Categories
پاکستان

منی بجٹ تیار!! کون کونسی چیزیں مہنگی ہونے جا رہی ہے ؟ سن کر آپ حیران رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) میمونہ حسین اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ’’ آج یہ کالم لکھتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ جب سے شعور سنبھالا ہے ایک ہی بات سنتے چلے آئے ہیں کہ ملک کی معاشی صورت حال نہایت نازک ہے،ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے،ملک پچھلے75 سال سے نازک صورت حال میں ہی ہے

مگر جو حکمرانی کے لیے آتا ہے اُس کی حالت نازک نہیں رہتی وہ تو خوب پھلتا پھولتا ہے بلکہ وہ تو آنے والی اپنی سات نسلوں تک کو سنوار لیتا ہے مگر اُن سے پوچھے گا کون؟مجھے اسفند یار ولی کے گولڈن لفظ یاد آرہے ہیں کہ ایک بار جو منسٹر بنتا ہے وہ اپنی سات نسلوں جتنا کما لیتا ہے۔اب اِسی بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک آج اِسصورت حال تک کیسے پہنچا؟سب سے اہم بات یہ کہ جماعت کوئی بھی ہو آپ احتساب کے لیے کسی پر بھی ہاتھ ڈالیں گے تو شور،احتجاج،جمہوریت خطرے میں،ملک کا دیوالیہ جیسے الفاظ کہہ کرجان چھڑا لی جاتی ہے۔ باتیں تو سب کرتے ہیں مغرب کی مگر کام ایک بھی اُن جیسا نہیں۔ملک سے باہر جا کر یہ خود لائینوں میں بھی لگ جاتے ہیں مگر یہاں عوام کو آٹے کے لیے لائینوں میں لگواتے ہیں۔پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو اُس نے بھی کوئی تیر نہیں مارا مگر کاموں کو مزید بگاڑ کر رکھ دیا۔پی ٹی آئی کے ایسے کئی ایم پی اے اور ایم این ایز کو میں ذاتی طور پہ جانتی ہوں جن کی حالت الیکشن لڑنے والی تو دور کی بات ہے، خود کے پیسوں سے اپنے سوٹ تک نہیں سلوا سکتے تھے مگر آج وہ بڑی پراڈو میں گھوم رہے ہیں۔ان کا احتساب کون کرے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ گذشتہ روز نوجوانوں کے لیے قرضے کی سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو وسائل اورحالات مہیا کیے جائیں تو وہ پاکستان کو اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔بے شک نوجوانوں کی آبادی پاکستان کے لئے قیمتی سرمایہ ہے۔ کیا ہم شہباز شریف کی بات پر اعتبار کر سکتے ہیں؟یہ بات میں اِس لئے کہہ رہی ہوں کہ اِس سے پہلے بھی بہت سی سکیمیں نکلتی رہی ہیں،جب بھی آئی ایم ایف سے قرض لیا گیا نئی سے نئی سکیم کو بھی ساتھ متعارف بھی کروایا گیا مگر سب بے سود رہیں۔اس سے پہلے پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں کامیاب نوجوان سکیم کو متعارف کروایا جس کے نتائج آپ سب کے سامنے ہیں کہ کتنے لوگ اِس سے مستفید ہو سکے؟یہ پروگرام تو اُن سیاستدانوں کے ارد گرد خوشامدی،اشرافیہ،ہی کے مستفید ہونے کے لئے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیشہ سے یہ سیاست کی نذر ہی ہو جاتے ہیں۔بے چارے عوام کو تو آٹا بھی کنٹرول ریٹ پر لینے کے لئے لائنوں میں لگنا پڑتا ہے، وہ اِن سکیموں سے کیسے مستفید ہوں گے؟اِس سے پہلے لیپ ٹاپ سکیم،ییلو کیپ سکیم،سستی روٹی سکیم،بے نظیر انکم سپورٹ، احساس پروگرام اگر آج بھی ان سکیموں کا آڈٹ کروایا جائے تو بڑے پیمانے پر کرپشن نظر آئے گی۔اب آئی ایم ایف شرائط مان کر مِنی بجٹ کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں گیس مہنگی،بجلی پر سبسڈی ختم،پٹرول پر لیوی ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ،ان تمام اہداف کو پورا کرنے کے لئے آئی ایم ایف کو مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اب سوچئے لوگ تین وقت کی روٹی سے دو وقت کی روٹی پر آ گئے ہیں کیونکہ صرف پٹرول پر ہی لیوی ٹیکس کو بڑھا دیا جائے تو تمام اشیائے خورونوش میں خودبخود اضافہ ہو جائے گا روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں دوگنا ہو جائیں گی۔ عوام کی قوت خرید تو پہلے ہی نہیں ہے قیمتوں کے مزید اضافے سے ایک نیا طوفان آجائے گا۔اِن اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عوام جب بنیادی ضروریات ہی پوری نہ کر سکے تو یقینا سٹریٹ کرائم،چوری،اور ڈکیتیوں میں اضافہ ہو گا اور ایسا دیکھنے اور سننے میں آبھی رہا ہے اگر ہم جان بوجھ کر اَن دیکھا کر دیں تو وہ الگ بات ہے۔ منی بجٹ کا مسودہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔منی بجٹ میں بجلی ساڑھے سات روپے مزید مہنگی،گیس کی قیمتوں میں 74فیصد اضافے کی تجویز،میٹھے مشروبات اور سگریٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز، لگژری اشیاء پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے،اور 70ارب روپے کے لگ بھگ اشیاء پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم۔اس کے علاوہ جوتوں کی صنعت الگ سے ڈسٹرب ہے کیونکہ را میٹریل،جوتوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کے ریٹس بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں جس سے جوتوں کی قیمتوں میں بھی ہو شوربا اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ جوتوں کی صنعت پر بروقت توجہ کی ضرورت ہے۔اگر ایک ایک کرکے یونہی مسائل جنم لیتے رہے تو مستقبل قریب میں ڈر ہے کہ پاکستان کی پراڈکٹ کی پرائز کنٹرول سے باہر ہونے کی وجہ سے کوئی ہماری پراڈکٹ کو پوچھے گا بھی نہیں ہماری ایکسپورٹ مزید خطرے میں آسکتی ہے۔

اِس سے پہلے عمران خان کو نوجوانوں کی بہت فکر تھی، اُنہوں نے ذمہ داری کیسے نبھائی، وہ آپ سب لوگ جانتے ہیں اور اب شہباز شریف بھی نوجوانوں کے لئے بہت فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان کی تقریباً 65فیصد آبادی 30سال سے کم عمر ہے جبکہ29فیصد آبادی 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔یو این ڈی پی کے مطابق آبادی میں نوجوانوں کا تناسب اِس وقت بلند ترین سطح پر ہے۔ 2050ئتک ملکی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب اِسی طرح برقرار ہے گا۔آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نوجوانوں کے لئے جو ملک و قوم کی ترقی کا اہم حصہ ہیں اُن کے لئے اہم پلان اور حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔اس وقت جو صورت حال ہے،اُس میں ہمارے نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیم و تربیت کا فقدان بھی دکھائی دیتا ہے۔ہمارا نوجوان اِس گلوبل ولیج میں مسابقت کے ہاتھوں مار کھا رہا ہے۔اُس کے مقابلے میں خطے کے دیگر ممالک، مثال کے طور پر انڈیا اپنے نوجوانوں کو بہتر تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔اِس وقت ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کرنے کی بجائے صرف بھارت ہی کی بات کریں تو بھارت پچھلے چار سال میں بہت سے ایسے اقدامات،اور دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کرکے خود کو بہتری کی طرف لے گیا ہے۔بھارت نے دبئی،سعودی عرب،ایران، اور مسلم ممالک کے ساتھ نہ صرف تعلقات بہتر کیے بلکہ اپنے ملک میں انویسٹمنٹ بھی کروائی۔ آج بھارت آئی ٹی میں بھی ہم سے بہت آگے ہے، مہنگائی بھی کنٹرول ہے اور ترقیاتی کاموں پر دھیان اور چھوٹے بڑے بے شمار ڈیم بھی بنائے، آج اگر کہا جائے کہ انڈیا ہم سے معاشی لحاظ سے بہتر ہے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ آج انڈیا پاکستان کی حالت کو دیکھ دیکھ کے لطف اندوز ہو رہا ہے،اب بھی اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور یونہی جمہوریت، جمہوریت کھیلتے رہے تو مستقبل قریب میں حالت مزید بھیانک ہو سکتی ہے۔

Categories
پاکستان

ڈیفالٹ کا خطرہ!! پاکستانی معیشت کی زوال کی بڑی وجہ کیا ؟ اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) لیاقت بلوچ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ’’ آج ملک تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ سْود اور قرضوں کی بنیاد پر قائم معیشت کبھی ترقی نہیں کرسکتی، سوشلزم اور کمیونزم کی ناکامی کے بعد سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی کشتی بھی دْنیا بھر میں ہچکولے کھارہی ہے اور ڈوبنے کے قریب ہے۔

عالمی کساد بازاری نے دْنیا بھر کی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ پاکستان اور دْنیا بھر میں معاشی، سیاسی سمیت تمام بحرانوں کا حل اسلامی نظامِ معیشت، معاشرت و حکومت میں ہے۔ جتنی جلد ہمارا حکمران طبقہ اس بات کا ادراک کرلے، اتنی ہی جلد ہم بحیثیت قوم سنبھلنے اور ترقی و استحکام کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پاکستان کی گزشتہ 75 سالہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حکمرانوں نے ملک و قوم کے مفاد کی بجائے ہمیشہ ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور پاکستان کو معاشی بحران کے ایسے گرداب میں دھکیل دیا جس سے نکلنا آسان بات نہیں۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک جیسا کہ سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کا سہارا ڈوبتی ہوئی معیشت کو چند سانسیں تو فراہم کرسکتا ہے لیکن اس سے دیرپا معاشی استحکام ممکن نہیں۔ ملک و قوم کو موجودہ معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے صحیح معنوں میں ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر پائیدار معیشت کی تعمیرکرنا ہوگی، جو صرف اسلامی نظامِ معیشت کے نفاذ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی اس حوالے سے اپنے تاریخی فیصلے میں حکومت کو سال 2027ء تک بنکاری نظام کو سْود سے مکمل پاک کرنے کی ڈیڈ لائن دے چکی ہے، جس پر سنجیدہ عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے۔تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں کمی، افراط زر کی شرح میں اضافہ، بڑھتے ہوئے مالیاتی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث اب یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ پاکستانی معیشت تباہی کے دہانے پر اور خدانخواستہ ڈیفالٹ کے قریب ہے۔ اپوزیشن کیساتھ ساتھ اب تو خود حکومت بھی یہ حقیقت تسلیم کررہی ہے کہ ملکی اقتصادی نظام تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دوست ممالک کی طرف سے امداد اور ڈیپازٹس خوش آئند اور اْن کی پاکستان دوستی کا عملی ثبوت ہے، جس کے لیے پوری پاکستانی قوم ان کی شکر گزار ہے، لیکن دوسری طرف حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں سے توبہ کرنے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کرکے غیرترقیاتی اخراجات کا بوجھ کم کرنے کی بجائے جب سونے کا کشکول لے کر بیرون ملک امداد کے نام پر بھیک مانگنے جاتے ہیں تو خود بقول وزیر اعظم انہیں دْکھ ہوتا ہے کہ ایک ہاتھ میں ایٹم بم رکھنے والا ملک دوسرے ہاتھ میں کشکول لیے امداد کے لیے دربدر پھرنے پر مجبور ہے۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ملک و قوم کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود یہی حکمران ہیں جو مگر مچھ کے آنسو بہاکر قوم سے جھوٹی ہمدردی کا ناٹک کررہے ہیں۔
معاشی گرداب سے نکلنے کے لیے اپنے تئیں اقدامات کے بجائے حکومت کا سارا انحصار بیرونی امداد اور سْودی قرضوں پر ہے، قرضے مزید بڑھنے سے معیشت دبتی چلی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آزاد ذرائع کے علاوہ خود وفاقی حکومت بھی معاشی بدحالی کا رونا رورہی ہے تو پھر اسے درست کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز اپنے گھر سے کیوں نہیں کیا جاتا؟ اگر عوام سے ٹیکس لینا ہے تو خود حکومتوں کو بھی ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے عوام کو یقین آجائے کہ عوام سے اکٹھا کیا گیا پیسہ حکومتوں کی عیاشیوں پر خرچ نہیں ہو رہا۔ حکومتی وزرا کی ٹیکس تفصیلات دیکھیں تو ان سے کچھ لینے کے بجائے دینے کو جی چاہتا ہے لیکن ان کا لائف سٹائل دیکھیں تو ماضی کے عیاش حکمرانوں /بادشاہوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ بڑے صنعت کار و تاجر بھی یہی کہتے ہیں کہ تجارتی پابندیاں عائد کرنے اور ٹیکس در ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ حکومت بھی اپنے شاہانہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج، عدلیہ اور بیورو کریسی کا ٹرائی اینگل اگر نیک نیت ہو جائے تو قوم موجودہ بدترین معاشی اور سیاسی بحران سے نکل سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے سیاستدانوں اور پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے دردِ دل رکھنے والے سرمایہ داروں کو بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔ پہلے عالمی مالیاتی اداروں سے سخت ترین شرائط پر قرضوں کے معاہدے کیے گئے، پھر آئی ایم ایف کی ایماء پر پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، اشیائے خورد و نوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافہ کیساتھ ساتھ سبسڈیز ختم کردی گئیں۔ اب آئی ایم ایف نے اپنی اقساط کو مزید 400 ارب روپے کے ٹیکسز سے مشروط کرکے غریب پاکستانی عوام کو زندہ درگور کرنے کے لیے نیا جال بچھایا دیا ہے۔ حکمران اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرض در قرض کی پالیسیوں نے نہ صرف عوام بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کردیے ہیں۔ ایسے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ آنے والے مہینے ملک و قوم کیلئے سخت تر ہوں گے، روپے کی قدر میں مزید گراوٹ سے افراط زر میں اضافہ کا امکان ہے۔

ایک طرف حکومت اپنے کرپشن کیسز ختم کرانے کے لیے کوشاں ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم، وزیر خارجہ بھاری بھرکم وفود لے کر سرکاری خرچ پر پوری دنیا کے سیر سپاٹے میں مسلسل مصروف عمل ہیں، جس کا حاصل حصول کچھ نہیں۔ لہٰذا جب تک حکومت، مراعات یافتہ طبقہ اپنے لائف سٹائل اور طرزِ حکمرانی میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے، عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ بجٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق حکومتی اخراجات کا 30 اعشاریہ 7 فیصد قرضوں اور سْود کی ادائیگیوں میں چلاجاتا ہے، جسے گرتی ہوئی وصولیوں کے ساتھ سہارا دینا ممکن نہیں۔ درآمدات کے دباؤ اور برآمدات کی کمی، نیز ہنڈی/حوالہ کے ذریعے ڈالرز کی سمگلنگ کے باعث ملک میں ڈالرز کی قلت پیدا ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے حکومت ایل سیز کھولنے سے خوفزدہ ہے۔ پورٹ پر 5700 کنٹینرز بحری راستے بیرون ممالک سے سامان/ خام مال لاکر کھڑے ہیں لیکن ڈالرز کے آؤٹ فلو کے خوف سے حکومت انہیں ریلیز نہیں کررہی۔بندرگاہوں پرملکی صنعتوں / کاروباروں کے لیے لائے گئے سامان سے لدے کنٹینرز ریلیز نہ ہونے سے اب تک 12 ارب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔ ملک میں 60 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی ٹیکسٹائل، فارما، آٹو، اسٹیل انڈسٹریز میں سے 25 فیصد بند ہوچکی ہیں۔ جس کے نتیجے میں تقریباً ایک کروڑ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ خام مال کی عدم فراہمی کے باعث دواساز کمپنیوں کی بندش سے ملک میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت کا خطرہ ہے۔ آٹا، چینی، چاول، گوشت، گھی، دالوں سمیت ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اور مسلسل اضافہ نے عام آدمی کو فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے۔ اب تو دوتین وقت کیا، ایک وقت کی روٹی کھانا بھی عام آدمی کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔

Categories
پاکستان

سیاسی انتقام یا حقیقی واردات!!!! پرویز الہٰی مشکل میں، قریبی ملازمین نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

لاہور: (ویب ڈیسک) شکیل انجم اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ’’ اس وقت جب سیاست تہذیب کی پست ترین سطح پر ہے۔۔گالی شعور کا حصہ اور عارضی مقبولیت کا پہلا زینہ تسلیم کیا جا چکا ہےاور سیاستدان ہر وہ کام کرنے میں فخر محسوس کرتے جسے کبھی گمراہی سمجھا جاتا تھا۔۔

اس وقت جب ملک سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے، سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کےدو ذاتی ملازمین کو اسلام آباد سے شراب کی برانڈڈ بوتلیں لاہور لے جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ خبر آتے ہی پہلا شبہ ذہن میں یہی آیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سیاسی انتقام کی جکڑ میں آ گئے ہیں۔۔اور انہیں ان کے گھر کے بھیدیوں کے ذریعے ایسے مقدمہ میں الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ثابت کرنا تو ممکن دکھائی نہیں دیتا لیکن ان کی سیاسی ساکھ کو کسی حد تک نقصان ضرور پہنچایا جا سکتا ہےلیکن انتہائی سرعت کے ساتھ کی جانے والی تفتیش جیسے جیسے آگے بڑھی اور منظر کھلنے لگا تو یہ بات دستاویزی شواہد کے ساتھ سامنے آئی کہ گرفتار کئے جانے والے چوہدری پرویز الٰہی کے دونوں ملازمین ۔محمد زمان ولد قربان حسین اور محمد اجمل ولد محمد یونس نے ۔۔مجسٹریٹ درجہ اول اسلام آباد کی عدالت میں 164ظ ف کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کے حکم پر ان کے لئے پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے شراب لینے آئے تھے لیکن شمس گیٹ کے قریب پولیس ناکے پر پکڑے گئے۔ عدالت میں تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے مبینہ ذاتی محافظ (گن مین) محمد زمان ولد قربان حسین نے کہا “میں تقریبا” دس سالوں سے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ گن مین ہوں۔ 26 جنوری 2023 کو تقریبا” 12 بجے دوپہر چوہدری صاحب نے مجھے لاہور والے گھر میں بلایا اور ایک شاپر (لفافہ) جس میں پیسے تھے، دیا اور ہدایت کی کہ اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں فہیم صاحب کو دینا ہے اور اس کے بدلے وہ جو بیگ دیں گے وہ واپس چوہدری صاحب کو پہنچانا ہے۔۔حسب ہدایت ہم فہیم کے پاس پہنچے اور رقم والا شاپر اس کے حوالے کیا اور اس بدلے بریف کیس لیا جس میں شراب کی تین بوتلیں تھیں جو چوہدری صاحب کو پہنچانی تھیں۔۔مجھے یہ پتہ ہے کہ فہیم چوہدری صاحب کا خاص آدمی ہے اور چوہدری صاحب نے ہی اسے پنجاب ہاؤس میں ملازمت دلائی تھی۔”

اسی الزام میں گرفتار کئے جانے والے دوسرے ملزم محمد اجمل ولد محمد یونس نے زیر دفعہ 164 ظ ف کے تحت اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا، “میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ گزشتہ 16 سال سے بطور ڈرائیور کام کر رہا ہوں۔۔چوہدری صاحب کے حکم پر 26 جنوری 2023 کو ان کے گن مین محمد زمان کے ہمراہ اسلام آباد پہنچا اور فہیم نامی شخص سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی اور ہدایت کے مطابق شاپر فہیم کے حوالے کیا اور اس سے بریف کیس لے کر واپس روانہ ہو گئے۔۔راستے میں پولیس نے ناکے پر روک کر چیک کیا اور تین بوتلیں شراب بر آمد کر کے گرفتار کر لیا۔ مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ فہیم چوہدری صاحب کا فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا ہے اور ان کے پیسوں کے لین دین، مختلف ‘پارٹیوں’ کا اہتمام کرتا ہے۔۔اسی مقصد کے تحت اس پنجاب ہاؤس میں ملازمت دلائی تھی۔اسی طرح چوہدری پرویز الہیٰ کی ایف ایٹ تھری اسلام آباد والے گھر میں ہونے والی ‘پرائیویٹ’ پارٹیوں کے اہتمام کرنے کی ذمہ داری پنجاب ہاؤس کے ملازمین عاصم چیمہ اور ارشاد اللہ کی ہوتی ہےلیکن میرا ان تمام باتوں سے کوئی تعلق نہیں مجھے اس کام کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ میرا شراب کی بوتلوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔” اگرچہ چوہدری صاحب کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کی ایک بڑی خبر فواد چوہدری کی گرفتاری ہے جنہیں الیکشن کمیشن کی درخواست پر اس کے حکام کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں عدالت میں پیش کرتے جو انداز اختیار کیا گیا اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کی تضحیک کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ درست کہ اہل قلم نے یہ سوچے بغیر کہ فواد چوہدری اور شہباز گل کی جانب گزشتہ دور میں انتہائی درجے کی توہین اور بد زبانی کے باوجود ان کے خلاف موجودہ حکومت کی جانب سے روا رکھے گئے رویے پر بھر پور رد عمل ظاہر کیا۔۔ فواد چوہدری اور شہباز گل اس وقت کہاں تھے جب تحریک انصاف کے دور میں بزرگ سیاستدان، صحافی اور معلم عرفان صدیقی کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے آدھی رات کے وقت ان کے گھر سے اس الزام میں ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے اپنے کرایہ دار کی رجسٹریشن نہیں کرائی تھی اور اس مکان سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔سب لوگ اس بات کے بھی گواہ ہیں “وقت کے فرعون” کے حکم پر عرفان صدیقی کو “دہشتگردی” کے “جرم” میں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کی بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا اور ان کا ریمانڈ حاصل کیا گیالیکن ان کو اپنے اعمال و اطوار پر شرم نہیں آتی۔۔

Categories
پاکستان

پنجاب میں سیاسی ہلچل!! مسلم لیگ ن کو دوبارہ کون زندہ کر سکتا ہے؟ حقائق منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) مزمل سہروردی لکھتے ہیں کہ’’ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر بننے کے بعد مریم نواز ملک میں واپس آگئی ہیں۔ ان کی واپسی پر ان کا استقبال بھی ہوگیا ہے۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ استقبال بڑا تھا یا چھوٹا۔ لیکن ایک جماعت جس نے کافی عرصہ سے اپنے ووٹر اور کارکن کو گھر سے نہ نکالا ہو۔

اس نے یہ کام شروع کیا ہے۔ اس لیے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم فروری سے پنجاب کے تمام اضلاع کے دورے پر نکل رہی ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ وہ اپنے کارکن میں کتنا جوش پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کے لیے یہ یقیناً یہ ایک مشکل ٹاسک ہے، لیکن نا ممکن نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ماضی میں ایسے مراحل سے کافی دفعہ گزر چکی ہے۔اس لیے ان کے لیے یہ کوئی بات نہیں ہے۔ مریم نواز کی واپسی کے بعد اور ان کے پنجاب کے دوروں کو اگر کامیاب بنانا ہے تو حمزہ شہباز کو بھی وطن واپس آنا ہوگا۔ حمزہ شہباز اپنی والدہ کے علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ والدہ دنیا میں ہر چیز سے قیمتی ہے۔ والدہ کے لیے ایک نہیں ہزار سیاست کے کیریئر بھی قربان کیے جا سکتے ہیں۔ حمزہ شہباز کی اپنی والدہ سے محبت کوئی نئی نہیں ہیں۔ مشرف کے دور میں جب ان کی والدہ کو جلا وطن کیا جا رہا تھا تو حمزہ شہباز نے اپنی والدہ کو چھپا لیا تھا۔ا ور پولیس ان کی والدہ کو بازیاب کروانے کے لیے ماڈل ٹاؤن کے مختلف گھروں میں چھاپے مارتی رہی۔ اسی لیے ان کے علاج کے لیے پاکستان سے چلے گئے اور ابھی تک بیرون ملک ہیں۔ اطلاعات یہی ہیں کہ اب ان کی والدہ کی طبیعت بہتر ہے۔ بہرحال مریم نواز نے اگر پنجاب میں کامیاب ہونا ہے اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں تو حمزہ شہباز کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ حمزہ شہباز کا پورے پنجاب میں ہر کارکن اور ہر سیاسی گھرانے سے ذاتی تعلق ہے اور وہ سب کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔

اسی لیے ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جتنی بھی انتخابی مہم چلائی ہیں۔ حمزہ شہباز کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے۔ انتخابی مہم چلانے میں انھیں خاص مہارت ہے اور وہ اس سائنس کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کی اس مہارت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر ضلع میں کون سے دھڑا کتنی اہمیت رکھتا ہے، کون جیت سکتا ہے اور کون نہیں جیت سکتا ہے، کس کو کب ٹکٹ دینا چاہیے اور کس کو کب نہیں ٹکٹ دینا ، حمزہ شہباز کی اس پر کافی ورکنگ ہے۔ انھوں نے پنجاب بھر میں لوگوں کے بہت کام بھی کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے کارکن اور سیاسی گھرانوں میں ان کا بہت احترام موجود ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں مریم نواز کو اکیلے نکلنے سے وہ کامیابی نہیں ملے گی جب تک حمزہ شہباز ان کے ساتھ نہیں ہونگے۔ حمزہ شہباز کا تجربہ اور ان کا گراس روٹ کی سطح تک کام اس طرح ضایع نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے حمزہ شہباز کو فوری وطن واپس بلانا چاہیے۔ اب تو کیسز ٹھیک ہو گئے ہیں۔ سلمان شہباز بھی کچھ عرصہ کے لیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے حمزہ شہباز کو واپسی کے لیے قائل کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں حمزہ شہباز نے سب سے زیادہ قید کاٹی ہے۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو حمزہ شہباز صرف عمران خان کی حکومت میں 627دن پابند سلاسل رہے ہیں۔

جب ان کے بعد خواجہ سعد رفیق کا نمبر آتا ہے جو 462دن، نواز شریف 374دن، شاہد خاقان عباسی 222دن،شہباز شریف 207دن، خواجہ آصف 176دن، رانا ثناء اللہ 174دن، مریم نواز157دن، قید رہی ہیں۔ اس طرح حمزہ شہباز نے سب سے زیادہ قید کاٹی ہے۔ اس لیے ان کی ان قربانیوں کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر بہت احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ اپوزیشن کے تمام وقت پاکستان میں رہے اور جیل میں رہے۔ اپنی اکلوتی بیٹی کی بیماری پر بھی جیل میں تھے۔ اس کی پہلی سالگرہ پر بھی وہ جیل میں ہی تھے، بہت عرصہ بیٹی کو نہیں مل سکے، بیٹی کے علاج کے لیے ضمانت پر گئے تو عدالتی وقت کے مطابق واپس آگئے۔ حالانکہ سب کہہ رہے تھے کہ لندن میں رک جائیں لیکن وہ نہیں مانے۔ حمزہ شہباز کبھی پاکستان چھوڑ کر نہیں گئے۔ جب مشرف کے دور میں پوری شریف فیملی سعودی عرب چلی گئی تھی تب بھی حمزہ شہبازاور ان کے بھائی سلمان شہباز بطور ضمانت مشرف کی تحویل میں رہے۔ وہ مشرف کے سارے دور میں ایک طرح سے جیل میں ہی تھے۔ ان کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی تھی، اورہر وقت وہ مشرف حکومت کی تحویل میں ہی تھے۔ اس لیے حمزہ شہباز نے اپنی سیاست اور اپنے خاندان کے لیے بہت برا وقت دیکھا ہے۔ وہ بے نظیر کے دور حکومت میں جب ابھی بالغ نہیں تھے تب ہی جیل چلے گئے تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ جیل میں گزارا ہے۔

حمزہ شہباز نے اپنی جیل کو کبھی اس طرح کیش بھی نہیں کروایا جیسے سیاسی طور پرکروایا جاتا ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ بہت کم لوگوں کو اندازہ ہوگا کہ عمران خان کے دور میں وہ سب سے زیادہ جیل میں رہے ہیں۔ کیونکہ انھوں نے کبھی شور نہیں مچایا۔ وہ خاموشی سے جیل کاٹنے کے عادی ہیں۔ ویسے بھی سیاسی طور پر حمزہ شہباز کو شہباز شریف کے بیٹے کے طور پر ہی دیکھا گیا ہے۔ اسی رشتہ کی وجہ سے حمزہ شہباز کی اپنی سیاسی کارکردگی پیچھے رہ جاتی ہے۔ بیٹا ہونے کا شور زیادہ مچ جاتا ہے۔ ان کی سب سے لمبی قید پیچھے رہ جاتی ہے، ان کی سیاسی صلاحیتیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ برے سے برے وقت میں حالات کو بدل دینے کی ان کی صلاحیت کی بات کم ہوتی ہے۔ حال ہی میں پنجاب میں جو ہوا ہے۔ اس حوالے سے ایک بحث موجود ہے کہ حمزہ شہباز پنجاب کو سنبھال نہیں سکے۔ لیکن اب تو کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جنرل باجوہ کا مکمل آشیر باد پرویز الٰہی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کو قبول نہیں تھے۔ بات اسٹبلشمنٹ نہیں جنرل باجوہ کی تھی۔ وہ پنجاب میں پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنوانا چاہتے تھے۔ اسی لیے حمزہ شہباز کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ انھیں ناکام کرنے کی ہر ساز ش کی گئی۔ حمزہ شہباز نے اس ساری سازش کا بھی خوب مقابلہ کیا۔ لیکن اب جب کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو حمزہ شہباز کے ساتھ ہوئی زیادتی کو دیکھنا ہوگا۔ جماعت کے اندر احتساب ہونا چاہیے کہ کس نے سارے 196ووٹ ڈلوانے کے لیے زور ڈالا۔ کیونکہ کوئی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کھیل رہا تھا‘ وہی جنرل باجوہ کا مہرہ اور حمزہ کا مخالف تھا۔ میں ابھی نام نہیں لکھنا چاہتا۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کے اندر سب اس کا نام جانتے ہیں۔ پنجاب میں الیکشن کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہیں۔ پنجاب کے انتخابات ہیں، کے پی کے انتخابات ہیں۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اپنی پوری طاقت لگانی ہے۔ حمزہ شہباز کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ ان کی ایک ٹیم ہے جو ان کے آنے پر ہی فعال ہوگی۔ وہ اس موقع پر حمزہ شہباز کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اس لیے مریم نواز کو اپنی کامیابی کے لیے حمزہ شہباز کی ضرورت ہے۔ ان کے بغیر انھیں بھی مکمل کامیابی نہیں مل سکے گی۔حمزہ شہباز کو خود بھی خیال رکھنا چاہیے۔ سیاست اونچ نیچ کا کھیل ہے۔ ان کو پچھلی اننگ کے بارے میں کم اور اگلی اننگ کے بارے میں زیادہ سوچنا چاہیے۔ ان کے پاس ابھی ایک لمبا سیاسی کیریئرہے۔ اس میں آگے بھی بہت سے مواقعے آئیں گے۔ ڈوب کرنکلنے کی ان کے خاندان میں بہت سی مثالیں ہیں۔ اس لیے انھیں ایک نئی اننگ کے لیے دوبارہ فعال ہونا چاہیے، یہی سیاست ہے۔ مریم نواز کو بھی ان کو واپس بلانا چاہیے۔ ورنہ نقصان پارٹی کا ہو گا۔

Categories
پاکستان

پی ڈی ایم مایوس!! پی ٹی آئی کو عدالت سے ریلیف کیوں ملنے لگا ؟ اندر کی خبر آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) محمد سعید آرائیں اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ’’ مختلف مقامات پر ملک میں درج مقدمات میں گرفتاری کے بعد عدالتوں کے ضمانتیں اور ریلیف ملنے پر عدالتوں کا احسان ماننے کے بجائے ریاستی اداروں پر تنقید کر کے خود کو بڑا لیڈر سمجھنے والے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی

نے لاہور میں انتخابی مہم کے دوران کہا ہے کہ عدالتیں انصاف نہیں دے سکتیں تو انھیں بند کردیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور انھیں انصاف نہیں ملا۔ واضح رہے کہ اعلیٰ عدالتوں نے ملک بھر میں درج کیے گئے ایک ہی الزام کے تحت درج کرائے گئے تمام مقدمات ختم کرا کر اعظم سواتی کو بڑا ریلیف دیا ہے جو اسلام آباد ، کوئٹہ اور کراچی میں ریاستی اداروں کے خلاف تقریریں کرنے کے الزام میں قید تھے اور عدالتوں میں انھیں نہ صرف مقدمات سے ریلیف ملا اور کچھ دنوں کی اسیری کے بعد ضمانت پر رہائی ملی مگر وہ اعلیٰ اداروں پر تنقید سے باز نہیں آئے اور خود کو بڑا لیڈر سمجھ رہے ہیں ۔ حکومت میں شامل متعدد وزیروں کا کہنا ہے کہ ہمیں تو پی ٹی آئی حکومت میں جھوٹے مقدمات میں گرفتاری کے بعد فوری ریلیف نہیں ملا تھا بلکہ مہینوں ناحق قید رہنے کے بعد ہی ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ میاں جاوید لطیف، خواجہ سعد رفیق اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو یہ شکایت ضرور ہے کہ انھیں جھوٹے مقدمات میں عمران خان نے نیب کے ذریعے گرفتار کرایا تھا جب کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے صرف دو رہنماؤں نے ملک کے متعدد اداروں پر کھلے عام نہ صرف تنقید کی بلکہ غداری تک کے الزامات لگائے جس پر صرف شہباز گل اور اعظم سواتی ہی مقدمات درج ہونے پر گرفتار ہوئے جب کہ عمران خان بے شمار مقدمات کے اندراج کے بعد بھی گرفتاری سے محفوظ ہیں۔

عمران خان کو گھر بیٹھے ضمانت مل جاتی ہے اور انھیں عدالتی ریلیف ملنے کی حد تو یہ ہے کہ عمران خان کو لاہور میں بیان دینے کی بھی عدالتی سہولت ملی اور انھیں گھر بیٹھے خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کے اپنے ہی درج کرائے گئے مقدمے میں دس سال بعد بیان ریکارڈ کرانے کی عدالتی سہولت حال ہی میں ملی ہے۔ الیکشن کمیشن عمران خان پر اس قدر مہربان رہا کہ آٹھ سال تک فارن فنڈنگ کے معاملے پر فیصلہ نہیں دیا اور عمران خان نے اپنی حکومت میں ہی چیف الیکشن کمیشن اور کمیشن پر سنگین الزامات عائد کرنے شروع کر دیے تھے اور اقتدار سے محرومی کے بعد بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آئی ہے۔ عدالتوں نے عمران خان کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف فیصلوں سے روک دیا ہے۔ عدالتوں میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ سمیت متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں اور انھیں عدالتوں سے ریلیف ملا، اسلام آباد میں توہین عدالت کے باوجود کے خلاف کوئی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کے رہنما آئے دن ریاستی اداروں اور عدالتوں کے خلاف بولتے ہیں مگر انھیں توہین عدالت کا نوٹس نہیں ملا اور اب بھی صرف وارننگ ملی ہے۔ عمران خان نے اسلام آباد کی طرف اپنے لانگ مارچ کے دوران سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانا تھا مگر پھر بھی انھیں بڑا ریلیف بغیر مانگے ملا۔ عدالتوں سے انھوں نے رعایت مانگی مگر ان کے خلاف مقدمات ہی
ختم کر دیے گئے۔ عدالت کے فیصلے سے پی ٹی آئی کو پنجاب میں پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا موقعہ ملا جب کہ وفاقی حکومت کی سپریم کورٹ میں دی گئی متعدد درخواستوں کی سماعت کا نمبر ہی نہیں آیا۔ اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر وزیر اعلیٰ کی درخواست دیتے ہی ریلیف ملا اور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی کابینہ سمیت بحال کر دیے گئے۔ پی ڈی ایم اور دیگر کی شکایات ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ انھیں فوری عدالتی ریلیف مل جاتا ہے۔ بہت کم ہی ہوا ہے کہ انھیں عدالتی ریلیف ان کی مرضی کے مطابق نہ ملا ہو۔ عدالتوں نے پی ٹی آئی کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کو شکایتوں کا موقعہ نہیں دیا اور ریلیف دیا ۔ عمران خان اور پی ٹی آئی سب پارٹیوں پر بازی لے گئے ہیں اور انھوں نے سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے کا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ ان ہی کی وجہ سے عدالتوں پر سیاسی مقدمات کا بوجھ بڑھا ہوا ہے کیونکہ یہ ہر معاملے میں اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور الیکشن کمیشن کے فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے عادی ہو چکے ہیں جب کہ اکثر ان ہی کی مرضی کے فیصلے صادر بھی ہوئے جنھیں یہ حق کا فیصلہ قرار دیتے ہیں اور نہ ملنے پر تنقید کرتے آئے ہیں۔عدالتوں سے مسلسل ریلیف ملنے والوں کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عدالتوں سے شکوے کریں۔

Categories
پاکستان

نکاح پر نکاح!!! بشری بی بی نے عدت کیوں چھپائی؟ عمران خان کے قریبی دوست نے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) جاوید چوہدری اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ’’ مفتی محمد سعید خان عالم دین اور مفتی ہیں‘ کتابوں کے عاشق ہیں‘ پرانے مری روڈ پر چھتر کے مقام پر ان کا مدرسہ اور یونیورسٹی ہے‘ انھوں نے وہاں وسیع کتب خانہ بنا رکھا ہے‘ میں نے پاکستان میں اس سے بڑی

پرائیویٹ لائبریری نہیں دیکھی‘ مفتی صاحب کی لائبریری میں سو سال پرانی کتابیں بھی موجود ہیں‘ کتابوں کی کل تعداد لاکھ سے زیادہ ہے۔ آپ کو کسی بھی فقہ کی کوئی بھی کتاب چاہیے یا آپ احادیث‘ تفسیر اور اسلامی تاریخ کی کوئی بھی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ چھتر چلے جائیں‘مفتی صاحب کی لائبریری جائیں اور آپ کو وہ کتاب وہاں مل جائے گی‘ پورے ملک سے لوگ ایم فل‘ پی ایچ ڈی اور سی ایس ایس کے لیے مفتی صاحب کے دارالعلوم آتے ہیں‘ مفتی صاحب انھیں رہائش بھی دیتے ہیں۔ کھانا بھی اور کپڑے بھی اور یہ لوگ اپنی ریسرچ کی تکمیل تک وہاں رہتے ہیں اور مفتی صاحب اس کے عوض کسی قسم کا معاوضہ نہیں لیتے‘ دارالعلوم کا روزانہ خرچ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے اور یہ رقم اہل خیر ادا کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کسی طالب علم یا لائبریری سے استفادہ کرنے والوں سے کوئی پیسہ وصول نہیں کرتے‘ ان کی شخصیت میں بے تحاشا حلیمی‘ عاجزی اور صبر ہے‘ یہ فطرتاً سادہ اور شریف ہیں‘ سائیڈ پر بیٹھ کر کام کرنا چاہتے ہیں اور یہ کر بھی رہے ہیں۔ جھوٹ بالکل نہیں بولتے‘ سچ بولیں گے اور اگر سچ سے فساد کا اندیشہ ہو تو یہ خاموش رہیں گے‘ یہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں شامل ہیں‘ عمران خان سے ان کا تعلق 2005میں شروع ہواتھا اور یہ آہستہ آہستہ پارٹی میں شامل ہو گئے‘ مفتی صاحب نے ریحام خان اور بشریٰ بی بی کا عمران خان سے نکاح پڑھایا تھا‘ یہ دونوں نکاح دو دو بار ہوئے تھے۔

کیوں ہوئے تھے؟ یہ ایک مسٹری ہے‘ بہرحال ان نکاحوں کی وجہ سے یہ تنازع کا شکار ہوئے اور میڈیا نے انھیں تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن یہ صاحب کردار ہیں لہٰذا انھوں نے ہمیشہ عمران خان کا پردہ رکھا‘ میں نے اوپر نیچے اس موضوع پر کالم تحریر کیے۔ ان کالموں میں بار بار مفتی سعید خان کا نام آیا تھا‘ میں نے ان سے رابطہ کیا‘ یہ اپنی پوزیشن کلیئر کرنے پر رضا مند ہو گئے اور یوں میری ان کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ مفتی سعید خان کا دعویٰ ہے ’’میں بشریٰ بی بی سے واقف نہیں تھا‘ 31 دسمبر 2017 کو عون چوہدری نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے بتایا‘ عمران خان نکاح کرنا چاہتے ہیں‘ ہم آپ کو نکاح کے لیے شہر سے باہر لے جانا چاہتے ہیں۔ میں راضی ہو گیا‘ ہم نے آبپارہ کا مقام طے کیا‘ میں اپنی گاڑی میں وہاں پہنچ گیا‘ عون چوہدری ذلفی بخاری کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر میرا انتظار کر رہے تھے‘ میں زندگی میں پہلی بار اس دن ذلفی بخاری سے ملا تھا‘ ہم وہاں کھڑے ہو کر عمران خان کا انتظار کرنے لگے۔ عمران خان آئے اور یہ عون چوہدری اور ذلفی بخاری کے ساتھ ایک گاڑی میں لاہور روانہ ہو گئے جب کہ میں دوسری گاڑی میں ان کے پیچھے چل پڑا‘ ہم لاہور پہنچے‘ مجھے ڈیفنس میں کسی گھر لے جایا گیا‘ وہ ایک بڑا گھر تھا‘ وہاں دو تین خاندان موجود تھے‘ میری وہاں بشریٰ بی بی سے پہلی ملاقات ہوئی‘ ہم نے نکاح کا فارم پُر کرنا شروع کیا۔

بشریٰ بی بی کی بہنیں اور سہیلیاںبھی وہاں تھیں اور بچے بھی تھے (مفتی سعید بشریٰ بی بی کے بچوں کو نہیں پہچانتے تھے لہٰذا یہ نہیں جانتے یہ بی بی کے اپنے بچے تھے یا وہ کسی دوسرے خاندان سے تعلق رکھتے تھے) میں نے بشریٰ بی بی سے پوچھا‘ کیا آپ کا نام بشریٰ بی بی ہے اور آپ کے والد کا نام یہ ہے‘ خاتون نے تصدیق کر دی‘ میں نے پوچھا‘ کیا آپ نکاح کے قابل ہیں یعنی کیا آپ شریعت کے تمام تقاضے پورے کرتی ہیں۔ آپ طلاق اور عدت کے عمل سے گزر چکی ہیں‘ بی بی نے تصدیق کر دی‘ میں نے ان کی بہنوں اور سہیلیوں سے بھی تصدیق کرائی‘ انھوں نے بھی اعتراف کیا یہ طلاق یافتہ ہیں اور عدت پوری کر چکی ہیں‘‘ میں نے مفتی صاحب کو ٹوک کر پوچھا ’’کیا آپ نے بشریٰ بی بی کی طلاق کے کاغذات دیکھے تھے؟‘‘ مفتی صاحب کا جواب تھا ’’میں نے نہیں دیکھے اور نکاحوں کے دوران عموماً اس قسم کے کاغذات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا‘‘ میں نے عرض کیا ’’اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘ مفتی صاحب کا جواب تھا ’’حق مہر کی بات ہوئی۔ عمران خان نے اپنا زمان پارک کا گھر اور بنی گالا کا سات کنال کا پلاٹ بشریٰ بی بی کو حق مہر میں دے دیا‘ ہم نے یہ حق مہر فارم پر تحریر کر دیا‘ اس کے بعد نکاح ہوا‘ عمران خان نے بشریٰ بی بی اور بشریٰ بی بی نے عمران خان کو قبول کر لیا‘ میں نے دعا کرائی۔

حاضرین نے آمین کہا اور عمران خان دلہن کو لے کر اس گھر سے رخصت ہو گئے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا بشریٰ بی بی کی رخصتی آپ کے سامنے ہوئی تھی؟‘‘یہ بولے ’’جی ہاں‘ بشریٰ بی بی کی رخصتی میرے سامنے ہوئی تھی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا نکاح نامے پر عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں نے دستخط کیے؟‘‘ مفتی سعید کا جواب تھا ’’جی ہاں یہ دستخط میرے سامنے ہوئے تھے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رخصتی کے بعد میں فارم سمیت گھر سے نکلنے لگا تو عون چوہدری نے وہ فارم مجھ سے لے لیا‘‘ میں نے پوچھا ’’یہ نکاح کس تاریخ کو ہوا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’یکم جنوری 2018 کو۔‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کو بشریٰ بی بی کی عدت کا پتا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’مجھے اس وقت پتا نہیں تھا‘ بی بی نے مجھ سے غلط بیانی کی تھی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا عمران خان کو پتا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’میں اس کے بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا تاہم نکاح کے چند دن بعد عمران خان اس حقیقت سے آگاہ ہو گئے تھے اور انھوں نے مجھ سے کہا تھا۔ میری عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے‘ آپ پلیز اس کی حفاظت کیجیے گا‘ میں نے ان سے وعدہ کر لیا اور میں آخر تک یہ وعدہ نبھاتا رہا‘‘ میں نے پوچھا ’’عدت کا ایشو آپ کو کس نے بتایا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’مجھے عون چوہدری اور خان صاحب کے چند دوسرے دوستوں نے بتایا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کا ری ایکشن کیا تھا؟‘‘ یہ بولے مجھے بہت برا لگا کیوں کہ یہ سیدھا سادا گناہ تھا۔

لہٰذا میں نے عون چوہدری اور عمران خان کو بتایا آپ کو عدت کے بعد اس نکاح کی تجدید کرنا ہو گی اور یوں یہ لوگ عدت پوری ہونے کا انتظار کرنے لگے‘‘ میں نے پوچھا ’’دوسرا نکاح کب ہوا؟‘‘ یہ بولے ’’دوسرا نکاح 18 فروری 2018کو ہوا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا اس نکاح کے گواہ بھی عون چوہدری اور ذلفی بخاری تھے اور کیا۔ اس میں بھی فارم مکمل کیا گیا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’جی ہاں وہ ساری ڈرل دوبارہ ہوئی تھی‘ ذلفی بخاری اور عون چوہدری نے گواہی دی تھی‘ حق مہر کا دوبارہ ذکر ہوا تھا‘ ایجاب و قبول دوبارہ ہوا تھا اور فارم پر دستخط اور انگوٹھے کے نشان بھی دوبارہ ہوئے تھے اور اس سارے عمل کی تصویریں اور وڈیوز بھی بنائی گئی تھیں‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’ہماری معلومات کے مطابق بشریٰ بی بی کی طلاق 14 نومبر 2017کو ہوئی تھی۔ عدت کی مدت 14 فروری 2018کو پوری ہو رہی تھی لیکن نکاح اور رخصتی یکم جنوری 2018 کو یعنی طلاق کے صرف 47 دن بعد ہو گئی‘ دوسرا نکاح پہلے نکاح کے 49 دن بعد ہوا اور ان دونوں نکاحوں کے درمیان 48 دن ہیں۔ شریعت میں ان48 دنوں کی کیا حیثیت ہے؟‘‘ یہ بولے ’’یہ دن گناہ ہیں اور بشریٰ بی بی گناہ گار ہیں کیوں کہ انھوں نے جان بوجھ کر اپنی عدت چھپائی‘ یہ اس لحاظ سے بھی زیادہ برا تھا کہ بی بی دین دار‘ پرہیز گار اور اسلامی شریعت سے واقف بھی تھیں لہٰذا انھیں توبہ بھی کرنی چاہیے اور تجدید ایمان بھی ‘‘۔ میں نے پوچھا ’’اور عمران خان؟‘‘ یہ بولے ’’اگر عمران خان عدت سے واقف تھے اور انھوں نے جان بوجھ کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو یہ بھی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ عمران خان کو اس ضمن میں بے گناہ سمجھتے ہیں‘‘ یہ بولے ’’یہ اللہ اور عمران خان کا معاملہ ہے۔ خان صاحب نے اگر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا تو یہ بھی برابر کے ذمے دار ہیں اور اگر یہ عدت سے واقف نہیں تھے تو پھر ساری ذمے داری بشریٰ بی بی پر عائد ہوتی ہے‘‘ میں نے آخر میں پوچھا ’’کیا آپ خود کو ذمے دار سمجھتے ہیں؟‘‘ یہ بولے ’’آپ بتائیے کیا میں ذمے دار ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’میں عالم یا مفتی نہیں ہوں لیکن میں اتنا جانتا ہوں نکاح ایک حلال فعل ہے اور بطور عالم دین اور مفتی آپ سے جوبھی نکاح پڑھانے کا کہے گا آپ پر فرض ہے آپ یہ فریضہ انجام دیں اور آپ نے اپنا فرض اداکیا لیکن اگر آپ کو عدت کا پتا تھا اور آپ نے اس کے باوجود نکاح پڑھایا تو پھر آپ بھی ذمے دار ہیں‘‘ یہ سنجیدگی سے بولے ’’باخدا میں بشریٰ بی بی کی عدت سے واقف نہیں تھا‘‘ میں نے عرض کیا ’’پھر آپ بے قصور ہیں‘ اب صرف عمران خان اور بشریٰ بی بی ذمے دار ہیں۔‘‘

Categories
کھیل

پی سی بی نے کامران اکمل کو عہدہ دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈسٹرکٹ اور ریجنل جونیئر ٹیموں کے انتخاب کیلئے 8 رکنی سلیکشن کمیٹی بنادی۔کامران اکمل کو اس جونیئر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ جونیئر سلیکشن کمیٹی انڈر 13، انڈر 16 اور انڈر 19 پلیئرز کا انتخاب کرے گی۔کھلاڑیوں کا انتخاب ریجنل اور ڈسٹرکٹ ٹیموں کیلئے ہوگا۔

سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان میں سہیل تنویر، عامر نذیر، فیصل اطہر، قیصر عباس، تیمور خان اور جنید خان بھی شامل ہیں۔

Categories
پاکستان

آئی ایم ایف وفد کے دورے سے پہلے ٹیکسوں کی بھرمار کرنے کی تیاری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آئی ایم ایف وفد کے دورے سے پہلے حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے 200 سے 600 ارب روپے تک کے اضافی ٹیکس لگانے کی تیاری کر لی ۔ 31 جنوری سے 9 فروری تک جاری رہنے والے آئی ایم ایف وفد سے مذاکرات میں طے ہوگا کہ کتنے نئے ٹیکس لگائے جائیں اور کتنے نان ٹیکس اقدامات کیے جائیں۔

بجٹ میں اعلان کردہ فیصلوں کے مطابق بجٹ خسارہ 4.9 فیصد اور پرائمری خسارہ جی ڈی پی کا 0.2 فیصد رکھنے کا وعدہ پورا کیا جائے، برآمدی شعبے کو 110ارب روپے کا استثنیٰ ختم کیا جائے۔ ایف بی آر کی طرف سے 7470روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف ہر حال میں پورا کیا جائے،گردشی قرض میں خاطر خواہ کمی لائی جائے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں 855 ارب روپے وصولی کا ہدف پورا کیا جائے، ریاستی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر کرکے ان کا خسارہ ختم کیا جائے اور نجکاری پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مارکیٹ کے مطابق کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کے مطالبات پور ے ہو چکے، ڈیزل پر لیوی 40 روپے فی لیٹر کر دی گئی، اگلے ماہ اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت کی درخواست پر 31جنوری سے شروع ہونے والے آئی ایم ایف وفد کے دورے کے دوران طے ہو گا کہ کس حد تک ان پر عمل درآمد ہو گا۔ یہ دورہ پاکستان کیلئے اس لحاظ سے مشکل ہو گا کہ آئی ایم ایف کے مطالبات کو ماننا بہت مشکل ہے جب کہ پاکستان ان پر عمل درآمد کرنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن مطالبات نہ ماننے کی صورت میں پاکستان کو انتہائی برے مالی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے متعدد اقدامات کا مطالبہ کر رکھا ہے، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے ہر حال میں آئی ایم ایف پروگرام بحال کروانا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

ایک فرد روزانہ کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟

کیلا(ویب ڈیسک) کیلا ایسا پھل ہے جو لگ بھگ پورے سال آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اور ہر عمر کے افراد اسے پسند کرتے ہیں۔ مگر ایک فرد روزانہ کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب سادہ نہیں کیونکہ متعدد چیزوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک درمیانے سائز کے کیلے میں 105 کیلوریز، 27 کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، ایک گرام پروٹین،

وٹامن سی، وٹامن بی 6، پوٹاشیم، میگنیشم اور مینگنیز جیسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کیلوں میں متعدد نباتاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو تناؤ، ورم اور مختلف امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ مگر اس پھل میں زیادہ تر کیلوریز کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ پروٹین اور چکنائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ پروٹین مدافعتی افعال، مسلز بنانے اور ہڈیوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح چکنائی سے جسم کو توانائی ملتی ہے جبکہ ہارمونز کی تیاری اور دماغی صحت میں بھی اس کا کردار اہم ہوتا ہے۔ تو کیلوں میں چند اہم غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے تو غذا میں صرف اس پھل پر انحصار کرنا مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ غذا میں کیلوں کا اضافہ صحت کے لیے مفید ہوتا ہے مگر کسی ایک غذا کی بہت زیادہ مقدار فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یعنی صحت کے لیے بہترین غذا میں توازن یا اعتدال میں رہ کر کھانا بہت اہم ہوتا ہے۔ ویسے تو ایسی کوئی مخصوص تعداد طے نہیں جو کیلوں کو صحت کے لیے مفید یا نقصان دہ ثابت کرتی ہو مگر جسم کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھا ضروری ہوتا ہے۔ یعنی ایک فرد جتنے مرضی کیلے کھاسکتے ہیں مگر ایسا کرنے سے صحت کو مختلف وجوہات کے باعث نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین کی جانب سے بیشتر صحت مند افراد کو روزانہ ایک سے 2 کیلے کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد زیادہ مقدار میں کیلے کھاتا ہے تو اس پھل میں موجود قدرتی مٹھاس اور کاربوہائیڈریٹس سے بلڈ شوگر لیول میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Categories
پاکستان

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے آرڈیننس 2002 میں ترامیم لانے کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے آرڈیننس 2002 میں ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن( ایچ ای سی) کو وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت کیا جائے گا، کمیشن کے 18 رکنی خودمختار فورم میں صوبوں کی نمائندگی بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کی نمائندگی ختم ہونے کے بعد

اراکین کی تعداد 10 تک محدود ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایچ ای سی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی اراکین کمیشن کے بجائے وفاقی حکومت کرے گی، ترامیم سے چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت چار سال سے کم کر کے 2 سال کرنےکا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم کارکردگی پر عدم اطمینان پرچیئرمین کو کسی بھی وقت سبکدوش کر سکیں گے۔

Categories
پاکستان

10 ماہ میں پٹرول مہنگا ہونے کی سینچری مکمل ہو گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پی ڈی ایم حکومت نے پٹرول مہنگا کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی اتحاد کی حکومت کے قیام کے بعد پٹرول کی قیمت میں ماہانہ اوسط 10 روپے کا اضافہ ہوا۔ 10 ماہ قبل پٹرول کی فی لیٹر قیمت 149 روپے تھی، جو اب 100 روپے اضافے سے 249 روپے ہو چکی۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی آمد کے پیش نظر حکومت پٹرول مزید مہنگا کر سکتی ہے۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے منگل سے پاکستان کے دورے سے عین قبل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 35 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں بھی 35 روپے اضافے کے بعد اسکی قیمت 262 روپے 80 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت 18 روپے فی لٹر اضافے کے بعد 189 روپے 83 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 18 روپے اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 187 روپے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق دن 11 بجے سے ہوا۔پی ڈی ایل اب 40 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ حکومت کے پاس ابھی بھی 10 روپے فی لیٹر جگہ دستیاب ہے جس میں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ پی ڈی ایل کو 50 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جا سکے۔مقامی مارکیٹ میں ایم ایس پٹرول کی قیمت 35 روپے اضافے سے 249.40 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ایچ ایس ڈی کی قیمت بڑھ کر 262.80 روپے فی لیٹر ہو گئی جب کہ پہلے کی قیمت 227.80 روپے فی لیٹر تھی۔اس بات کا کام و بیش اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایم ایس پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذریعے پٹرولیم لیوی میں اضافے کے تین دن پہلے اعلان کے اثر سے حکومت اضافی 4.5 ارب روپے کما لے گی۔جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہری بھی پھٹ پڑے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ٴْغیر ضروری اخراجات اور کرپشن نے معاشی طورپر ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔شہریوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے عام عادمی نان شبینہ کا محتاج ہوکر رہ گیا ہے۔

Categories
کھیل

حفیظ نے کامران اکمل کو سربراہ جونیئر سلیکشن کمیٹی بنائے جانے پر کیا کہا؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے کامران اکمل کو جونیئر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بنائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور اس فیصلے کو درست قرار دیا۔ 30 جنوری کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈسٹرکٹ اور ریجنل جونیئر ٹیموں کے انتخاب کے لیے 8 رکنی سلیکشن کمیٹی بنائی۔

کامران اکمل کو اس جونیئر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا، جونیئر سلیکشن کمیٹی انڈر 13، انڈر 16 اور انڈر 19 پلیئرز کا انتخاب کرے گی۔ اس حوالے سے محمد حفیظ نے ٹوئٹ کی اور کامران اکمل کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘نجم سیٹھی کی جانب سے یہ فیصلہ بہت اچھا کیا گیا ہے، کامران ماڈرن کرکٹ کی ضروریات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور وہ نئے ٹیلنٹ کی شناخت بھی بہت اچھے سے کرسکتے ہیں’۔ سابق کپتان کی تعریف پر کامران اکمل نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

Categories
پاکستان

پنجاب کے نگران وزیر کھیل وہاب ریاض لاہور پہنچ گئے

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب کی نگران کابینہ میں وزیر کھیل مقرر ہونے والے قومی کرکٹر وہاب ریاض بنگلادیش سے وطن واپس پہنچ گئے۔ کرکٹر وہاب ریاض بنگلا دیش پریمیئر لیگ کھیلنے کیلئے بنگلا دیش گئے تھے۔ وہاب ریاض کو پنجاب کا نگران وزیر بنایا گیا ہے،لاہور ائیر پورٹ پر وہاب ریاض کو نگران وزیر کا پروٹوکول ملا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وہاب ریاض نے کہا کہ مجھ پر جو اعتماد کیا گیا ہے اس پر مشکور ہوں، وزیر اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ ایک لمبا سفر ہے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا، جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کو اچھے طریقے سے نبھاؤں گا۔

Categories
پاکستان

پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے آفٹر شاکس، ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کےکرایوں میں بھی اضافہ

لاہور(ویب ڈیسک) پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کے لیے جانے والے ٹرانسپورٹرز نےکرایوں میں اضافہ کردیا ہے،کراچی سے حیدر آباد کے لیےکرایہ 500 روپے سے بڑھا

کر 600 روپےکردیا گیا ہے، لاڑکانہ جانے والے مسافروں سے 1300روپےکے بجائے اب 1500روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ لاہور سے راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان کے کرائے میں100روپے اضافہ کردیا گیا ہے، لاہورسےگوجرانوالا 50 اور پشاور اور صادق آباد کے لیے کرائے میں 200 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ بس مالکان نے لاہور سے کراچی کے لیےکرائے میں 600 روپےکا اضافہ کیا ہے۔ پشاور میں شہر کے اندر ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں 20 سے40 روپے تک اضافہ کردیا ہے جب کہ بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 50 سے لےکر 70 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ مالکان نے 200 سے 300 روپے تک اضافہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہےکہ پبلک ٹرانسپورٹ مالکان من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں، ٹرانسپورٹرز کے پاس کرایہ نامہ بھی نہیں ہے، انہوں نے کرایوں میں خود سے اضافہ کیا ہے۔

Categories
پاکستان

میئر تو جماعت اسلامی کا ہی ہوگا، حافظ نعیم اپنی بات پر قائم

کراچی(ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نےکہا ہےکہ میئر تو جماعت اسلامی کا ہی ہوگا، سندھ حکومت آئین مین ترامیم کرکے میئرکو اختیارات دے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ دھرنےکے وقت جو وعدے کیےگئے وہ پورے ہونے چاہئیں،

بلدیاتی الیکشن ہوئے 15 دن ہوگئے، پراسس مکمل نہ ہونا باعث تشویش ہے، انصاف نہ ملنے پر الیکشن ٹریبونل بھی جاسکتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جماعت اسلامی کا منتخب امیدوار خرید نہیں سکتا، اگر کسی کو خریدا گیا تو بھرپور طریقے سے ایکسپوز کریں گے، اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہےگی، جماعت اسلامی کسی سے لڑنا نہیں چاہتی، جن یوسیز پر تحفظات ہیں اس کے لیے ٹربیونل میں جائیں گے، جو سیٹیں ہم سے دھاندلی کے ذریعے لی گئی ہیں وہ واپس لےکر رہیں گے۔ مردم شماری کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا تو اصول یہ بھی ہےکہ سفارت کارکو بھی گنا جائے، مردم شماری کے لیے جو ہمارے نمائندے منتخب ہوئے وہ بھی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان کے عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

گرل فرینڈ سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے اپنی مرسیڈیز کو آگ لگادی

تامل ناڈو(ویب ڈیسک) بھارتی ریاست تامل ناڈو میں 28 سالہ ڈاکٹر نے گرل فرینڈ سے جھگڑے کے بعد غصے میں اپنی ہی لگژری گاڑی کو آگ لگادی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 سالہ ڈاکٹر کیون نے 40 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی اپنی مرسیڈیز بینز کو غصے میں آگ لگادی، تاہم لوگوں نے گاڑی کو لگی آگ دیکھ کر فوراً پولیس کو اطلاع کی۔ رپورٹس کے

مطابق کیون نے گزشتہ برس اپنے علاقے کے اسپتال میں نوکری کی، اس کے گزشتہ دو برس سے اپنے ہی کالج کی جونیئر سے تعلقات تھے، واقعہ کے روز دونوں ڈرائیو پر گئے تھے کہ راستے میں ان میں جھگڑا ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق کیون غصے سے گاڑی سے باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک خالی بوتل تھی جس کے اندر اس نے گاڑی سے ہی پیٹرول بھرا، بعدازاں اس نے مرسیڈیز پر چھڑک کر آگ لگادی جب کہ ساتھ کھڑی اس کی دوست کیون کو آگ سے بچاتی رہی۔ تاہم گاڑی پر لگی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً ایک گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جب کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

Categories
شوبز

ڈورے مون کارٹون نے 6 سالہ بچے کی جان کیسے بچالی؟

لندن(ویب ڈیسک) والدین ہمیشہ بچوں کو زیادہ کارٹون دیکھنے پر ڈانٹتے نظر آتے ہیں لیکن انہیں کارٹون کی وجہ سے بھارت میں ایک 6 سالہ بچے کی جان بچ گئی۔ آپ نے یقیناً بچپن میں معروف جاپانی اینیمیڈٹ کارٹون سیریز ڈورے مون تو ضرور دیکھی ہوگی جس کے مرکزی کردارڈورے مون اور نوبیتا تھے۔ ڈورے مون ایک روبوٹ تھا

جس کے پاس ہر مشکل کے حل کے لیے مختلف آلات اور آئیڈیاز ہوتے تھے، انہیں کی مدد سے وہ نوبیتا کو ہر مشکل سے بچاتا تھا۔ گزشتہ دنوں بھارت کے شہر لکھنؤ میں ایک رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی جس میں 3 خواتین ہلاک اور 16 افراد زخمی ہوئے۔ اس حادثے میں خوش قسمتی سے ایک 6 سالہ بچے مصطفیٰ کی جان بچ گئی،جسے عمارت کے ملبے سے صحیح سلامت باہر نکالا گیا،بچے کے زندہ بچ جانے کی وجہ اور کچھ نہیں بلکہ ڈورے مون کارٹون تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جب بچے کو ریسکیو اہلکاروں نے عمارت کے ملبے سے نکال کر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا تو اس نے بتایا کہ جب عمارت گر رہی تھی تو وہ اچانک سے بیڈ کے نیچے چھپ گیا تھا اور یہ آئیڈیا اس کو ڈورے مون کارٹون سے آیا۔ بچے نے بتایا کہ کارٹون کی ایک قسط میں ڈورے مون نے نوبیتا کو سکھایا تھا کہ اگر زلزلہ آجائے تو فوراً ٹیبل یا بیڈ کے نیچے چھپ جانا چاہیے، تاہم جب ہمارے گھر کی عمارت ہل رہی تھی تو مجھے لگا کہ زلزلہ آگیا ہے اس لیے میں جلدی سے بیڈ کے نیچے جاکر بیٹھ گیا اور جلد ہی عمارت گر گئی اور ہر طرف اندھیرا ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عمارت گرنے کے حادثے میں مصطفیٰ کی والدہ اور دادی انتقال کرگئی تھیں۔ واقعہ کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہو اکہ عمارت کا نقشہ صحیح نہیں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں ناقص سیمنٹ کا استعمال کیا گیا جو عمات کے زمین بوس ہونے کی وجہ بنا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے 3 افرا دکے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

Categories
شوبز

کوک سٹوڈیو کے گانے ’کنایاری‘ سے شہرت پانے والی گلوکارہ ” ایوا بی “ نے شادی کر لی ، تصویر وائرل

کراچی(ویب ڈیسک) کوک سٹوڈیو کے گانے ’کنا یاری ‘ سے شہرت پانے والی بلوچی گلوکاری ” ایوا بی “ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق حجاب پہن کر گلوکاری کرنے والی ایوا بی کی سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جن میں سرخ رنگ کا

بلوچی عروسی جوڑا پہنے ہوئے ہیں تاہم اس مرتبہ بھی انہوں نے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھپایا ہواہے ۔یاد رہے کہ اب سے کچھ دن قبل ہی ایوابی نے انسٹاگرام پر اپنی منگنی کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو آگاہ کیا تھا کہ وہ جلد نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہیں۔خیال رہے کہ ایوابی کی شادی گلوکار مدثر قریشی سے ہوئی ہے سوشل میڈیا پر مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے انہیں شادی کی مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

Categories
شوبز

الکا یاگنک 2022 میں یوٹیوب پر سب سےزیادہ سنی جانے والی گلوکارہ قرار

ممبئی(ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پیلٹ فارم یو ٹیوب نے سال 2022 کے سب سے زیادہ اسٹریم کیے جانے والے فنکاروں کی فہرست جاری کردی ہے ۔ جس میں بھارتی گلوکارہ الکا یاگنک سرفہرست جبکہ امریکی سانگ ریپر بیڈ بنی عرف پورٹو ریکو نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ نے الکا یاگنک کو 2022 میں یوٹیوب پر سب سے زیادہ سُنی جانے والی گلوکارہ قرار دیا ہے.الکا یاگنک نے 2022 میں کل 15.3 بلین یوٹیوب اسٹریمز حاصل کیے ہیں جوکہ قریباً 42 ملین یومیہ ہے۔ یوٹیوب کی جاری کردہ فہرست میں امریکی گلوکارہ نے بیڈ بنی عرف پورٹو ریکو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے 14.7 بلین اسٹریمز حاصل کیے۔گلوکارہ نے کورین مشہور بینڈ بی ٹی ایس کو بھی اس چارٹ میں پیچھے چھوڑ دیا ۔ بی ٹی ایس نے یو ٹیوب پر 7.95 بلین اسٹریم جبکہ کورین بینڈ بلیک پنک نے 7.03 بلین اسٹریمز حاصل کیے۔ اس کے علاوہ کینیڈین گلوکار دی ویک اینڈ 5.7 بلین اسٹریمز کے ساتھ 13ویں نمبر پر جبکہ امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ 4.33 بلین اسٹریمز کے ساتھ 26 ویں پوزیشن پر رہیں۔ یاد رہے کہ الکا یاگنک گزشتہ تین سالوں سے یوٹیوب پر راج کرتی آئی ہیں۔ 2020 میں انہیں 16.6 بلین اسٹریمز ملے جبکہ 2021 میں انہوں نے 17.7 بلین اسٹریمز حاصل کیے۔الکا یاگنک چار دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں 20,000 سے زائد گانے گا چکی ہیں۔

Categories
شوبز

“بھارت”خانز” کی محبت کے علاوہ ” مسلمان اداکاراؤں” کا دیوانہ ہے” کنگنا رناوت کا بیان

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی متنازع اداکارہ کنگنا رناوت گزشتہ کچھ دنوں سے شاہ رخ خان کی فلم “پٹھان” سے متعلق بیان اور کبھی سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرنے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ۔ کنگنا رناوت نے ٹوئٹر پر فلم”پٹھان” پر کیے گئے ایک مثبت تجزیے

پر اپنا ردِ عمل دیا ہے۔اُنہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ “بہت اچھا تجزیہ ہے، اس ملک نے صرف اور صرف تمام “خانز” سے محبت کی ہے اور کبھی کبھی تو صرف اور صرف شاہ رخ خان سے محبت کی ہے۔”خانز”کے علاوہ بھارت” مسلمان اداکاراؤں” کا دیوانہ ہے، اس لیے بھارت پر نفرت اور فاشسٹ ہونے کا الزام لگانا انتہائی ناانصافی ہے، دنیا بھر میں بھارت جیسا کوئی ملک نہیں ہے”۔اداکارہ کے اس ٹوئٹ پر صارفین کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔