Categories
پاکستان

پانچ سال میں بینکوں سے سود کا نظام ختم کیا جائے،وفاقی شرعی عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا معاشی نظام سود سے پاک ہونا چاہیے۔وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خاتمے کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا

جسٹس ڈاکٹر سید انور نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمام علماء اور اٹارنی جنرل کو سننے کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ربا کا خاتمہ اسلامی نظام کی بنیاد ہے، کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن جس میں ربا شامل ہو وہ غلط ہے، ربا کا خاتمہ اور اس سے بچاؤ اسلام کے عین مطابق ہے، قرض سمیت کسی بھی صورت میں لیا گیا سود ربا میں آتا ہے، اسلام میں ربا کی مکمل ممانعت ہے۔شرعی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اندرونی یا بیرونی قرضوں پر سود دینا ربا میں آتا ہے، حکومت اندرونی وبیرونی قرضوں اور ٹرانزیکشنز کو سود سے پاک بنائے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی اداروں سے ٹرانزیکشن سود سے پاک بنائی جائے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلامک بینکنگ اور سودی نظام سے پاک بینکاری نظام دو مختلف چیزیں ہیں، پاکستان میں پہلے سے کچھ جگہوں پر سود سے پاک نظام بینکاری موجود ہے، ربا کو پاکستان میں ختم ہونا چاہیے۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا معاشی نظام سود سے پاک ہونا چاہیے۔شرعی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چین بھی اسلامی شرعی نظام کے مطابق سود سے پاک بینکاری کی طرف جا رہا ہے، حکومت بینکنگ سے متعلق انٹرسٹ کا لفظ ہر قانون سے نکالے، حکومت کے وہ تمام قوانین جن میں سود کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو فوری خارج کیا جائے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام قوانین جن میں سود کا لفظ استعمال ہوا ہے اسلامی شریعت کے منافی قرار دیے جاتے ہیں، یکم جون سے تمام وہ شقیں جن میں سود کا لفظ موجود ہے

وہ کالعدم تصور ہوں گی، حکومت فوری طور پر سودی نظام کے خاتمے کے اقدامات کرے۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا کہ سودی نظام کے خاتمے میں وقت لگے گا، سپریم کورٹ شریعت ایپلٹ بینچ نے 2001 میں سودی نظام کے خاتمے کے حکم پر عملدرآمدکا حکم دیا تھا، عدالت کو بتایا جائے کہ سودی نظام کے خاتمے کی قانون سازی کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟ اسلامی بینکاری نظام استحصال کے خلاف اور رسک سے پاک ہے۔وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کو 5 سال میں سود سے پاک نظام نافذ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر2027 تک ربا سے مکمل پاک نظام ملک میں نافذ کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 38 ایف پر عملدرآمد ہوتا تو ربا کا خاتمہ دہائیاں پہلے ہو چکا ہوتا، اسٹیٹ بینک کے اسٹریٹجک پلان کے مطابق 30 فیصد بینکنگ اسلامی نظام پر منتقل ہو چکی، اسلامی اور سود سے پاک بینکاری نظام کے لیے 5 سال کا وقت کافی ہے، توقع ہے حکومت سود کے خاتمے کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔شرعی عدالت نے ویسٹ پاکستان منی لانڈر ایکٹ کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا دو دہائیاں بعد بھی سود سے پاک معاشی نظام کے لیے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے بالاتر ہے۔عدالت نے انٹرسٹ ایکٹ 1839 اور سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقیں غیر شرعی قرار دیدیں۔یاد رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ 12 اپریل کو محفوظ کیا تھا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

میں نے اپنے والد کی رہائی کے لیے روزے رکھنا شروع کیے!!! رمضان کے روزے رکھنے والے 3 غیر مسلم

لاہور: (ویب ڈیسک) رمضان مسلمانوں کے لئے تو رحمتوں بھرا مہینہ ہے ہی لیکن دنیا میں کچھ ایسے غیر مسلم بھی ہیں جو اس مبارک مہینے میں بھی روزہ رکھتے ہیں جن کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں یا پھر اس ماہ میں اپنی دکانوں پر سستے داموں اور منافع کمائے بغیر اشیائے خوردونوش فروخت کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاسکے-

روہنی اچاریہ: لالو پرساد یادیو بھارت کے سابق وزیر ریلوے کے ساتھ وہاں کی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں اور گزشتہ تین سال سے کرپشن کے کیس کے باعث جیل میں تھے۔ روہنی اچاریہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں- روہنی نے اپنے والد کی رہائی کی خواہش دل میں لیے رمضان کے سارے روزے رکھنے کا عہد کیا۔ روہنی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ”کل سے رمضان کا پاک مہینہ شروع ہورہا ہے اس سال میں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ پورے مہینے اپنے پاپا کی صحتیابی اور سلامتی کے لئے روزے رکھوں گی” – روزے رکھنے کے فیصلے سے روہنی کو بھارت میں انتہا پسندوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن انھوں نے کسی کی بات کو اہمیت نہیں دی البتہ چند روزے رکھنے کے بعد ہی روہنی کے والد کو حیرت انگیز طور پر جیل سے رہائی مل گئی جس پر وہ دوبارہ ٹویٹ کرتی ہیں کہ”مجھے اوپر والے کی طرف سے عیدی مل گئی” -روزہ رکھنے والے ٹیچر:مینیاپولیس کے انٹرنیشنل ہائی اسکول جہاں 40 فیصد طالب علم صومالیہ کے مسلمان ہیں وہاں ایک غیر مسلم ٹیچر ڈوگلس پٹلر اپنے مسلمان شاگردوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ”مجھے روزے رکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ دن بھر تھکن کے باوجود میں کافی نہیں پیتا جب میرے دوست مجھے کھانے کو کہتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔ مجھے روزے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے”-بچوں کے والدین میرے لئے بھی افطار لاتے ہیں : پلیک گیٹ ہائی اسکول ٹیچر کیتھرین کہتی ہیں ” میں مسلمان نہ ہونے کے باوجود اپنے شاگردوں کا ساتھ دینے کے لئے روزے رکھتی ہیں اور وہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں بلکہ افطار کے وقت ان کے والدین میرے لئے بھی کھانا لاتے ہیں۔ یہ بہت خوش کن احساس ہے”پاکستانی سکھ جو رمضان میں بلامعاوضہ سودا بیچتے ہیں: نارنجن سکھ نام لے پاکستانی سکھ، ضلع خیبر کے دکاندار ہیں۔ وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نارنجن سنگھ ہر سال رمضان میں سستے داموں اور منافع کمائے بغیر اشیائے خوردونوش فروخت کرتے ہیں۔ نارنجن سنگھ کہتے ہیں کہ”ہمارا مقصد غریب مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا ہے تاکہ افطار کے وقت وہ ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھیں” نارنجن مزید کہتے ہیں کہ سال کے گیارہ مہینے منافع کمانے کے اور ایک مہینہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

یہ بچی پیدا ہونے کے بعد زندہ نہیں بچ سکے گی… ڈاکٹروں کا ماں کے پیٹ میں ہی بچی کا آپریشن، 16 ہفتوں کی الٹراساؤنڈ کی رپورٹ میں کیا تھا؟

لاہور: (ویب ڈیسک) پانچ فروری 2022 کا دن زوفیہ فینرچ کے لیے اس وجہ سے بہت خاص دن تھا جس دن الٹراساؤنڈ کے ذریعے 16 ہفتوں کے اپنے بچے کو اس نےاسکرین پر پہلی بار حرکت کرتے ہوئے دیکھا- چالیس سالہ زوفیہ کے لیے یہ بہت ہی خوبصورت موقع تھا یہ ان کی دوسری اولاد تھی جس کی آمد کی خبر سے ان کے انچاس سالہ شوہر بھی سپر ایکسائٹڈ تھے-

الٹرا ساؤنڈ والے کمرے کا ماحول اس وقت اچانک تناؤ کا شکار ہو گیا جب کہ سونو گرافر اچانک خاموش سا ہو گیا اور اس نے بچے کے دل کے معائنے میں معمول سے زیادہ وقت لگایا اور کافی دیر بعد اس کے ایک جملے سے زوفیہ اور اس کے شوہر کی خوشیوں کو پریشانی اور فکر میں بدل ڈالا- سونوگرافر کے مطابق بچے کے دل کے افعال میں کچھ خرابی نظر آرہی تھی فوری طور پر بچوں کے دل کے ماہر ڈاکٹر کو بلایا گیا جس نے ماں کے رحم میں ہی بچی کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ بچی دل کی ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس کو ہائپو پلاسٹک لیفٹ ہارٹ سنڈروم کہتے ہیں اور اس بیماری میں بچی کے دل کے بائیں حصے مکمل طور پر بن ہی نہیں رہے ہیں-اس بیماری کے علاج کے لیے فوری سرجری کی ضرورت تھی ورنہ بچی کا بچنا ناممکن تھا اس موقع پر ڈاکٹر نے زوفیہ کو ایک آسان حل بھی بتایا جس کے مطابق زوفیہ کو چاہیے کہ حمل کو ضائع کر وا کر ابارشن کروا لے کیوں کہ اگر ان حالات میں بچی پیدا ہو بھی گئی تو اس کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں- تاہم اس کے بعد جب اس جوڑے نے دوسرے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو ان کا جواب کافی حوصلہ افزا تھا ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس بچی کے پیدا ہونے کے بعد اس کی زندگی کا مطلب ماں باپ کی زندگی میں یکسر تبدیلی ہونا ہوگا- پیدائش کے دوسرے مہینے سے جان بچانے والے دل کے آپریشن ہر دوسرے سال کروانے ناگزير ہوں گے اس کے بعد تیرہ چودہ سال کی عمر تک ممکن ہے کہ زندگی بچانے کے لیے دل کا ٹرانسپلانٹ بھی کروانا پڑ سکتا ہے- بچی کی جان بجانے کے لیے یہ کرنا والدین کی نظر میں مہنگا سودا نہ تھا لہٰذا انہوں نے حمل کو ضائع کروانے کے بجائے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا- مگر 24 ہفتے کی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ ان کے لیے بہت خوفناک تھی- جس کے مطابق دل کے اندر خون کی بلاکیج ہو گئی ہے جس کا براہ راست اثر بچی کے نازک پھیپھڑوں پر پڑ رہا ہے اور اگر اس کا علاج فوری نہ کیا گیا تو جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے- اس موقع پر ڈاکٹروں کے مطابق ماں کی رحم میں ہونے والی یہ سرجری صرف اور صرف امریکہ میں ہی ممکن تھی جب کہ زوفیہ کا تعلق لندن کے جنوبی علاقے سے تھا- اس موقع پر زوفیہ نے اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ جانے کا فیصلہ کیا- علاج کی خطیر رقم کے لیے انہوں نے مختلف این جی اوز سے مدد مانگی اور بلاآخر ایک ایسا آپریشن کروانے میں کامیاب ہو سکے جو کہ جدید ترین آپریشن تھا اور اس کے نتیجے میں پیدائش سے قبل ماں کے رحم میں ہی اس بچی کی دل کی تکلیف کو دور کیا گیا- تفصیلات کے مطابق اس سرجری میں ماں کے پیٹ سے ایک سوئی ماں کے رحم سے ہوتے ہوئے بچے کے دل تک پہنچائی جاتی ہے- اس سوئی کے ذریعے دل میں ہونے والی رکاوٹ کو دور کر نے کے لیے اسٹنٹ ڈالا جاتا ہے- زوفیہ کا اور اس کی بیٹی کا یہ آپریشن ہو چکا ہے اور اس کے ذریعے بچی کے دل میں ہونے والی رکاوٹ کو نہ صرف کھول دیا گیا ہے بلکہ دل کے جو حصے کام نہیں کر رہے تھے وہاں بھی اسٹنٹ ڈال دیا گیا ہے- اگرچہ ابھی تک زوفیہ کی بچی کی ڈلیوری کا ٹائم نہیں آیا ہے مگر والدین اور ڈاکٹر دونوں پر امید ہیں کہ بچی پیدائش کے بعد بالکل ٹھیک ٹھاک ہوگی یہ آپریشن حدید ترین علاج کی راہ میں ایک مثال ہے

Categories
اسپیشل سٹوریز

گھروں سے فرار ہو کر شادیاں!!!! والدین کو آن لائن گیمز سے اور کتنے دکھ اٹھانا ہوں گے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) پورے ملک میں ان دنوں کراچی سے نوعمر بچیوں کے گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے کے حوالے سے والدین میں شدید تشویش پائی جارہی ہے، کراچی کی دعا زہرہ کے حوالے سے اس کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ میرا پب جی گیم کے ذریعے دعا زہرہ سے رابطہ ہوا۔

ظہیر احمد نے بتایا کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں، پچھلے 3 سال سے ہمارا رابطہ تھا، دعا زہرہ کراچی سے خود آئی اور میرے گھر کے باہر آ کر مجھے میسج کیا،وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی۔ آن لائن گیمز کے ذریعے نوعمر بچیوں کے گھر سے بھاگ کرشادی کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ کئی آن لائن گیمز تو نوجوانوں کی جان تک لے چکی ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر والدین کو آن لائن گیمز سے اور کتنے دکھ اٹھانا ہونگے ۔ کھیل کی اہمیت: انسانی زندگی میں کھیل بہت اہمیت کا حامل ہے، کہتے ہیں جہاں میدان آباد ہوتے ہیں وہاں اسپتال ویران رہتے ہیں کیونکہ کھیل ایک بہترین ورزش ہے جس سے انسان کو مجموعی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ مختلف کھیلوں میں باقاعدگی سے مشغول رہنا انسان کو مختلف دائمی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ کھیل وزن کو قابو کرنے، خون کی گردش کو بہتر بنانے اور تناؤ کی سطح کو قابو کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ آن لائن گیمز کا رجحان: پاکستان میں جسمانی سرگرمیوں کے بجائے آن لائن گیمز کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے، ناصرف نوجوان بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اسمارٹ فونز میں آن لائن گیمز کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر گیمز میں کھیلنے والوں کو مشغول رکھنے کیلئے مختلف فرضی انعامات اور رقومات بھی رکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے کھیلنے والوں کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔پرتشدد اور جارحانہ گیمز: آج کے تیز رفتار دور میں والدین کیلئے اپنے بچوں کیلئے وقت نکالنا مشکل ترین امر ہے ، اسی لئے والدین اپنے بچوں کو اسمارٹ فون دیکر ایسا سمجھتے ہیں کہ شائد انہوں نے بچوں کو مصروف کرکے اپنے لئے آسانی پیدا کرلی ہے تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اکثر والدین سے بات سے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے اسمارٹ فون پر کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں جس کا نتیجہ اکثر ناخوشگوار نکلتا ہے۔ بچے وقت گزاری کیلئے اکثر ایسی گیمز کا انتخاب کرلیتے ہیں جس سے ان کی ذہنی نشونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بعض کیسز میں تو بچے مہلک ذہنی امراض کا شکار بھی ہوجاتے ہیں ۔معاشرے میں بگاڑ: آن لائن گیمز نے جہاں انسانوں کو کسرت سے دور کردیا ہے وہیں کئی ذہنی عوارض کو بھی جنم دیا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ عرصہ قبل بلیو وہیل نامی ایک آن لائن گیم کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی نوجوانوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ایسی ہی ایک اور گیم پب جی ہے یہاں کئی لوگ ملکر ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں اور آپس میں بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی سے لاہور جاکر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرہ اور ظہیر احمد بھی پب جی کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے متعارف ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان دنوں لوڈو پر بھی آن لائن دوستیاں پروان چڑھنے کی اطلاعات ہیں جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی گیمز میں لوگوں کو آپس میں بات چیت کیلئے آپشن دیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یوٹیوب پر لوڈو گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کے حوالے سے اشتہار میں باقاعدہ لڑکیوں سے بات کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ والدین کیلئے پریشانی:پرتشدد گیمز کی وجہ سے اکثر بچوں کا رویہ انتہائی تلخ اور جارحانہ بھی ہوجاتا ہے اور بعض کیسز میں بچے ان گیمز کو ہی حقیقت مان کر انتہائی قدم اٹھانے سے بھی نہیں چوکتے جیسا کہ بلیو وہیل میں دیکھا جاچکا ہے جبکہ اکثر اوقات بچے آن لائن بات چیت کے ذریعے اپنے گھروں سے فرار یا موقع پر ستوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جس سے والدین کو سوائے دکھ سے اور کچھ نہیں ملتا۔ اس لئے والدین کیلئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کیلئے وقت نکالیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے اسمارٹ فونز بھی چیک کریں تاکہ آپ کسی سنگین نقصان سے بچ سکیں۔

Categories
پاکستان

حکومت نے عوام کو عید پر بڑا تحفہ دینے کی تیاری کرلی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم کی جانب سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے عوام کے لئے عید کے بڑے تحفے کا اعلان کردیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک بھر میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کا جائزہ لینے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس آج منعقد ہوا ہے۔ دوران اجلاس وزیراعظم کو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے متعلقہ ادارے کی جانب سے بریفنگ پیش کی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار تقریباً 18500 میگاواٹ ہے جبکہ طلب کے لحاظ سے بجلی کا شارٹ فال 500 سے 2000 میگاواٹ ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ ایک سال سے زائد عرصے سے بند پڑے 27 بجلی گھروں میں سے 20 کو فعال بنا دیا گیا ہے اور ان 20 بجلی گھروں کے دوبارہ چلنے سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ گزشتہ حکومت کا بجلی گھر چلانے کیلئے ایندھن کی بروقت فراہمی کا منصوبہ نہ ہونا ہے جبکہ دیگر وجوہات میں ایندھن فراہمی میں مسائل، بجلی گھروں کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت ہے۔ اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں جانے والے فیڈرز کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے 30 اپریل تک تمام مسائل کا سد باب کرکے یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں ہیں۔ اس دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مشکلات میں مبتلا نہیں کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی ہدایت دی کہ ایندھن کے مربوط اور مستقل نظام کی تشکیل اور گرمیوں میں آئندہ ماہ کی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے۔ فصلوں کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی شکایت پر وزیرِ اعظم نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کی نشاندہی کریں، فوری اور سخت کارروائی کریں۔ شہباز شریف کے احکامات کے مطابق کسانوں کو زرعی مشینری چلانے کیلئے ڈیزل کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے خاص ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ یقینی بنائے کہ کسانوں کو ڈیزل کے حصول میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ خیال رہے کہ وزیرِ اعظم نے منصب سنبھالتے ہی فی الفور ان بجلی گھروں کو فعال بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں

Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جینز میں یہ چھوٹی جیب کیوں ہوتی ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) روزمرہ زندگی میں آپ کتنی ہی ایسی چیزوں کو دیکھتے ہیں جن بارے نہ تو سوچتے ہیں اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ کیوں بنائی گئی ہیں اسی طرح جینز کی پینٹ کی دائیں جانب والی جیب کے اوپر ایک چھوٹی سی جیب یاپاکٹ ضرور دیکھی ہوگی اور یقیناً اسے دیکھ سوچا بھی نہیں ہوگا اسے بنانے کا مقصد کیا ہے؟ اس ننھی جیب کو بنانے کا مقصد نہایت سادہ ہے یہ جیبی گھڑی یعنی پاکٹ واچ رکھنے کے لئے بنائی گئی تھی اور اسے پینٹ کا حصہ بنانے کا خیال امریکی کاؤبوائز کو دیکھ آیا تھا۔یہ سنہ 1800 کی بات ہے جب کاؤ بوائزاپنی جیبی گھڑیوں کو چین میں لپیٹ کر واسکٹ میں رکھا کرتے تھے جو اکثر گر کر ٹوٹ بھی جاتی تھیں۔ اسی لئے اب ایک ایسی جیب کی ضرورت محسوس ہورہی تھی جس میں اس گھڑی کوباحفاظت رکھا جاسکے تاکہ یہ ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے پینٹ بنانے والی معروف کمپنی لیویز نے یہ چھوٹی جیب گھڑیوں کے لئے متعارف کروائی۔ تاہم موجودہ دور میں جیبی گھڑیوں کا تصور تو اب ناپید ہوچکا ہے لیکن اب یہ جیب دوسرے کئی مقاصد کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے جیسے ننھے زیورات، باتلوں کے ڈھکن،یو ایس بی، سکے، دھاگہ، منی آئی پوڈ، بیٹری سیل، ٹافیاں اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔

Categories
شوبز

شائستہ نے فہد کو 10 لاکھ کی گھڑی تحفے میں دینے کی کہانی بتادی

لاہور: (ویب ڈیسک) معروف میزبان شائستہ لودھی نے فہد مصطفیٰ کو قیمتی گھڑی تحفے میں دینے کے معاملے پر وضاحت پیش کی ہے۔ کچھ روز قبل نجی ٹی وی سے نشر ہونے والے گیم شو میں میزبان فہد مصطفیٰ نے کہا تھا کہ ‘انہیں شائستہ نے 10 لاکھ روپے کی قیمتی گھڑی کا تحفہ دیا تھا، شائستہ بہت امیر ہیں ماشاءاللہ’۔ ساتھ ہی انہوں نے شائستہ لودھی کا شکریہ ادا بھی کیا جس کے بعد مذکورہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔تاہم اب حال ہی میں شائستہ لودھی نے اپنے بھائی میزبان ساحر لودھی کے ہمراہ ایک مارننگ شو میں شرکت کی جس میں اس معاملے سے متعلق ان سے سوال کیا گیا۔ جواب میں شائستہ نے کہا کہ ‘ایسی کوئی کہانی نہیں تھی، اس وقت خوامخواہ بیٹھے بیٹھے فہد نے شو کے دوران یہ بول دیا جس کے بعد اس کا کلپ وائرل ہوگیا، دوسرے دن فہد نے اور مذاق کیا اور شو میں کہا کہ وہ گھڑی دس کی نہیں بلکہ پندرہ لاکھ کی تھی’۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

شیخ رشید کونسا کردار اچھا نبھا سکتے ہیں؟؟؟؟ یاسر نواز نے بتا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) اداکار اور ہدایت کار یاسر نواز نے اہلیہ ندا یاسر کے مارننگ شوز سے متعلق گفتگو کی ہے۔ یاسر نواز نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی اور اس دوران ندا یاسر سے متعلق گفتگو کی۔یاسر نواز کا کہنا تھا کہ ’ میری خواہش تھی کہ ندا مارننگ شوز نہ کرے، یہی وجہ تھی کہ ہمارے کافی اختلافات رہے اور میں شروع کے 2 سے 3 سال کافی ڈسٹرب رہا ۔ یاسر نواز نے کہا کہ شروعات میں مارننگ شوز کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں تھا، ان شوز کی میزبان کو مسائل بہت پیش آتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ندا نے گھر کو پہلے ترجیح دی اور شوبز میں ملازمت کو پیچھے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ندا کی مارننگ شوز کی جاب ایک اسکول جاب جیسی ہے، ندا 2 بجے تک گھر پہنچ جاتی ہیں لہٰذا مجھے اب ان کی ملازمت سے مسائل نہیں ہیں۔ دوران شو یاسر نواز نے میزبان رابعہ انعم کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سیاستدانوں اور ان میں موجود اداکاری کی مہارت سے متعلق بھی گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید اداکاری اچھی کرسکتے ہیں ان کو گاؤں کے چوہدری کے لیے مثبت کردار دیا جائے تو وہ زیادہ اچھے سے نبھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب یاسر نے اپنی گفتگو میں فواد چوہدری کو ایکشن ہیرو کے رول میں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا اگر فلم ’ چکر‘ کے لیے اداکارہ نیلم منیر کی جگہ کسی اداکارہ کو کاسٹ کرنا پڑتا تو شیری رحمان اور اداکار احسن خان کی جگہ فیصل واوڈا کو کاسٹ کرتے۔

Categories
پاکستان

عدلیہ کی ریٹنگ میں بہتری کیوں نہیں آ رہی؟؟؟؟؟ فواد چودھری نے بتا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر عدلیہ کی ریٹنگ دنیا میں 130 سے اوپر نہیں نیچے جائے گی۔ اسلام آباد میں ذلفی بخاری، عثمان ڈار اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا پالیسی فیصلہ یہ تھا کہ تقریباً پورا پاکستان مفت عمرہ کرنے چلا جائے گا لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے یوٹرن لینا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے لیکن پھر پی آئی اے کولکھا گیا خط سامنے آگیا اور پتہ چل گیا ہے کہ 60 ہزار ڈالر روزانہ پی آئی اے کو حکومت نے ادائیگی کرنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امیر حیدر ہوتی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا بڑا اچھا فیصلہ تھا کہ عبادت اپنے پیسوں سے کریں گے، اس کے بعد دباؤ پڑا، اس کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا رضاکاروں کا جنہوں نے یہ مسئلہ اٹھایا اور ان کو فیصلہ واپس لیا ورنہ ملک کو ایک بڑا معاشی بوجھ پڑنا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ اس لیے ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ایل این جی کے جو دو سب سے بڑے سودے کیے تھے وہ ڈیفالٹ کرگئے اور پاکستان میں ایل این جی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد گیس کا مقامی نظام پاور پلانٹ کی طرف منتقل کرنا تھا لیکن آپ نے نہیں کیا، اس کے بعد درآمد کوئلے کی ادائیگیاں کرنی تھی، ہم کوئلے کے پلانٹس کو اضافی 50 ارب روپے ادائیگی کرنے جا رہے تھے لیکن انہوں نے وہ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب فرنس آئل کا ذخیرہ ختم ہورہا ہے، کوئلے کے پلانٹ ایک تہائی پر چل رہے ہیں اور ہمارے سروں پر لوڈ شیڈنگ کا بہت بڑا بحران مسلط ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈیزل کا 10 سال کا سب سے بڑا ذخیرہ بنایا تھا اور وہ چھوڑ کر گئے تھے جبکہ ان کے وزرا کے متضاد بیانات کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں امن و امان نیچے جا رہا ہے اور حکومت پوری طور پر تناؤ کا شکار ہے اور پوری طاقت اس بات پر ہے کہ حمزہ شہباز کسی طرح وزیراعلیٰ بن جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ شہباز شریف کو وزیراعظم یا حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانا نہیں ہے اور ہمیں فوری طور پر انتخابات کی طرف جانا چاہیے اور یہی پاکستان کے موجودہ بحران کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے آپ مستقل فیصلوں کی توقع نہیں کرسکتے ہیں، انہوں نے اب تک دو دفعہ بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے۔ سابق وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ آج عدالت میں دو مقدمات تھے، کل جج صاحب ہمت کریں، اگرچہ لوگوں کو شک ہے، مجھے امید ہے کہ آخر عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، ایک کیس میں عدالت نے تاریخ دی کہ وزیراعظم کی منی لانڈرنگ کا کیس اگلی تاریخ میں سنیں گے جبکہ حمزہ شہباز کے کیس میں کہا گیا کہ حلف اٹھانا ضروری ہے۔ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظاہر اس سے آپ کو 130 ریٹنگ ملے گی یا اس سے نیچے ہوگی آپ اوپر نہیں آسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عدلیہ اور تمام پاکستان میں یہ احساس ہے کہ پاکستان اس طرح آگے نہیں چل سکتا ہے، پاکستان کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ فواد چوہدری نے مریم اورنگ زیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتیں اور ان کو پالیسی سازی کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے، اس طرح پاکستان کی سیاست کو ان خواتین کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار بھٹو کا نواسہ جنرل ضیاالحق کے منجھلے بیٹے(بقول ان کے اپنے) کا وزیرخارجہ بن گیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ضیاالحق 11 برسوں میں پوری کوشش کے باوجود پیپلزپارٹی کو ختم اور تباہ و برباد نہ کرسکے وہ آج آصف زرداری نے کروا دیا ہے اور پیپلزپارٹی اب اصل میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئی ہے، وہ کس شکل اور کس منہ سے کہیں گے کہ ہم علیحدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان سب کو ایک انتخابی نشان دے دیں اور لوٹا دے دیں تو مناسب ہوگا، جو ان کی سیاست کے ساتھ جائے گا تو ان سب کو فوری طور پر لوٹے کا انتخابی نشان الاٹ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ 9 تاریخ کو آرٹیکل 63 اے کا کیس مقرر کیا ہے اور مجھے امید ہے سپریم کورٹ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور پاکستان کی ساری سیاست اس کیس کے گرد آگئی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے اندر انتخابی اصلاحات اور انتخابات دو معاملات ہیں، جن کے طرف ہمیں بڑھنے کی ضرورت ہے، اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ بھی بہت ضروری ہے۔

Categories
پاکستان

مریم نواز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کیوں کی؟؟ ایس ایچ او کی شامت آگئی۔۔۔۔۔ بڑا حکم جاری

لاہور: (ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے منگل کے روز چیچہ وطنی صدر کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر معطل کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی او نے چیچہ وطنی صدر سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات کرکے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ڈسپلن فورس کا رکن ہونے کے ناطے ایس ایچ او سب انسپکٹر اے ڈی شاہین کی طرف سے دیے گئے ’ریمارکس‘ ناپسندیدہ ہیں۔اے ڈی شاہین نے پیر کو مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کے خلاف اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر توہین آمیز اور ہتک آمیز تبصرے اپ لوڈ کیے تھے۔مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں نے ایس ایچ او کے تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ کس طرح ایک آن ڈیوٹی پولیس اہلکار ایک اہم سیاسی جماعت کی نائب صدر کے خلاف تضحیک آمیز زبان استعمال کر سکتا ہے۔اپنے ماتحت کے ریمارکس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او نے شاہین کو گورنمنٹ سرونٹ ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1973 کے تحت ملازمت سے معطل کرتے ہوئے فوری طور پر پولیس لائنز ساہیوال میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔معطلی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او کو ان کی نااہلی، غیر ذمہ دارانہ رویے اور فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

‘ہم سب امید سے ہیں’ میں سیاستدانوں کا مذاق کیوں اڑایا ؟؟ صبا قمر نے پہلی بار راز سے پردہ اٹھا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) مقبول سیاسی مزاحیہ ریئلٹی شو ’ہم سب امید سے ہیں‘ کی کئی ماہ تک میزبانی کرنے والی اداکارہ صبا قمر نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مذکورہ شو میں کم عمری اور نا سمجھی میں سیاستدانوں کا مذاق اڑایا، انہیں اس وقت زیادہ تر چیزوں کا علم نہیں تھا۔
’ہم سب امید سے ہیں‘ ماضی میں جیو ٹی وی پر نشر ہونے والا مزاحیہ شو تھا جو کئی سال تک نشر ہوتا رہا۔مذکورہ پروگرام میں صبا قمر سے قبل متعدد اداکاراؤں نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے تھے اور صبا قمر نے کم از کم مذکورہ شو کی 200 اقساط کی میزبانی کی تھی۔ ’ہم سب امید سے ہیں‘ میں سیاستدانوں کے ڈمی کردار بنا کر ان کے انداز کی کاپی کی تھی اور ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ مذکورہ شو میں صبا قمر کی جانب سے متعدد سیاستدانوں کے مذاق اڑانے کو پسند کیا جاتا تھا مگر اب اداکارہ و میزبان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ’ہم سب امید سے ہیں‘ میں کم عمری اور نا سمجھی میں ایسا کیا۔صبا قمر نے حال ہی میں ’سم تھنگ ہاٹ‘ کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انہیں اداکاری کی سمجھ پہلی بولی وڈ فلم ’ہندی میڈیم‘ میں کام کرنے کے بعد آئی۔اداکارہ کے مطابق ’ہندی میڈیم‘ میں کام کرنے سے قبل وہ کچھ اور تھیں اور اس میں کام کرنے کے بعد وہ کچھ اور بن گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بولی وڈ فلم میں عرفان خان کے ہمراہ کام کرنے کے بعد انہیں اداکاری کی سمجھ آنے سمیت دیگر چیزوں کی بھی سمجھ آئی اور وہ مزید میچوئر بن گئیں۔ انہوں نے عرفان خان کے ساتھ کام کرنے کے تجربے پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ حیران رہ گئیں کہ عرفان خان شوٹنگ کے وقت کوئی تیاری کیے بغیر ہی کام کرتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں صبا قمر نے بتایا کہ انہیں مرد ساتھی اداکاروں میں سب سے زیادہ نعمان اعجاز کے ساتھ کام کرنے میں مزہ آیا۔انہوں نے نعمان اعجاز کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ دراصل وہ ذہنی طور پر ابھی بھی ایک بچے کی طرح ہیں، وہ بولتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ وہ کیا بول رہے ہیں اور لوگ ان کی بات کو سمجھ پائیں گے یا نہیں؟ صبا قمر کا کہنا تھا کہ نعمان اعجاز اپنے شو میں بہت ساری ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو انہیں نہیں کہنی ہوتیں اور پھر بعد میں وضاحت کرتے ہیں کہ ان کا مطلب وہ نہیں تھا جو لوگوں نے سمجھا۔ اداکارہ نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ اب اگر انہیں ’ہم سب امید سے ہیں‘ کی میزبانی کی پیش کش کی جائے تو وہ اسے نہیں نبھا سکیں گی، کیوں کہ اب ان میں سمجھ آ چکی ہے اور وہ سیاسی حوالے سے بھی میچوئر ہو چکی ہیں۔ان کے مطابق اس وقت جب وہ ہم سب امید سے ہیں کرتی تھیں، تب وہ نا سمجھ اور کم عمر تھیں، اس لیے انہوں نے بے خبری میں ایسا کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت شو میں وہ جن سیاستدانوں کا مذاق اڑاتی تھیں، اگر وہ ان کے سامنے آجاتے تھے تو وہ ان سے چھپ جاتی تھیں مگر اب وہ نہ تو ایسا شو کریں گی اور نہ ہی کسی کا ماضی کی طرح سیاسی مذاق اڑائیں گی۔

Categories
Uncategorized شوبز

اجے دیوگن نے شادی شدہ زندگی میں اختلاف رہنے کا اعتراف کیوں کیا ؟؟ وجہ جانیے

ممبئی: (ویب ڈیسک) بولی وڈ کے ایکشن ہیرو اجے دیوگن نے کہا ہے کہ شادی کو کامیاب بنانے کے لیے صرف ’محبت‘ کافی نہیں ہوتی اور یہ کہ ان کی شادی شدہ زندگی میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ اجے دیوگن اور اداکارہ کاجول نے 24 فروری 1999 کو شادی کی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔

جوڑے کی بڑی بیٹی نیسا کی عمر 19 برس ہے، ان کی پیدائش 2003 میں ہوئی تھی جب کہ ان کا ایک بیٹا یگ بھی ہے۔ دونوں نے کیریئر کے عروج پر شادی کی تھی اور شادی سے قبل دونوں کے درمیان تعلقات بھی رہے تھے۔ اجے دیوگن اور کاجول کی شادی کو 23 برس گزر چکے ہیں اور ان کی جوڑی کو بولی وڈ کی کامیاب اور مقبول ترین جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اجے دیوگن نے کامیاب شادی کے راز کے حوالے سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ شادی کو کامیاب بنانے کے لیے صرف محبت کافی نہیں ہوتی۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق اجے دیوگن نے ایک یوٹیوبر کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ مرد اور خاتون کا ذہن الگ ہوتے ہیں، دونوں کی سوچ بھی مختلف ہوتی اور دوسرے شادی شدہ جوڑوں کی طرح ان کی ازدواجی زندگی میں بھی اتار چڑھاؤ رہا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے اور کاجول کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوتے رہے مگر دونوں نے ایک دوسرے سے بات چیت کرکے اور افہام و تفہیم سے معاملات کو آگے بڑھایا۔ اداکار کا کہنا تھا کہ لوگوں کی سوچ غلط ہے کہ شادی کے لیے محبت ہی سب کچھ ہوتی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب شادی کے لیے صرف محبت کافی نہیں ہوتی۔ اجے دیوگن کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے، ویسے ویسے دیگر عوامل بھی اس کے رشتے اور سوچ پر حاوی ہوجاتے ہیں لیکن ایسے میں انسان کو معاملات کو سمجھداری سے آگے لے کر جانے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جوڑی دکھاوے کی محبت پر یقین نہیں رکھتی اور ان کے لیے ذاتی طور پر جسمانی پیار بھی اتنی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، وہ فطری طور پر دوسروں کا خیال رکھنے والے شخص ہیں اور یہی بات ان کی کامیاب شادی کا سبب ہے۔

Categories
شوبز

لتا نے 10 کروڑ ڈالر کی پیشکش کے باوجود شادی میں پرفارم کرنے سے انکار کیوں کیا؟؟؟ آشا بھوسلے نے حیران کن انکشاف کر دیا

ممبئی: (ویب ڈیسک) بلبل ہند‘ کہلانے والی آنجہانی بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن گلوکارہ آشا بھوسلے نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بڑی بہن نے کروڑوں ڈالرز کے عوض شادی میں پرفارمنس کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لتا منگیشکر 6 فروری 2022 کو کچھ عرصے تک زیر علاج رہنے کے بعد 92 برس کی عمر میں چل بسی تھیں۔

لتا منگیشکر کو کورونا اور نمونیا بخار ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور وہ تقریباً دو ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہی تھیں مگر متعدد جسمانی اعضا کے کام چھوڑنے کے باعث وہ 6 فروری کو چل بسی تھیں۔ لتا منگیشکر کی یاد میں ان کے خاندان اور دیگر اداروں کی جانب سے کرائے گئے پہلے ’دیناناتھ لتا منگیشکر‘ ایوارڈ کی حال ہی میں تقریب منعقد کی گئی، جہاں آشا بھوسلے نے بڑی بہن سے متعلق انکشافات کیے۔’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق لتا منگیشکر کی یاد میں منعقد کیے گئے پہلے ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آشا بھوسلے نے بتایا کہ ان کی بڑی بہن بیماری میں بھی کام کو ترجیح دیتی تھیں اور ایک بار انہوں نے 104 بخار میں بھی گیت ریکارڈ کروائے۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں انہوں نے لتا منگیشکر کے کہنے پر والدین کے پاؤں دھوکر اس پانی کو پیا تھا، جس وجہ سے دونوں بہنوں کو کامیابی ملی۔ آشا بھوسلے نے انکشاف کیا کہ بیرون ملک رہنے والے ایک بھارتی شخص نے انہیں اور لتا منگیشکر کو شادی میں پرفارمنس کی دعوت دی اور انہیں لاکھوں ڈالرز کے ٹکٹ بھجوائے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم شخص کی خواہش تھی کہ لتا اور آشا بھوسلے ان کی شادی کی تقریب میں گیت گائیں مگر انہوں نے ان کی پیش کش مسترد کردی تھی۔ آشا بھوسلے کے مطابق لتا منگیشکر نے دعوت دینے والے شخص کو فون کرکے کہا کہ اگر وہ انہیں پرفارمنس کے لیے 10 کروڑ ڈالر بھی دیں گے، تب بھی وہ شادی میں پرفارمنس نہیں کریں گی۔ گلوکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی بڑی بہن نے دعوت دینے والے شخص کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ لوگ شادیوں میں گیت نہیں گاتے۔ خیال رہے کہ آشا بھوسلے کا شمار بھی بھارت کی معروف ترین گلوکاراؤں میں ہوتا ہے، لتا کے بعد انہیں ہی لیجنڈری گلوکارہ مانا جاتا ہے۔ وہ لتا کی چھوٹی بہن ہیں۔ ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں 28 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والی لتا منگیشکر اپنے 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ انہوں نے سنہ 1942 میں اپنے والد کی وفات کے بعد 13 برس کی عمر میں گائیکی کا آغاز کیا اور بھارت میں بولی جانے والی متعدد زبانوں میں تقریباً 30 ہزار گانے گائے۔لتا منگیشکر کو بھارت کے سب سے بڑے سول ایوارڈز بھارت رتنا، پدما ویبھوشن اور پدما بھوش کے علاوہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔ ان کی زبردست شہرت کے باعث حکومت کی جانب جنوری 1963 میں ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں 1962 کی ہند-چین جنگ میں مارے گئے فوجیوں کے لیے حب الوطنی پر مبنی خراج عقیدت گانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے گیت ‘اے میرے وطن کے لوگوں’ سن کر پنڈت جواہر لعل نہرو کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

Categories
پاکستان

بلاول بھٹو کی بطور وزیر خارجہ حلف برداری!!! بہن بختاور نے کس خواہش کا اظہار کیا؟؟؟ جانیے

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کی منظوری کے بعد بلاول بھٹو آج بطور وزیر خارجہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس حوالے سے بختاور بھٹو زرداری نے انسٹاگرام پر بلاول بھٹو کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔بختاور نے اپنی انسٹااسٹوری پوسٹ میں بلاول کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ سی ای سی کے فیصلے کے پیش نظر آج بلاول متحدہ حکومت میں بطور وزیر خارجہ حلف اٹھائیں گے، ہم اس سے زیادہ فخر نہیں کر سکتے۔ بختاور بھٹو زرداری نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ بلاول پارلیمنٹ میں پہلے سے ہی مقبول اور اپنی جمہوری اقدار پر قائم ہیں۔ آصف زرداری کی صاحبزادی نے اپنی پوسٹ میں بلاول کو بطور وزیر خارجہ دیکھنے پر پرجوش ہونے کا اظہار بھی کیا۔

Categories
انٹرنیشنل

کیا آپ کو معلوم ہے؟؟؟؟ واٹس ایپ نے چُپکے سے نیا فیچر متعارف کرا دیا!! جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لیے گروپ کالز کے فیچر میں مزید آسانی کردی۔ حالیہ اپ ڈیٹ کے مطابق واٹس ایپ نے اب 32 افراد پر مشتمل گروپ کال کی اجازت دے دی، یعنی اب آن لائن کلاسز لینے والے اساتذہ اور طلبہ واٹس ایپ پر ہی گروپ وائس کال کرسکیں گے اور ان کی تعداد32 تک ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ آفس کی میٹنگ وغیرہ بھی اب واٹس ایپ پر باآسانی ہوسکے گی۔ یہ فیچر واٹس ایپ کے 22.8.80 ورژن کےلیے دستیاب ہوگا۔ 32 افراد کے ساتھ واٹس ایپ گروپ وائس کال کیسے کرسکیں گے؟ اس کے لیے آپ وہ گروپ چیٹ کھولیں جسے آپ وائس کال کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کی گروپ چیٹ میں 33 یا اس سے زیادہ لوگ ہیں تو گروپ کال پر ٹیپ کریں۔ اگر آپ کے گروپ چیٹ میں 32 یا اس سے کم افراد ہیں تو وائس کال پر ٹیپ کریں اور اپنے فیصلے کی تصدیق کریں۔ جواب دینے والے پہلے 7 افراد کال میں شامل ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ اس فیچر کے تحت صرف گروپ ممبران ہی شرکت کر سکتے ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

سیاستدان یا کوئی اور!!!! پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان کس نے پہنچایا؟؟ اہم حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) عبدالرافع رسول لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں توعوام کودجل وفریب دیتے ہیں کہ وہ حکومت میں ہوتے تو ان کے لئے دودھ اورشہد کی نہریں بہادیتے لیکن جونہی وہ اقتدارمیں آتے ہیںتووہ اپنے وعدے بھول جاتے ہیں۔ ان کی گردن میں سریا لگ جاتا ہے اوران کی بولی اورانکی چال بدل جاتی ہے وہ اپنے آپ کواس عوام کے سامنے جواب دہی سے مبراسمجھتے ہیں کہ جس نے انہیں کرسی پر بٹھایاہوتا ہے۔

کرسی پر بیٹھ کر انہیں خوف خدا اورنہ ہی خوف خلق ہوتاہے۔ روزآخرت پران کاایمان کمزورہوتا ہے جبکہ عوام ان کی نظروں میںجانوروں کے ریوڑ سے زیادہ نہیں ہوتے ۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے تقریباً ہر نئے حکمران کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ اس کے دور میں ہر چیز پہلے سے کئی گنا بہتر ہے۔ میڈیا کو تاریخ میں سب سے زیادہ آزادی میسر ہے۔ انسانی حقوق کا وہ احترام ہے کہ پوری تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی معاشی ترقی بے مثال ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کم ہوئی ہے گویا راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ایسے دعوئوں کوجب حقیقت کے میزان پررکھتے ہیں توافسوس ہوتاہے کیونکہ یہ اکیسویں صدی ہے اوراس میں کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔میڈیا،انسانی حقوق اورمعاشی صورتحال خواص کے علم میں تو ہوتی ہے رہی مہنگائی کم ہونے کی باتیںتوجناب مہنگائی عوام کی روزمرہ کی زندگی میںلائونہیں آرہااوروہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے چلے جارہے ہیں۔، بجلی و گیس کی مسلسل قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر ٹوڑ دی ہے عوام پرگزرتے طوفان حکمرانوںجھوٹے وعدوں کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ایک طرف ان کے سب دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں تودوسری طرف ان کے کرداروعمل کے باعث ان کی حکمرانی بھی زوال پذیرہوجاتی ہے اوران کا اقتدار رسہ کشی کاشکار ہوجاتا ہے۔یہ آج ہی کی بات نہیں بلکہ تاریخ کے ہر موڑ پر ایسا ہوا ہے۔ ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرکے ایک دوسرے کے خلاف اکھاڑے میں اترجاتے ہیں اورجب تک نہ اقتداری ٹولے کواقتدار سے بے دخل نہیں کرتے تب تک راحت کا سانس نہیں لیتے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں پاکستان کے ماضی کے نشیب و فرازبلکہ تلخ ماضی کے پیش نظر رکھنے میں صریحاََ ناکام ر ہیں اور اب بھی ان کایہی حال ہے۔ اسی لئے وہ ریاست کے حال اور مستقبل کی صحیح سمت کا تعین نہیں کرپارہی ہیں۔وہ وہی حربے اور ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں اوروہی غلطیاں اور کو تاہیاں دہرارہی ہیں ماضی میںجن سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

وہ واضح اصول جومملکت پاکستان کو توانائی بخشنے بلکہ اس ریاست کے لئے توانائی کا سرچشمہ ثابت ہو اوراس ریاست کے مستقبل کوروشن کرنے میں کرداراداکرے لیکن خالصتاََ جماعتی تعصب اور ایک دوسرے کوزچ کرنے کے باعث ان اصولوںکو پرے دھکیل دیاگیا اورمن مانی کی جارہی ہے۔ 11اپریل 2022سوموار کومسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان کے23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔لیکن یہ پاکستان سیاسی تاریخ کاایک المناک باب ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک22 لوگ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے5سال کی مدت پوری کی ہو۔یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون،پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف نے اقتدارکو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور تو اور تحریک انصاف کے قائد کسی دوسری قد آور سیاسی جماعت کوخاطر میں لائے بغیر اپنے آپ کوافلاطون سمجھتے رہے ہیں ۔اناہی ایسی شے ہے کہ جس کی وجہ سے ماضی میں ملک ناصرف دو لخت ہوا بلکہ انتشار ـ،افراتفری اور غربت کی طرف چلاگیا ۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت نے اپنے ادوار میں ترقی کے بڑے دعوٰ ے تو کئے لیکن ان دعوئوں میں سے اکثرثمر بارثابت نہیں ہوئے۔ اس کے علیٰ الرغم حکمرانوں کی ذاتی زندگی دن دگنی ترقی کرگئی اور اس کی مثال ملک کی تینوںجماعتوں کے لیڈر ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جس بھی پارٹی کالیڈر پارلیمنٹ کی بالادستی کا حلف اٹھاتاہے اور پھر وہی کھڑا ہوکر ملک کی عوام کو جھوٹے قصے سناتاہے تو خود اندازہ لگائے کہ وہ پاکستان سے کتنا مخلص ہوگا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹ بولنے والوں کاساتھ نبھانے والے پاکستان کی عوام کی عقل وشعوربھی قابل داد ہے کہ کس طرح اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے مستقبل پرکلہاڑامارتے رہے ہیں اوراب بھی باشعور کہلانے والی عوام کایہی طرزعمل اوروطیرہ ہے ۔

بہرکیف! قوم کی قیادت کادم بھرنے والے سیاسی تدبر سے عنقا اپنے ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کررہے ہیں اورمسلسل کئے جارہے ہیں۔ بھارت میں اس پرشادیانے منائے جارہے ہیں کیونکہ بھارت کی اولین قیادت نے پاکستان کے حوالے سے جس ذہنیت کااظہار کیا تھا آج کی بھارتی قیادت سمجھتی ہے کہ ان کی بانی قیادت کاویژن درست تھا۔کیونکہ پاکستان ایک قوم بننے کے بجائے مختلف قومیتوںاورلسانیت میں بٹی ہوئی ہے کوئی اسے ایک جانب کھینچتاہے توکوئی دوسری جانب۔ اس مملکت کے لئے ایک مرکزیت قائم نہ ہونے دینے کی انہوں نے گویا قسم کھائی ہے ۔ جب تک پاکستان سیاسی طورپر منظم نہ ہو اورقانون وآئین کی حکومت کا تصور موجود نہ ہو تو پاکستان میںسیاسی افراتفری موجود رہے گی ۔ اس لئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں پریہ فریضہ عائد ہوتاہے کہ وہ ملک کی سیاسی فضا میں امن و امان فراہم کریں اور ملک کی سیاست میں اقدارکوفروغ دیں ،بھائی چارہ قائم کریں اوربا ہم آہنگی پیدا کر کے ملک کوکسی رکاوٹ کے بغیر ترقی کی منازل طے کروائیں۔ ملک کے اندر احترام آدمیت کا عنصر اور عدل و انصاف کا تصور بغیر ریاست اور حکومت کے ممکن نہیں ہوتا لیکن جب حکمران ہی قانون اورآئین کی دھجیاں بکھیر کررکھ دیں توپھر ریاست کی ترقی کا محور نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ۔ یہ مختصر سطورہمارے ان تجربات کی بھی داستان ہے جو ہم نے ماضی قریب اورماضی بعید میں اخذ کئے ہیں۔ اگرپاکستان کی سیاسی جماعتیں ماضی سے سبق حاصل کرناچاہتی ہے توپھرماضی کے نشیب و فراز کو زیر نظر رکھنا ازحد ضروری ہے ۔

Categories
منتخب کالم

کیا پی ٹی آئی حکومت کے خلاف امریکی سازش ہوئی؟؟؟ کس نے کس سے کیا ثبوت مانگے ؟؟ نیا پینڈورا باکس کھل گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) عبداللہ طارق سہیل لکھتے ہیں کہ” پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ اس کی حکومت امریکی سازش سے ختم ہوئی۔امریکہ نے پاکستانی سفارت کار کے ذریعے حکم دیا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونی چاہیے ورنہ معاف نہیں کریں گے۔ چنانچہ پاکستان میں اس سازش کو کامیاب کرایا گیا۔ یعنی جو ادارے تھے‘ وہ تعمیل فرمائش پر مجبور ہوئے۔
اداروں نے دو بار باقاعدہ طور پر اور تین بار مختلف اینکر پرسنز کے ذریعے سے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ قطعی کوئی سازش نہیں ہوئی اور پرائم انٹیلی جنس اداروں نے مکمل تفتیش اور تحقیق کی ہے لیکن سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس سے پہلے ذرائع کے حوالے سے اداروں نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے عمران حکومت سے کہا ہے کہ کوئی ثبوت آپ کے پاس ہے تو دیں تاکہ ہم کارروائی کریں لیکن اس کا جواب ہنوز نہیں آیا ہے۔اداروں کا موقف ہے کہ سفارت کار نے مراسلے میں بتایا تھا کہ امریکہ نے کسی خاص معاملے (روس کے ساتھ تعلقات) پر غیر سفارتی دبائو ڈالا ہے جس کی مذمت کی گئی اور اسے مسترد کیا گیا۔ایسا ہی دبائو بھارت پر ڈالا گیا اور اسے انتباہ کیا گیا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری نہ کرے لیکن بھارت نے بھی یہ دبائو مسترد کر دیا۔ اس دبائو کا سازش سے کیا تعلق ہے؟سازشی بیانیے سے پہلے عمران خاں کا موقف تھا کہ پیپلز پارٹی نے ارکان اسمبلی کی خریداری کی ہے اور دس دس کروڑ روپے میں ارکان کا ضمیر خریدا جا رہا ہے۔ بعدمیں پتہ چلا کہ رقم دس کروڑ نہیں‘بارہ کروڑ ہے‘ پھر پتہ چلا کہ نہیں تیرہ‘ پھر پندرہ اور چودہ کروڑ کی گنتی سامنے آئی‘ پھر سولہ سے ہوتے ہوئے بیس کروڑ تک گئی اور چند روز پہلے پتہ چلا کہ فی رکن 30‘30کروڑ خرچ کئے گئے۔ ٭٭٭٭٭ اگر یہ دونوں دعوے ملا دیے جائیں تو گویا یہ رقم امریکہ نے ادا کی جو لگ بھگ 5ارب بنتی ہے(کل 20ارکان ’’خریدے‘‘ گئے۔اتحادیوں کو کتنی رقم دی گئی‘ یہ بات ابھی نہیں کھلی۔

کہا جاتا ہے کہ اتحادیوں کو ’’اوپر‘‘ سے فون آئے اور وہ بلا قیمت ہی بک گئے۔ شان نزول اس تحریر کا یہ ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے غیر متنازعہ امریکہ دشمن یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ کے دشمن اور امریکی استعمار کے سخت کلچر ناقد‘ مشہور دانشور نوم چومسکی نے بھی اس سازشی نظریہ کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے(انہوں نے سازش کے بجائے بغاوت کا لفظ استعمال کیا ہے) انہیوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری کیبل کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے نہ ہی اسے ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب اس پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ہو سکتا ہے کہ جو نوم چومسکی امریکہ کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نہیں خرید سکی‘ اسے رسہ داری نے خرید لیا ہو؟کتنے میں؟ دس کروڑ سے 30کروڑ تک کوئی بھی رقم ہو سکتی ہے۔ ٭٭٭٭٭ بعض تفنن پسند افراد کا کہنا ہے کہ عمران حکومت امریکی سازش کے تحت نہیں گئی بلکہ خود ان کی اپنی دعا کے نتیجے میں گئی ہے۔جب تحریک عدم اعتماد اوّل اوّل پاس ہوئی تو عمران خاں نے خطاب کیا اور کہا کہ میں تو عرصہ سے دعا کر رہا تھا کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پیش کرے۔ خوش عقیدہ حضرات کا کہنا ہے کہ دعا قبول ہوئی اور یہ بات عمران خاں کے مستجا ب الدعوات ہونے کا ثبوت ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ عمران خاں بہت بڑی ’’ہستی‘‘ ہیں۔ ٭٭٭٭٭ ’’ ہستی‘‘ تو خیر سے اپنے چودھری پرویز الٰہی بھی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے ان پر حملہ کیا اور محنت شاقہ سے ان کا بازو توڑ دیا یعنی فریکچر کر دیا۔چودھری صاحب کو بازو کا پلستر کرانا پڑا۔بعض بدعقیدہ اور گمراہ عناصر نے یہ افواہ چھوڑی کہ پلستر پر جو سرخی کے دھبے تھے‘ وہ خون کے نہیں۔خیر‘ کرامت یہ ہوئی کہ اگلے ہی روز پرویز الٰہی صاحب کا ’’فریکچر‘‘ شدہ بازو بالکل ٹھیک ہو گیا۔میڈیکل ہسٹری کا انوکھا واقعہ۔کرامات کے منکر حضرات کے لئے یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ کرامات کے اقراری ہو جائیں۔ چودھری صاحب کو متحدہ اپوزیشن(جو اب حکمران اتحاد ہے) نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پیش کی اور اس سلسلے میں شہباز شریف نے انہیں ڈنر پر بھی مدعو کیا لیکن چودھری صاحب کو یکے از رجال غائب کا فون آیا اور انہوں نے ڈنر کی دعوت مسترد کی اور وزیر اعظم عمران خان سے جا ملے۔ بعد کے واقعات ناقابل بیان ہیں۔ناقابل بیان کا یہاں مطلب یہ ہے کہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔سب کو معلوم ہے۔وزارت اعلیٰ حمزہ شہباز لے اڑے(اگرچہ ان کا حلف تادم تحریر رکا ہوا ہے) اور ان کی سپیکر شپ بھی ہاتھ سے نکلتی نظر آ رہی ہے۔ یہ کوئی عجوبہ بات نہیں‘ اللہ والوں کے ساتھ ایسی آزمائشیں پیش آیا ہی کرتی ہیں۔چودھری صاحب 76سال کے ہو چکے یعنی عمر اور صاحب کرامات ہونے کے دونوں حوالوں سے ’’بزرگ‘‘ ہستی ہیں۔ دیکھئے‘ ان سے نئی کرامات کا ظہور کب ہوتا ہے۔ فی الحال تو ان کی ننھی منی‘ مائیکرو پولیٹیکل پارٹی یعنی ق لیگ کے گنے چنے ایٹم Atomیا آئٹم itemبکھرے نظر آتے ہیں۔

Categories
منتخب کالم

کون ان اور کون آؤٹ!!! پاکستانی سیاست میں کس کی ڈاکٹرائن کام دکھا رہی ہے ؟؟ تہلکہ خیز انکشافات نے نئی کہانی بیان کر دی

لاہور: (ویب ڈیسک) ناصر خان لکھتے ہیں کہ” جس طرح کا منظر نامہ آج کا پاکستان دیکھ رہا ہے ۔ شاید سیاسی تقسیم ایسی کبھی نہ تھی حتی کہ 90ء کی دہائی میں بابو اور بی بی کی لڑائی میں بھی۔ اس وقت لوگ کہتے تھے بہت زیادہ ہے ۔ مگر آج لگ رہا ہے اس سے بھی زیادہ ہے۔ معاشرہ بھی تقسیم ہے۔۔

میڈیا بھی ۔ مزید یہ کہ سٹیبلشمنٹ میں دراڑیں ڈالنے کی کاوشیں تہہ دل سے جاری و ساری ہیں۔ 96ء میں جب فاروق لغاری نے محترمہ کی حکومت آٹھویں ترمیم کے تحت فارغ کی تو اخبار کی ہیڈ لائن محترمہ کے اس جملے پر مبنی تھی ’’میں حضرت علیؓ کا قول بھول گئی تھی ۔۔۔ جس پہ احسان کرو اس کے شر سے ڈرو‘‘۔ بقول شاعر۔۔۔ اُلٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے 2013ء کا انتخاب ہوا تو نواز شریف وزیر اعظم ہائوس پہنچ گئے۔ کیانی سے کمان راحیل شریف کو مل گئی تھی۔ عمران خان کے دھرنے ریڈ زون سے بھی آگے آگئے۔ قریب تھا کہ میاں نواز شریف پرائم منسٹر ہائوس چھوڑ دیتے کہ کسی کی دعا رنگ لائی اور بچت ہوگئی۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے پانامہ ہو چکا تھا۔ ایک اقامہ انسان کو وزیر اعظم ہائوس سے اپنے گھر پہنچا دیتا ہے۔ ہر تجربہ ناکام ہو جاتا ہے۔ ضرورت ہے آپ ان سب موورز اور شیکرز سے آف دی ریکارڈ مکالمہ کریں۔ ڈاکٹرائن یہی تھی کہ دو سیاسی جماعتوں نے سارے سیاسی نظام کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ چلئے ایک تھرڈ فورس کا تجربہ کرتے ہیں۔ مگر۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بات نہ بنی۔ بنیادی فیکٹرز تین یا چار تھے۔ پنجاب کسی اور کے ہاتھ سے کسی اور کی گود میں چلا گیا۔ ایک پیج پھٹ کر دو صفحات میں بدل گیا کہ مشیران اپنی مثال آپ تھے۔ اس میں عمل انگیز کا کام کیا۔۔ گرتی ہوئی معاشی صورتحال نے اور مزید یہ کہ بیرونی شکنجہ اتنا کسا گیا اور پاکستان کی سانس اکھڑنے لگی۔

چھوٹے ملک کے اپنے محدودات ہوتے ہیںاور بڑی طاقتوں کے ہاتھ بہت لمبے ۔ پاکستان ، چین ، روس اور امریکہ کی خطرناک شطرنج میں گھر چکا تھا اور ہے ۔ سی پیک، چین اور روس ایک جانب اور TFT، آئی ایم ایف، امریکہ اور بھارت دوسری جانب۔ آگے چل کر اس کہانی میں کشمیر اور اسرائیل بھی آئے گا۔ پاکستان کے Reserves تیزی سے کم ہو رہے تھے ۔جو موجود ہیں وہ بھی دوسرے ملکوں کے ہیں کہ ہم دیوالیہ نہ ہو جا ئیں۔ پانی ناک سے اوپر جا چکا تھا اور ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے سول پرفارمنس کو دیکھا ۔ جب بھی کسی بل کے اسمبلی میں پاس ہونے کا وقت آتا ۔ اسمبلی کی کورم کے لیے گھنٹیاں بجتیں۔ جو ذرا سرکشی دکھاتا اس کے فون کی بھی گھنٹی بجتی۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا کہ وہ جو حمایت میں ووٹ ڈالتے بطور اتحادی۔ انہیں حکومت کی جانب سے ہی ایسا ایسا طعنہ ملتا کہ ۔۔۔ مت پوچھ۔ برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے۔ پھر جو ہوا وہ پاکستان نے بھی دیکھا اور پوری دنیا نے بھی۔ جیسی کیبل امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے بھیجی اس کا پوسٹ مارٹم بار بار ہوا مگر اندھی عقیدت میں تقسیم پاکستانی کی بات سننے کے روا دار نہیں۔ کیا سازشیں ایسے ہوتی ہیں؟ ایک ہوتی ہے گلوبل اسٹیبلشمنٹ۔۔ دوسری ہوتی ہے لوکل اسٹیبلشمنٹ ۔ یہ پرفارمنس ہے۔ عمران خان کے دور کے بعد آج جب پلٹ کر تینوں بڑی جماعتوں کو دیکھتے ہیں تو ۔ لارڈ برائس امریکہ کا سیاسی مفکر ہے۔ اسے ری پبلکن اور ڈیوم کریٹس میں فرق پوچھا گیا۔ جواب تھا۔۔۔ پانی ایک سا ہے۔۔۔ لیبل مختلف سہی۔ یہاں۔۔۔؟ وہی معاشرہ۔۔۔ وہی ذہنیت ، وہی حالات، ویسا ہی سیاسی میٹریل تو پھر تبدیلی کون لائے گا؟ سیاستدان؟ پارلیمنٹ؟ بیوروکریسی ؟ یا فوج۔ ضرورت ہے ان سب کی مستقل ہم آہنگی کی جو عنقا ہے۔

ہماری اشرافیہ بھی مایوس کن ہے اور عوام بھی۔ خیر بات ہو رہی ہے آج کے پاکستان کی۔ عمران خان نے اپنے نکالے جانے پر عوام کا جم غفیر باہر لے آئے۔ مقصد کیا ہے؟ جلد الیکشن کے لیے دبائو ڈالنا۔ حکومت کیا کر رہی ہے؟ بڑھتے ہوئے معاشی دبائو اور گورننس کے تقاضوں سے مغلوب حکومت بھرپور کوشش میں ہے کہ اسے اتنا پرفارم کرنے کی مہلت مل جائے کہ وہ اگلے الیکشن میں کہہ سکے کہ فرق صاف ظاہر ہے۔ مگر جمع تفریق کچھ اور ہے۔ میرے پنڈت کے مطابق جیسے جیسے وقت گزرے گا۔۔ حکمران اتحاد کے باہمی تضادات سر اٹھائیں گے۔ تھوڑا سا اور وقت آگے بڑھے گا تو زمینی حالات کی وجہ سے اُن کے پائوں کے نیچے سے زمین کھسکنی شروع ہو جائے گی۔ دوسری جانب عمران احتجاج کے ذریعے اور عوامی جلسوں کے ذریعے صورتحال کو بلدنے کے لیے ضربیں لگائیں گے۔ پنجاب میں اسی طرح کا کھیل جاری ہے جیسا مرکز میں تھا۔ حمزہ حلف نہیں اٹھا سکا کہ گورنر اور صدر تحریک انصاف کی طرز پر کھیل رہے ہیں۔ پنجاب ساری بیوروکریسی بمعہ چیف سیکرٹری کس کے احکامات پر صوبہ چلا رہے ہیں؟ بزدار یا گورنر؟ دونوں ہی نہیں تو پھر کون؟ سب حمزہ سے ڈائریکشن لے رہے ہیں۔ اس سے تحریک انصاف کیا مقاصد حاصل کرے گی؟ یہ آپ کو عمر سرفراز اور پرویز الٰہی بہتر بتا سکتے ہیں مگر حمزہ اور شہباز شریف کے علاوہ مریم اور ان کے شوہر بھی اب حکومتی لُک دینا شروع ہوگئے ہیں۔اہم حلقوں نے وزیر اعظم ہائوس کو دھیمے سُروں میں کہا ہے کہ مریم کے انگ، رنگ اور ڈھنگ سے ذرا اجتناب کریں۔ یہ بحران ۔۔۔ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا۔ ایک اہم تعیناتی ہو جائے ۔۔ نومبر۔۔ دسمبر میں انتخاب کا اعلان ہو جائے گا۔ مگر شاید یہ بحران پھر بھی نہ ختم ہو کہ اختلاف سیاسی سے زیادہ ذاتی بنا دیا گیا ہے۔

Categories
منتخب کالم

صوبہ ایک وزیراعلیٰ دو!! بزدار اور حمزہ آمنے سامنے، پنجاب میں کس کے احکامات کو مانا جا رہا ہے؟؟؟؟ تہلکہ خیز حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) نسیم شاہد لکھتے ہیں کہ” یہ نظارہ بھی چشمِ فلک نے شاید پہلی بار دیکھا ہے کہ پنجاب میں بیک وقت دو وزرائے اعلیٰ موجود ہیں۔ ایک عثمان بزدار ہیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور دوسرے حمزہ شہباز ہیں جو اچکن پہنے وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے ک لئے تیار ہیں۔

جب عثمان بزدار کے ابتدائی دن تھے تو ان کے خلاف بہت آوازیں اٹھتی تھیں، مگر وہ ان کی پروا کئے بغیر اپنے کام میں مگن رہتے تھے۔ جب بھی کوئی مشکل گھڑی آتی کپتان ان کی پیٹھ تھپتھپانے پہنچ جاتے، اپنے اس وسیم اکرم پلس کے لئے انہوں نے ہمیشہ اپنی حمایت کا پرچم بلند کئے رکھا۔ اس زمانے میں کہا جاتا تھا عثمان بزدار کا کلہ بہت مضبوط ہے، مگر اب استعفا دینے کے باوجود وہ وزیراعلیٰ چلے آ رہے ہیں تو واقعی لگ رہا ہے کہ قدرت نے ان کا کلہ مضبوط رکھا ہوا ہے۔ کپتان نے اپنے پچھتاوؤں میں ایک پچھتاوا یہ بھی گنوایا ہے کہ انہوں نے عثمان بزدار کو ہٹانے کی غلطی کی۔ اپنی حکومت بچانے اور چودھری برادران کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انہیں عثمان بزدار کو قربان کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے جانے سے پہلے عثمان بزدار کو ہٹا دیا تھا، لیکن تماشائے قدرت دیکھئے کہ عثمان بزدار آج بھی اپنی کرسی پر وزیراعلیٰ آفس میں موجود ہے، کل جب میں نے ان کی ایک تصویر دیکھی جس میں وہ صوبے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو سامنے بٹھائے حکومتی معاملات پر احکامات جاری کر رہے ہیں تو مجھے لگا عثمان بزدار کے جانے اور حمزہ شہباز کے آنے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ وزرائے اعلیٰ کی یہ گیم ابھی نجانے کب تک چلے، کیونکہ روزانہ کوئی نئی کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ جب انہونیاں ہونے لگیں تو پھر ان کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ پنجاب کی حکومت گرانے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے بڑی ہوشیاری سے چال چلی تھی۔ کہیں عثمان بزدار اسمبلی توڑنے کی ایڈوائز نہ دے دیں، ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی چونکہ خود وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے، اس لئے ان سے کسی اچھائی کی توقع اپوزیشن کو نہیں تھی۔ان کی جگہ ڈپٹی سپیکر کو وزیراعلیٰ کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن یہ بھول گئے کہ سپیکر کے انتظامی اختیارات ابھی تک چودھری پرویز الٰہی کے پاس ہیں، انہوں نے اسمبلی کو تالے لگوا دیئے، دیواروں پر خارزار تاریں چن دیں اور اسمبلی کا اجلاس 16اپریل تک ملتوی کر دیا۔ ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پہلے بلانے کی کوشش کی، مگر وہ اسمبلی کے دروازے نہ کھلوا سکے۔ مجبوراً اپوزیشن کو ہوٹل میں اجلاس کرکے اپنی اکثریت کو ظاہر کرنا پڑا۔ اس دوران عدالتی جنگ ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ پھر 16اپریل کا دن آیا اور سب نے دیکھا کہ اس دن پنجاب اسمبلی کے اندر کیا ہوا، جہاں ایک پولیس والا داخل نہیں ہو سکتا تھا، وہاں سینکڑوں پولیس والے داخل ہو گئے، اچھی خاصی مار دھاڑ کے بعد وزیراعلیٰ کا یکطرفہ انتخاب ہوا، حکومتی اور اتحادی واک آؤٹ کر گئے اور حمزہ شہباز کو پی ٹی آئی کے منحرفین سمیت 197ووٹ مل گئے۔انتخاب کے بعد انہوں نے اسمبلی میں دھواں دار تقریر کی۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ انہیں امید تھی کہ اگلے دن وہ حلف اٹھا کر صوبے کے پردھان منتری بن جائیں گے، مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ وزارتِ اعلیٰ ان کے کتنے قریب آ کر کتنی دور چلی گئی ہے۔ یہاں مولا جٹ کے طور پر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کردار شروع ہوتا ہے۔ وہ حلف لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انتخاب ہی متنازعہ ہوا ہے اس لئے وہ حمزہ شہباز سے حلف نہیں لے سکتے۔ سیکرٹری پنجاب اسمبلی اپنی رپورٹ میں ایسا بہت سا مواد فراہم کر دیتے ہیں جو حلف نہ لینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔

بال صدر مملکت عارف علوی کی کورٹ میں چلی جاتی ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کا حکم جاری کر دیتی ہے جسے گورنر پنجاب تسلیم نہیں کرتے کیونکہ گورنر کو ہٹانے کا اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل ہے۔ صدر حکومت کی سمری روک لیتے ہیں اور عمر سرفراز چیمہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔ معاملہ ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ میں جاتا ہے۔ عدالت سماعت کے بعد یہ حکم جاری کرتی ہے کہ صدر مملکت گورنر کے علاوہ کوئی دوسرا نامزد کریں جو نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لے۔ اس حکم کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، درمیان میں خبر آتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو حلف لینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے لیکن وقت مقررہ پر سب بیٹھے رہ جاتے ہیں اور کوئی حلف لینے نہیں آتا۔ اس دوران جس شخص کا سکہ چلتا رہتا ہے وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہیں۔ سب کو جلدی ہو سکتی ہے، تاہم انہیں کوئی جلدی نہیں۔ وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں صحیح معنوں میں اپنے دشمنوں کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔حمزہ شہباز کی حالت اس دولہا جیسی ہے جس کا نکاح تو ہو جاتا ہے رخصتی نہیں ہوتی۔ وہ تکنیکی طور پر وزیر اعلیٰ ہیں مگر وزیر اعلیٰ کا پروٹوکول اور اختیار ان کے پاس موجود نہیں اس کے وکلاء عدالتوں کے پھیرے لگا کے تھک گئے ہیں، مگر صدر مملکت ہیں کہ راضی ہونے کو تیار نہیں۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ گورنر نے 6 صفحات کی صدرِ مملکت کو جو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی بابت رپورٹ بھیجی ہے اس میں انتخاب کو خلاف ضابطہ، یکطرفہ اور غیر آئینی قرار دے کر مسترد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اب مسلم لیگ ن کے وکلاء اور حامی آئے روز کہتے ہیں کہ اتنے دن گزر گئے پنجاب وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے۔ اس پر عثمان بزدار ضرور ہنستے ہوں گے کہ انہیں میں نظر نہیں آتا جو آج بھی پوری آب و تاب سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر برا جمان ہے۔ صوبے کی بیورو کریسی ویسے ہی چل رہی ہے جیسے پہلے چل رہی تھی نہ پہلے کوئی اسے پوچھنے والا تھا اور نہ اب ہے۔ کپتان اس بات پر خوش ہے کہ باپ کو وزیر اعظم بنانے والے بیٹے کو وزیر اعلیٰ نہیں بنا پا رہے۔ جس کا ایمان مضبوط ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ جتنے دن عثمان بزدار کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں دانہ پانی لکھا ہے، اس سے پہلے انہیں کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ اور جتنے دن تک حمزہ شہباز نے ماڈل ٹاؤن میں رہنا انہیں یہاں کوئی لا نہیں سکتا۔ اس سارے کھیل سے کئی باتیں عیاں ہوئی ہیں۔صوبے میں دو وزیر اعلیٰ بھی ہو سکتے ہیں ایک ایوان میں وزیراعلیٰ ہیں اور ایک انتظار گاہ میں، دوسرا وزیراعلیٰ نہ بھی ہو تو صوبہ چلتا رہتا ہے کیونکہ صوبے کو بیورو کریسی چلاتی ہے۔ گیارہ کروڑ آبادی کے صوبے کو چار وزیر اعلیٰ بھی چلائیں تو کم ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں صوبہ جنوبی پنجاب بنا دیا جائے تاکہ ایسی صورت حال میں ایک کو ملتان اور دوسرے کو لاہور میں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جا سکے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

لڑکی گھر سے کیوں بھاگتی ہے؟ کیا بچپن کی شادی حل ہے؟ معاشرے کے بڑھتے مسائل کی وجہ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) سلیم ملک لکھتے ہیں کہ”کم عمر لڑکی گھر سے ”بھاگ“ جائے یا نکاح کر کے جائے دونوں صورتوں میں لڑکی محفوظ نہیں ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ والدین یا گارڈین سے دور ہو گی۔ اس کا بچپن چھن جائے گا۔ سکول نہیں جا سکے گی۔ جنسی زیادتی اور تشدد کا شکار ہو گی۔ نکاح سے ناپسندیدہ یا زبردستی جنسی فعل کے نفسیاتی اور جسمانی اثرات کم نہیں ہو جاتے۔ وہ حاملہ ہو گی اور کم عمر ماں بنے گی۔

یہ سب خطرات اور مسائل بھاگنے یا نکاح کرنے میں برابر ہیں۔ اس لیے یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بچپن کی شادی کسی مسئلے کا نہیں بلکہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ان دنوں ہمارا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا بچیوں کے گھر سے ”بھاگ“ جانے کی خبروں سے اٹا پڑا ہے۔ لوگ فکرمند ہیں اور اس نازک مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ میں نے بھی کمپیوٹر پر بیٹھ کر کافی سر کھپایا اور کافی مایوسی ہوئی۔ درست حل کی جانب شاید ہی کسی نے اشارہ بھی کیا ہو۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ گھر میں بچوں کو ان کی مرضی کا ماحول ملے۔ ان پر ٹرسٹ کیا جائے۔ انہیں جج نہ کیا جائے تاکہ وہ ساری باتیں سب سے پہلے والدین کے علم میں لائیں اور رہنمائی حاصل کریں۔ والدین کا کام ہے کہ ان کے سوالات اور مسائل کو اہمیت دیں۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا اپنے مسائل آپ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتا ہے تو اس بات کو غنیمت جانیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اچھے والدین ہیں۔ بچوں کی جانب سے سوال سے پہلے بھی والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل پر اپنے بچوں سے بات کریں۔ تاکہ وہ (بچے ) اپنی باری پر مسائل کے ساتھ اچھے طریقے سے ڈیل کر سکیں۔ اور اپنے والدین کو اپنا رازدار بنا سکیں۔ اگر آپ کا بچہ اپنے مسائل آپ کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتا تو یہ پریشانی کی بات ہے۔ ہر عمر اور ہر شخص کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ اپنے سوالات ہوتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی کے ساتھ ڈسکس کرنے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی بیٹی یا بیٹا آپ کے ساتھ ڈسکس نہیں کر رہا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ کسی اور کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ کسی اور کے ساتھ مسائل کو ڈسکس کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ دوسرا شخص بچے کی کمزوری جان لینے کے بعد ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

بچوں کو اتنا ٹرسٹ دیا جائے کہ انہیں والدین سے زیادہ کسی اور پر ٹرسٹ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ اس عمر کے تمام خطرات سے انہیں آگاہ رکھا جائے تاکہ وہ دھوکہ کھانے سے بچ جائیں۔ سکول اور گھر میں سیکس ایجوکیشن کی جائے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کی عمر کی جسمانی اور جذباتی ضروریات کیا ہیں اور۔ ان جسمانی اور جذباتی ضروریات کو کیسے مینج کرنا ہے۔ کیسے ایک خاص عمر تک پہنچنے کا انتظار کرنا ہے تاکہ ان ضروریات کے ساتھ جڑے مسائل اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اگر بچے اور والدین کے درمیان تعلقات دوستانہ ہوں اور بچوں کے ذاتی مسائل پر کھل کر بات ہوتی ہو تو پھر ہی بچے اپنی جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے اور مینج کر پائیں گے۔ والدین ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ کے بچوں کو اپنا لڑکپن صحت مند اور محفوظ طریقے سے گزارنے کرنے کے لیے سیکس ایجوکیشن کی اشد ضرورت ہے۔ آپ اگر شرمائیں گے اور ان کی یہ ضرورت پوری نہیں کریں گے تو دوسرے بیچ میں آ جائیں گے اور یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ حل تعلیم و تربیت اور بچوں کے ساتھ دوستی میں ہے نہ کہ بچپن کی شادی میں۔ بچپن کی شادی ایک مصیبت ہے اور اس کے بہت نقصانات ہیں۔ شاید ہی کسی معاشرے میں ٹین ایج ماں کو درست سمجھا جاتا ہو۔ البتہ ہمارے معاشرے میں اس بات کی خوب تبلیغ کی جاتی ہے۔ میڈیا کے رجعت پسند سیکشن اور ملا اس معاملے کو جی بھر کے خراب کرتے ہیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور ضروریات کے مطابق سیکس ایجوکیشن دیں۔ گھر، سکول اور میڈیا سب کا اس میں رول ہے۔ ان کو شادی کے جھنجھٹ سے بچائیں۔ شادی بچوں کھیل نہیں ہے۔ آخری بات، کوئی بچی یا بچہ گھر سے تبھی بھاگے گا جب اس کا گھر اس کے رہنے کا قابل نہیں رہے گا۔ اگر گھر پرسکون ہو، اس کی عزت نفس محفوظ ہو اور اس کی زندگی کے متعلق فیصلوں میں اس کی رائے لی جاتی ہو تو وہ کیوں بھاگے گا گھر سے۔ گھر سے بھاگنے کے فیصلے اس وقت کیے جاتے ہیں جب نوجوانوں کو یہ لگتا ہے کہ ان کی شادی کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف کر دیا جائے گا۔ اپنے بچوں پر اپنے فیصلے نہ تھوپیں۔ انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے دیں۔ آپ کی جھوٹی انا کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔