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

جمعہ کو جمعیت علمائے اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ مولانا خان محمد شیرانی نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی جس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈاکٹر شہباز گل بھی موجود تھے ۔ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اسلاموفوبیا کے انسداد اور پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے حوالے سے عمران خان کی کاوشوں کو سراہا ۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے انسداد اور ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ کیلئے عمران خان کی خدمات غیرمعمولی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کا تصورِ ریاستِ مدینہ اور اسکے قیام کیلئے کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان اتحادِ امت خصوصاً امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا قابل عمل حل تجویز کرنے والے پہلے مسلم رہنما ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آزادی و خودداری کا علم بلند کرنے والوں کیخلاف سامراج نے ہمیشہ سازش رچائی، ضمیرفروش اور ملت فروش گروہ سے نہیں حب رسولِ مکرم علیہ السلام سے سرشار رہنما سے نسبت چاہتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ملک و ملت کی سربلندی کی تحریک میں چیئرمین تحریک انصاف کے ساتھ ملکر اپنا حصہ ڈالیں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ مولانا شیرانی کے خیر سگالی کے جذبات کا خیرمقدم کرتا ہوں، پاکستان کلمہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا۔ انہوںنے کہاکہ اللہ کے سامنے جھکنے والوں کو غلام بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اقتدار کی بجائے اقدار اور قومی آزادی و خودمختاری کا تحفظ اہم ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکی اشاروں پر متحرک کٹھ پتلیوں کو قوم کے مستقبل پر غلامی کی تاریکیاں طاری کرنے کی اجازت نہیں دینگے، اہلِ مذہب و دانش آگے بڑھیں اور قومی حمیت و اثاثہ مِلّی کے تحفظ کا فریضہ انجام دیں

Categories
پاکستان

عمران خان کو 14کروڑ روپے کے 58تحفے ملے!!! 15تحائف اپنے پاس رکھنے کیلئے رقم ادا کرنا پڑی، باقی تحائف کا کیا بنا؟تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کو اپنے ساڑھے تین سالہ مدت کے دوران عالمی رہنمائوں کی طرف سے 14؍ کروڑ روپے مالیت کے 58؍ تحفے ملے اور انہوں نے یہ تمام تحفے معمولی رقم ادا کرکے یا کوئی ادائیگی کیے بغیر ہی اپنے پاس رکھ لیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق،

ان تحائف میں سے مہنگے ترین تحفوں کو دبئی میں فروخت کر دیا گیا۔ روزنامہ جنگ میں عمر چیمہ کی شائع خبر کے مطابق حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، 15 مہنگے تحائف اپنے پاس رکھنے کیلئے عمران خان کو رقم ادا کرنا پڑی۔ انہوں نے 14کروڑ روپے مالیت کے تحفوں کے عوض صرف 3 کروڑ 80؍ لاکھ روپے ادا کیے جبکہ دیگر تحائف کوئی رقم ادا کیے بغیر ہی رکھ لیے۔ سب سے مہنگا تحفہ انہیں اُس وقت ملا جب اگست 2018 میں انہوں نے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس میں ساڑھے 8 کروڑ روپے کی گراف واچ تھی جو انہیں 56 لاکھ روپے سے زائد کی کف لنک، 15 لاکھ روپے کے قلم اور 87؍ لاکھ روپے سے زائد کی انگوٹھی کے ساتھ ملا تھا۔ قیمتوں کا یہ تعین ایولیوشن کمیٹی نے کیا تھا جو عمران خان نے خود ہی تشکیل دی تھی۔ یہ تمام تحائف جن کی مالیت دس کروڑ روپے کے قریب تھی اور عمران خان نے ستمبر 2018ء میں متعین کردہ رقم کا صرف بیس فیصد یعنی 2؍ کروڑ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھ لیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا الزام ہے کہ ان تحائف کو بعد میں دبئی میں 155؍ ملین (15؍ کروڑ پچاس لاکھ) روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان تحائف کی رقم کس نے ادا کی تھی اور کیا عمران خان نے کیپیٹل گین ٹیکس ادا کیا تھا یا نہیں۔ قواعد و ضوابط کے مطابق، دنیا کے کسی لیڈر کی طرف سے سرکاری عہدیدار کو ملنے والا تحفہ توشہ خانے میں جمع کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی عہدیدار یہ تحفہ اپنے پاس رکھنا چاہے تو وہ ایک مخصوص رقم ادا کرکے اپنے پاس رکھ سکتا ہے،

جو ستمبر 2018ء میں عمران خان کے وقت میں 20 فیصد تھی اور اس طرح انہوں نے مذکورہ بالا تحائف اپنے پاس رکھ لیے۔ قواعد میں دسمبر 2018 میں تبدیلی کی گئی اور یہ فیصدی حصہ بڑھا کر 50؍ فیصد کر دیا گیا جس کی ادائیگی پر ہی تحائف اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔ جو تحائف اپنے پاس نہ رکھنے ہوں انہیں توشہ خانے میں جمع کر دیا جاتا ہے یا پھر ان کی نیلامی ہوتی ہے اور اس طرح نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ عمران خان نے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کیخلاف یہ مقدمہ قائم کرایا تھا کہ انہوں نے توشہ خانے سے مہنگے تحفے اور گاڑیاں اپنے پاس رکھ لیں۔ دیگر تحائف جو عمران خان نے اپنے پاس رکھ لیے ان میں رولیکس واچ، کف لنکس، ایک انگوٹھی ایک ڈبہ جس میں نیکلیس، بریسلیٹ اور کانوں کے جھمکے موجود ہیں اور ان کی مالیت دو کروڑ 35؍ لاکھ روپے بنتی ہے اور ان کی صرف ایک کروڑ 15؍ لاکھ روپے ادائیگی کی گئی حالانکہ جس وقت یہ تحفے اپنے پاس رکھے گئے اس وقت کے قواعد کے مطابق مجموعی رقم کا پچاس فیصد حصہ جمع کرانا تھا۔ دیگر تحائف میں 38؍ لاکھ روپے کی رولیکس گھڑی ہے جو انہوں نے اکتوبر 2018ء میں اپنے پاس رکھ لی اور صرف سات لاکھ 54 ہزار روپے ادا کیے۔ 15؍ لاکھ روپے کی ایک اور رولیکس واچ صرف 2؍ لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھ لی۔ دیگر تحائف میں بھی چند رولیکس گھڑیاں، آئی فون اور کچھ دیگر اشیا تھیں جن کی مالیت 17؍ لاکھ 30؍ ہزار روپے تھی اور یہ تمام اشیا صرف تین لاکھ 38؍ ہزار 600؍ روپے ادا کرکے اپنے پاس رکھ لی گئیں۔

Categories
پاکستان

پنجاب اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس،حکومتی ارکان آپے سے باہر،ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو تھپڑ جڑ دیے ،اسمبلی میں اصلی لوٹوں کی بھی بھرمار کر دی

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو حکومتی ارکان نے تھپڑ مار دیے ، حکومتی ارکان کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر لوٹے بھی پھینکے گئے۔اور بال کھینچے،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو سکیورٹی گارڈز نے با مشکل حکومتی ارکان کے چنگل سے نکالا۔ تفصیلات کے مطابق

پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جونہی ڈپٹی سپیکر داخل ہوئےتو حکومتی ارکان نے ان پر لوٹے پھینکے اور پھر دھاوا بول دیا ، اس دوران ڈپٹی سپیکر کو تھپڑ بھی مارے گئے ۔ ڈپٹی سپیکر ابھی اپنی کرسی پر بیٹھ بھی نہ پائے تھے کہ حکومتی ارکان نے دھاوا بول دیا ، سکیورٹی ارکان فوری طور آگے بڑھے اور سپیکر کو حفاظت میں لے کر چیمبر میں لے گئے ، ہنگامی آرائی کے باعث اجلاس رک گیا ۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق حکومتی ارکان نے ڈپٹی سپیکردوست مزاری کے بال بھی نوچے ، حکومتی ارکان نےڈپٹی سپیکر کے باہر جانے کے بعد وکٹری کا نشان بنایا۔

Categories
پاکستان

پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز ہوں گے یا پرویز الٰہی؟ اجلاس کچھ دیر میں شروع ہو گا

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہو رہا ہے۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت آج ساڑھے 11 بجے ہو گا جس میں صوبے کے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گا۔پنجاب اسمبلی اجلاس

میں شرکت کے لیے اراکین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری اور پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں جبکہ حمزہ شہباز بھی اپوزیشن اتحاد کے ساتھ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ہوٹل سے خصوصی بسوں کے ذریعے روانہ ہو گئے ہیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے۔وزارت اعلیٰ کے لیے حمزہ شہباز مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار ہیں جبکہ چوہدری پرویز الٰہی پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے متفقہ امیدوار ہیں۔پنجاب اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 371 ہے اور وزیر اعلیٰ بننے کے لیے 186 ووٹ درکار ہیں۔دونوں امیدواروں کی جانب سے اپنی اپنی جیت کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے 189 ارکان جبکہ حمزہ شہباز شریف نے 200 سے زائد ارکان اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 183 ارکان ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے ارکان کی کل تعداد 166 ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ق کے ارکان کی تعداد 10، پی پی کے 7 ارکان ہیں جبکہ ایوان میں اس وقت آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے اور راہ حق پارٹی کا ایک رکن ہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ناراض ارکان کی تعداد 21 ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے 5 ارکان اپنی جماعت سے ناراض ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

عمران خان کا کُرتا 9 سال بعد دوبارہ فروخت کے لیے کیوں پیش کیا گیا ؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی تصاویر سے آویزاں کُرتوں کو فیشن ہاؤس ’کرما‘ نے 9 سال بعد دوبارہ فروخت کے لیے پیش کردیا۔ ‘کرما‘ نے ابتدائی طور پر ’عمران خان کُرتا‘ کو 2013 میں متعارف کرایا تھا جو عام انتخابات کے دوران انتہائی مقبول ہوا تھا اور پی ٹی آئی کارکنان اسے جلسوں اور ریلیوں میں پہن کر شریک ہوا کرتے تھے۔

اس وقت کُرتے کو مختلف رنگوں میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، جس پر عمران خان کی تصاویر آویزاں تھیں۔ اب فیشن ہاؤس ’کرما‘ نے ان ہی کُرتوں کو دوبارہ فروخت کے لیے پیش کردیا اور دعویٰ کیا کہ ان کُرتوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ فیشن ہاؤس نے ایک ایسے وقت میں پرانے کُرتوں کو دوبارہ متعارف کرایا ہے جب کہ حال ہی میں عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ سے ہٹ گئے تھے۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے اور ان کے وزارت عظمیٰ سے ہٹ جانے کے بعد فیشن ہاؤس نے پی ٹی آئی چیئرمین کی تصاویر سے آویزاں کُرتوں کو دوبارہ فروخت کے لیے پیش کیا۔تاہم اس بار فیشن ہاؤس نے کُرتوں کی قیمت بہت ہی زیادہ رکھی ہے، جس وجہ سے سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ کمپنی نے خود انہیں کُرتے کی رقم 20 ہزار بتائی—اسکرین شاٹ اگرچہ فیشن ہاؤس نے آفیشل کُرتے کی قیمت کا اعلان نہیں کیا، تاہم سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک کُرتے کی قیمت 20 ہزار روپے رکھی گئی ہے جب کہ پاجامے یا پینٹ کی علیحدہ قیمت 10 ہزار روپے رکھی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر کُرتا اور پینٹ 30 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ 2013 میں کُرتے کی رقم 4 ہزار روپے تک رکھی گئی تھی۔ عمران خان کُرتوں کی قیمت 30 ہزار روپے رکھے جانے پر فیشن ہاؤس پر کئی لوگ تنقید کر رہے ہیں جب کہ فیشن ہاؤس پر سیاسی ہونے کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔ تاہم تنقید کے باوجود فیشن ہاؤس نے کُرتوں کی اصل رقم پر کوئی وضاحت نہیں کی۔

Categories
شوبز

‘کانپیں ٹانگ رہی ہیں’ پر فلم بنانے کی تیاریاں!!! کون اداکاری کے جوہر دکھائے گا ؟؟ معروف اداکارہ نے پوسٹ شیئر کر دی

کراچی: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گزشتہ ماہ 8 مارچ کی شب کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جلسے کے دوران بولے گئے اردو کے جملے ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘ پر ٹیلی فلم بنانے پر کام شروع کردیا گیا۔

بلاول بھٹو نے سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 27 فروری کو نکلنے والے عوامی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر خطاب کے دوران کہا تھا کہ ان کے مارچ سے دارالحکومت میں ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں، دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ان کے پریشر سے حکومت کی ’ٹانگیں کانپ رہی ہیں‘۔ ان کے مذکورہ جملے پر اگرچہ اب سیاستدان بھی مذاق کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مخالفین کو بولتے رہتے ہیں کہ ان کی ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘، تاہم اسی جملے پر ٹیلی فلم بھی بنائی جا رہی ہے۔ اداکارہ صاحبہ نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘ پر فلم بنانے پر کام جاری ہے، جس میں وہ بھی اداکاری کرتی دکھائی دیں گی۔ اداکارہ نے ٹیلی فلم کے اسکرپٹ کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی اور بتایا کہ ٹیلی فلم کو عید الفطر کے موقع پر ’اے آر وائے ڈیجیٹل‘ پر پیش کیا جائے گا۔ ان کی جانب سے شیئر کیے گئے اسکرپٹ میں ٹیلی فلم کے لکھاری کے طور پر منصور احمد خان کا نام پڑھا جا سکتا ہے۔ صاحبہ نے ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘ کے اسکرپٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ہدایت کار مظہر معین کو بھی پوسٹ میں مینشن کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیلی فلم کی ہدایات وہی دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے جملے ’کانپیں ٹانگ رہی ہیں‘ سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشہور جملے ’گھبرانا نہیں ہے‘ پر بھی فلم بنائی جا چکی ہے اور اسے بھی عید الفطر پر ریلیز کیا جائے گا۔ عمران خان نے 2018 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد متعدد بار قوم سے خطاب کرنے کے دوران عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘۔ عمران خان کے مذکورہ جملے پر بھی کئی میمز بنائی گئیں اور سیاستدان بھی اسی جملے پر مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور اب اسی جملے پر بنائی گئی کامیڈی فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کو عید پر ریلیز کیا جائے گا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

یہاں ہر پریشان شخص ماں خریدتا ہے!!! یہ کون سا ملک ہے جہاں مائیں کرائے پر خریدی جاتی ہیں لیکن کیوں؟

لاہور: (ویب ڈیسک) ماں وہ ہستی ہے جس کی تعریف کیلئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ یہ اپنے بچوں کیلئے وہ کچھ کر گزرتی ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا،اکثر یوں ہوتا ہے کہ گھر میں داخل ہوں اور اگر والدہ سامنے نظر نہ آئے تو ہم پوچھتے ہیں کہ امی کہاں ہیں۔ مگر آج ہم آپکو یہ بتاتے چلیں کہ اب مائوں جیسی عظیم ہستی بھی کرائے پر ملنے لگی ہیں، سننے میں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے لیکن یہ سچ ہے۔ ماجرا داراصل یہ ہے کہ امریکی ریاست نیویارک کے شہر بروکلن میں ایک عورت یہ سروس فراہم کرتی ہے۔ اس عورت کا نام نینا ہے اور اس نے یہ عمل اس لیے شروع کیا جب اس نے اپنے ارد گرد موجود جوانوں میں بیٹھنا اٹھنا شروع کیا اور ان کے مسئلے مسائل سننا شروع کیے تو وہ ایک مخلص ماں کی طرح انہیں اچھے اچھے اچھے مشورے دیتی رہی جس سے ان جوانوں کو تسلی مل جاتی اور یوں یہ لوگوں میں بہت مقبول ہو گئی۔ مقبولیت کے بعد اس خاتون نے سوچا کہ کیوں نہ اس چیز کو کاروبار میں تبدیل کیا جائے۔ اور پھر انہوں نے “کسے ماں کی ضرورت ہے” اس نام سے ایک ویب سائٹ بنائی جہاں لوگ اب ان سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ انہیں قیمتی مشورے دیتی اور ان کی تربیت بھی کرتیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ سب کام اب یہ مفت نہیں کرتیں بلکہ اس کام کیلئے 40 ڈالرز فی گھنٹہ کے حساب سے چارج کرتی ہیں۔ یہ رقم پاکستانی روپوں میں 7 ہزار 309 بنتی ہے۔

Categories
کھیل

شاہین نے اپنی اور وارنر کی وائرل تصویر کے پیچھے چھپی کہانی سنادی

کراچی: (ویب ڈیسک) فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر کے ہمراہ اپنی وائرل تصویر کی دلچسپ کہانی سنائی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پوڈ کاسٹ میں شاہین شاہ آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیریز سے قبل دونوں ٹیمیں ٹی ٹونئٹی ورلڈکپ میں مدمقابل آئیں تاہم حالیہ 6 ہفتوں میں دونوں ممالک کے کھلاڑی مکمل طور پر آپس میں گھل مل گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم کے دورہ پاکستان سے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو قریب آنے کا موقع ملا۔ شاہین شاہ آفریدی نے ڈیوڈ وارنر کے ساتھ دلچسپ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گیند کروانے کے بعد ڈیوڈ وارنر کے قریب گئے تو وہ بھی وہیں ٹھہر گئے جس سے فوٹو گرافرز کو بہترین تصویر ملی۔ ‘وارنر کی حسِ مزاح بہت زبردست ہے’ فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ وہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے لوگوں کو تفریح فراہم کی، وارنر کی حسِ مزاح بہت زبردست ہے، وہ جان کر وہاں کھڑا ہوا تاکہ تصویر آجائے اور بعد میں ہم دونوں نے سوشل میڈیا پر آنے والے ردعمل کو خوب انجوائے کیا۔ اسی پوڈ کاسٹ کے دوران آسٹریلوی بیٹر مارنس لبوشین نے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل بہت سی افواہیں سن رہے تھے مگر دورہ پاکستان نے خیالات کو بدل دیا، یہ ایک شاندار دورہ رہا، پاکستانی تماشائیوں نے جتنی حوصلہ افزائی کی، ایسا لگ رہا تھا جیسے آسٹریلوی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہی تھی۔ آسٹریلوی بیٹر کا کہنا تھا کہ سیریز میں شاہین آفریدی، محمد رضوان، عبداللہ شفیق اور امام الحق کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

خبردار!! موبائل فون کور کے 4 ایسے نقصانات جو آپ نے سوچے بھی نہیں ہوں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر موبائل فونز کے ڈیزائنز اور نئے بیک کور سے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہی بیک کور کے کئی نقصانات ہوتے ہیں، جو کہ موبائل فون کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہماری ویب ڈاٹ کام آج اسی حوالے سے آپ کو بتائے گی، عام طور پر موبائل فونز کو صارفین مختلف وجوہات کی بنا پر استعمال کرتے ہیں۔

کوئی بیک کور کو موبائل کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے تو کوئی موبائل کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، تو کوئی اسکریچز سے بچانے کے لیے بیک کور کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن جب آپ بیک کور کو استعمال کرتے ہیں صارف کے موبائل فون سے نکلنے والی ہیٹ یا گرمی بیک کور ہونے کی وجہ سے واپس موبائل کی طرف آ جاتی ہے، یعنی اس ہیٹ کا انخلاء صحیح طرح نہیں ہو پاتا ہے۔ چونکہ بیک کور عام طور پر ربڑ کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہیٹ کم ہونے کے بجائے پریشر بننا شروع ہو جاتا ہے۔ بیک کور رکھنے کی وجہ سے سب سے پہلا نقصان موبائل فون کی پرفامنس پر پڑتا ہے یعنی موبائل فون کی پرمانس گرتی جاتی ہے۔ دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ موبائل کے تمام پارٹس متاثر ہوتے ہیں خاص کر موبائل فون کی بیٹری۔ چونکہ ہیٹ کا اثر بیٹری پر زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیٹری کی لائف ٹائم متاثر ہوتی ہے۔ تیسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ موبائل فون سگنلز کو صحیح طرح کیچ نہیں کر پاتا ہے۔ چونکہ اینٹینا بیک سائیڈ پر ہوتا ہے جو کہ کیسنگ کے پچھلے حصے میں چھپا دیے جاتے ہیں۔ بیک کور لگنے کی وجہ سے ان اینٹینا کو کام کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اور نقصان یہ بھی ہے کہ وائی فائی کو قبول کرنے والا ریسیور بھی کسینگ کے اندر پیچھے کی طرف ہوتا ہے، بیک کور کی وجہ سے وائی فائی سگنلز کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام نقصانات وہ ہیں جو کہ عمومی ہیں اور ان سے بچا جا سکتا ہے، بشرط یہ کہ ان کے بارے میں صحیح معلومات موجود ہوں اور صارف ان پر دھیان دے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

جس کو گود میں کھلایا اس کی آخری رسومات کیسے ادا کروں گا!!! کینیڈا میں تعلیم کے لیے جانے والا نوجوان والدین کو ہمیشہ کا دکھ دے گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) ہمیشہ سے بڑے بزرگوں کی یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ کسی کو جوان اولاد کا دکھ نہ دے۔ اس دعا کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب انسان کی اولاد جوان ہو جاتی ہے تو اس کی ہمت اور توانائی کم ہوجاتی ہے اور وہ اس بات کی امید لگا لیتا ہے کہ اب اس کی یہ جوان اولاد ہی ان کی ہمت اور سہارا بنے گی۔

اور اگر بدقسمتی سے اکلوتے جوان بیٹے کی موت کی خبر والدین کو مل جائے تو یہ پل ان کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا ہے- سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ہیومن آف بمبئی سے ایک دکھی باپ نے یہ کہانی شئير کی ہے جس کو پڑھ کر ہر ایک کا دل دکھی ہو گیا- ان کا کہنا تھا ان کا اکیس سالہ بیٹا کارتک ایک ایسا مثالی نوجوان تھا جس کی تعریف اس کے ساتھی اس کے ٹیچر سب ہی کرتے تھے۔ ہر طرح کے لڑائی جھگڑوں سے کترانے والا کارتک ایک بہترین طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ فرمانبردار بیٹا تھا- وہ ان کے لیے بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا دوست بھی تھا- جب اس نے اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کے لیے بیرون ملک جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے فوراً انتظام کرنے شروع کر دیے جب کہ دوسری جانب کارتک نے بھی کینیڈا کی اپنی پسندیدہ یونی ورسٹی مین ٹیسٹ کی تیاری شروع کر دی اور تین مہینے قبل کارتک کا داخلہ کینڈا کی یونی ورسٹی میں ہو گیا- جب کارتک کو وہ ائیر پورٹ چھوڑنے گئے تو کارتک بہت خوش تھا وہ اپنے نئے سفر اور نئی منزلوں کے لیے بہت پرجوش تھا جب کہ وہ اور ان کی بیوی یہی سوچ رہے تھے کہ کارتک کے جانے کے بعد ان کے دن رات کیسے کٹیں گے- مگر کارتک کو جاتے جاتے وہ بس اتنا ہی کہہ سکے کہ بس اپنا دھیان رکھنا- کارتک کے جانے کے بعد ان کے گھر کے شب و روز اس کے بغیر بہت اداس سے ہو گئے مگر کارتک کی ویڈیو کالز اور اس کی بھیجی ہوئی تصاویر ان کے اندر زندگی سی دوڑا دیتی تھیں۔ اس دن کارتک نے ان کو یہ خوشخبری سنائی کہ اس کو پارٹ ٹائم کام کرنے کی بھی اجازت مل گئی ہے اور اب وہ پڑھائی کے ساتھ کام بھی کر سکے گا- اس دن صبح ناشتہ بناتے ہوئے جب کارتک نے ویڈیو کال کی تو وہ اپنے لیے اسٹرابیری کا شیک بنا رہا تھا جس کو دیکھ کر انہوں نے اس کو چھیڑا کہ تم کینیڈا آکر بھی روح ا‌فزا پی رہے ہو- ان کی اس بات پر کارتک بہت ہنسا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کارتک کی آخری ہنسی ہے جس کو وہ دیکھ رہے ہیں- اسی شام انہیں کارتک کے فلیٹ میٹ کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی کہ کارتک سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے اور وہ اپنی جاب پر بھی نہیں پہنچا ہے- جس پر انہوں نے اس کو پولیس سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا- دو گھنٹوں تک اپنے کمرے میں ہی بغیر کسی کو بتائے انتطار کرنے کے بعد ان کو کینیڈا سے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں ان کو بتایا گیا کہ ان کے اکیس سالہ جوان بیٹے کو کسی نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے- ان کے لیے یہ خبر قیامت سے کم نہ تھی ان کا بیٹا تو کسی سے بھی نہیں لڑتا تھا پھر ایسا کون ظالم تھا جس نے ان کی بڑھاپے کی امید اور چراغ کو بجھا کر ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ کینیڈا کی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے کارتک کے قتل کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اب تک اس کے ماں باپ اپنے لعل کو نہیں دیکھ سکے ہیں- وہ کینیڈا جانے کی تیاری کر رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آرہا ہے کہ جس بیٹے کو انہوں نے تھام کر سائیکل چلانا سکھائی تھی اس کی چتا کو آگ کیسے لگا پائيں گے- ان کی اب یہی خواہش ہے کہ بیٹے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں اور اسے سلاخوں کے پیچھے دیکھ سکیں-

Categories
اسپیشل سٹوریز

کیا آزادی کا مطلب سڑکوں پر نکلنا ہے!!! بے مقصد آزادی نہیں چاہیے مجھے بااختیار بننا ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) سارہ ایک آزاد خیال لڑکی تھی۔ یونیورسٹی کی بےباک طالبہ ہر میدان میں آگے رہنے والی، آجکل آزادی نسواں کی تحریکوں میں سرگرم تھی۔ اس کے والد سلیم صاحب نے اسے کبھی روک ٹوک نہیں کی وہ اپنی بیٹی میں کسی قسم کی محرومی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی ایک ہمدرد دل رکھتی ہے اور ساتھ ہی وہ کافی سمجھدار بھی ہے ۔ بس انھوں نے اپنی بیٹی کو کہا ہوا تھا کہ ماں باپ کی عزت پر آنچ نہ آنے دینا۔ سارہ عورت مارچ کے لئے کافی دنوں سےسرگرم تھی لیکن وہ اب کچھ الجھن محسوس کر رہی تھی اسے تو ان سرگرمیوں میں آزادی کا مقصد گم ہوتا نظر آیا ۔ اس کے نزدیک عورت کی آزادی کا مقصد عورت کو بااختیار دیکھنا ہے۔ لیکن کیا بااختیار ہونے کا مطلب سڑکوں پر نکلنا تھا؟ وہ تو کمزور عورت کو بااختیار بنانا چاہتی تھی پھر اس نے اس الجھن کے حل کے لئے فیصلہ کیا کہ بس اب اس کا مقصد عورتوں کو تعلیم دلوانا ہے۔ اس نے اپنے والد سے بات کی سلیم صاحب کو اپنی تربیت پر ناز تھا انھیں پتا تھا ان کی بیٹی بہت جلد صحیح مقصد کو پا لے گی اور پھر انہوں نے اپنی بیٹی کا لڑکیوں کے لئے اسکول فنڈنگ میں بھرپور ساتھ دیا۔ سارہ کی طرح ہم سب کو بھی یہ امر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کی آزادی کا مقصد کیا ہے۔تعلیم اور کسی ہنر کے ذریعے انکو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ مردوں کے ساتھ مل کر معاشرے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ کسی کی محتاج نہ ہوں اور ایک مضبوط عورت کے طور پر ایک کامیاب خاندان تیار کر سکیں۔ دونوں صنف اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔ مرد جسمانی طور پر مضبوط ہیں تو عورت ایک خاندان کو جنم دیتی ہے۔ دونوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عورت کو بااختیار کیسے بنایا جائے؟ سب سے پہلی راہ تو تعلیم ہے۔ کم از کم پرائمری تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے اسکولوں کی تعمیر کی جائے جس کے لئے فنڈز اکٹھا کئے جائیں۔ اور پسماندہ علاقوں میں جا کر شعور پیدا کیا جائے کہ لڑکیوں کے لئے تعلیم لازمی ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں کام کرنا چاہئے جس طرح کرونا ویکسینیشن میں حکومت کوشاں تھی اسی طرح عورتوں کو تعلیم نہ دلوانے پر کوئی سزا مختص کی جائے۔ دوسرا دستکاری سنٹرز قائم کیے جائیں جہاں ان کو دستکاری وغیرہ سکھائی جا سکے تاکہ نہ صرف وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے بلکہ اپنے خاندان اور ملک کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔ جب وہ مضبوط ہوں گی تو میرا نہیں خیال کہ ان کے حقوق کوئی سلب کر سکے گا۔ ہمیں تو اپنے مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے معاشرتی مسائل حل کرنے ہیں۔ عورت کو آزادی تو ہمارے مذہب ہی نے دی ہے اور آج یہ مادر پدر آزاد مغرب ہمیں عورت کی آزادی سکھاتے ہیں۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔ اسلام نے مرد کی طرح عورت کو بھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد معاشرے کا ایک فعال حصہ ہوتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں خواتین اسلام کے عطا کردہ حقوق کی برکات کے سبب سماجی، معاشرتی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کو اِرتقاء کی اَعلیٰ منازل کی طرف گامزن کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

وہ مشہور شخصیات جن کی لاہور کو دوبارہ دیکھنے کی حسرت پوری نہ ہوسکی

لاہور: (ویب ڈیسک) کرشن چندر روزانہ داتا صاحب کو سلام کر کے گزرتے، اپنا پتہ” داتا کے سائے میں” بتاتے۔ مولانا صلاح الدین احمد، باری علیگ اور عاشق بٹالوی کے ساتھ گپ شپ کرتے انارکلی سے گزرتے تین گھنٹے لگ جاتے۔ کرشن کا پہلا افسانہ” سادھو” 1929 میں ایف سی کالج میگزین” فولیو” میں چھپا۔

علامہ اقبال پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے، سناپسس بھی پیش کیا لیکن یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ زندہ شخصیت پر نہیں ہوسکتی۔ کرشن کہتے تھے، لاہور میں رہ کر کوئی بوڑھا نہیں ہوسکتا، ہوتا ہے تو منڈی بہاء الدّین، بستی چھپڑاں والا یا چک 420 چلا جائے۔ جے ایس سنت سنگھ قرآن مجید چھاپتے تھے۔ ان کی دکان میں جوتے اتار کر جانا پڑتا تھا۔احمد راہی کا مجموعہ “ترنجن” چھپا تو کرشن نے پنجابی میں مبارک باد کا خط لکھا اور کہا کہ پنجابی رسالہ نکلنا چاہیے، وہ بھی پنجابی میں لکھیں گے۔ کرشن لاہور میں بھگت سنگھ کی سوشلسٹ پارٹی کے رکن اور بھنگیوں کی انجمن کے صدر بھی بنے۔ راجندر سنگھ بیدی کہتے تھے عشق کے لیے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں۔ وہ بچپن میں قتل ہوتا دیکھ کر گونگے ہوگئے تھے۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ ایک انقلابی پارٹی کے بچوں کے شعبے بال سبھا کے رکن بنے تو ان کو ایک انگریز کے قتل کا مشن دے دیا گیا لیکن ان سے ہو نہیں سکا۔ بیدی نے ادبی زندگی کا آغاز محسن لاہوری کے نام سے کیا۔ ڈاک خانے میں کلرک ہوئے تو کام کے دوران کہانیاں لکھتے رہتے۔ ایک بار رقم وصول کیے بغیر منی آرڈر بک کر دیا۔ شام کو حساب کیا تو تنخواہ جتنے پیسے شارٹ تھے۔ ایڈریس نوٹ کر کے اس دن منی آرڈر کرنے والے ہر شخص کے گھر گئے۔ مطلوبہ شخص ملا تو اس نے کہا، سردار جی آپ کے سارا دن بارہ بجے رہتے ہیں۔ منٹو نے ایک افسانے میں ڈاک خانے میں مہریں لگانے کی طرف اشارہ کر کے بیدی پر چوٹ کی تو بیدی اور دیندر ستھیارتھی نے افسانے میں منٹو کا ریکارڈ لگا دیا۔ کنہیا لال کپور پیدا تو سمندری میں ہوئے تھے، پڑھنے لاہور آئے۔ قد بہت لمبا تھا، داخلے کے انٹرویو کے لیے پرنسپل پطرس بخاری کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے پوچھا، اتنے ہی لمبے ہیں یا آج خاص اہتمام کرکے آئے ہیں؟ بعد میں وہ پطرس کے چہیتے شاگرد بن گئے۔ بالآخر جب لاہور چھوڑنا پڑا تو کپور کو بھارتی پنجاب کے چھوٹے سے قصبے موگا میں پناہ ملی جہاں کے لینڈ اسکیپ میں ریت اور سرکنڈے نمایاں تھے۔ لوگ کہتے آپ مشہور آدمی ہیں، اس ویرانے سے کسی بڑے شہر کیوں نہیں چلے جاتے تو کہتے، جب تک ہندوستان لاہور کا ثانی پیدا نہیں کرتا، میرے لیے یہاں کے تمام شہر اور قصبے ایک جیسے ہیں۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور تینوں لاہور کی ادبی زندگی میں سرگرم رہے، تینوں کی پہلی کتابیں لاہور سے چھپیں۔ تینوں لاہور کی یاد میں تڑپتے رہے، تینوں لاہور کو پھر دیکھنے کی حسرت لیے چل بسے۔ (محمودُ الحسن کی کتاب “لاہور: شہرِ پُرکمال” سے)

Categories
انٹرنیشنل

سعودیہ میں مقیم پاکستانی متوجہ ہوں!!! اپنے پیاروں سے ٹیلی فونک رابطہ کیسے کرسکتے ہیں؟ آسان طریقہ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں سمارٹ فونزکے سبب کمیونی کیشن کی دنیا میں آنے والے انقلاب کی وجہ سے فاصلے سمٹ گئے ہیں اور دنیا حقیقی معنوں میں گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے عام ہونے سے قبل مملکت میں رہنے والوں کے لیے وطن میں اپنے عزیزوں سے ٹیلی فون پر بات کرنا خاصا گراں تھا۔

مملکت میں کمیونیکیشن کے ادوار: سعودی عرب میں 70 اور 80 کی دہائی میں انٹرنیشنل کالنگ مہنگا اور دشوار امر سمجھا جاتا تھا۔ مختلف شہروں میں ٹیلی فون کمپنی ’الاتصالات‘ کی جانب سے گنتی کے ٹیلی فون کیبنز تھے جن کے ذریعے بیرون ملک ٹیلی فون کالز کی جاسکتی تھیں۔ کیبن سے ٹیلی فون کرنے کے لیے وقت مقررہ سے کافی پہلے جا کر اقامہ کے ذریعے اندراج کرانا پڑتا تھا جس کے بعد نمبر آنے پر ٹرنک کال ممکن ہوتی تھی۔ اس وقت پاکستان کے لیے فی منٹ کال تقریباً 12 ریال ہوا کرتی تھی۔ ٹیلی فون بوتھس: کمیونی کیشن کے میدان میں 80 اور 90 کی دہائی میں مزید ترقی ہوئی اورٹیلی فون کال کیبنز کی جگہ ٹیلی فون بوتھس نصب کردیے گئے جو سِکوں سے آپریٹ ہوتے تھے۔ فی منٹ 8 ریال کے حساب سے ادائیگی کی جاتی تاہم ان بوتھس سے یہ سہولت ہوئی کہ کالز جب چاہیں کر سکتے تھے مگر سِکوں کا حصول ایک دشوار امر تھا۔ پری پیڈ کارڈز: سِکوں والے بوتھ کے بعد دوسرے مرحلے میں 1996 سے 1999 تک پری پیڈ کارڈ متعارف ہوا جس کی وجہ سے سِکوں کے حصول کا دشوار مرحلہ ختم ہوا اور ان کی جگہ پری پیڈ کارڈز نے لے لی۔ اس کے ساتھ ہی سِکوں والے بوتھ تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ہوم پری پیڈ کارڈز: سال 2000 کے بعد کمیونی کیشن کے میدان میں برق رفتار ترقی کا دور ثابت ہوا اورموبائل فون ٹیکنالوجی متعارف ہوئی جس کے ساتھ ہی ہوم پری پیڈ کارڈز کی سہولت بھی عوام کے لیے مہیا کی گئی۔ ہوم پری پیڈ کارڈز ہرجگہ دکانوں اور کریانہ سٹورز پر بھی دستیاب ہوتے تھے جن کے ذریعے کسی بھی لینڈ لائن کے ذریعے نیشنل اور انٹرنیشنل کالز کی جاسکتی تھیں۔موبائل فون سسٹم: سعودی عرب میں موبائل فون کے ابتدائی دور میں موبائل کنکشن حاصل کرنا کافی دشوار مرحلہ تھا۔ انٹرنیشنل لائن حاصل کرنے کے لیے غیر ملکیوں کو دس ہزار ریال زر ضمانت رکھوانا ہوتا تھا جس کے کئی دن بعد سِم جاری کی جاتی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ ترقی ہوتی گئی اور موبائل انڈسٹری میں نجی کمپنیوں کی شمولیت سے مراحل اور سِمز کا حصول آسان ہوتا گیا۔ اسمارٹ فون ایپس: سمارٹ فون نے کمیونی کیشن کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا جس کے بعد ٹیلی فون کے ذریعے نہ صرف آواز بلکہ ویڈیو کالنگ کی سہولت بھی ہر ایک کی دسترس میں ہوگئی۔ تارکین میں مقبول ایپس: سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کےلیے سمارٹ فون کالنگ ایپس کافی معاون ثابت ہوئیں۔ خاص کر وہ افراد جو اپنے اہل خانہ سے دور دیارغیر میں مقیم ہیں انہیں اپنے عزیزوں سے رابطے کے سلسلے میں بے حد سہولت ہوئی۔ واٹس ایپ: اس ایپ کے ذریعے کالنگ کی سہولت مملکت سمیت خلیجی ممالک میں بند ہے لیکن چیٹنگ اور ویڈیو و تصاویر کی منتقلی ممکن ہے۔ واٹس ایپ کے ذریعے کالنگ کے لیے خصوصی سافٹ ویئر’وی پی این‘ انسٹال کرنا ہوتا ہے جس کے بعد واٹس اپ پر کال کی جاسکتی ہے۔ آئی ایم او: مملکت میں اس وقت سب سے کامیاب ترین کالنگ ایپ ’آئی ایم او‘ ہے جو یہاں رہنے والے تقریباً تمام افراد ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس ایپ کے ذریعے نہ صرف آڈیو بلکہ ویڈیو کالنگ کی بھی سہولت ہے۔ وی چیٹ: یہ ایپ بھی سعودی عرب میں کام کرتی ہے تاہم اس ایپ کو استعمال کرنے والے کافی محدود ہیں، یہ ایپ چین اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں میں زیادہ مقبول ہے۔

Categories
شوبز

ندا یاسر شادی سے پہلے یاسر نواز کے متعلق کیا سوچتی تھیں؟ اداکارہ نے انکشاف کر دیا

کراچی (نیوز ڈیسک ) پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کا مشہور جوڑا اداکارہ و میزبان ندا یاسر جب اپنے شوہر یاسر نواز سے شادی سے پہلے ڈرامے میں کام کے دوران ملی تھی تو وہ ان کے بارے میں کیا سوچتی تھی اداکارہ نے بتا دیا۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ نے یاسر نواز کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”وہ بہت زیادہ غصے

والے تھے اور اپنے بارے میں ہمیشہ بڑا سوچتے تھے مجھے ایسا لگتا تھا جیسے انھیں اپنی سفید رنگت کی وجہ سے بہت غرور ہے میں اس وقت بلکل نئی تھی جب مجھے ان کے ساتھ ڈرامے میں کام کرنے کی آ فر ہوئی تھی میں بہت خوش تھی کیونکہ وہ اس وقت کے بہت بڑے اداکار تھے“۔یاد رہے کہ اداکارہ ندا یاسر پاکستانی اداکار اور فلم میکر یاسر نواز کی اہلیہ ہے اور اس قت وہ مارنگ شو صبح سویرے پاکستان کی میزبان کے فرائض ادا کر رہی ہیں۔

Categories
پاکستان

’’لوٹے کا سکسر اس کے اپنے منہ پر لگتا ہے‘‘ شہباز شریف کو مبارکباد دینے پر خلیل الرحمان قمر آفریدی پر برس پڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے حامی عام لوگ ہوں یا معروف شخصیات، ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ مخالف نکتہ نظر رکھنے والے کو قطعاً برداشت نہیں کرتے اور اس پر پل پڑتے ہیں۔ ایسا ہی عمران خان کی الفت کا دم بھرنے والے خلیل الرحمان قمر نے ملک کے مایہ ناز کرکٹر شاہد آفریدی کے

ساتھ کیا ہے۔ شاہد آفریدی کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔شاہد آفریدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ ”شہباز شریف صاحب کو پاکستان کا 23واں وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو موجودہ معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔“شاہد آفریدی کی یہ ٹویٹ خلیل الرحمن قمر کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے آفریدی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ”شاہد آفریدی صاحب، ایک دفعہ آپ نے چلتے میچ میں گیند چبا کر کرکٹ اور ملک دونوں کی توہین کی تھی۔ اس بار تو آپ پورا ظرف کھا گئے ہیں۔ آپ کی مرضی لیکن یاد رکھیے گا، لوٹے کا سکسر اس کے اپنے منہ پر آ کر لگتا ہے۔“

Categories
اسپیشل سٹوریز

دنیا کی پہلی ایل ای ڈی جو چاؤلوں کے چھلکے سے تیار ہوئی

ہیروشیما(ویب ڈیسک) ایک دلچسپ کاوش میں جاپانی ماہرین نے پہلی مرتبہ چاول کی بھوسی سے روشنی خارج کرنے والی ایل ای ڈی بنائی ہے جو کم خرچ اور ماحول دوست اختراع ہے۔ پوری دنیا میں چاول کی صفائی کے دوران ہر سال دس کروڑ ٹن چاول کا چھلکا یا بھوسی پیدا ہوتی ہے۔

اب ہیروشیما یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس فالتو چھلکے کو بازیافت (ری سائیکل) کرکے دنیا کا پہلا سلیکون کوانٹم ڈوٹ (کیو ڈی) بنایا ہے اور اسی پر مشتمل ایل ای ڈی تیار کی ہے۔ اس طرح زرعی کچرے کو ارزاں اور جدید ترین روشن ڈائیوڈ میں بدلا جاسکتا ہے۔ اس کی تحقیق امریکی کیمیکل سوسائٹی کے جرنل اے سی ایس سسٹین ایبل کیمسٹری اینڈ انجینیئرنگ میں شائع ہوئی ہے۔ ’روایتی کوانٹم ڈوٹس میں عموماً کیڈمیئم، سیسہ اور دیگر زہریلی دھات استعمال ہوتی ہے۔ لیکن چاول کے چھلکے کی نئی ٹیکنالوجی سے یہ کام کم زہریلا اور ماحول دوست شکل اختیار کرجاتا ہے۔ مسام دار سلیکون (ایس آئی) 1950 کے عشرے میں سامنے آئے اور ان کے لیتھیئم آئن بیٹری، روشن مادوں اور طبی سینسر کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ قدرت کے کارخانے میں موجود ہیں اور خردبینی (کوانٹم جسامت) کی بنا پر انہیں سیمی کنڈکٹر کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماحولیات خدشات کے لحاظ کی وجہ سے سائنسداں ایک عرصے سے ماحول دوست کوانٹم ڈوٹس کی تلاش میں تھے۔ اب جاپانی ماہرین کے مطابق چاول کا چھلکا انتہائی خالص سلیکا (SiO2) اور سفوف فراہم کرسکتا ہے جن کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ ماہرین نے اس چھلکے کو پہلے ملنگ یعنی پیسنے اور بارک کرنے کے عمل سے گزارا گیا اور اس میں بعض نامیاتی اجزا کو جلاکر الگ کیا گیا بچی ہوئی شے کو برقی بھٹی میں گرم کیا گیا اور یوں سلیکا پاؤڈر سامنے آیا۔ تیسرے مرحلے میں پیچیدہ کیمیائی عمل سے اسے مزید خالص کرکے تین نینومیٹر کے ذرات میں تبدیل کیا گیا۔ اب مستحکم اور کیمیائی طور پر بہترین ذرات سامنے آئے جو سلیکن کوانٹم ڈوٹس میں ڈھل گئے۔ اس موقع پر وہ نارنجی مائل سرخ رنگت خارج کرنے لگے جس کی افادیت (ایفی شنسی) 20 فیصد تک تھی۔ اس طرح دنیا کی پہلی چاول چھلکا ایل ای ڈی تیار ہوگئی جس میں کسی قسم کے مضر اجزا شامل نہ تھے۔ یہ ایک شاندار طریقہ ہے جس سے ماحول دوست ایل ای ڈی کی تشکیل ممکن ہوئی جو سیلکون کوانٹم ڈوٹس پر مشتمل تھی۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

ایک ہی تنے پر 12 سو سے زائد ٹماٹر اگانے کا ریکارڈ قائم

لندن(ویب ڈیسک) برطانیہ کے ہرٹ فورڈ شائر سے تعلق رکھنے والے باغبان نے ایک ہی تنے پر ہزاروں ٹماٹر اُگا کا نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا ہے۔ ڈگلس اسمتھ نامی انگلش باغبان سابق ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے

سے کسی کے لیے بھی توڑنا ایک امتحان بن چکا تھا۔ ڈگلس اسمتھ کے مطابق ’انہوں پچھلے سال اپنے گرین ہاؤس میں ایک پودے پر 839 ٹماٹر اُگائے تھے جبکہ اب وہ اپنے پودے کے ایک ہی تنے پر 1,269 ٹماٹر اُگا کر ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘ ڈگلس اسمتھ کے مطابق اِنہیں یہ ریکارڈ بنانے کے لیے کئی برس لگے ہیں۔