Categories
پاکستان

پاکستانی سیاست میں کیا ہونے لگا؟؟؟ زرتاج گُل نے مریم نواز کو کس لقب سے پُکار دیا؟ ہر کوئی حیران

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما زرتاج گل وزیر نے بھی مریم نواز پر لفظی وار کر دئیے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زرتاج گُل نے اپنے جلسے کی تقاریر کے کلپس شیئر کرتے ہوئے مریم نواز پر تنقید کے نشتر برسا دئیے۔

مریم صفدر گھناؤنی عورت ہے جو معاشرے کا ایک ناسور ہے۔ اس نے بارہا دوسروں پر نازیبا حملے کئے اور کرائے۔ یہی نہیں اس واہیات عورت نے عدالت میں بیٹھے ہوئے بڑے فخر سے نازیبا ویڈیو کلپس بنانے کا اعتراف کیا ہوا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مریم نواز نے آج تک کونسلر کا الیکشن تک نہیں لڑا۔ بریانی کی پلیٹیں دکھا کے چند ہزار کا مجمع آئے دن اکٹھا کرتی ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئےگزشتہ روز ملتان جلسےمیں نامناسب لفظی وار کیا جس پر نہ صرف دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں بلکہ تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی شدید مذمت کی گئی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے مریم نواز پر نامناسب طنز کے معاملے پر حمزہ شہباز نے آج پریس کانفرنس میں بیان دینے کا اعلان کر دیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد حمزہ شہباز نے مختصر گفتگو کی، اس دوران صحافی نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ عمران خان کے مریم نواز بارے بیان پر کیا کہیں گے؟ جس پر حمزہ شہباز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج سوا چار پریس کانفرنس میں اس معاملے پر بیان دوں گا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز ملتان جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز کیخلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ روز مجھے کسی نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں مریم کہیں تقریر کر رہی تھیں اور بار بار اتنے جذبے اور جنون سے میرا نام لے رہی تھیں، جس پر میں مریم سے کہنا چاہتا ہوں کہ مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو جس طرح تم میرا نام لیتی ہو کہیں تمھارا خاوند ہی نہ ناراض ہو جائے۔

Categories
شوبز

عائشہ خان اور میجر عقبہ حدید کے گھر خوشیوں کا سماں! مبرکبادیں دینے والوں کی لائنیں لگ گئیں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو سابقہ اداکارہ عائشہ عقبیٰ خان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔عائشہ عقبیٰ خان کی جانب سے اپنے مداحوں کو یہ خوشخبری سوشل میڈیا انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے سنائی گئی ہے۔ان کی پوسٹ پر ہلکے نیلے رنگ کے جوتے بنے ہوئے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’ہم اپنے

بیٹے کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔‘واضح رہے کہ 15 اپریل 2018 کو عائشہ خان اور میجر عقبہ ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔اس جوڑے کے ہاں گزشتہ سال 10 نومبر کو 12 ربیع الاول کے دن بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام اُنہوں نے ’ماہ نور‘ رکھا۔

Categories
پاکستان

رانا ثنا اللہ نے حکومت کی سب سے بڑی بے بسی بتادی

’’ ہم نہیں جانتے تھے کہ عمران خان کو نکالنے کے بعد۔۔۔۔۔‘‘ رانا ثنا اللہ نے حکومت کی سب سے بڑی بے بسی بتادی۔۔۔اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جاری نہیں رہتا تو ملکی معیشت متاثر ہوگی۔ معیشت کا بھٹہ ہم نے نہیں بٹھایا تو

ذمہ داری کیوں لیں۔ اگر آئی ایم ایف ہمارے ساتھ ہے تو ملک سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح ہم مہنگائی کے جن کو بھی قابو کرلیں گے۔ہمیں نہیں پتا تھا عمران خان کو نکالنےکے بعد ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں گے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ حکومت کو چاروں اطراف سے بریکٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر آئی ایم ایف ہمارا ہاتھ نہیں پکڑتا تو پھر ملک وہ سنبھالیں جو حالات کے ذمہ دار ہیں۔ پٹرول کی قیمت آئی ایم ایف کے مطابق بڑھانے سے بھی صورتحال نہیں سنبھلے گیرانا ثنااللہ نے کہا کہ شہباز شریف مہنگائی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں، اتحادیوں سے مشاورت میں نواز شریف شامل ہیں حکومت کا فیصلہ ہے کہ آئینی مدت پوری کی جائے گی، نوازشریف کہہ چکے ہیں اتحادیوں کو سرپرائز نہیں دیں گے بلکہ فیصلے اتحادیوں کی مشاورت سے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اداروں سے اپنے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے مدد چاہتے ہیں۔اس وقت ہمیں نہیں ملک کو ادارے کی مدد کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمیٰ کا احترام کرتےہیں مگر اس طرح حکومت نہیں چلتی۔وزیرداخلہ نے کہا عمران خان نے مریم نوازسے متعلق نامناسب زبان استعمال کی ، ہمارا معاشرے اس قسم کی زبان کو قبول نہیں کرتا۔ اس قوم کو تقسیم اور نوجوانوں کو گمراہ کردیا گیا ہے۔ ہماری نظر میں عمران خان کی ڈیڈلائن کی کوئی اہمیت نہیں۔ جو ماحول اس شخص نے پیدا کیا ہے اس میں الیکشن میں نہیں جاسکتے۔

Categories
بڑی خبر پاکستان

شیریں مزاری گرفتار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنماء افتخار درانی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شیری مزاری کو گھر کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے انہوں نے تمام پی ٹی آئی

کارکنان سے درخواست کی ہے کہ سارے فوری طور پر کوہسار پولیس اسٹیشن کے باہر پہنچیں ۔ دوسری جانب دوسری جانب حساس اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی کردار کشی کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالمگیر خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق رہنما پاکستان تحریک انصاف عالمگیر خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ سرکار مدعیت میں گلشن اقبال تھانے میں درج کیا گیا۔مملکت پاکستان اور حساس اداروں کے خلاف بات کرنے پر مقدمہ درج ہوا ، جس کے متن میں کہا گیا کہ دانستہ طور پر حساس اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی کردار کشی اور تضحیک ، لوگوں میں انتشار اور بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اداروں کے افسران و جوانوں میں بددلی،بے یقینی اور مایوسی پھیلانا مقصود تھا۔ایف آئی آر میں اداروں کیخلاف اکسانا اور بھڑکانا بھی شامل ہے، مدعی ایس ایچ او نے کہا کہ میں گلشن اقبال ایروکلب گراونڈ کے قریب گشت پر تھا کہ اسی دوران گراونڈ کی دیواروں پر مختلف عبارتیں تحریر کی گئی تھی۔مدعی مقدمہ اشرف جوگی کا کہنا تھا کہ ایک پلڑے میں پاکستان کا نقشہ اور دوسرے میں ڈالروں کی گڈی بنائی گئی، سوشل میڈیا پرایک ویڈیو اور پانچ تصاویر بھی موصول ہوئی۔اشرف جوگی نے مزید کہا کہ ویڈیو میں ایم این اے عالمگیر خان اور 5 صورت شناس نامعلوم افراد ہیں، ، عبارتوں کے ذریعے اداروں اور عدلیہ کی کردار کشی اور تضحیک کی گئی۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عمل کا مقصد اداروں کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا مقصود ہے،ایک جگہ لکھا تھا جنگل کا

قانون ہم سے بہتر ہے۔یہاں پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ عمران خان کیخلاف شرانگیزحرکت کی تو نتائج کی ذمےدار مکمل طور پر حکومت ہوگی۔تفصیلات کے مطابق رات گئے پولیس کے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائش گاہ کے محاصرے پر رہنما اسد عمر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا امپورٹڈ سرکار طاقت کی بجائے عقل کےاستعمال کی کوشش کرے، افاقہ ہوگا، خوف و ہراس پھیلا کر پرامن جمہوری تحریک دبانا کٹھ پتلیوں کےبس کی بات نہیںاسد عمر کا کہنا تھا کہ رات گئے پولیس قیدیوں کی گاڑی کے ہمراہ بنی گالہ پہنچی، اس قسم کی حرکتیں خود کٹھ پتلی سرکار کےسیاسی مستقبل پرتاریکیاں طاری کریں گی، نوجوانوں کی بڑی تعداددیکھ کرپولیس کی نفری نےواپسی کی راہ لیپی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ امپورٹڈسرکار ہوش کےناخن لے اور کسی قسم کےمس ایڈونچر سےگریز کرے، عمران خان کیخلاف شرانگیز حرکت کی تو نتائج کی ذمے دار مکمل طور پر حکومت ہوگی۔انھوں نے خبردار کیا طاقت کے بل بوتے پرفیصلے کرا لو گے، یہ تمہاری غلط فہمی ہے، خلق خداکی آواز سنو ،جمہوری و آئینی حقوق پرڈاکہ ڈالنےکی منصوبہ بندی سے گریز کرو۔اسد عمر نے مزید کہا کہ گلو گردی میں نہیں معاملات کا بہترین حل انتخابات کے فوری اعلان میں ہے، اخلاقی و جمہوری جوازکھو دینےوالی کٹھ پتلی سرکار ہمت کرےاور انتخابات کی تاریخ دے، پرامن احتجاج تشدد میں بدلنے کی کوشش کٹھ پتلیوں کی سیاست ہمیشہ کیلئےدفن کرے گی۔یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف بھی حیدرآباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

Categories
پاکستان

رانا تنویر مستعفی ہوگئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بڑی تبدیلی، رانا تنویر نے چیئرمین شپ سے استعفیٰ دےدیا ہے۔نئے چیئرمین کی تقرری کے لئے پی اے سی کا اجلاس پیر تئییس مئی کو طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے چیئرمین پی کی تقرری کا امکان ہے۔گزشتہ چیئرمین پی اے سی رانا تنویر وفاقی کابینہ کاحصہ ہیں، اٹھارویں ترمیم

کےبعدسےچیئرمین پی اے سی کاعہدہ اپوزیشن کو دیا جاتارہاہے جبکہ راناتنویر نے گزشتہ اجلاس میں نئے چئیرمین کی تقرری کا عندیہ دیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز راجا ریاض نے اپوزیشن لیڈر کیلئے اپنے کا غذات نامزدگی سولہ اراکین کے دستخط کے ساتھ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائے تھے جنہیں منظور کرتے ہوئے انہیں قائد حزب اختلاف بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے۔اب قائد حزب اختلاف راجا ریاض پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔دوسری جانب منحرف ارکان اور میگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد ن لیگ نے حکومت چھوڑنے کے لئے اتحادیوں سے پھر مشاورت کا آغاز کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر مسلم لیگ ن نے حکومت چھوڑنے کے لئے اتحادیوں سے پھر مشاورت شروع کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشہ دو روز میں وزیراعظم آفس میں حکومتی اتحادیوں کی طویل میٹنگز ہوئیں ، جس میں اتحادیوں کی اکثریت نے حکومت سے نکلنےکی مشروط حمایت کی۔ذرائع نے بتایا کہ اکثریت نے رائے دی کہ چند روز دیکھ لیں اگر اداروں کی سپورٹ نہیں ملتی تو حکومت چھوڑ دیں اور ہفتہ دس دن میں پارلیمنٹ سےضروری قانون سازی کرا کر حتمی فیصلہ کرلیں۔ذرائع نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چند رہنما بھی اب مطلوبہ حمایت نہ ملنے پر حکومت چھوڑنےکے حامی ہیں، رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف کا قوم سےخطاب بھی اسی وجہ سےنہیں ہورہا۔ذرائع کے مطابق منحرف ارکان اورمیگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد دوبارہ مشاورت کی گئی، پی پی قیادت اور چند مفاہمتی لیگی رہنما اب بھی حکومت چلانے کے حق میں ہیں۔گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا تھا، ذرائع نے کہا تھا کہ 2 اہم قوانین کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کر نے پرغور کیا جارہا ہے جبکہ نیب قوانین میں ترمیم ، الیکشن اصلاحات رواں اجلاس میں منظور کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا تھا کہ نگراں وزیراعظم اور چیئرمین نیب کے تقرر پر حکومت فوری مشاورت کرے گی۔ ذرائع کے مطابق منحرف ارکان اورمیگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد دوبارہ مشاورت کی گئی، پی پی قیادت اور چند مفاہمتی لیگی رہنما اب بھی حکومت چلانے کے حق میں ہیں۔گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا تھا، اس سلسلے میں رات گئے اہم اجلاس میں موجودہ صورتحال پرتفصیلی مشاورت کی گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ن لیگ قیادت بڑے فیصلوں کیلئے حمایت نہ ملنے پرمایوس ہے اور سیاسی استحکام اور بڑے فیصلوں کیلئے گارنٹی چاہتی ہے۔

Categories
پاکستان

سپریم کورٹ کا فیصلہ: پنجاب کا آئینی بحران بڑھ گیا۔۔۔تازہ ترین نمبر گیم سامنے آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایوان میں ان دنوں سیاسی کے ساتھ آئینی بحران بھی شدت اختیار کرچکا ہے۔ وزیر اعلی کا انتخاب ہونے کے باوجود تلخیاں مذید بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک طرف گورنر پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلی سے حلف نہ لینے کا معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا ہے اور وزیر اعلی عثمان بزدار کے

استعفے کی قبولیت پر بھی قانونی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔دوسری جانب صوبے کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کے خلاف مسلم لیگ ن اور ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے۔اسمبلی کے حالیہ اجلاس پر بھی تنازع ختم نہیں ہو پایا ہے جو کہ قائد ایوان کے انتخاب کے لیے بلایا گیا تھا۔16اپریل کا اجلاس ڈپٹی سپیکر نےغیرمعینہ مدت کے لیے موخر کیا تو سپیکر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسی 40 ویں اجلاس کا سیشن دوبارہ 28 اپریل کو طلب کر لیا ہے۔سیکریٹری اسمبلی کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکوں پر ووٹنگ آئینی طور پر سات دن کے بعد کرائی جاسکتی ہے لہذا اس معاملہ پر ابھی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ جلدی حل ہونے کی توقع نہیں بلکہ فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں لہذا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ بھی عدالتوں تک جانے کا امکان ہے۔ادھر ایوان میں عددی اعتبار سے سپیکر چوہدری پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔اس سوال کے جواب میں سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی نے کہا کہ ’پہلے تحریک انصاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے خلاف جمع کرائی گئی تو قانونی طور پر پہلے اس پر ووٹنگ ہوگی اور جس اجلاس میں ووٹنگ ہوگی اس کی صدارت سپیکر چوہدری پرویز الہی کریں گے۔‘انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ڈپٹی سپیکر کی جانب سے 16 اپریل کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیا گیا تھا جو ان کا اختیار نہیں تھا

کیوں کہ گورنر کی جانب سے بلایا گیا اجلاس ڈپٹی سپیکر غیرمعینہ مدت تک ملتوی نہیں کر سکتے لہذا اب سپیکر نے آئینی طور پر وہی 40 واں اجلاس 28 اپریل کو دوبارہ طلب کرلیا ہے اور ڈپٹی سپیکر نے بھی اتفاق کیا ہے۔خواتین قانون ساز لاہور میں 16 اپریل 2022 کو وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے لیے آ رہی ہیں۔ اس اجلاس میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا)محمد خان بھٹی کہتے ہیں کہ ڈپٹی سپیکر کے بعد سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بعد میں ہوگی جس کی صدارت ڈپٹی سپیکر نہ ہونے کی صورت میں پینل آف چیئرمین کرسکتے ہیں۔آئندہ بلائے گئے اجلاس کے ایجنڈے پر دونوں میں سے کسی کے بھی خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شامل نہیں اس لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی۔سابق نگران وزیر اعلی اور تجزیہ کار حسن عسکری نے اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے پی ٹی آئی اراکین نے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کیا پھر ڈپٹی سپیکر کے حکم پر پولیس ایوان میں داخل ہوئی اور چوہدری پرویز الہی پر تشدد ہوا لہذا دونوں طرف تلخیاں عروج پر ہیں۔ معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھنے کی امید نہیں یہ معاملہ بھی عدالت میں ہی جائے گا۔‘انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’جس طرح حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں یہ معاملہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، تحریک عدم اعتماد کی جہاں تک بات ہے اس پر ووٹنگ ہونے کے بعد بھی ایوان کا ماحول کشیدہ ہی رہے گا جس طرح وفاق میں پی ٹی آئی نے استعفے دے دیے اور حکومت کو آذاد ماحول مل گیا لیکن پنجاب میں ایسی صورت حال نہیں بنے گی۔‘حسن عسکری نے کہا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اگر بات کریں تو اس وقت مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہے لہذا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی کیوں کہ پی ٹی آئی کے پاس زیادہ اراکین کی حمایت نہیں رہی۔

Categories
پاکستان

حکومت چھوڑنے کی تیاریاں!وزیر اعظم شہباز شریف نے بڑا قدم اُٹھا لیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک) منحرف ارکان اور میگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد ن لیگ نے حکومت چھوڑنے کے لئے اتحادیوں سے پھر مشاورت کا آغاز کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر مسلم لیگ ن نے حکومت چھوڑنے کے لئے اتحادیوں سے پھر مشاورت شروع

کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشہ دو روز میں وزیراعظم آفس میں حکومتی اتحادیوں کی طویل میٹنگز ہوئیں ، جس میں اتحادیوں کی اکثریت نے حکومت سے نکلنےکی مشروط حمایت کی۔ذرائع نے بتایا کہ اکثریت نے رائے دی کہ چند روز دیکھ لیں اگر اداروں کی سپورٹ نہیں ملتی تو حکومت چھوڑ دیں اور ہفتہ دس دن میں پارلیمنٹ سےضروری قانون سازی کرا کر حتمی فیصلہ کرلیں۔ذرائع نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چند رہنما بھی اب مطلوبہ حمایت نہ ملنے پر حکومت چھوڑنےکے حامی ہیں، رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہبازشریف کا قوم سےخطاب بھی اسی وجہ سےنہیں ہورہا۔ذرائع کے مطابق منحرف ارکان اورمیگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد دوبارہ مشاورت کی گئی، پی پی قیادت اور چند مفاہمتی لیگی رہنما اب بھی حکومت چلانے کے حق میں ہیں۔گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا تھا، ذرائع نے کہا تھا کہ 2 اہم قوانین کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی تحلیل کر نے پرغور کیا جارہا ہے جبکہ نیب قوانین میں ترمیم ، الیکشن اصلاحات رواں اجلاس میں منظور کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا تھا کہ نگراں وزیراعظم اور چیئرمین نیب کے تقرر پر حکومت فوری مشاورت کرے گی۔ ذرائع کے مطابق منحرف ارکان اورمیگا کیسز کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے بعد دوبارہ مشاورت کی گئی، پی پی قیادت اور چند مفاہمتی لیگی رہنما اب بھی حکومت چلانے کے حق میں ہیں۔گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کا سگنل دے دیا تھا، اس سلسلے میں رات گئے اہم اجلاس میں موجودہ صورتحال پرتفصیلی مشاورت کی گئی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ن لیگ قیادت بڑے فیصلوں کیلئے حمایت نہ ملنے پرمایوس ہے اور سیاسی استحکام اور بڑے فیصلوں کیلئے گارنٹی چاہتی ہے۔

Categories
پاکستان

ملتان جلسہ:کل شام شیخ رشید کے ساتھ کیا حیران کن واقعہ پیش آیا جانیے

ملتان (ویب ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی ملتان جلسے میں طبیعت خراب ہوگئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق شیخ رشید کی سٹیج پر گرمی کے باعث حالت خراب ہوئی، گرمی اور حبس کے باعث بلڈ پریشر کم ہوا۔ اس حوالے سے ریسکیو حکام کہا کہنا تھا

کہ ابتدائی طبی امداد کے بعد شیخ رشید کی حالت بہتر ہے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو جلسہ گاہ سے نجی ہوٹل منتقل کر دیا گیا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے حکومت سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ حکومت الیکشن کی تاریخ دے اور معاملہ حل کرے، ‏شہباز شریف پر ترس آرہا ہے، ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، ‏شہباز شریف کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اسے کس نے لا کر بٹھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بنی گالا میں پولیس کی بھاری نفری اور قیدیوں کی وین سمیت متعدد گاڑیاں آئیں، پولیس کا موقف تھا سیکیورٹی سروے کرنے آئے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ کہا گیا کہ عمران خان کو تھریٹ ہے سیکیورٹی کے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت سوچ رہی ہے ایسے ہتھکنڈوں سے ہم ڈر جائیں گے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی حکومت کی ذمے داری ہے، ‏غیر حکومتی شخصیت کی حفاظت حکومت کرسکتی ہے تو عمران خان کی کیوں نہیں؟ا ُنہوں نے کہا کہ حکومت جتنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی، اتنا ردعمل آئے گا، حکومت کے پاس نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انتخابات کرائے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ ‏قیادت نے کیا ڈرنا ہمارا کوئی ورکر بھی ڈرنے والا نہیں، ‏تحریک انصاف پر امن سیاست پر یقین رکھتی ہے لیکن اگر عمران خان کے خلاف کچھ ہوا ملک میں رد عمل کا ذمہ دار حکومت ہوگی۔

Categories
پاکستان

شہباز اینڈ کمپنی اور امپورٹڈ حکومت نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ۔۔۔اہم خبر دے دی گئی

لاہور(ویب ڈیسک) سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش کے سہولت کار کرپشن اور چوری کے کیس معاف کرارہے ہیں۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ جنہیں 4 سال این آر او نہ ملا وہ اب عدالتوں اور اداروں سے کرپشن کیسز ختم کرارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے بیٹے پر فرد جرم لگنی تھی لیکن ان کے کیسز التوا کا شکار ہونے لگے ہیں۔خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت لاہور کی اسپیشل کورٹ میں جاری ہے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ ریفرنس میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے اگلی حکومت کیلئے جال بچھایا ، عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں سستی کردیں، نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے، اب مشکل آن پڑی ہے توپھرقربانی دینا پڑے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا، اصل مسائل کا حل جاننے آیا ہوں، 2018ء اگست میں ڈالر 115 روپے کا تھا، اتحادی جماعتوں نےمجھے اپنا امیدوارچنا، ہماری حکومت میں بجلی کے منصوبے لگائے گئے، 11اپریل کومیں نے حلف لیا تو ڈالر 189کا تھا، اس اُڑان میں توہمارا کوئی قصورنہیں تھا، جس دن حلف اٹھایا توڈالرسستا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کو جب عدم اعتماد کی کامیابی کا پتا چلا پٹرول کی قیمتیں سستا کرنے کا مشورہ دیدیا، یہ اگلی حکومت کے لیے جال بچھایا جارہا تھا، ہماری ایک سیاسی مجبوری بھی تھی سرمنڈتے اولے پڑے، ساڑھے تین سالوں انہوں نے عام آدمی کوایک دھیلے کا ریلیف نہیں دیا، ساڑھے تین سالوں میں قرضے ہی قرضے لیے گئے۔ ماضی کی حکومت نے 22ہزارارب کے قرضے لیے، ساڑھے تین سالوں میں 80 فیصد قرضوں میں اضافہ ہوا، لاڈلی حکومت اور لاڈلے کو مقتدر ادارے نے 75سالہ تاریخ میں مثالی سپورٹ دی۔ ایسی سپورٹ اگر ہماری حکومت کو 30 فیصد سپورٹ ملتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپرجارہا ہوتا۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ کے سامنے سب کچھ ہے ہمارے دورمیں سی پیک آیا۔ جب لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تو دوبارہ کیوں ہورہی ہے، قوم ان چھبتے ہوئے سوالوں کا جواب مانگ رہی ہے، روپیہ کی قدرتیزی سے نیچے جارہی ہے، اربوں روپے خرچ کر کے چینی کو ایکسپورٹ کیا گیا، کیا یہ سیاسی افراتفری کا نیتجہ تھا؟ ایل این جی 3 ڈالرتب ایل این جی نہیں منگوائی گئی؟ خدارا ہمیں بہت تحمل، ایمانداری سے تجزیہ کرنا ہو گا، اگرکہیں مجھ سے غلطی ہوئی تو معافی مانگنی چاہیے، ساڑھے تین سال کی حکومت میں غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹے گئے، غداری اور وفاداری کی بحث میں جائیں گے تو بات دور تک جائے گی، روپیہ ہچکولے کھارہا ہے، صورتحال سب کے سامنے ہے، کاروباری حضرات ساری صورتحال کو سمجھتے ہیں، خدارا حکومت کوحل بتائیں،ایک دورانئے کے لیے لگژری آئٹمزپرپابندی عائد کی گئی ہے، امپورٹڈ اشیا پرپابندی لگانے کا مقصد ڈالرمیں استحکام آئے، ہمیں مشکل آن پڑی ہے تو پھر قربانی دینا پڑے گی، ہماری حکومت نے سستے ترین بجلی کے منصوبے لگائے۔

Categories
پاکستان

اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج!!! وجہ کیا بنی؟

حیدرآباد(نیوز ڈیسک) اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کےخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ حیدرآباد کےتھانہ بی سیکشن میں درج کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگوکرنےکےتحت درج کیاگیا، مطیع اللہ جان کےیو ٹیوب چینل میں گفتگوپر دفعہ 131

،153،505 کااطلاق ہوتا ہے۔پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کا اختیارنہیں۔افضل بٹ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ کس نام سے درج کررہے ہیں، اگراپ کوکسی میڈیا ادارے اور صحافی پراعتراض ہے تو شکایت لکھ کردیں۔ماہر قانون ابوذر سلمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں 3پینل کوڈ کے سیکشن لگائے گئے ہیں، میں نے ایف آئی آر کا متن دیکھاہے، مسئلہ ایف آئی آر سے نہیں اس کےطریقہ کار سے ہے۔ابوذر سلمان نے مزید کہا کہ دفعات کی سزا 7 سے 10سال تک ہے، ضروری ہےکہ پہلے معاملے کی انکوائری کی جائے، مدینہ منورہ واقعے میں 15 سے 20 ایف آئی آردرج ہوئی تھی، سندھ پولیس نےایف آئی آرکاٹی ہے، پولیس اور سندھ حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ماہر قانون کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنی طرف سے کوئی چیزبیان نہیں کی، ارشد شریف نے تاریخ بیان کی، ان کیخلاف ایف آئی آرشرمناک حرکت ہے، ایسی ایف آئی آرکاٹی گئیں توکوئی انوسٹی گیٹو جرنلزم نہیں کرے گا۔دوسری جانب حساس اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی کردار کشی کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالمگیر خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق رہنما پاکستان تحریک انصاف عالمگیر خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ سرکار مدعیت میں گلشن اقبال تھانے میں درج کیا گیا۔مملکت پاکستان اور حساس اداروں کے خلاف بات کرنے پر مقدمہ درج ہوا ، جس کے متن میں کہا گیا کہ دانستہ طور پر حساس اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی کردار کشی اور تضحیک ، لوگوں میں انتشار اور بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، اداروں کے افسران و جوانوں میں بددلی،بے یقینی اور مایوسی پھیلانا مقصود تھا۔ایف آئی آر میں اداروں کیخلاف اکسانا اور بھڑکانا بھی شامل ہے، مدعی ایس ایچ او نے کہا کہ میں گلشن اقبال ایروکلب گراونڈ کے قریب گشت پر تھا کہ اسی دوران گراونڈ کی دیواروں پر مختلف عبارتیں تحریر کی گئی تھی۔مدعی مقدمہ اشرف جوگی کا کہنا تھا کہ ایک پلڑے میں پاکستان کا نقشہ اور دوسرے میں ڈالروں کی گڈی بنائی گئی، سوشل میڈیا پرایک ویڈیو اور پانچ تصاویر بھی موصول ہوئی۔اشرف جوگی نے مزید کہا کہ ویڈیو میں ایم این اے عالمگیر خان اور 5 صورت شناس نامعلوم افراد ہیں، ، عبارتوں کے ذریعے اداروں اور عدلیہ کی کردار کشی اور تضحیک کی گئی۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عمل کا مقصد اداروں کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا مقصود ہے،ایک جگہ لکھا تھا جنگل کا قانون ہم سے بہتر ہے۔

Categories
پاکستان

پاکستانیوں کے یے بڑی خبر!!!الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاری شروع کر دی

لاہور(نیوز ڈیسک )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے ساتویں مردم شماری کے حتمی نتیجے سے متعلق ادارہ شماریات کو مراسلہ بھیج دیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ساتویں مردم شماری کا نتیجہ فروری 23 کی بجائے31 دسمبر 22 کو شائع کیا جائے، نئی مردم شماری کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کو تازہ حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن اکتوبر کے اختتام یا نومبر کے آغاز میں عام انتخابات کرانے کو تیار ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ2017 کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں حلقہ بندیاں کی جارہی ہیں، حلقہ بندی کمیٹیاں ابتدائی حلقہ بندیوں کو 24مئی تک مکمل کر لیں گی۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں غیرحتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت کیلئے 20 ہزار 159ڈسپلے سینٹرز قائم کردیئے گئے، اہل شہری شناختی کارڈ کے مستقل یا عارضی پتے کے مطابق ووٹ درج کراسکتا ہے۔ملک بھر میں ڈسپلے سینٹر 21 مئی 2022 سے 19 جون 2022 تک کھلے رہیں گے، اہل شہری شناختی کارڈ کے مستقل یا عارضی پتے کے مطابق ووٹ درج کراسکتا ہے۔غیرحتمی انتخابی فہرستیں عوام کے معائنہ کیلئے رکھی جائیں گی، 20 ہزار 159 ڈسپلے سینٹرز تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں، ووٹرز اپنے ناموں کے اندراج اور کوائف کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کی نئی صورتحال سامنے آگئی،چار آزاد ارکان کا ووٹ اہمیت کا حامل ہوگا۔پنجاب اسمبلی کے کل ارکان 371 ہیں، 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد 346 کا ایوان رہ گیا ہے، نئی صورتحال کے

بعد صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 158 ووٹ رہ گئے ہیں،ڈی سیٹ ہونے والوں میں 5 ارکان مخصوص نشستوں پر تھے، 5 مخصوص نشستیں ملنے پر تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 163 ہو جائے گی۔پنجاب اسمبلی میں (ق)لیگ کے 10 ارکان اسمبلی ہیں، مسلم لیگ (ن)کے 165 اور پیپلز پارٹی کے7 ارکان ہیں، پنجاب اسمبلی میں 4 آزاد ارکان اور ایک رکن راہ حق پارٹی کا ہے۔صوبائی اسمبلی میں (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحادیوں کی تعداد 177 بنتی ہے، مسلم لیگ (ن)کے 4 منحرف ارکان اگر اس اتحاد کے ساتھ نہ ہوں تو ووٹ 173 رہ جائیں گے۔نئی صورتحال میں چوہدری نثار کا ووٹ اہمیت کا حامل ہوگا، نئی صورتحال میں چار آزاد ارکان کا ووٹ بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔ جمعہ کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا، تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے تاہم الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔منحرف قانون سازوں میں راجا صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر احمد چوہان، محمد امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل

حیات اور دیگر شامل ہیں۔ان میں سے متعدد اراکین کا تعلق جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور اسد کھوکھر گروپ سے ہے۔الیکشن کمیشن نے نااہلی سے متعلق ریفرنس پر اپنا فیصلہ سہ پہر 3 بجے سنانے کا اعلان کیا تھا۔ ای سی پی نے ایک روز قبل اس کیس میں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے تھے۔الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شریف اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔کمیشن نے 17 مئی کو ریفرنس پر اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا اعلان آئندہ روز بدھ کو 12 بجے کیا جائے گا تاہم بعد میں اس اعلان کو ملتوی کردیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اہم ہے جو رواں ہفتے کے اوائل میں آیا تھا۔ آرٹیکل 63 (اے) قانون سازوں کو ‘وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں، یا اعتماد کا ووٹ یا عدم اعتماد کا ووٹ، یا منی بل یا آئینی (ترمیمی) بل پر’ پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ دینے (یا پرہیز کرنے) سے روکتا ہے،اس آرٹیکل کی تشریح میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ پارٹی کی ہدایت کے خلاف ڈالے گئے ووٹوں کو شمار نہیں کیاجاسکتا اور انہیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کے ووٹوں نے حمزہ شہباز کو اکثریت حاصل کرنے میں مدد دی، انہوں نے مجموعی طور پر 197 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 186 ووٹ درکار تھے، اگر پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے 25 ووٹ ان کی تعداد سے نکال دیے جائیں تو وہ اپنی اکثریت کھو

بیٹھے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی نے سپریم کورٹ کی تشریح کی روشنی میں حمزہ شہباز کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ حمزہ شہباز کے 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو منحرف قرار دینے کا اعلامیہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی کو بھیجا تھا، جو وزیر اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی،پی ایم ایل (ق) کے مشترکہ امیدوار بھی تھے اس کے بعد پرویز الہٰی نے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا اور اس پر زور دیا تھا کہ ان قانون سازوں کو پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈال کر پی ٹی آئی سے منحرف ہونے پر ڈی سیٹ کیا جائے۔آ ئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر پارلیمنٹرین وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ آرٹیکل میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ متعلقہ رکن اسمبلی منحرف ہوگیا ہے لیکن اعلان کرنے سے قبل پارٹی سربراہ ‘منحرف رکن کو وضاحت دینے کا موقع فراہم کریگا۔اراکین کو ان کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دینے کے بعد پارٹی سربراہ اعلامیہ اسپیکر کو بھیجے گا اور وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا،بعدازاں چیف الیکشن کمیشن کے پاس اعلان کی تصدیق کے لیے 30 دن ہوں گے۔آرٹیکل کے مطابق اگر چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے تصدیق ہو جاتی ہے، تو مذکورہ رکن ایوان کا حصہ نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائیگی۔

Categories
شوبز

عمران خان کا مریم نواز بارے متنازع بیان : متھیرا نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کی معروف اداکارہ، میزبان و ماڈل متھیرا نے چیئرمین پی ٹی آئی کے مریم نواز پر دیے گئے بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ متھیرا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کہا کہ ’یہ گپ شپ سیشن ہے یا جلسہ؟‘اُنہوں نے کہا کہ ’آپ اس طرح کسی

عورت کے بارے میں کیسے بات کر سکتے ہیں؟‘اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں متھیرا نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’الزام تراشی، طعنوں کا کھیل اور مخالف فریق پر دھونس کیوں؟‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ ’واقعی! یہ بہت احمقانہ حرکت تھی۔‘ یاد رہے کہ عمران خان نے ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مریم اتنے جذبے اور جنون سے میرا نام نہ لیا کرو کہیں تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہوجائے۔

Categories
پاکستان

ن لیگ اپنے اتحادیوں کوکیا سرپرائز دینے والی ہے؟ ملکی سیاست میں ہلچل مچا دینے والی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں کو سرپرائز نہیں دیں گے، اتحادی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ ہم اپنی مدت پوری کریں گے۔ لاہور میں عدالت کے باہر عطا تارڑ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ

غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھیننا مسلم لیگ ن کی حکومت کو گوارہ نہیں، اگر وزیر اعظم شہباز شریف کو ہر طرف سے سپورٹ ملے تو ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں، ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تو ہو سکتا ہے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام کے پاس جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مشاورت میں نواز شریف صاحب ویڈیو لنک کے ذریعے شامل تھے، لوگوں کے مسائل حل کرنے سے روکا گیا تو جو ذمہ دار ہیں انہیں بھگتنا پڑے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے خلاف چار سال تک ظلم اور زیادتی کا سلسلہ چلتا رہا، ان معاملات پر بھی از خود نوٹس لیا جانا چاہیے، عدالت سے استدعا کریں گے چار برس میں جو کچھ ہوتا رہا اس پر بھی از خود نوٹس لیا جائے، ہم عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جاری نہیں رہتا تو معیشت متاثر ہوگی، ہم خوف زدہ نہیں یہ لانگ مارچ لے کر آئیں ان کا استقبال کریں گے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مریم نواز سے متعلق نازبیا زبان استعمال کی، انہوں نے گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا، ہمارا مشرقی معاشرہ ہے، صدیوں پر محیط روایات ہیں، ہماری خواتین اپنے خاندان کی عزت کی خاطر صبر کیساتھ زندگی گزارتی ہیں، مجھے لگتا ہے عمران خان صاحب کا اپنا تجربہ کچھ خراب ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بشیر میمن کے بیان اور رانا ثنا اللّٰہ کو موت کی چکی میں ڈالنے کا نوٹس تو نہیں لیا گیا، انہیں منشیات کیس میں گرفتار کیا گیا لیکن نوٹس نہیں لیا گیا، ہم نے چار سال انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نازیبا گفتگو سے ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔

Categories
پاکستان

بدلتی صورتحال میں نمبر گیم !!! دوست محمد مزاری اور چوہدری نثار کے ووٹ نے نئی ہلچل پیدا کردی

لاہور(نیوز ڈیسک)الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کی نئی صورتحال سامنے آگئی،چار آزاد ارکان کا ووٹ اہمیت کا حامل ہوگا۔پنجاب اسمبلی کے کل ارکان 371 ہیں، 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد 346 کا ایوان رہ گیا ہے، نئی صورتحال کے

بعد صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 158 ووٹ رہ گئے ہیں،ڈی سیٹ ہونے والوں میں 5 ارکان مخصوص نشستوں پر تھے، 5 مخصوص نشستیں ملنے پر تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 163 ہو جائے گی۔پنجاب اسمبلی میں (ق)لیگ کے 10 ارکان اسمبلی ہیں، مسلم لیگ (ن)کے 165 اور پیپلز پارٹی کے7 ارکان ہیں، پنجاب اسمبلی میں 4 آزاد ارکان اور ایک رکن راہ حق پارٹی کا ہے۔صوبائی اسمبلی میں (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحادیوں کی تعداد 177 بنتی ہے، مسلم لیگ (ن)کے 4 منحرف ارکان اگر اس اتحاد کے ساتھ نہ ہوں تو ووٹ 173 رہ جائیں گے۔نئی صورتحال میں چوہدری نثار کا ووٹ اہمیت کا حامل ہوگا، نئی صورتحال میں چار آزاد ارکان کا ووٹ بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔ جمعہ کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا، تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی تاحیات نااہلی سے بچ گئے تاہم الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا۔منحرف قانون سازوں میں راجا صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر احمد چوہان، محمد امین ذوالقرنین، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل

حیات اور دیگر شامل ہیں۔ان میں سے متعدد اراکین کا تعلق جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور اسد کھوکھر گروپ سے ہے۔الیکشن کمیشن نے نااہلی سے متعلق ریفرنس پر اپنا فیصلہ سہ پہر 3 بجے سنانے کا اعلان کیا تھا۔ ای سی پی نے ایک روز قبل اس کیس میں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے تھے۔الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شریف اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔کمیشن نے 17 مئی کو ریفرنس پر اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا اعلان آئندہ روز بدھ کو 12 بجے کیا جائے گا تاہم بعد میں اس اعلان کو ملتوی کردیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اہم ہے جو رواں ہفتے کے اوائل میں آیا تھا۔ آرٹیکل 63 (اے) قانون سازوں کو ‘وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں، یا اعتماد کا ووٹ یا عدم اعتماد کا ووٹ، یا منی بل یا آئینی (ترمیمی) بل پر’ پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹ دینے (یا پرہیز کرنے) سے روکتا ہے،اس آرٹیکل کی تشریح میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ پارٹی کی ہدایت کے خلاف ڈالے گئے ووٹوں کو شمار نہیں کیاجاسکتا اور انہیں نظر انداز کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کے ووٹوں نے حمزہ شہباز کو اکثریت حاصل کرنے میں مدد دی، انہوں نے مجموعی طور پر 197 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 186 ووٹ درکار تھے، اگر پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے 25 ووٹ ان کی تعداد سے نکال دیے جائیں تو وہ اپنی اکثریت کھو

بیٹھے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی نے سپریم کورٹ کی تشریح کی روشنی میں حمزہ شہباز کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ حمزہ شہباز کے 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو منحرف قرار دینے کا اعلامیہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی کو بھیجا تھا، جو وزیر اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی،پی ایم ایل (ق) کے مشترکہ امیدوار بھی تھے اس کے بعد پرویز الہٰی نے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا اور اس پر زور دیا تھا کہ ان قانون سازوں کو پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈال کر پی ٹی آئی سے منحرف ہونے پر ڈی سیٹ کیا جائے۔آ ئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر پارلیمنٹرین وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ آرٹیکل میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ متعلقہ رکن اسمبلی منحرف ہوگیا ہے لیکن اعلان کرنے سے قبل پارٹی سربراہ ‘منحرف رکن کو وضاحت دینے کا موقع فراہم کریگا۔اراکین کو ان کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دینے کے بعد پارٹی سربراہ اعلامیہ اسپیکر کو بھیجے گا اور وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا،بعدازاں چیف الیکشن کمیشن کے پاس اعلان کی تصدیق کے لیے 30 دن ہوں گے۔آرٹیکل کے مطابق اگر چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے تصدیق ہو جاتی ہے، تو مذکورہ رکن ایوان کا حصہ نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائیگی۔

Categories
پاکستان

اسلام آباد لانگ مارچ 25 اور 29 مئی کے درمیان متوقع۔۔۔عمران خان نے شہباز اینڈ کمپنی کو مشکل میں ڈال دیا

ملتان (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم اورپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اگرہم سیاست کا سوچتے تو موجودہ حکومت کو مزید چلنے دیتے، ہمیں پتا ہے جتنی زیادہ یہ حکومت کریں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا والی صورتحال کی طرف لیکر جائینگے، جلدی سے جلدی الیکشن کی تاریخ

دو اوراسمبلیوں کوتحلیل کرو۔ پشاور میں کور کمیٹی کا اجلاس ہو گا، جس میں 25 اور 29 مئی کے درمیان لانگ مارچ کی تاریخ مل جائے گی۔ملتان میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں نوجوانوں اور خواتین کے بغیر کوئی بھی انقلاب کامیاب نہیں ہوتا، شاندار استقبال پر ملتان کا شکریہ اداکرتا ہوں، یہ انقلاب آرہا ہے، مجھے کہاگیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، قرآن میں ہے جولوگ ایمان لے آئے، اللہ ان کے خوف دورکردیتا ہے، ذلت، مرنے، رزق کا خوف بڑے انسان کوایک چھوٹا سا انسان بنادیتا ہے۔ جب تک آپ خوف کے بت کو نہیں توڑیں عظیم قوم نہیں بنا سکتے، کہاگیا بلٹ پروف شیشہ لگاو، میری قوم کسی سپرپاور،چور اور ڈاکووں کے سامنے نہیں جھکی۔ اللہ سے ہمیشہ دعا کرتا تھا میری قوم کو جگا دے۔دنیا میں جس نے بھی بڑے کام کیے پہلے خوف کوختم کیا۔ خوف کے بت کو توڑے بغیر قوم کوایک عظیم قوم نہیں بناسکتے، ہمارے نبی ﷺنے پہلے لوگوں کوپیسے کی لالچ اورخوف سے آزاد کردیا تھا۔ہمارے نبی ﷺ نے دنیا کی امامت کی تھی۔ جس بیٹسمین کو تیز گیند لگنے کا خوف ہو وہ بڑا بیٹسمین نہیں بن سکتا۔ قوم سے کہنا چاہتا ہوں کرپٹ اوربزدل حکمرانوں نے خوف دلایا ہوا ہے، انہوں نے خوف دلایا جب تک امریکا کے جوتے پالش نہیں کریں گے آگے نہیں بڑھ سکتے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیکے، حکمرانوں کی وجہ سے پاکستانیوں کو ذلت ملی، مجھے ہمیشہ گھٹنے ٹیکنے پر تکلیف ہوتی تھی، ہم ایک عظیم قوم ہیں، اللہ سے دعا کی تھی

جب مجھے موقع ملے گا تو قوم کو کسی کے سامنے نہیں جھکنے دوں گا، اسی لیے 30 سال سے ملک لوٹنے والوں نے سازش کی، انہوں نے مشرف کی طرح مجھ سے این آراولینے کی پوری کوشش کی، کبھی لانگ مارچ اور کبھی اسمبلی میں برا بھلا کہا گیا، اپوزیشن کا ایک مقصد کرپشن کے کیسزمعاف کرانا تھا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ نے 11 سال اقتدار کی باریاں لی تھیں، مشرف نے دونوں پارٹیوں کو این آراودیا، دونوں پارٹیوں کے اقتدارکی وجہ سے 6 ہزارارب کا قرضہ 30 ہزارارب تک پہنچا، انہوں نے کرپشن کیسزمعاف کرنے کے لیے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ہاتھ کھڑا کر کے بتاؤ کیا مجھے ان کے کرپشن کیسز معاف کرنے چاہئیں تھے؟ لندن میں بھگوڑا بیٹھا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انشااللہ عوام کا سمندر اسلام آباد جائے گا، ہم نے صرف ایک چیزمانگنی ہے اسمبلی کب تحلیل اورالیکشن کب ہوگا ۔میں نے فیصلہ کرنا ہے کس دن اسلام آباد بلانا ہے، گھبرانا نہیں، جذبہ وجنون ہے، آج کوئی نئی ڈویلپمنٹ ہوئی لوٹوں کو نااہل کر دیا گیا ہے، اتوار کو پشاورمیں کور کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، 25 اور 29 مئی کے بیچ میں ہم نے اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرنا ہے، پرسوں تاریخ مل جائےگی تاکہ سب جانے کی تیاری کرلیں۔پی ٹی آئی چیئر مین نے مسلم لیگیوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والو خدا کے واسطے مجھے جواب دو، کیا کبھی گیدڑ لیڈر بن سکتا ہے۔ زرداری نے کہا تھا نوازشریف اٹک جیل میں اتنا روتا تھا ٹشو ختم ہو جاتے تھے، مشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب بھاگ گیا تھا، اس بار پھرجھوٹ بول کر ڈرامہ کر کے لندن بھاگ گیا،ہمارے اجلاس کے دوران شیریں مزاری بیماریاں سن کر کابینہ میں رونا شروع ہوگئی تھیں،

نوازشریف جیسے جہازپرچڑھا تو بیماری ختم ہو گئی، نوازشریف جہاز کی سیڑھیاں ایسے چڑھا جیسے اولپمک کھیلنے جارہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ والو جھوٹے آدمی کو عدالت نے سزا دی، آپ لوگ کیسے اس آدمی کے پیچھے چل سکتے ہو، چھوٹا بھائی چیری بلاسم ہے، چھوٹے بھائی نے لاہورہائیکورٹ میں نوازشریف کی واپسی کی گارنٹی دی تھی، شہباز شریف کو جھوٹی گارنٹی پربھی سزا ہونی چاہیے تھی، ان کے ساتھ وہ مل گیا جس کی آج کل قیمت بڑھانی ہے، یہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں پٹرول کی قیمت نہیں بڑھارہے، انہوں نے امریکا کے ساتھ مل کرسازش کی۔عمران خان نے کہا کہ جنوبی پنجاب والے بتائیں اتنے زیادہ لوٹے کیوں نکلے؟ اللہ کا شکرادا کرتے ہیں آج سب ڈس کوالیفائی ہو گئے، 8مارچ کو ڈونلڈ لو سفیر کو دھمکی دی تھی، ڈونلڈ لونے کہا اگرعمران کو ہٹا دیا تو معافی مل جائے گی، کیا اس قوم کوامریکا سے معافی کی ضرورت ہے، ہم ایک خود دارقوم ہیں، بدقسمتی سے ہماری اشرافیہ امریکی دھمکی سے ڈر گئے، ملک کی ایلیٹ کلاس ڈر گئی تھی سب نے ملکر 22 کروڑ عوام کے وزیراعظم کو ہٹایا، یہ سمجھ رہے تھے تحریک انصاف دفن ہو جائے گی، اللہ کا پلان ہی کچھ اورتھا اس نے میری قوم کو جگا دیا، یاد رکھنا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آرہا ہے، 30 سال سے لوٹ مار کرنے والوں کی اب قبریں بن رہی ہیں، قوم جاگ گئی ہے، ڈیزل کے خاندان کا بھی وقت ختم ہوگیا ہے، اسلام آباد میں عوام کا سمندرآنے والا ہے، ملتان والوں اسلام آباد کے لیے تیارہو۔انہوں نے کہا کہ مارچ سے پہلے میرا آج آخری جلسہ ہے،

انہوں نے پلان کچھ اور بنایا اللہ نے کچھ اورکردیا، شہبازشریف پہلے سے ہی نیشنل حکومت بنانے کا اعلان کررہے تھے، یہ سمجھ رہے تھے ڈیڑھ سال حکومت کریں گے، الیکشن کمیشن پہلے ہی ان کے ساتھ تھا، یہ سمجھ رہے تھے دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیت جائیں گے، انہوں نے تو قوم کو بتایا تھا بڑے تجربہ کارہیں، وزیراعظم کو 6 ہفتے ہو گئے ہیں کہتے ہیں صبح چھ بجے جاگ جاگ جاتا ہے، چھ بجے جاگنے سے کچھ نہیں ہو گا، ڈالر 200 کا ہوگیا ہے، اب پتا چلا ہے ان کا سارا تجربہ کرپشن کا ہے، یہ جب اقتدارمیں آتے ہیں تو پیسہ بناتے ہیں اورملک مقروض ہوجاتا ہے، پچھلے ایک سال سے سازش کرنے میں لگے تھے، اب اقتدار مل گیا تو کیوں نہیں مل سنبھل رہا؟ شہبازشریف کبھی لندن بھاگتا ہے، کبھی کہتے ہیں نیشنل سکیورٹی چیزیں مہنگی کرے، 30 سال سے مقروض کرنے والے ملک کے مسئلے حل نہیں کرسکتے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چیلنج کرتا ہوں ہمارے ساڑھے تین سالوں جتنی پہلے ترقی اور خوشحالی نہیں آئی، ایوب خان دورکے بعد ہماری حکومت میں سب سے زیادہ گروتھ ہوئی، ہماری حکومت میں ریکارڈ زیادہ ایکسپورٹ ہوئی، ہماری حکومت نے سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، ہماری حکومت میں 75 فیصد آئی ٹی کی ایکسپورٹ بڑھی، برصغیرکی نسبت کورونا کے دوران سب سے زیادہ روزگار ملا، آپ لوگوں نے اتنا زور لگا کر حکومت گرائی، شکر ہے ہماری حکومت اور انکے دور حکومت کا موزانہ ہو رہا ہے، اگر مجھے ملک کی فکر نہ ہو تو ان کو مزید حکومت میں رہنے دوں، یہ جتنی دیرحکومت میں رہیں گے اتنا ہی ذلیل ہوں گے، جنہوں نے سازش میں ساتھ دیا وہ بھی ذلیل ہوں گے، ملک کا دیوالیہ نکل رہا ہے روپے کی قدر گرنے سے ہر چیز مہنگی ہو گی۔

اگرہم سیاست کا سوچتے تو ان کو مزید چلنے دیتے، ہمیں پتا ہے جتنی زیادہ یہ حکومت کریں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا والی صورتحال کی طرف لیکرجارہے ہیں، جلدی سے جلدی الیکشن کی تاریخ دواوراسمبلیوں کوتحلیل کرو۔پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مجھے کسی نے سوشل میڈیا پر تقریر بھیجی، مریم تقریر کر رہی تھی کل، اس میں اتنی دفعہ اور اس جذبے سے اور اس جنون سے میرا نام لیا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مریم دیکھو تھوڑا دھیان کرو تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہوجائے جس طرح تم بار بار میرا نام لیتی ہو۔ ہمیشہ سوچتا ہوں ان کو اتنا زیادہ مجھ پرغصہ کیوں ہے، ان کے چچا، بھائیوں کو مجھ پر اتنا غصہ کیوں، ان کے سارے کیسز تو پیپلزپارٹی دور کے بنے ہوئے ہیں، شہبازشریف مقصود چپڑاسی کیس کے علاوہ باقی سب پرانے کیس ہے، مجھ پر اتنا غصہ کیا کیس معاف نہیں کرتا، مہذب معاشروں میں سب کے لیے قانون یکساں ہوتا ہے، جوقوم بڑے ڈاکوؤں کو نہ پکڑے وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے، ہمارا المیہ یہ ہے بڑے ڈاکوایوانوں میں اورچھوٹے چورجیل جاتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں آزاد عدلیہ کے لیے باہرنکلا تو 8 دن جیل میں گزارے، جیل میں کوئی طاقتور ڈاکو نظر نہیں آیا، جب قومی اسمبلی میں جاتا تھا وہاں بڑے مجرم، ڈاکو نظر آتے تھے، سوئٹرزلینڈ جیسا ملک دنیا کا امیر ترین ملک ہے، سوئٹرزلینڈ کا انصاف کا نظام چوروں کو جیل میں ڈالتا ہے، شہباز شریف اوراسکے بیٹے نے 16 ارب ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھجوائے، شہبازشریف اوراسکے بیٹے کو جب سزا ہونی تھی جنہوں نے سازش کی اسکو ملک کا وزیراعظم اور بیٹے کو وزیراعلیٰ بنا دیا، کیا اللہ کی برکت اس ملک میں آسکتی ہے جہاں غریب کوجیل میں ڈال دیا جائے،

اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں،عمران خان اس لیے آپ کو اسلام آباد جانے کی دعوت دینے آیا ہوں، اسلام آباد حقیقی آزادی مارچ کے لیے سب کو تیار کرنے آیا ہوں، اگر قوم اب باہر نہ نکلی تو دوغلامیاں کریں گے، ایک امریکا کی غلامی، دوسری ملک لوٹنے والے ڈاکوؤں کی کرنی پڑے گی، کیا آپ لوگ ہو؟ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے ملتان میں بہت گرمی ہے، جب انقلاب آتا ہے تو گرمی، بارش، سردی نہیں دیکھی جاتی، اگرمجھے گرمی نہیں لگتی تو آپ سب مجھ سے چھوٹے ہیں۔ جب مجھے ہٹایا گیا تو تب سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا تھا، سوچا تھا تنہا بھی نکلنا پڑا تو نکلوں گا، جب بھی اللہ کے پاس جاؤں گا تو کہوں گا میں نے پوری کوشش کی، مجھے اندازہ نہیں تھا پوری قوم میرے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔ اندازہ نہیں تھا دلیر باشعور خواتین اور سکول کے بچے بھی باہر نکلیں گے، ہرشعبے کے لوگوں نے مجھے اسلام آباد جانے کا کہا ہے، پولیس والوں نے کہا ہماری ڈیوٹی ہے لیکن گھر والے سارے جائیں گے، سول سروس کے لوگ بزدل ہوتے ہیں لیکن ان کی فیملیز نے بھی جانے کا کہا ہے، ہمارے فوجیوں کی فیملیز، سارے ریٹائرڈ فوجی بھی تیار ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آج تک فوجی قربانیاں دے رہے ہیں، غلام قوم کی کوئی قدرنہیں کرتا، اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا سمندردیکھ رہا ہوں۔ یہ سیاست سے بات اوپر چلی گئی ہے، یہ وہ انقلاب ہے جو پاکستانیوں کو ایک قوم بنا رہا ہے، ایک چھوٹے سے امریکی افسر کی کیا جرات جو 22 کروڑ پاکستانیوں کودھمکی دے، بے شرم تم ہو، تمہاری معافی کی ہمیں ضرورت نہیں انہوں نے کہا کہ ہم سب نبی ﷺ کے امتی ہیں،

دنیا میں ہمارے نبی ﷺ سب سے عظیم انسان تھے، ہمارا کلمہ کہتا ہے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکنا، ہمیں کہتے ہوروس سے سستا گندم، تیل نہیں لے سکتے، امریکی سرکار کہتی ہے روس سے تیل لینے کی اجازت نہیں ہے، بھارت امریکا کا سٹرٹیجک پارٹنر ہیں، بھارت نے امریکا کو جواب دیا آزاد ملک ہیں، روس سے تیل لیں گے، ہمارے ساتھ ہندوستان آزاد ہوا، انکی غیرت مند خارجہ پالیسی ہے، ہمارے ملک میں چیری بلاسم بوٹ پالش ہیں، شہبازشریف امریکی کو دیکھتا ہے تو کانپیں ٹانگنا شروع ہوجاتی ہیں، امریکا کو واضح کہا سب سے دوستی کریں گے کسی سے دشمنی نہیں، واضح کہا کسی کی غلامی نہیں کریں گے، امریکا کی جنگ میں 80 ہزارپاکستانیوں کی قربانیاں دیں، امریکا نے پاکستان کی قربانیوں پرایک دفعہ بھی شکریہ ادا نہیں کیا، جنگ کی وجہ سے قبائلی علاقے اجڑگئے، سوات میں40لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہمارا کیا قصورتھا؟ ہمارے ساڑھے 6 ہزارفوجیوں نے قربانیاں دیں، ہماری کیا غلطی تھی، مشرف نے گھٹنے ٹیک کرپاکستان کا نقصان کرایا، جب مجھ سے بیس مانگنے پرسوال پوچھا گیا تو’ابسولیٹلی ناٹ‘ کہا، میں نے واضح کردیا تھا امن میں ساتھ دیں گے لیکن کسی جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ مجھے 22 کروڑپاکستانیوں نے منتخب کیا تھا، میرا کام 22 کروڑپاکستانیوں کی جان ومال کی حفاظت کرنا ہے، روس، یوکرائن جنگ میں کہا گیا مذمت کریں، بھارت کشمیرمیں ظلم کررہا ہے کیا کبھی امریکا نے کشمیری مظالم کی مذمت کی ہے؟ اسرائیل فلسطین میں ظلم کر رہا ہے کیا امریکا میں اتنی جرات ہے مذمت کرے، نوازشریف، زرداری کی اربوں کی جائیدادیں باہراس لیے ان کے غلام ہیں، ان کوزرداری، نواز شریف کی عادت پڑی ہے، دونوں کے دورمیں 400 ڈرون حملے ہوئے، دونوں بے شرموں نے ایک دفعہ بھی مذمت نہیں کی،

کیا زرداری،نوازشریف میں اتنی جرات تھی کہ برطانیہ سے پوچھتے کیا ہم لندن میں الطاف حسین پربمباری کرنے کی اجازت دوگے سابق وفاقی وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ وہی ملتان ہے جس نے2013میں پی ٹی آئی کا جھنڈا گھاڑا تھا، تحریک انصاف نے ملتان سے 6نشستوں کے ساتھ کلین سوئپ کیا، آج الیکشن کمیشن نے 25 لوٹوں کا مکوں باندھ دیا ہے، آج لوٹے کی ہوگئی ٹھاہ، جب یہ حلقوں کا دورہ کریں گے توعوام کا غضب کا سامنا ہوگا۔ اس وقت عمران خان کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے، رابطے شروع ہو گئے،ٹکٹوں کے لیے لائنیں لگ گئیں، ہمارے ساتھ دو لوٹے بھی شامل ہوگئے تھے۔ جس نے وفا نہیں کی ہم ان کا محاسبہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف ہم نے اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کروائی، آج عمران خان کی مقبولیت عروج پرہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سندھ کو رورل کوٹہ دیا، ملتان وہی شہرہے جس نے 70میں بھٹو کو قومی اسمبلی کا رکن بنایا، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب سے ناانصافی کی، ن لیگ کے دور میں صرف17فیصدترقیاتی فنڈز دیئے گئے، پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی بنیاد رکھی، اگر جنوبی پنجاب کو کوئی صوبہ بنائے گا تو عمران خان ہی بنائے گا، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا تو وفاق مضبوط ہوگا، جنوبی پنجاب صوبہ چاہیے تو کپتان کا ساتھ دینا ہو گا۔ بے نظیرنے صوبہ نہیں بنایا، یوسف رضا گیلانی نے صوبہ نہیں بنایا مال بنایا، عمران خان کودوتہائی اکثریت دوگے

توصوبہ ملے گا، دوتہائی اکثریت دینا تاکہ کسی بیساکھی کی ضرورت نہ پڑے۔ خان صاحب میری آرزو ہے، اللہ عمران کو دوبارہ وزیراعظم بنائے تو جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے۔ سابق وفاقی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کیا اسلام آباد کی دعوت کے لیے ، کہتے ہیں حمزہ نے کینٹینرزکا بندوبست کیا ہے، ہاتھ کھڑا کرکے بتائیں اسلام آباد جانے کے لیے کون،کون تیارہے۔ شہبازشریف اٹھواب کوچ کرو،اسلام آباد میں دل کا لگانا کیا، شہبازشریف تمہیں جانا ہوگا کیونکہ عمران کا کاررواں تیارہے۔ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں صرف جنوبی پنجاب کا صوبہ مانگتے ہیں، عمران خان حقیقی آزادی دلائے گا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ڈاکو، چور اور بے ایمان پر کل فرد جرم عائد ہو سکتی ہے۔ امپورٹڈ حکومت کو لانے والوں نے سمجھا عمران گھر بیٹھ جائے گا، عمران خان تم سب لوگوں کو گھر بھیجے گا، اس وقت ملک میں2وزیراعظم،2وزیرخارجہ، 2وزیرخزانہ اور دو وزیر توانائی ہیں، عمران خان آج جو بھی فیصلہ کرے گا شیخ رشید حاضر ہے، صرف ایک ووٹ کا فرق ہےعمران خان حکم کرے تو دوبارہ وزیراعظم بنادوں، عمران خان اس اسمبلی سے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوسکتے ہیں۔عوام کے نعروں پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹائم نہیں ڈیزل کا ذکر چھوڑ دو۔ عمران خان میرا لیڈر ہے، میں عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں پنجاب میں گورنر راج لگایا جائے۔ پی ٹی آئی اراکین کو استعفی دینے پرسلیوٹ کرتا ہوں، عمران خان کو کہتا تھا ایمرجینسی لگاؤ، عمران خان کے لیے جان بھی قربان کرنا پڑی توکروں گا۔

Categories
پاکستان

حمزہ شہباز کی کرسی خطرے میں۔۔۔ پی ٹی آئی کی طرف سے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے وزرات اعلیٰ کے لیے اپنی حمایت میں ووٹ دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان اسمبلی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) پر مشتمل اپوزیشن اتحاد آنے والے روز میں اس دعوے کے ساتھ ضمنی انتخاب کی پیش گوئی کررہے ہیں کہ حمزہ شہباز غیر قانونی طور پر زیادہ عرصے تک عہدے پر براجمان نہیں رہ سکتے۔نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب ہونے کی صورت میں 5 خالی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ اہم کردار ادا کرے گی، ڈی سیٹ ہونے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان صوبائی اسمبلی میں سے 5 مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے۔قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن اب ان نشستوں کو پنجاب اسمبلی میں ہر پارٹی کی موجودہ تعداد کے مطابق تقسیم کرے گا، یعنی اگر پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔حمزہ شہباز نے بظاہر معزول وزیراعظم عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ‘آخری گیند تک کھیلنے’ کا فیصلہ کیا ہے تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ اور ای سی پی کے فیصلوں کے مطابق قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ پنجاب کو گھر بھیجے گی۔مسلم لیگ (ق) کے سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے کہا کہ 25 لوٹوں کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد جعلی وزیراعلیٰ کا کھیل ختم ہوگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایوان میں اکثریت کھونے کے بعد حمزہ شہباز کے پاس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ای سی پی کے فیصلے

کو اپنی فتح قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کا امیدوار ہوں اور بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے کے بعد اگر وہ مجھ سے کہیں گے تو میں اسمبلیاں تحلیل کر دوں گا۔سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آج پنجاب میں امپورٹڈ حکومت عملاً ختم ہو گئی ہے، نام نہاد وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو کچھ شرم آنی چاہیے اور فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دینے والے اور ان کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ہے، مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ای سی پی کے فیصلے کا حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔انہوں نے کہا کہ گورنر، وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتا ہے یا اپوزیشن وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا سکتی ہے، دونوں آپشنز قابل عمل نظر نہیں آتے کیونکہ گورنر کا عہدہ خالی ہے اور اپوزیشن کو وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے لیے 186 ووٹوں کی ضرورت ہے جو اس کے پاس نہیں ہیں جبکہ اسی طرح قائم مقام گورنر بھی وزیر اعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں 177 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کو مجموعی طور پر 168 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو 5 میں سے 3 مخصوص نشستیں ملیں گی،

جس سے ان کے پاس تعداد 180 ہو جائے گی۔دوسری جانب پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) پر مشتمل اتحاد کا خیال ہے کہ ای سی پی کے فیصلے کے بعد انہوں نے جو 5 مخصوص نشستیں کھو دی ہیں وہی انہیں واپس مل جائیں گی، اس طرح دوبارہ الیکشن میں وہ اپنے مشترکہ امیدوار (پرویز الٰہی) کو وزیراعلیٰ کے طور پر منتخب کرانے کے لیے بہتر پوزیشن میں آجائیں گے۔جہانگیر ترین، علیم خان اور اسد کھوکھر گروپ سے تعلق رکھنے والے ڈی سیٹ ہونے والے ارکان صوبائی اسمبلی ای سی پی کے فیصلے پر مایوس ہیں اور ان میں سے بیشتر عدالت جانے پر غور کر رہے ہیں تاہم ان میں سے دیگر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔سینئر وکیل خرم چغتائی نے بتایا کہ 5 مخصوص نشستیں پارٹیوں میں ان کی موجودہ طاقت کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی تاہم منحرف ارکان سے متعلق عدالت عظمیٰ اور ای سی پی کے فیصلوں کے بعد حمزہ شہباز کے اقتدار کی قسمت درمیان میں لٹک رہی ہے۔پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع نے بتایا ’مسلم لیگ (ن) کے وہ 5 منحرف ارکان اسمبلی جنہوں نے 16 اپریل کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا تھا، وہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ ایک حکمت عملی طے کرنے کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں‘۔پنجاب اسمبلی کے موجودہ ارکان کی تعداد 346 ہے، پی ٹی آئی کے پاس 158 ارکان اسمبلی ہیں، اس کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 10، مسلم لیگ (ن) کے 165، پیپلز پارٹی کے 7، آزاد 5 اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی سے ہے۔

Categories
پاکستان

پنجاب اسمبلی میں ہمارا پلڑا بھاری۔۔۔ مونس الہٰی کا بڑا دعویٰ

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ق)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے کہا ہےکہ ان کے پاس پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ سے زیادہ اکثریت ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہمارے پاس 172 اور (ن) لیگ کے پاس 168 ارکان ہیں

اس لحاظ سے اکثریت ہمارے پاس ہے۔ ایک سال میں متعدد بار تبادلہ، گریڈ20کےافسرنےعدالت سے رجوع کرلیا انہوں نے کہا کہ اگر (ن) لیگ اکثریت کا دعویٰ کر رہی ہے تو حمزہ شہباز کو چیلنچ کرتا ہوں اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لیں، اگر شہباز شریف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا گیا تو چوہدری سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ مونس الٰہی نے دعویٰ کیا کہ (ن) لیگ کے کئی ایم این ایز منحرف ہو چکے ہیں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے اگلی حکومت کیلئے جال بچھایا ، عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں سستی کردیں، نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے، اب مشکل آن پڑی ہے توپھرقربانی دینا پڑے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیا، اصل مسائل کا حل جاننے آیا ہوں، 2018ء اگست میں ڈالر 115 روپے کا تھا، اتحادی جماعتوں نےمجھے اپنا امیدوارچنا، ہماری حکومت میں بجلی کے منصوبے لگائے گئے، 11اپریل کومیں نے حلف لیا تو ڈالر 189کا تھا، اس اُڑان میں توہمارا کوئی قصورنہیں تھا، جس دن حلف اٹھایا توڈالرسستا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کو جب عدم اعتماد کی کامیابی کا پتا چلا تو پٹرول کی قیمتیں سستا کرنے کا مشورہ دیدیا، یہ اگلی حکومت کے لیے جال بچھایا جارہا تھا، ہماری ایک سیاسی مجبوری بھی تھی سرمنڈتے اولے پڑے، ساڑھے تین سالوں انہوں نے عام آدمی کوایک دھیلے کا ریلیف نہیں دیا، ساڑھے تین سالوں میں قرضے ہی قرضے لیے گئے۔ ماضی کی حکومت نے 22ہزارارب کے قرضے لیے، ساڑھے تین سالوں میں 80 فیصد قرضوں میں اضافہ ہوا، لاڈلی حکومت اور لاڈلے کو مقتدر ادارے نے 75سالہ تاریخ میں مثالی سپورٹ دی۔ ایسی سپورٹ اگر ہماری حکومت کو 30 فیصد سپورٹ ملتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپرجارہا ہوتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ آپ کے سامنے سب کچھ ہے ہمارے دورمیں سی پیک آیا۔ جب لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تو دوبارہ کیوں ہورہی ہے، قوم ان چھبتے ہوئے سوالوں کا جواب مانگ رہی ہے، روپیہ کی قدرتیزی سے نیچے جارہی ہے، اربوں روپے خرچ کر کے چینی کو ایکسپورٹ کیا گیا، کیا یہ سیاسی افراتفری کا نیتجہ تھا؟ ایل این جی 3 ڈالرتب ایل این جی نہیں منگوائی گئی؟ خدارا ہمیں بہت تحمل، ایمانداری سے تجزیہ کرنا ہو گا، اگرکہیں مجھ سے غلطی ہوئی تو معافی مانگنی چاہیے، ساڑھے تین سال کی حکومت میں غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹے گئے، غداری اور وفاداری کی بحث میں جائیں گے تو بات دور تک جائے گی، روپیہ ہچکولے کھارہا ہے، صورتحال سب کے سامنے ہے، کاروباری حضرات ساری صورتحال کو سمجھتے ہیں، خدارا حکومت کوحل بتائیں،ایک دورانئے کے لیے لگژری آئٹمزپرپابندی عائد کی گئی ہے، امپورٹڈ اشیا پرپابندی لگانے کا مقصد ڈالرمیں استحکام آئے، ہمیں مشکل آن پڑی ہے تو پھر قربانی دینا پڑے گی، ہماری حکومت نے سستے ترین بجلی کے منصوبے لگائے۔

Categories
پاکستان

عمران خان کی مبینہ ویڈیو کی دو کاپیاں!!! ایک امریکہ جبکہ دوسری کہاں پر ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ

کراچی(نیوز ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل االرحمن نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو فتنہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عمرانی فتنے کو سمندر برد ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ مسجد نبوی اور روضہ رسولﷺ کے تقدس کو پامال کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی ہونے چاہئے ۔ چاہے وہ برطانیہ سے آئے

یا پاکستان میں ہو ۔ ہم سب برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جب بات حرمت رسول کی ہو ، وہاں پر صبر وبرداشت اور تحمل کے بندھن بھی ٹوٹ جاتے ہیں ۔ ہم ملکی سلامتی اور بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ عمران خان کو ہم نے آئینی اور قانونی طریقہ سے ہٹایا ہے ۔ اب وہ غیر قانونی طریقہ سے آنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ عمران خان ایک فتنہ ہے ۔ اس فتنے کا قوم مقابلہ کرے ۔ کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کے لیے پہلے سیاسی عدم استحکام اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے ۔ نواز شریف کی حکومت کو ہٹا کر ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا ۔ اور عمران خان کو لاکر معاشی طور پر تباہ کر دیا گیا ۔ میں عدالت کا احترام کرتا ہوں ۔ لیکن میں احترام کے ساتھ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ جلسے میں ہونے والی بات پر ازخود نوٹس کیوں لیا گیا ۔ عدالت قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرے ۔ کسی دباو میں نہ آئے ۔ عدالت کو آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں اور یہ فیصلے کس حد تک آئین اور قانون کے مطابق ہیں ، ان کے فیصلوں سے نظر آنا چاہئے ۔ میں پاک فوج کو یقین دلاتا ہوں کہ جب بھی ملکی سلامتی اور بقا اور سرحدوں کے تحفظ کا مسئلہ آئے گا تو ہمارے یہ کارکن آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کی رات کو پریڈی اسٹریٹ میں مزار قائد کے سامنے

تقدس حرمین نبوی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ، سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو ، مولانا عبدالکریم عابد ، سابق صدر آصف علی زرداری کے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو ، اسلم غوری ، قاری محمد عثمان ، مولانا محمد غیاث ، مفتی اعجاز مصطفی ، عالمی مجلس ختم نبوت کے رہنما قاضی احسان ، مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا عمر صادق ، مولانا عبداللہ سومرانی ، قاری فیض الرحمن عابد ، مولانا فتح اللہ ضلع شرقی کے رہنما ،ضلع جنوبی کے امیر عبداللہ بلوچ ،نعت خواں حسان احسانی ،تاج محمد نایو،ضلع لاڑکانہ کے امیر علامہ ناصر خالد محمود سومرو ،بابر قمر عالم مولانا رشید نعمانی ، مولانا ڈاکٹر نصیر الدین ، مولانا حما د اللہ شاہ ، مولانا احسان اللہ ٹکروی اور دیگر نے خطاب کیا ۔اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری کے سابق مشیر اور سابق صوبائی مشیر مذہبی امور ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب اسرائیل نے فلسطین پر جارحیت کی تو اہل کراچی نے فلسطینی مسلمانوں سے بھرپور اظہار یکجہتی اسی مقام پر کی تھی ، جہاں ہم کھڑے ہیں ۔ کچھ لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے تھے لیکن آپ کی آواز اور دب دبہ نے ان لوگوں کو ایسا نہ کرنے پر مجبور کیا ۔ آج نے یہودی لابی کے ایجنٹوں نے مسجد نبوی کی بے حرمتی کی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی حرمین

شریفین کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کرے گا ، اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی ۔ جب یہودیوں نے مدینہ منورہ کی توہین کی تو اللہ کے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو عرب سے نکال دو ۔ یہودی ایجنٹوں نے اگر پاکستان میں حرم نبوی کے تقدس کو پامال کرنے کی سازش کی تو مسلمانان پاکستان سمندر میں غرق کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مکہ والوں نے بھی حضور ﷺ کو لاوارث کہا تھا ۔ مگر اللہ تعالی نے رسولﷺ کو ایسی قیامت تک ایسی امت عطا کی ہے جو حرمت رسولﷺ پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ایک ارب سے زیادہ مسلمان ناموس رسالت پر اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ آئندہ کسی نے حرمین کی توہین کی کوشش کی تو انہیں مسلمان معاف نہیں کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم تحمل اور برداشت والے لوگ ہیں ۔ ہر مشکل کو تحمل اور برداشت سے عبور کیا ہے ۔ مگر حرمت رسول پر صبر و تحمل اور برداشت کو بندھن ٹوٹ جاتا ہے ۔ عمران خان سن لو تمہیں امریکا ، برطانیہ اور یہودیوں نے آسمان پر چڑھا دیا ۔ اور نئے نئے القابات دیئے ۔ اچھا ہوا کہ تو اقتدار میں آیا ۔ تمہاری قابلیت و اہلیت کھل کر سامنے آ گئی ۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت ہے ۔ کارکردگی کے لحاظ سے ناکام اور نااہل ثابت ہوئے اور آج اپنی ذہنی اور دماغی بیماری کا اظہار کر رہا ہے ۔ عمران خان تمہاری وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی

سیاست اور اخلاقیات بدنام ہو گئی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک فتنہ ہے اور میں تمہیں متنبہ کرنا چاہتا ہوں جہاں یہ نااہل اور ناکام ہے ، وہی ایک فتنہ بھی ہے ۔ اور اس کے ماننے والے اس پر اندھی تقلید کرتے ہیں ۔ عمران خان کی تقاریر میں انتہائی قابل گرفت جملے ادا کرتے ہیں ، جس سے ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دجال اس سے بڑی باتیں کرے گا بلکہ ظاہری طور پر لوگوں کو اپنی کرامات بھی دکھائے گا ۔ عمران خان کے ساتھ جو علما ہیں ان پر ترس آتا ہے ۔ ہم ایسی فکر ، ایسے نظریہ ، ایسے فتنے کا مقابلہ کریں گے ۔ ہم نے قادیانی فتنے کا مقابلہ کیا ہے تو یہ فتنہ کیا ہے ۔ قادیانی فتنے کو ہم نے ایک ضرب سے ہٹایا ہے ، ان کو بھی ایک ضرب سے روکیں گے ، عمران خان کے جلسوں پر تبصرہ کرنے کی شرافت مجھے اجازت دیتی ۔ ایک شخص اپنی خود پسندی میں اتنا بڑا غرق ہے کہ وہ عمرے پر جانے والوں پر بھی اعتراض کرتا ہے ۔ عمران خان بتاو انیل مسرت اور جہانگیر چیکو کس ایجنڈے پر مدینہ آئے تھے۔ شیخ رشید نے کس بات کا اعلان کیا تھا ۔ سیاست کرنی ہے تو پاکستان میں کرو ۔ باہر جا کر پاکستان کو بدنام نہ کرو ۔ اس ملک میں مقابلہ کرو ۔ ہم تمہیں تمہاری اوقات یاد دلائیں گے ۔ مختلف اداروں کے خلاف یہ بدزبانی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کہا کہ امریکا کی سازش

ہوئی ہے اور کہا کہ خط آیا ہے ۔ وہ خط کیا ہے دکھاو قوم کو ۔ اب وہ خط بھول چکا ہے ۔ اس سے فرار اختیار کر رہا ہے ۔ پھر پاکستان کہ سپہ سالار کو میر جعفر قرار دیا ، جب انہوں نے آنکھیں دکھائی توکہا کہ میں نے شہبازشریف کو کہا ہے ۔ پھر کہنے لگا کہ مجھے قتل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اور کہتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ رکھا کہاں ہے ۔ پھر کہتا ہے کہ مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی ہے اور میں نے ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے میں سمجھتا ہوں کہ دو کاپیاں ہے ایک امریکا میں اور دوسری گولڈ اسمتھ کے گھر پر ۔ عمران خان قاتلانہ حملوں سے ہم گزرے ہیں ۔ اکرم درانی گزرا ہے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری گزرا ہے ۔ علما شہید ہوئے ہیں اس کے باوجود ہم میدان میں کھڑے ہیں ۔ تین سو سے زائد پولیس اور رینجرز کی سکیورٹی لے کر بھی اس طرح کی باتیں کر رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہئے اور واقعی کشمیر تین حصوں مین تقسیم ہو گیا ۔ ایک مودی کو دیا یک پاکستان کو دیا اور ایک گلگت بلتستان ہے ۔ پھر کہتا ہے کہ فوج نہ ہوتی تو پاکستان بھی تین حصوں میں تقسیم ہو جاتا ۔ یہ تین حصوں کی تقسیم کا فارمولا کہاں سے لے کر آیا ہے ۔ کسی بھی ملک کو تقسیم کرنے کے لیے دو

مراحل ہوتے ہیں ۔ پہلا مرحلہ سیاسی عدم استحکام اور دوسرا معاشی عدم استحکام پیدا کیا جائے ۔ نواز شریف کی حکومت گرا کر سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا ۔ اور پھر عمران خان کی حکومت لا کر معاشی عدم استحکام پیدا کر دیا گیا ۔ یہ دو مراحل پیدا ہوگئے ہیں ۔ معاشی عدم استحکام اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے سے بغاوت پیدا ہوتی ہے ۔ شکر ادا کرو کے پاکستان کے سیاسی قیادت نے ملک کو جوڑ رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر بغاوت کو سراٹھانے نہیں دیا اور عوام بھی قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے کسی بھی باغی کی حمایت نہیں کی ۔ اس وقت عمران خان اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ پھر اقتدار میں آئے اور ملک کے باقی بچے کچے حصے کا بھی خاتمہ کرے ۔ ہم نے اس ملک کی بقا اور تحفظ کی قسم کھائی ہے ۔ میں پاک فوج کو بھی یقین دلاتا ہوں کہ کوئی بھی مشکل آئی ہے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور یہ یوتھیے کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ ملکی بقا اور سلامتی کے لیے ہم ہر جگہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہ کرے ۔ اسٹیبلشمنٹ کا بیان کہ ہم نیوٹرل رہیں گے پر انہیں جانور کہا گیا ۔اس کے بعد فوج کے خلاف باتیں شروع کی گئیں ۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیان کا حوالہ دیتا ہوئے کہا کہ فوج حکومت کی نہیں بلکہ ریاست کی چوکیدار ہے ۔ عمران خان تمہیں پاکستان کے عوامی نمائندوں نے مسترد کر دیا ہے ۔ تمہیں شکایت کا

کوئی حق نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج میں بڑے احترام کے ساتھ محترم عدالتوں سے شکوہ کرنا چاہتا ہوں ، جب وزیر اعظم نے آئینی اور قانونی اختیارات کو استعمال کیا تو آپ نے عمران خان کے جلسے کی تقریر پر ازخود نوٹس کیوں لیا ۔ عمران خان نے ایک تقریر کی تو اس پر ازخود نوٹس لیا ۔ اگر یہی کرنا ہے تو آپ آئیں اور حکومت کریں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر آپ نے جلسوں کی تقریروں پر ازخود نوٹس لینا ہے تو پھر اگر دیگر پارٹیوں کے لوگ بھی آئیں تو پھر کیا منظر ہو گا ۔عدالتوں کو انصاف اور آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے چاہئیں ۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے کو بعد میں ایف آئی اے کا ڈائریکٹر لگادیا گیا ۔ جب بشیر میمن نے کہا کہ عمران خان مجھے بلا کر کہتا تھا کہ لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کرو تو اس پر آپ نے اس پر ازخود نوٹس کیوں نہیں لیا ۔ جسٹس صدیقی کی چیخ و پکار پر آپ نے ازخود نوٹس نہیں لیا ۔لیکن آپ نے ایک جلسے میں کی ہوئی بات پر ازخود نوٹس لے لیا ۔ ہم آپ کی باتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر آپ خود شکایت کا موقع دے رہے ہیں تو پھر ہم سے شکوہ نہ کریں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مشکل یہ نہیں ہے کہ ملک کو عمران خان نے بٹھا دیا ہے سوال یہ ہے کہ اب اس کو کیسے اٹھایا جائے ۔ کیونکہ عمران خان کو تباہی کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے ۔ عمران خان ڈالر کو 200روپے تک لے جانے کا ایجنڈا تھا ۔ جب تک اس ملک میں اداروں کا اعتماد بحال

نہ ہو اور لوگوں کو یقین نہ ہو کے اس کو دوبارہ لانے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے تو اس وقت تک بہتری نہیں آ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں ۔ لوگ ان ہونے والے جلسوں کا اثر نہ لیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان روز اپنا بیانیہ بدل رہا ہے ۔ ہم تو اپنے بیانیہ پر آج بھی قائم ہیں ۔ ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے ۔ صوبوں کے حقوق کی بات کرنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن کو چور کہتے ہیں ان کو دوست ممالک اور عالمی مالیاتی ادارے پیسہ دینے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن اس عمران کو کوئی قرضہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں چور چور کے نعرے لگائے ، جس ملک کے بادشاہ کی گھڑی تک چوری کی ۔ اب دنیا تم پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ کوئی مسلمان پاکستان کی تباہی اور نقصان کے لیے اس کے ساتھ شریک نہ ہو ۔ یہ بات میں درد دل کے ساتھ کہہ رہا ہوں ۔ عمران خان کے جانے سے بین الاقوامی نیٹ ورک ملے ہوئے خاندانوں اور افراد میں صف ماتم بچھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس فتنے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اپنے جلسہ و جلوس جاری رکھیں گے ۔ ہمارے اکابر انگریزوں کے خلاف صدیوں لڑتے رہے اور یہ پرچم اسی کی نشانی ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ

عمران خان کی حکومت کو ہم نے ماورائے آئین نہیں بلکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئینی طریقہ سے ہٹایا ہے ، جس کے بعد وہ پاگل پن کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ ان کے لوگوں نے مسجد نبوﷺ میں روضہ رسول اور مسجد نبوی کے تقدس کو پامالا کیا اور پوری دنیا میں پاکستان کی شرمندگی کا باعث بنے۔ جو لوگ اس میں ملوث تھے ، ان کو اب تک کیفرکردار تک پہنچنا چاہئے تھا ۔ لیکن ملزمان کو ابھی تک سزا نہیں ملی ہے ۔ روضہ رسولﷺ کے سامنے بلند آواز میں بات کرنا بھی منع ہے ۔ انہوں نے نعرہ بازی کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد نبوی میں حرم کے تقدس کو پامال کرو ۔ اگر تمہیں وزیر ا عظم پر اپنے غصے کا اظہار کرنا تھا تو وہ کسی اور جگہ پر بھی کر سکتے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ عمل عالمی سازش اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ برطانیہ سے لوگ شریک ہوئے اور کچھ لوگوں نے یہاں باقاعدہ اس کا اعتراف کیا ۔ عمران خان نے ملک کو تماشابنایا ہے ملک کی معیشت تباہ کر دی ۔ اخلاقیات اور سماجی رویوں کو تباہ کر دیا ۔ نوجوانوں کو گمراہ کیا ۔ معیشت کی تباہی اور ڈالر 190 تک ان کے دور میں پہنچا اور اب ذمہ داری ہماری حکومت پر ڈالی جا رہی ہے ۔ ہم نے طے کر لیا ہے کہ اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست جہاں پر انبیا کرام ، صحابہ کرام کی عظمت کا تقدس ہمیشہ قائم رہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کراچی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے مسجد کو شہید کرنے کی بات کی ۔ لیکن عوام نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔ توہین مذہب جو بھی کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی ۔

Categories
پاکستان

تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ سے قبل حکومت حرکت میں آگئی! ہلچل مچا دی

اسلام آباد )نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ سے قبل آئی جی اسلام آباد حسن یونس کو تبدیل کرکے اکبر ناصر خان کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ سے قبل حکومت نے اسلام آباد پولیس میں اکھاڑ بچھاڑ کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد احسن یونس کو

عہدے سے ہٹادیا اور اکبر ناصر خان کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کردیا گیاایس ایس پی آپریشنز محمد فیصل کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور گریڈ 19 کے سہیل ظفرچٹھہ کو وفاقی پولیس میں تعینات کردیا۔ایس ایس پی یاسرآفریدی کو خیبر پختوںخواہ سے وفاقی پولیس میں تعینات کردیا گیا۔خیال رہے گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پشاور میں کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اسلام آباد مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان پرسوں کیا جائے گا تاہم یہ مارچ 25 سے 29 مئی کے درمیان ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حقیقی آزادی مارچ میں صرف ایک ہی مطالبہ ہوگا کہ اسمبلی تحلیل اور فوری الیکشن کرائے جائیں۔دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بڑی تبدیلی، رانا تنویر نے چیئرمین شپ سے استعفیٰ دےدیا ہے۔نئے چیئرمین کی تقرری کے لئے پی اے سی کا اجلاس پیر تئییس مئی کو طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے چیئرمین پی کی تقرری کا امکان ہے۔گزشتہ چیئرمین پی اے سی رانا تنویر وفاقی کابینہ کاحصہ ہیں، اٹھارویں ترمیم کےبعدسےچیئرمین پی اے سی کاعہدہ اپوزیشن کو دیا جاتارہاہے جبکہ راناتنویر نے گزشتہ اجلاس میں نئے چئیرمین کی تقرری کا عندیہ دیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز راجا ریاض نے اپوزیشن لیڈر کیلئے اپنے کا غذات نامزدگی سولہ اراکین کے دستخط کے ساتھ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائے تھے جنہیں منظور کرتے ہوئے انہیں قائد حزب اختلاف بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے۔اب قائد حزب اختلاف راجا ریاض پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔

Categories
پاکستان

بچوں کی موجیں لگ گئیں!!!!تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان

پشاور(نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق میدانی علاقوں میں موسم گرما کی چھٹیاں یکم جون سے 14 اگست تک ہوں گی۔صوبے کے پہاڑی علاقوں میں یکم جولائی سے 31 جولائی تک تعلیمی اداروں میں گرمی کی چھٹیاں ہوں گی۔واضح رہے کہ وفاقی

وزیر تعلیم رانا تنویر کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی تھی جس میں وفاق کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی پرائمری کلاسز کی بندش کی توثیق کی گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کا دورانیہ بھی کم کر دیا گیا ہے، چھٹی جماعت سے آگے کی کلاسز صبح 8 سے ساڑھے 11بجے تک ہوگی۔وفاق کےتعلیمی اداروں میں یکم جون سے 30 جولائی تک گرمیوں کی چھٹیوں کی تجویز دی گئی ہے۔اس سے قبل وفاقی نظامت تعلیمات نے گرمی کی شدت کےسبب نئی پالیسی جاری کردی ، جس کے تحت تمام سرکاری اسکولوں میں مانٹیسری سے 5 ویں جماعت تک کو چھٹیاں دیدی گئیں۔پالیسی کے مطابق 5 ویں اور 8 ویں کے بورڈ امتحانات کا وقت صبح 8 سے 11 بجے تک کردیا گیا۔