Categories
منتخب کالم

شہباز شریف چند ماہ بھی وزیراعظم نہیں رہ سکیں گے کیونکہ۔۔۔۔۔۔ انصار عباسی کے ٹھوس دلائل

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے کہا تھا کہ عمران خان کو جس انداز میں گھر بجھوایا جا رہا ہے، وہ ناقص ہے۔ اُس میں Unfair Means استعمال ہوئے ہیں اس سے کیا بہتری برآمد ہو سکتی ہے؟ بھئی پانچ سال پورے ہونے دیتے لیکن نجانے کیوں اتنی جلدی تھی۔

اس کے باوجود کہ سب کو معلوم تھا کہ اُس وقت کی اپوزیشن پر مشتمل نئی حکومت وہ سیاسی استحکام نہیں لا سکتی جو اس ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ کوئی ایک درجن تو اتحادیوں نے مل کر174 ووٹوں کے ساتھ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا۔ یعنی صرف تین ووٹ روٹھ گئے تو حکومت گئی۔ ابھی کئی دن گزرنے کے بعد کابینہ نے حلف اُٹھایا ہی تو اختلافات کی خبریں آنے لگیں۔ زرداری پیپلز پارٹی کے لیے مزید عہدے مانگ رہے ہیں اور اسی لیے بلاول کو میاں نواز شریف سے ملنے لندن بھیج دیا۔بی این پی اختر مینگل گروپ نے چاغی کے واقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا اور اسی واقعہ کی وجہ سے کابینہ میں ابھی تک شمولیت بھی اختیار نہیں کی۔ بلاول بھٹو بھی ابھی کابینہ میں شامل نہیں ہوئے جبکہ محسن داوڑ اور عوامی نیشنل پارٹی کے متعلق بھی کچھ مسائل درپیش ہیں۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بہتر ہو گا کہ فوری الیکشن کی طرف جایا جائے کیوں کہ پاکستان کی قومی معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز سے نپٹنے کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے۔اس کے برعکس جو غیر فطری اتحاد اس وقت حکومت میں ہے وہ کیسے چند ماہ بھی چل سکتا ہے؟ اللہ کرے میں غلط ثابت ہوں لیکن مجھے کوئی اچھے اشارے نہیں مل رہے۔فوری الیکشن بہترین حل تھا لیکن معلوم نہیں الیکشن کمیشن نے ایسا کیوں کہہ دیا کہ اکتوبر سے پہلے انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔ جس روز عمران خان نے

بحیثیت وزیراعظم قومی اسمبلی کی تحلیل اور نوے دن میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا اُس کے دوسرے دن ڈان اخبار میں ذرائع کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی کہ الیکشن کمیشن نوے روز میں انتخابات نہیں کرا سکتا۔ لیکن جس دن یہ خبر شائع ہوئی اسی روز ٹی وی چینلز پر الیکشن کمیشن کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ نوے دن میں الیکشن نہ کروانے والی خبر درست نہیں۔ کچھ دن بعد سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ اکتوبر سے پہلے انتخابات ممکن نہیں۔ یہ معاملہ کیا ہے اس پر تو تحقیق کے بعد ہی بات ہو سکتی ہے لیکن اگر واقعی انتخابات اکتوبر سے پہلے ممکن نہیں تو پھر موجودہ حالت میں پاکستان کو کیسے چلایا جا سکتا ہے اور خصوصی طور پر معاشی مشکلات کا کیسے سامنا کیا جائے؟شہباز شریف بلاشبہ موجودہ سیاسی قیادت میں حکومت چلانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اُن کو ماضی کے برعکس اس وقت ایک ایسی سیاسی حمایت حاصل ہے جو بہت کمزور ہے، جو قابلِ اعتباربھی نہیں اور جس کی وجہ سے شاید وہ ایسا کچھ نہ کر سکیں جس کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا اصل چیلنج معیشت کا ہے۔ اور چیلنج بھی ایسا ہے جو فوری حل مانگتا ہے کیوں کہ ذرا سی بھی دیر پاکستان کو خدانخواستہ سری لنکا جیسی صورتحال میں دھکیل سکتی ہے۔معیشت کو سب سے بڑا خطرہ پٹرول کی اُن قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے جن کا فیصلہ اپنے دور حکومت کے آخری ہفتوں میں عمران خان نے کیا۔

حکومت پاکستان ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے پٹرول پر سبسڈی دیتی ہے۔ اس سبسڈی کو جاری رکھنے کا مطلب پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف لیجانا ہے، جس کا مطلب تباہی ہے۔اس خطرے سے بچنے کے لیے اگر ایک طرف آئی ایم ایف سے ڈیل ضروری ہے تو دوسری طرف حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں کم سے کم 20 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 50روپے فی لیٹر اضافہ کرنا ضروری ہو چکاہے۔یہ اضافہ آئندہ ایک دو ماہ میں کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس اضافے سے حکومت پیٹرول اُس ریٹ پر بیچے گی جو قیمت خرید ہے۔ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ عمران خان حکومت نے کیا تھا اُس کے مطابق پیٹرول پر 30 روپے کا ٹیکس بھی لگنا ہے۔اب شہباز شریف حکومت کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا ہے اور اگر ان قیمتوں کو بڑھایا جائے تو اس پر سیاسی ردعمل کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل بھی آئے گا۔اس فیصلے کے بغیر کوئی چارا نہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ شہباز شریف کو اس بارے میں اتحادیوں کی حمایت حاصل ہو گی یا نہیں۔ تحریک انصاف کے لیے تو شہباز شریف حکومت کے خلاف یہ ایک بہت بڑے سیاسی وار کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن یہ مسئلہ پاکستان کی سالمیت کا ہے۔ حقیقت کا سب کو علم ہے لیکن سیاست میں اپنے مخالف کو کسی بھی حالت میں ناکام کرنا اپنی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ خبردار! یہ معاملہ بہت نازک ہے، یہ پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ میری حکومت اور اپوزیشن میں شامل تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ سیاست ضرور کریں لیکن پاکستان کی معیشت کے ساتھ مت کھیلیں، ایسا نہ ہو کہ پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔ مل بیٹھ کر کم از کم معیشت کی بہتری کے لیے ایک فیصلہ کر لیں، ایک چارٹر آف اکانومی بنالیں۔

Categories
پاکستان

حکومت صرف ایک ووٹ پر کھڑی ہے!!! کیا نئی حکومت چل پائے گی، چند وجوہات جس کی بنا پر وقت پورا کرنا مشکل لگتا ہے

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں نئی حکومت قائم ہوچکی ہے اور نئے وزیراعظم شہباز شریف اپنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں- تاہم ملک بھر میں یہ چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں کہ شائد یہ حکومت اپنی ڈیڑھ سالہ مدت سے پہلے ہی ختم ہوسکتی ہے۔

آئیے ایک نظر دیکھتے ہیں کہ کن وجوہات کی بناء پر حکومت کی قبل از وقت رخصتی ممکن ہوسکتی ہے۔ غیر فطری اتحادی: کہتے ہیں کہ سیاست میں دوستی اور دشمنی کبھی بھی ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتی ، یہاں مفادات کیلئے اختلافات دوستیوں میں کب بدلتے ہیں کچھ پتا نہیں چلتا، ایسا ہی کچھ عمران خان کی حکومت ختم کرنے کیلئے دیکھنے میں آیا جب دیرینہ مخالف پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن باہم شیرشکر ہوتے دکھائی دیئے- تاہم یہ غیر فطری اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اختلافات کا شکار رہا اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، بی اے پی اور دیگر کا اتحاد زیادہ دیر قائم رہنا مشکل ہے۔ طاقت کا توازن: سیاست میں اتحاد تو ایک عام سے بات ہے لیکن یہاں اصل امتحان طاقت کے توازن کا ہوتا ہے جیسا کہ پی ڈی ایم کے وقت شاہد خاقان عباسی کے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو جاری کئے گئے ایک شو کاز نوٹس نے اتحاد پارہ پارہ کردیا تھا اور پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ وازرتوں کی تقسیم:یہ حقیقت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے میں تمام جماعتوں نے مل کر کردار ادا کیا تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن اس وقت سب سے بڑی حکومتی جماعت ہے اور یہی وجہ ہے وزارت عظمیٰ اور اہم وزارتیں بھی ن لیگ کے حصے میں آئی ہیں- جبکہ دوسری بڑی جماعت اور عمران خان کی حکومت گرانے میں سب سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے والی پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل میں دونوں بڑی جماعتوں میں اختلافات کی خبریں زبان زدعام ہیں کہ شائد یہی وجہ ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیرخارجہ کا حلف نہیں لیا اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے اختلافات جلد بڑی خلیج پیدا کرسکتے ہیں۔اسمبلی میں نمبرز گیم: قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس 84، پیپلزپارٹی کے پاس56، متحدہ مجلس عمل کے پاس 15، بی این پی ملی کے پاس4، عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ایک اور دو آزاد ارکان کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی 7، بی اے پی کی 4 اور آزاد ارکان کی حمایت ملنے کے بعد مجموعی تعداد 178 ارکان کی حمایت حاصل تھی تاہم شہباز شریف کے انتخاب میں 174 ووٹ ملے ۔ اعتماد کا ووٹ سب سے بڑا خطرہ: اب ایم کیو ایم کے ایک رکن اقبال محمد علی کے انتقال کے بعد حکومتی ووٹ 173 رہ گئے ہیں جبکہ حکومت بنانے کیلئے 342 کے ایوان میں 172 کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے تاہم شہباز شریف کی حکومت صرف ایک ووٹ پر کھڑی ہے اور ایسے میں صدر مملکت حاصل اختیارات کے تحت کسی بھی وقت اعتماد کے ووٹ کا کہہ دیتے ہیں تو حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور اگر شہباز شریف 172 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو حکومت ختم ہوسکتی ہے۔

Categories
انٹرنیشنل

مریض دوران علاج ڈینٹسٹ کی ڈرل ہی نگل گیا!! لیکن پھر ڈاکٹر نے بھی کمال کر دکھایا

لاہور: (ویب ڈیسک) امریکہ میں دانتوں کے ایک مریض کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ علاج کے لیے ڈینٹسٹ کے پاس جانے کے بعد اسے سیدھا ہسپتال جانا پڑے گا۔ دانتوں کا ڈاکٹر اس مریض کا علاج کر رہا تھا کہ وہ ڈینٹل ڈرل کا ایک حصہ ہی نگل گیا۔ یہ عجیب و غریب واقعہ امریکی ریاست وسکونسن میں پیش آیا۔ خبر رساں ادارے اے پی نے بدھ بیس اپریل کے روز اپنی رپورٹوں میں لکھا کہ اس مریض کی عمر 60 سال اور نام ٹام جوسی ہے

جو امریکی ریاست ایلینوئے کا رہائشی ہے۔ ٹام گزشتہ ماہ اپنے دانتوں کی ایک فلنگ کے لیے اپنے معالج کے پاس گیا اور اس وقت حیران رہ گیا، جب ڈینٹسٹ نے اسے بتایا کہ اس نے دانتوں کی رگڑائی کے دوران ڈرل مشین کا ایک حصہ نگل لیا ہے۔ٹام جوسی نے اس واقعے کے بعد ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ اس نے ڈینٹل ڈرل مشین کا کوئی دھاتی حصہ نگل لیا ہے، ”مجھے ہلکی سی کھانسی ہونے لگی تھی اور پھر سی ٹی اسکین سے ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ اس کھانسی کی وجہ کیا تھی۔‘‘ اس واقعے کے بعد ریاست وسکونسن کے شہر کینوشا میں ٹام کا علاج کرنے والے ڈینٹسٹ ڈاکٹر عبدالرئیس نے بتایا کہ ان کے اس مریض کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ڈرل کا ایک حصہ اس کے جسم میں چلا گیا ہے۔ ایک اور خرابی یہ ہوئی کہ یہ دھاتی ٹکڑا، جو ایک انچ لمبا تھا، ٹام کے پیٹ کے بجائے سانس کے ساتھ اس کے ایک پھیپھڑے میں چلا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالرئیس نے اسے نکانے کی کوشش کی، لیکن وہ مریض کی سانس کی نالی سے ہوتا ہوا نیچے پھیپھڑے میں پہنچ گیا تھا۔ اس پر ڈاکٹر نے ٹام کو یہ بھی بتا دیا کہ اگر ڈرل میشن کا یہ حصہ باہر نہ نکالا جا سکا، تو اس کے پھیپھڑے کا ایک حصہ آپریشن کر کے کاٹ دینا پڑے گا۔ اس کے بعد مریض کو ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے کسی آپریشن کے بغیر ہی تقریباﹰ ڈھائی سینٹی میٹر لمبا یہ دھاتی ٹکڑا اس کے پھیپھڑے سے باہر نکال لیا۔ اس کے لیے ایک طبی ٹیم نے مریض کے منہ کے راستے ایک ایسا نیا سرجیکل آلہ استعمال کیا، جو عام طور پر کینسر کی ابتدائی حالت میں اس مرض کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹام جوسی نے بعد ازاں کہا کہ بے ہوشی کی حالت میں اس کے پھیپھڑے سے یہ دھاتی ٹکڑا نکالے جانے کے بعد جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اتنا خوش تھا، جتنا اس لمحے سے پہلے اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں۔ ”ڈاکٹروں نے ڈینٹل ڈرل کا یہ حصہ مجھے ساتھ لے جانے کے لیے دے دیا۔ ایک چھوٹے سے پلاسٹک کنٹینر میں بند یہ دھاتی ٹکڑا اب میرے گھر میں ایک شیلف پر رکھا ہے۔‘‘

Categories
اسپیشل سٹوریز

ذرا سی غلطی جان لے سکتی ہے!!!! دنیا کا وہ خوبصورت باغ جو آپ کو موت کی نیند بھی سُلا سکتا ہے، آخر یہ اتنا خطرناک کیوں ہے؟

لاہور: (ویب ڈیسک) کیا آپ کسی ایسے باغ میں سیر کرنے کی خواہش کریں گے جہاں آپ کی جان کو خطرہ ہو؟ بالکل بھی نہیں، لیکن کچھ لوگ ہیں جن کے لئے یہ ایک ایڈونچر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح کے تجسس پسند لوگوں کے لئے ایک گارڈن، “پوائزن گارڈن” کے نام سے بنایا گیا ہے، جو انگلینڈ میں موجود ایلن وِک گارڈن کا ایک حصہ ہے— یہ تقریباً 100 اقسام کے زہریلے، اور نشہ آور پودوں سے بھرا ہوا ہے۔

پوائزن گارڈن کی حدود کالے آہنی دروازوں کے پیچھے ہے جو صرف ماہر ٹور گائیڈز کی نگرانی میں وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ وزیٹرز کو کسی بھی پودے کو سونگھنے، چھونے یا چکھنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ کچھ لوگ باغ میں محض چہل قدمی کے دوران زہریلی فضا میں سانس لینے سے بیہوش ہوئے۔ ٹریور جونز، ہیڈ باغبان، اس باغ کے ماہر ٹور گائیڈ ہیں۔ ایلن وِک گارڈنز کی ابتداء 1995 میں ہوئی، جب لارڈ اور لیڈی پرسی، نارتھمبر لینڈ کے 12ویں ڈیوک اور ڈچس بنے، اور وہ الن وک کیسل اور اس سے ملحقہ 12 ایکڑ زمین والے باغ کے نئے مالک بن گئے۔ ماضی میں یہ ایک عظیم الشان جگہ رہی، لیکن20ویں صدی کے دوران یہ باغ خستہ حالی کا شکار ہو گیا – اسے دوسری جنگ عظیم کے دوران ‘ڈِگ فار وکٹری’ مہم کے طور پر فصل اگانے کے لیے استعمال کیا گیا، اور جنگ کے بعد اسے عوامی باغ کے طور پر بند کر دیا گیا۔ اس باغ کی تخلیق ڈچس آف نارتھمبرلینڈ، جین پرسی کے سر جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر ڈچس کی تخلیق تھی، جو اٹلی کے دورے کے موقع پر اپوتھیکری گارڈن سے متاثر ہوئی تھی، جہاں باغات کی کثیر تعداد نے انھیں متاثر کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہاں پودوں کی میڈیسن بنانے کی طاقت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے… انھیں ایک اچٹتا ہوا خیال آیا کیوں نہ زہریلے پودوں کی ایک کلیکشن ہو جو لوگوں کے لئے ایک ایڈونچر ہوسکتا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق اس منصوبے کے لیے دنیا بھر سے معروف آرکیٹیکٹز کو لایا گیا، جن میں عالمی شہرت یافتہ جیک وِرٹز اور ان کے بیٹے پیٹر ورٹز شامل ہیں، جنہوں نے اس کا مرکزی ڈھانچہ ڈیزائن کیا۔ اب ان 16ویں صدی کے آہنی دروازوں کے پیچھے، سحر انگیز باغات کا ایک حیران کن جال ہے

جس میں بانس کی سرنگوں کی بھول بھلیاں، ایک مرکزی پانی کی آبشار، ایک چیری کا باغ، سانپ کی شکل کا باغ، اور ایک یادگار ٹری ہاؤس ہے۔ (جو دنیا کا سب سے بڑا ٹری ہاؤس مانا جاتا ہے)، ایک ریستوران، بار اور ایونٹ ایریا بھی ہے جن تک رسائی کے لئے رسی کے پل بنائے گئے جو یقیناً اسکی قدرتی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے ہیں۔ باغ ہر طرف مجسموں اور جدید ترین لائٹنگ اور واٹر ٹیکنالوجیز سے بھرا ہوا ہے، باغ کا انتہائی متاثر کن منظر جو ڈیزائنرز کی مہارت اور جدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ باغ صرف دو تہائی تعمیر کیا گیا ہے، جو فنڈ ریزنگ کے زریعے پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ خطرناک ہونے کے باعث پوائزن گارڈن کو صرف ماہر گائیڈز کی نگرانی میں وزٹ کرنے کی اجازت ہے، یہ گائیڈز مہلک پودوں کی 100 انواع میں سے ہر ایک کے بارے میں مکمل طور پر معلومات رکھتے ہیں۔ نباتات کو چکھنے، چھونے یا یہاں تک کہ سونگھنے سے درپیش خطرات کے بارے میں ہدایات درج ہیں، لیکن انسانی تجسس لوگوں کو وہاں لے جاتا ہے- 2014 کے موسم گرما میں، سات وزیٹرز زہریلی فضا میں سانس لینے کے بعد بے ہوش ہو گئے۔ پوائزن گارڈن کی انواع میں Strychnos nux-vomica ، ہیملاک، Ricinus communis (بے ضرر کیسٹر آئل کے ساتھ مہلک ricin بھی)، فاکس گلوو، ایٹروپا بیلاڈونا (جسے عام طور پر ڈیڈلی نائٹ شیڈ کہا جاتا ہے)، برگمینسیا اور لیبرنم شامل ہیں۔یہ پودے میڈیسن کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کی مقدار کے بارے میں ایکسپرٹس جانتے ہیں کیونکہ ان کو پروسیس کر کے میڈیسن کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ زہریلے مشرومز کی کثیر تعداد اس باغ میں موجود ہیں جو دکھنے میں انتہائی خوبصورت لگتے ہیں۔ پوائزن گارڈن— دنیا کے باغات میں سے ایک انتہائی منفرد باغ ہے جو یقیناً اشرافیہ کی سوچ کا ایک جدا انداز ہے !

Categories
شوبز

جب رفیع نے روزے کی حالت میں گیت ریکارڈ کروایا تو ان کیساتھ کیا ہوا ؟

ممبئی: (ویب ڈیسک) محمد رفیع روزے کی حالت میں گیت ریکارڈ کرنے پہنچے۔ ریہرسل ہوئی، گیت ریکارڈ ہوا اور موسیقار جوڑی کلیان جی آنند جی نے ’اوکے‘ کر دیا۔ رفیع تیز تیز سے ریکارڈنگ سٹوڈیو سے باہر نکلے کہ افطاری کا وقت قریب تھا اور انہیں گھر جانے کی جلدی تھی۔ جوں ہی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے، ایک شخص نے آ کر ان کا راستہ روک دیا۔

یہ بات ہے 1973 کی جب بالی وڈ میں نیا عہد بنانے والی فلم ’زنجیر‘ (1973) کے گیت کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ یوں تو فلم میں پانچ گیت شامل تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی براہ راست مرکزی کردار انسپیکٹر وجے کھنہ (امیتابھ بچن) پر نہیں فلمایا گیا تھا۔ وجے کے ’اینگری ینگ مین‘ امیج کی شدت برقرار رکھنے کے لیے گیتوں کے بول فلم کے باقی کردار پردے پر گنگنا رہے تھے۔ ایسا ہی ایک دوگانا کریکٹر ایکٹر گلشن باورا اور شیلا پر فلمایا جانا تھا، ’دیوانے ہیں دیوانوں کو نہ گھر چاہیے۔‘ رفیع صاحب ویسے تو اس وقت ہزاروں گیت گا چکے تھے لیکن روزے کی حالت میں پہلے ریہرسل اور پھر فائنل ٹیک اوکے ہونے تک ان کا گلا اور ہمت دونوں جواب دے چکے تھے۔ ابھی رفیع گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو گھر جانے کی ہدایت دینے والے تھے کہ وہ شخص دروازے کے پاس پہنچ گیا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ موسیقاروں نے تو اوکے کر دیا تھا مگر لتا منگیشکر اس سے مطمئن نہیں تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ ایک اور ریکارڈنگ کر لی جائے۔ رفیع ویسے تو سمندر کی طرح شانت طبیعت کے مالک تھے، لیکن وہ افطاری اپنے گھر والوں کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’جب اوکے ہو گیا تو اب دوبارہ کیوں؟‘ مجھ میں ہمت نہیں،‘ اور گاڑی کا دروازہ بند کر لیا۔ رفیع کا راستہ کاٹنے والے نے کہا، ’رفیع صاحب آپ جانتے ہیں سکرین پر یہ گیت کون گا رہا ہے؟‘رفیع صاحب نے جھنجھلا کر کہا، ’کیا دلیپ کمار گا رہا ہے؟‘ اس سے پہلے کہ محمد رفیع مزید کچھ بولتے، اس شخص نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’بھاء جی، یہ جو آپ کا خادم ہے نا، سکرین پر یہ گا رہا ہے۔ کیا آپ ایک ری ٹیک نہیں دے سکتے؟‘

رفیع صاحب کے لہجے میں فوراً اپنائیت آ گئی، ’ارے تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تو گا رہا ہے؟‘ وہ گاڑی سے اترے، ریکارڈنگ روم پہنچے اور ایک کے بجائے دو ری ٹیکس دیے۔ کلیان جی آنند جی اور لتا کے لیے نہ ماننے والے رفیع صاحب کے تیور سے لگتا تھا اس روز دلیپ کمار ہوتے تب بھی رعایت مشکل تھی لیکن بھاء جی کے رشتے نے چمتکار دیکھایا۔ گلش باورا کا نام ممکن ہے زیادہ مانوس نہ ہو لیکن ان کے قلم سے نکلے ہوئے کئی گیت ہمارے جمالیاتی احساس کا حصہ ہیں۔ ’میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے،‘ ’یاری ہے ایمان ہے میرا یار میری زندگی،‘ ’پیار ہمیں کس موڑ پہ لے آیا،‘ ’وعدہ کر لے ساجنا‘ اور ’قسمیں وعدے نبھائیں گے ہم‘ جیسے لافانی گیتوں کے خالق تھے گلشن باورا۔1955 میں ریلوے گودام پر ایک معمولی کلرک بن کر بمبئی میں وارد ہونے والے گلشن کمار مہتا کو گلشن باورا بننے کے لیے کچھ زیادہ سنگھرش سے نہیں گزرنا پڑا۔ اسی لیے تو اپنے ایک انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ ’جو شخص چھ دن بمبئی میں گزار لے ساتویں دن اسے یہ شہر اپنا لیتا ہے۔‘ یقیناً یہ بات انہوں نے محاورتاً کہی ہو گی ورنہ تین سال تو انہیں بھی سٹوڈیوز کے چکر کاٹنا پڑے۔ شیخوپورہ میں نوشاد کی تاریخ ساز فلم ’رتن‘ کا ’ساون کے بادلو، ان سے یہ جا کہو‘ سنتے ہوئے سونے والا یہ بچہ لڑکپن سے ہی فلم لائن کا حصہ بننے کا خواب دیکھنے لگا۔ 1947 کے اندوہناک واقعات میں ماں باپ سے محروم ہونے والا یہ بچہ دلی اپنے بھائی کے ساتھ بڑی بہن کے گھر دلی چلا گیا۔ وہاں میٹرک پاس کی اور معمولی سی ملازمت بھی مل گئی۔ بمبئی میں آتے ہی اضافی وقت فلم نگری کی خاک چھانتے ہوئے کٹنے لگا۔ اس وقت موسیقار بھائیوں کی ایک نئی جوڑی کلیان جی آنند جی کے نام سے جگہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ گلشن کمار ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگے۔ اسی جوڑی نے 23 اگست 1958 کو چندرسینا کے لیے گلشن جی کا لکھا ہوا پہلا گیت لتا کی آواز میں ریکارڈ کیا، ’میں کیا جانوں کاہے لاگے یہ ساون متوالا رے۔‘

ان کا نام کیسے تبدیل ہوا یہ ایک دلچسپ قصہ ہے۔ ڈسٹری بیوٹر شانتی بھائی پٹیل فلم سٹہ بازار کی موسیقی سننے آئے اور دو گیتوں کی بہت تعریف کر کے پوچھا کہ یہ کس نے لکھے ہیں؟ وہاں گلشن کمار مہتا بھی موجود تھے جنہوں نے دلی سٹائل کے شوخ رنگوں والے کھلے ڈلے کپڑے پہن رکھے تھے۔ پٹیل بھائی دیکھتے ہی بولے، ’یہ کیا لکھے گا یہ تو شکل سے ہی باورا لگتا ہے۔‘کافی ردوقدح کے بعد انہوں نے نہ صرف یہ حقیقت تسلیم کی بلکہ فلم کے بینر پر یہی نام ’گلشن باورا‘ بھی چھپوا دیا۔ اب گلشن باورا کو تھوڑا بہت لکھنے کا کام ملنے لگا اور ساتھ ساتھ یہ مختلف چھوٹے موٹے کرداروں میں فلم کے پردے پر بھی نمودار ہوتے رہے۔ ریلوے میں کلرکی کے دوران گندم کے سیزن میں گودام بھر جاتے۔ گلشن جی کو ایسا لگتا جیسے ہر طرف سونا بکھرا ہو۔ اس منظر سے متاثر ہو کر انہوں چند بول اپنی ڈائری میں لکھ لیے۔ بہت بعد میں جب منوج کمار نے ’اپکار‘ شروع کی تو یہ ان سے ملے اور اپنی ڈائری دکھائی۔ اس طرح ایک شاہکار گیت نے جنم لیا، ’میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے اگلے ہیرے موتی۔‘کسانوں کی مٹی سے محبت اور ملک کے لیے خدمات کو اس گیت سے بہتر خراج تحسین پیش نہیں کیا جا سکتا۔ گاؤں کی جاگتی ہوئی صبح جس طرح اس گیت میں انگڑائی لیتی ہے اس کا جواب نہیں۔ اس کے موسیقار بھی کلیاں جی آنند جی تھے۔ اگرچہ گلشن باورا کے کیریئر میں اس جوڑی کا بہت ہاتھ ہے لیکن ان کا سب سے خوبصورت کام پنچم یعنی آر ڈی برمن کے ساتھ ہے۔ وہی پنچم جو ابتدا میں گلشن باورا کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہرگز راضی نہ تھے۔ رندھیر کپور کو مرکزی کردار میں لے کر پرکاش مہرا ’خلیفہ‘ (1976) بنا رہے تھے اور انہیں ایک ایسے نغمہ نگار کی ضرورت تھی جس کے ساتھ ان کا تال میل بہت زبردست ہو۔مشکل سے انہوں نے پنچم کو اس شرط پر راضی کیا کہ آپ ایک گیت لکھوا کر دیکھ لیں اگر پسند نہ آیا تو آپ کی مرضی کا شاعر سائن کر لیا جائے گا۔ میوزک سِٹنگ ہوئی اور پنچم نے چار مختلف دھنیں سنائیں جو ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تھیں۔پرکاش مہرا اور رندھیر کپور متذبذب ہو گئے۔ تب گلش باورا نے کہا جو سب سے پہلے سنی وہ زیادہ خوبصورت ہے اور فوراً اس کا مکھڑا بھی سنا دیا، وہ گیت تھا ’دیکھ کر تجھ کو دل نے کہا۔‘

پنچم نے مکھڑا فائنل کیا اور بولے کل آ کر مجھ سے انترے کا میٹر لے جانا۔ گلشن جی اگلے دن گئے اور ان کے بقول پنچم نے انترے کا میٹر دیا جو ’تین کلو میٹر‘ لمبا تھا۔ یہ اس امتحان میں بھی سرخرو رہے اور دھیرے دھیرے دونوں کی دوستی ہو گئی۔ پنچم اور گلشن کے گھر نزدیک تھے۔ کئی بار پنچم ان کی اہلیہ انجو کے ہاتھ کا بنا سرسوں کا ساگ کھانے آ جایا کرتے تھے۔ گلشن باورا نے پنچم کو یاد کرتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ ریڈیو پروگرام میں سنایا تھا۔ ایک روز گلشن جی گیت کے دھن لے کر آئے تو انہیں پسند نہیں آئی۔ انہوں نے پنچم کو فون کیا اور کہا، ’یہ کیسی دھن پکڑا دی چیکا چیکا چیکا چیکا۔ کوئی نرم سی دھن ہو جس میں رومانس لکھتے ہوئے اچھا بھی لگے۔‘ پنچم نے کہا، ’میں تمہارے گھر آنے لگا ہوں۔‘ گلشن جی کے بقول، ’جیسے ہی پنچم انٹر ہوئے وہ گا رہے تھے، ’سرسوں کا ساگ پکانا انجو، مکئی کی روٹی کھلانا انجو، پہلے تو میرا پیگ بنا تو، ٹیون یہی ہے اب سمجھ گیا تو۔‘ اسی دھن پر گلشن جی نے بول لکھے اور وہ تھے، ’قسمیں وعدے نبھائیں گے ہم۔‘ ایک انتہائی خوبصورت گیت۔ پنچم اور گلشن باورا کے بہترین گیتوں میں ’پیار ہمیں کس موڑ پہ لے آیا،‘ ’نشا جان جاں او میری جان جاں،‘ ’تو تو ہے وہی، تیرے بنا میں کچھ بھی نہیں ہوں،‘ ’سمندر میں نہا کر اور بھی نمکین ہو گئی ہو‘ اور ’دل مچل رہا ہے‘ جیسے کئی گیت شامل ہیں۔ پانچ دہائیوں تک فلم انڈسری میں رہنے کے باوجود گلشن باورا نے محض تین سو کے قریب گیت لکھے۔ ان کے گیت سنتے ہوۓ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ لفظوں کی خوبصورتی دل موہ لے۔ ایک نہایت روایتی قسم کے شاعر ہونے کے باوجود وہ اچھے موسیقاروں کے سہارے امر ہو گئے۔’یاری ہے ایمان میرا‘ اور ’میرے دیش کی دھرتی‘ پر فلم فیئر ایوارڈ جیتنے والے گلشن باورا سات اگست 2009 کو آنجہانی ہو گئے۔

Categories
Uncategorized شوبز

بھارتی اداکارہ نمرت کور کے لباس پر بحث کیوں ؟ نئے سوالات کھڑے ہوگئے

ممبئی: (ویب ڈیسک) بالی وڈ اداکارہ نمرت کور آج کل خبروں کی زینت ہیں، جنہوں نے اپنی فلم ’دسوی‘ کے لیے وزن کم کرکے سب کو حیران کردیا ہے، وہیں ٹوئٹر پر ایک شخص نے ایک شو میں پہنے گئے ان کے لباس کے حوالے سے ایک سوال کرکے بحث کو جنم دیا۔

نمرت کور نے حال ہی میں ابھیشیک بچن کے ساتھ فلم ’دسوی‘ کی پروموشن کے سلسلے میں کپل شرما شو میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ جس کے بعد دیوانگ نامی ایک ٹوئٹر صارف نے شو کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ کپل شرما، ابھیشیک اور اپنی ٹیم کی دو ساتھیوں کے ساتھ نظر آئیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا: ’خواتین، میں واقعی میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے لباس کا مقصد کیا ہے، اگر یہ مردوں کو راغب کرنے کے لیے ہے تو کیوں؟ اگر مردوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرنا ہے تو کیوں؟ یہ ایک بہت ہی حقیقی سوال ہے۔‘ اس ٹویٹ نے بہت سے لوگوں کو ناراض کیا جنہوں نے مذکورہ صارف کو مناسب جواب دیا۔ ایک صارف نے لکھا: ’ایک آدمی مختلف قسم کے کپڑے پہنتا ہے جیسے لنگی، دھوتی، شارٹس، پینٹ، جینز، ٹی شرٹ، ہاف آستین والی قمیص، پوری آستین والی قمیص۔۔۔ ان کپڑوں کا مقصد کیا ہے؟ پہلے اس کی وضاحت کریں۔‘ایک اور نے یہ کہہ کر جواب دیا: ’کوئی کچھ نہیں دکھا رہا ہے۔ یہ عورت کی خوبصورتی کا حصہ ہے۔ یہ دنیا میں ہر جگہ معمول کی بات ہے۔۔ ناپاکی صرف دماغ میں ہوتی ہے، اگر یہ آپ کو پریشان کرتا ہے تو لندن یا نیویارک نہ جانا ہی بہتر ہے۔‘روڈیز کے ایک آڈیشن سے نیہا دھوپیا کی ایک تصویر کو ’سن میری بات، یہ اس کی پسند ہے‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا: ’فیمنسٹ جواب۔۔۔‘اسی طرح ایک صارف نے لکھا: ’کوئی بھی جو چاہے پہن سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جو خواتین ساڑھی پہنتی ہیں ان کا کلیویج بھی نظر آتا ہے۔ اصل مقصد انتخاب کا حق استعمال کرنا ہے۔‘ ایک اور نے لکھا: ’یہ 2022 ہے اور آپ مردوں کو اب بھی خواتین کے لباس کے انتخاب میں پریشانی کا سامنا ہے۔‘

ایک اور صارف نے جواب دیا: ’مرد وہاں بائسپس یا اچھی ٹونڈ سینہ کیوں دکھاتے ہیں؟ میرا اندازہ ہے کہ اس کا مقصد دوسروں کی توجہ مبذول کروانا خاص طور پر دوسری جنس کے لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ہے کیونکہ مردانہ بائسپس اچھے لگتے ہیں۔‘ اسی طرح ایک اور صارف نے آگے بڑھ کر یہ جواب دیا کہ ’اگر وہ برقع پہن کر آتیں تو پھر بھی آپ ایسے ہی پوسٹ کرتے کہ دکھاؤ میں برقع دیکھو۔‘ اس ساری بحث کے دوران نمرت کور نے ابھی تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ نمرت کور معروف بھارتی اداکارہ ہیں جو ہندی فلموں اور امریکی ٹیلی ویژن پر نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پرنٹ ماڈل کے طور پر کیا اور تھیٹر میں اداکاری کی۔ چند فلموں میں مختصر اداکاری کے بعد کور نے انوراگ کشیپ کی پروڈکشن پیڈلرز میں اداکاری کی، جسے 2012 کے کانز فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا۔ نمرت کور نے فلم ’دسوی‘ میں اپنے کردار کے لیے 15 کلو وزن کم کیا ہے۔ اس کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر جسمانی تبدیلی سے گزرنا پڑا اور ان کا فٹ ہونے کا سفر متاثر کن رہا۔ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر نمرت نے اپنی پہلے اور بعد کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ انسٹا پر ہی ایک طویل نوٹ میں نمرت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح لوگ اپنے مشورے لے کر آئیں گے، لطیفے بنائیں گے، یہاں تک کہ وہ کیا کھا رہی ہیں، اس پر بھی نازیبا ریمارکس دیں گے۔ اداکارہ نے اپنی پوسٹ کا اختتام یہ بتاتے ہوئے کیا کہ کس طرح لوگوں کو دوسروں کے لیے زیادہ احساس اور ہمدردی رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’مہربان بنیں۔ احساس کریں۔ شکر گزار ہوں۔ اگر آپ اسے بہتر نہیں بنا سکتے تو کسی کے دن کو برا نہ بنائیں۔ ذمہ دار بنیے۔ صرف اپنے دماغ اور جسم کو اپنا کاروبار بنائیں۔ کسی اور کا نہیں۔‘

Categories
شوبز

دباؤ برداشت نہ کر پائے!! اکشے کمار نے گٹکے کے اشتہار میں کام کرنے سے معذرت کیوں کی؟؟ وجہ سامنے آگئی

ممبئی: (ویب ڈیسک ) بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو اکشے کمار نے شائقین کی تنقید کے بعد گٹکے کے اشتہار میں کام کرنے پر معذرت کرلی۔اداکار اکشے کمار حال ہی میں اداکار اجے دیوگن اور شاہ رخ خان کے ہمراہ گٹکے کے اشتہار میں نظر آئے تھے جسے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین بھڑک گئے تھے اور اداکار پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوسروں کو نشہ آور اشیا سے دور رہنے کی تلقین کرنے والے اکشے کمار جو خود بھی شراب اور سگریٹ نوشی جیسی چیزوں سے دور رہتے ہیں، اب خود گٹکے کے اشتہار میں کام کررہے ہیں۔جب تنقید حد سے بڑھ گئی تو اکشے کمار نے سوشل میڈیا پر ایک نوٹ شیئر کیا جس میں انہوں نے گٹکے کے اشتہار میں کام کرنے پر معافی مانگی ہے۔ اکشے کمار نے لکھا ’’میں اپنے مداحوں، خیرخواہوں اور آپ تمام لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔ پچھلے کچھ دنوں میں آپ لوگوں کی جانب سے ملنے والے ردعمل نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ اگرچہ میں تمباکو کی توثیق نہیں کرتا اور نا ہی کروں گا۔ میں ویمل الائچی کے ساتھ اپنی وابستگی کی روشنی میں آپ کے جذبات کے اظہار کا احترام کرتا ہوں۔اکشے کمار نے گٹکے کے اشتہار میں کام کرنے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا پوری عاجزی کے ساتھ میں پیچھے ہٹتا ہوں۔ اور اس اشتہار میں کام کے لیے ملنے والی پوری فیس کو میں نے ایک اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ برانڈ اس معاہدے کی قانونی مدت تک اشتہارات نشر کرنا جاری رکھ سکتا ہے، لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں مستقبل میں اشتہارات کے انتخاب میں انتہائی محتاط رہوں گا۔ بدلے میں ہمیشہ آپ کی محبت اور نیک تمناؤں کا طلبگار رہوں گا۔ اکشے کمار‘‘۔ واضح رہے کہ اکشے کمار نے 2018 میں کہا تھا کہ مجھے گٹکا کمپنیز سے متعدد مرتبہ بھاری معاوضے کے عوض اشتہارات میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی مگر میں غلط کام نہیں کروں گا۔

Categories
شوبز

مریم نفیس نے شادی کیلئے کونسی شرط رکھی؟؟؟ شوہر امان احمد نے بڑا انکشاف کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) گزشتہ ماہ مارچ میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی اداکارہ مریم نفیس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ کم عمری میں شادی کریں۔مریم نفیس شوہر امان احمد اور والدہ کے ہمراہ ندا یاسر کے رمضان شو میں شریک ہوئیں، جہاں ایک سیگمنٹ میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی وہ 19 برس کی ہوئیں تو ان کی والدہ شادی کے لیے ان کے پیچھے پڑ گئیں اور ان پر بہت دباؤ ڈالا۔

اداکارہ نے بتایا کہ والدہ نے ان پر شادی کے لیے دباؤ ڈالا اور انہیں کہا کہ وہ شادی کے بعد جو کرنا چاہے، کرلیں لیکن اب شادی کرلیں۔مریم نفیس کے مطابق والدہ نے بہت سارے لڑکوں کو گھر بلایا اور بہت سارے لڑکوں کی تصاویر بھی دکھائیں اور بھرپور کوشش کی کہ وہ کم عمری میں ان کی شادی کروالیں۔ اسی سیگمنٹ میں ایک اور سوال کے جواب میں مریم نفیس نے بتایا کہ جب انہیں امان احمد پسند آگئے اور انہوں نے والدہ کو بتایا تو وہ فوری طور پر ان کے شریک حیات کو پرکھے اور دیکھے بغیر ان کی شادی کے لیے تیار ہوگئیں۔مریم نفیس کے مطابق امان احمد کا بتانے کے فوری بعد ہی والدہ نے انہیں کہا کہ چلو اب جلدی شادی کرلو لیکن انہوں نے اس وقت بھی والدہ کی بات نہیں مانی اور پہلے اپنے ہونے والے شریک حیات کو پرکھا اور سمجھا۔ اسی دوران مریم نفیس کے شوہر امان احمد نے بھی اپنے دل کی باتیں بتائیں اور انکشاف کیا کہ شادی کے لیے پسند کیے جانے سے قبل انہیں مختلف مراحل سے گزرنا پڑا۔امان احمد کے مطابق مریم نفیس نے شادی کے لیے شرط رکھی تھی کہ اگر وہ ان کی ’پالتو کُتیا‘ (کُو کِی) کو پسند آئے تو وہ ان سے شادی کے لیے اہل ہوجائیں گے۔ امان احمد نے بتایا کہ خوش قسمتی سے وہ مریم نفیس کے ’پالتو کُتیا‘ (کُو کِی) کو پسند آگئے اور وہ پھر انہوں نے دیگر مراحل بھی طے کیے اور ان کی شادی ہوگئی۔ اسی حوالے سے مریم نفیس نے بتایا کہ شادی کے موقع پر بھی ان کی ’پالتو کُتیا‘ (کُو کِی) ان کے ساتھ تھیں اور عروسی لباس کے وقت وہ ان کی گود میں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل ’پالتو کُتیا‘ (کُو کِی) ان کی نہیں، ان کی والدہ کی ہیں مگر وہ اس کا باقی اہل خانہ سے مقابلے زیادہ خیال رکھتی رہی ہیں۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

اب سے عدالتیں کارراوئی بھی نشر ہو گی! چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی کورٹ میں لائیو اسٹریمنگ کے لیے سسٹم نصب کر دیا ہے۔ ٹرائل کے طور پر آج

سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالت کی کارروائی کو محدود پیمانے پر براہ راست دکھایا جائے گا۔ ٹرائل کی کامیابی کے بعد ویب سائٹ پر کوئی بھی لائیو عدالتی کارروائی دیکھ سکے گا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے لائیو اسٹریمنگ پر ہائیکورٹ رپورٹرز سے تجاویز طلب کر لی ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو معاونت کی ہدایت کی ہے۔

Categories
پاکستان

سابق اور موجودہ حکومت میں دوریاں ختم ہونے لگی،افطار ڈنر کی دعوتیں دی جانے لگی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سابق وزیر اسد عمر کو الوداعی افطار ڈنر پر بلا لیا۔(ن) لیگ کے رہنما احسن اقبال نے خط کے ذریعے اسد عمر کو دعوت نامہ بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ سیاسی روایات کے تحت آپ کو الوداعی ڈنر دینا چاہتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہےکہ ملاقات میں آپ کی حکومت کی جانب سے عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں اور آپ کے شروع کردہ منصوبوں کو جاری رکھنے پرگفتگو ہوگی۔احسن اقبال نے خط میں کہا کہ امید ہے آپ مثبت جواب دے کر وقت سے آگاہ کریں گے۔

Categories
منتخب کالم

عمران خان پرتوشہ خانہ سے مستفید ہونے کا الزام،مگر اس سے قبل کن کن وزراء اور صدور نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ صاف کیے؟؟؟ایسی تفصیلات سامنے آگئی کہ آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت پاکستان کا توشہ خانہ ایسی جگہ ہی نہیں رہی کہ اس کا دورہ کیا جائے کیونکہ ملک کے بیشتر صدور، وزرائے اعظم فوجی حکمرانوں اور اہم عہدیدار (سویلین اور عسکری) ماضی میں غیر ملکی شخصیات سے ملنے والے تحائف انتہائی ارزاں نرخوں پر خرید کر اپنے گھر لے جا چکے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس امڈتے ہوئے طوفان کی زد میں آئے ہیں لیکن بمشکل ہی کسی سابق وزیراعظم، صدر، فوجی حکمران اور اہم عہدیداروں میں سے کسی نے توشہ خانے میں ملنے والے تحائف جمع کرائے ہوں۔ کابینہ ڈویژن میں اس معاملے سے نمٹنے والے ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے توشہ خانے میں دکھانے کیلئے کچھ بھی موجود نہیں اور جو کچھ رہ گیا ہے اسے آپ کچرہ کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کے مقابلے میں اگر یہ بات سامنے آ جائے کہ سابق حکمرانوں بشمول جنرل پرویز مشرف، آصف زرداری، نواز شریف، شوکت عزیز اور دیگر نے کون سے تحائف اپنے پاس رکھے ہیں تو یہ سب سے بڑا اسکینڈل بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ سابق صدور کے ملٹری سیکریٹریوں نے بھی توشہ خانے کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں، توشہ خانے کے حوالے سے پالیسی بنائی ہی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے آخر تک نافذ پالیسی کے تحت تحفہ وصول کرنے والا عہدیدار تحفے کی اصل قیمت کے تجزیے کے بعد اس کی صرف 20 فیصد قیمت ادا کرکے وہ تحفہ اپنے پاس رکھ سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ فی الوقت توشہ خانے کی حالت یہ ہے کہ جو سویلین اور فوجی افسران توشہ خانے میں موجود تحائف کو خریدنے کیلئے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ اب اس میں موجود

باقی رہ جانے والی چیزوں کو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ توشہ خانے میں وہ تحائف رکھے جاتے ہیں جو غیر ملکی سرکاری عہدیداروں اور نمایاں افراد کی جانب سے ملک کے سرکاری عہدیداروں کو دیے جاتے ہیں، ان تحفوں کو ’’سرکاری خزانے‘‘ میں جمع کیا جاتا ہے اور انہیں عموماً ریاست کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، سرکاری پالیسی کے مطابق، صرف سیاست اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی اشرافیہ (سویلین اور فوجی) اور جج صاحبان ہی یہ تحفے خرید سکتے ہیں۔ معاشرے کے اس با اثر طبقے کو عموماً یہ تحفے انتہائی ارزاں نرخوں پر خریدنے کی اجازت ہے یا پھر یہ تحفے وفاقی حکومت اور مسلح افواج کے افسران میں نیلام کیے جاتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی یہ ہے کہ کسی کو بھی تحفہ ملے تو وہ پہلے حکومت کو آگاہ کرے اور اسے توشہ خانے میں جمع کرائے لیکن ایسے کیسز ہیں جن میں ملنے والے تحفوں کا بتایا ہی نہیں جاتا اور یہ حکومت کو بھی نہیں دیے جاتے کہ توشہ خانے میں جمع کرایا جائے۔ دسمبر 2018 میں جاری کردہ نظرثانی شدہ پالیسی کے مطابق، اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے زائد مالیت کا تحفہ تحفہ وصول کرنے والا عہدیدار 30 ہزار سے زائد جتنی رقم بنتی ہے اس کا50 فیصد حصہ ادا کرکے وہ تحفہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کی سہولت نادر اور بیش قیمت انمول تحائف کیلئے نہیں ہے۔ ایسے تمام تحائف کا مناسب انداز سے اندراج کرکے کیٹلاگ بنا کر سرکاری عمارتوں میں رکھا جانا اور اس کی نمائش کرنا لازمی ہے۔ ایسے تحفوں کا اندراج متعلقہ ادارے یا دفتر کے اسٹاک رجسٹر میں کرنا لازمی ہے۔ 30 ہزار روپے مالیت تک کے تحفے وصول کنندہ مفت اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

سرکاری عہدیدار ماسوائے صدر مملکت اور سربراہِ حکومت کو یہ اجازت نہیں کہ وہ نجی حیثیت میں اپنے لیے یا اپنے اہل خانہ کیلئے سفارت کاروں، قونصلرز اور دیگر غیر ملکی نمائندوں، ملک کے کسی سرکاری ادارے یا نجی شخص یا پھر کمپنی سے تحفے لیں۔تاہم، اگر انتہائی غیر معمولی حالات میں جب تحفے سے انکار نہ کیا جا سکتا ہو تو ایسی صورت میں تحفہ لازمی طور پر توشہ خانے میں جمع کرانا ہوگا۔ ایسے تحفے جنہیں رکھا جا سکتا ہے اور نہ انہیں سرکاری عمارت میں نمائش کیلئے پیش کیا جا سکتا ہو انہیں کابینہ ڈویژن وقتاً فوقتاً نیلامی میں فروخت کرے گی جو سال میں دو مرتبہ منعقد کی جائے گی۔ جو تحفے فروخت کیے جانا ہیں ان کی فہرست تمام سرکاری اداروں، وفاقی حکومت اور فوج کے افسران میں تقسیم کی جائے گی۔ دو مرتبہ نیلامی کے انعقاد کے باوجود اگر کوئی تحفہ فروخت نہ کیا جا سکے تو اسے عوام کو فروخت کیلئے بذریعہ نیلامی پیش کیا جائے گا۔ نادر اور بیش قیمت آئٹمز اور گاڑیاں وصول کنندہ خرید نہیں سکتا۔ نادر اشیا کو میوزیم میں یا سرکاری عمارتوں میں نمائش کیلئے رکھا جائے گا جبکہ گاڑیوں کو کابینہ ڈویژن کے سینٹرل پوُل میں شامل کیا جائے گا۔ ان تحائف کی قبولیت یا انہیں فروخت کرنے کے حوالے سے طریقہ کار کا اطلاق صدر، وزیراعظم، ان کے اہل خانہ، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس سپریم کورٹ، گورنرز، ارکان وفاقی کابینہ، اٹارنی جنرل پاکستان، وزرائے مملکت، صوبائی کابینہ کے ارکان، سپریم کورٹ کے ججز، ہائی کورٹس کے ججز، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر منتخب نمائندوں، تمام سرکاری ملازمین (سویلین اور ملٹری) اور ساتھ ہی سرکار کے ماتحت کارپوریشنز کے ملازمین، خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کے ملازمین، ان کے اہل خانہ، زیر کفیل افراد، صوبائی حکومت کے ارکان، بیرون ملک کا سفر کرنے والے سرکاری عہدیدار اور سرکاری وفد میں شامل افراد پر ہوتا۔

Categories
شوبز

علی ظفر ہتک عزت کیس: کس کس کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے؟ عدالت نے حکم جاری کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) ضلع کچہری کی عدالت نے علی ظفر کے ہتک عزت کیس میں ہمنا رضا اور فریحہ ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے خلاف کیس پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے کیس پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں مقدمے میں ملوث ہمنا رضا اور فریحہ ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ عدالت نے مقدمے میں ملوث اداکار علی گل پیر اور عفت عمر کی ایک روزہ حاضری سے معافی کی منظوری بھی دی۔ عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع اور ماہم جاوید کو اگلی تاریخ پر ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 17 مئی تک ملتوی کردی۔

Categories
انٹرنیشنل

امریکی صدر پر حکم چلانے والا ’انسانی خرگوش‘ کون تھا؟

واشنگٹن ڈی سی: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک مختصر ویڈیو دیکھ کر لوگ حیران ہیں کہ خرگوش کے بھیس میں یہ نامعلوم شخص کون ہے جو امریکی صدر جو بائیڈن پر حکم چلاتے ہوئے انہیں ایک سے دوسری جگہ جانے کےلیے کہہ رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بائیڈن بھی کسی سعادت مند بچے کی طرح اس کا حکم مانتے ہوئے اُسی طرف چل دیتے ہیں کہ جس طرف چلنے کےلیے وہ خرگوش انہیں اشارہ کرتا ہے۔
ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی گئی ان دونوں ویڈیوز میں الگ الگ زاویئے سے اس خرگوش کو بائیڈن پر حکم چلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق، یہ ویڈیو پیر 18 اپریل کے روز وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی خصوصی تقریب ’’ایسٹر ایگ رول‘‘ کے موقع پر بنائی گئی تھی۔جو بائیڈن اس تقریب میں موجود لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے کہ افغان رپورٹر ناظرہ کریمی نے ان سے پاکستان اور افغانستان کے بارے میں سوال کردیا۔ بائیڈن نے اس سوال کا جواب دینا شروع کیا ہی تھا کہ ایسٹر بنی (ایسٹر خرگوش) کے بھیس میں ایک نامعلوم شخص تیزی سے وہاں آ پہنچا اور ’’ایسٹر بنی آگیا ہے!‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے، امریکی صدر کو دوسری طرف چلنے کا اشارہ کیا۔لوگوں کو زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جو بائیڈن نے بھی بلا چوں و چرا کیے اس خرگوش کا حکم مانا اور وہاں سے چل پڑے۔سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ یہ خرگوش غالباً وائٹ ہاؤس کا کوئی طاقتور اور انتہائی بااختیار عہدیدار ہے۔ اس حوالے سے کئی نام بھی لیے گئے لیکن بالآخر معلوم ہوا کہ وہ خرگوش کوئی مرد نہیں بلکہ خاتون تھیں جن کا نام میگن ہیز ہے۔میگن ہیز امریکی صدر کی خصوصی معاون اور وائٹ ہاؤس میں سرکاری پیغام رسانی (میسج) سے متعلق شعبے کی ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اپنے اسی عہدے کی بناء پر ایسٹر ایگ رول میں انہوں نے جو بائیڈن کو ایک بے موقع سوال کا جواب دینے سے باز رکھا اور دوسری طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ بائیڈن بھی فوراً یہ اشارہ سمجھ گئے اور دوسری جانب چل پڑے۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اسی معمولی سی بات کا بتنگڑ بنا کر یہ ویڈیو وائرل کروا دی۔

Categories
کھیل

معروف سابق لیفٹ آرم اسپنر انتقال کرگئے

ڈھاکا: (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کے سابق اسپنر 40 سالہ سابق اسپنر مشرف حسین دماغ کے سرطان کے باعث انتقال کر گئے۔ سابق اسپنر باؤلر مشرف حسین دماغ کے سرطان میں مبتلا تھے اور ڈھاکہ کے یونائیٹڈ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔مشرف حسین کو مارچ 2019 میں دماغ میں رسولی کی تشخیص ہوئی۔

ابتدائی علاج کے بعد مشرف کی طبیعت میں کچھ بحالی نظر آئی ، لیکن نومبر 2020ء میں یہ رسولی پھر سے بڑھنا شروع ہو گئی اور بالآخر مرض سے جنگ لڑتے وہ جان کی بازی ہار گئے ۔مشرف حسین نے بنگلہ دیش کی جانب سے 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں حصہ لیا اور 4 وکٹیں حاصل کیں ، لیکن انہوں نے اپنے 17 سالہ فرسٹ کلاس کیرئیر کے دوران 3 ہزار رنز بنائے اور 300 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔مشرف حسین بنگلہ دیش کے ان 7 کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔انٹرنیشنل کیریئر میں مشرف حسین کا پہلا مقابلہ 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف چٹا گرام میں کھیلا گیا ون ڈے مقابلہ تھا۔مشرف حسین کے کیریئر کی سب سے نمایاں جھلک 2013ء کے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فائنل میں ان کا مین آف دی میچ بننا تھا۔ جس میں انہوں نے ڈھاکا گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے میچ میں 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ڈومیسٹک سرکٹ میں شاندار کارکردگی کی بدولت انہیں 2016ء میں ایک مرتبہ پھر ٹیم میں طلب کیا گیا، جب انہوں نے افغانستان اور انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ایک، ایک میچ کھیلا ۔انگلینڈ کے خلاف اکتوبر 2016ء میں میرپور میں ہونے والا ون ڈے ان کے کیریئر کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا۔انہوں نے 112 فرسٹ ڈویژن میچوں میں 392 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ مشرف حسین نے ’لسٹ اے‘ میں بھی 104 میچ کھیلے اور 120 وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش کے سابق اسپنر نے اپنے طویل فرسٹ کلاس کیریئر میں نیشنل کرکٹ لیگ اور ڈھاکا پریمیئر لیگ کے ایک نمایاں کھلاڑی تھے۔

Categories
پاکستان

پاکستانیوں نے ایک ماہ میں کتنے ارب مالیت کے موبائل فون بیرن ملک سے درآمد کئے ؟ تہلکہ خیز رپورٹ منظر عام پر

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان نے مارچ 2022 کے دوران 33 ارب روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون بیرون ملک سے درآمد کئے ہیں۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال مارچ کے مہینے میں پاکستان نے 47 ارب 98 کروڑ روپے کے موبائل فون اور مواصلاتی آلات درآمد کئے، جب کہ فروری 2022 میں 38 ارب 14 کروڑ روپے مالیت کا مواصلاتی ساز و سامان درآمد کیا گیا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال مارچ کے مہینے میں 47 ارب 36 کروڑ روپے کا مواصلاتی سامان درآمد کیا تھا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 33 ارب روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون درآمد کئے گئے۔ فروری 2022 میں 24 ارب 92 کروڑ روپے سے زائد کے موبائل فون درآمد کئے گئے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2021 میں 35 ارب روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون بیرون ملک سے پاکستان لائے گئے تھے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو سامنے رکھتے ہوئے موبائل فون کی درآمدات کو سامنے رکھا جائے تو اس میں کمی واقع پوئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022 میں 18 کروڑ 38 لاکھ ڈالرز سے زائد مالیت کے موبائل فون درآمد کئے گئے جب کہ فروری 2022 میں 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کے موبائل فون بیرون ملک سے منگوائے گئے تھے۔ اسی طرح مارچ 2021 میں 22 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز کے موبائل فون بیرون ملک سے درآمد کئے گئے تھے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

آئی فون 16 کا اہم فیچرمنظرعام پرآگیا!! جان کر آپ دنگ رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) ایپل آئی فون کودنیا بھرمیں امارات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ہرماڈل مہنگا ہونے کے باوجود ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتاہے۔ آئی فون کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ایک ماڈل کومارکیٹ کرنے کے کچھ ہی دن بعد نئے ماڈل کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگتی ہیں۔گزشتہ سال آئی فون 13 سیریزنے کورونا کی وجہ سے زبوں حالی کا شکارعالمی معیشت کے باوجود فروخت کے نئے ریکارڈ بنائے تودوسری جانب آئی فون کے شوقین افراد نے آئی فون 14 کے فیچرزاورریلیزکی تاریخ کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع کردیں۔ ایپل کی مصنوعات کے حوالے سے اندرکی خبردینے والے ٹیکنالوجسٹ اوربین الاقوامی مالیاتی فرم ٹی ایف انٹرنیشنل سیکیوریٹیز کے سابق تجزیہ کارمنگ چی کیونے آئی فون 16 سیریزکے حوالے سے اہم لیک جاری کردی ہے۔منگ کے مطابق ایپل 2024 میں 16 سیریزکوڈسپلے میں نمایاں تبدیلیوں کے ساتھ پیش کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایپل کا فل اسکرین کا حامل پہلا فون ہوگا جس میں رتی بھربھی بیزل نہیں دیا جائے گا۔ جب کہ یہ انڈرڈسپلے فیس آئی ڈی اورانڈراسکرین کیمرے کا حامل پہلا آئی فون بھی ہوگا۔اس حوالے سے منگ کا مزید کہنا ہے کہ ایپل2024 میں ہائی اینڈ آئی فون مارکیٹ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اوراسی تناظرمیں وہ اپنی اسکرین کوبہترسے بہتربنانے پرکام کررہا ہے۔کم کی جانب سے گزشتہ ماہ ایپل آئی فون 14 اور14 پروکی اسکرین کے حوالے سے لیک جاری کی گئی تھی۔ جس کے مطابق آئی فون 14 کو 6.06 انچ کی لچک دارOLEAD جب کہ 14 پرومیں 6.06 انچ کی لچک دارOLEAD LTPO اسکرین فراہم کی جائے گی۔ آئی فون 14 میکس کو6.68 انچ لچک دارOLEAD اورآئی فون 14 پرومیکس میں 6.68 انچ OLEAD ٹچ اسکرین سے آراستہ کیا جائے گا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

خواتین میں مردوں کی نسبت ترقی کی لگن کم کیوں ہوتی ہے ؟ حیران کن وجہ وجہ سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خواتین مردوں سے کم ترقی کی خواہاں ہوتی ہے کیوں کہ وہ کام پر زیادہ دباؤ، غصہ اور ناامیدی محسوس کر رہی ہوتی ہیں۔ کام پر جذبات میں جنسی اختلافات پر کی جانے والی نئی تحقیق کے مطابق رہنمائی کے لیے مثبت جذبات ضروری ہیں، جس کا مطلب ہے کہ خواتین کا زیادہ دباؤ محسوس کرنے اور غصہ کرنے جیسے منفی جذبات ان کے رہنمائی کرنے کے عمل میں مشکل کی صورت حائل ہیں۔ییل یونیورسٹی کے ماہرین کو معلوم ہوا کہ مردوں کی نسبت خواتین نے بتایا کہ کام پر وہ جذباتی ہوتی ہی، دباؤ، غصہ، تناؤ اور نا امیدی کے ساتھ کم عزت اور کم اعتماد محسوس کرتی ہیں۔ انہیں نوکری کی جگہ پر کچھ مثبت احساسات کا تجربہ بھی ہوتا ہے لیکن پیشہ ورانہ ترقی کا زینہ چڑھنے کے لیے اس کا جذباتی فائدہ کم ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نوکری پر جذبات میں جنسی اختلافات پر بہت کم مطالعے کیے گئے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ اس کو سمجھنا خصوصی طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ جذبات کام کی کارکردگی، فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت، عدم حاضری، مسائل کے حل اور مؤثر رہنمائی پر اثر ڈالتے ہیں۔تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف زیوریخ اور کیمبرج جج بزنس اسکول کے استاد جوشین مینگیس کا کہنا تھا کہ کسی کے لیے بھی جذبات، دباؤ، کم عزت اور کم اعتمادی کے احساس میں اَن دیکھی حدود کو پار کر جانا مشکل ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جذبات کا بوجھ نہ صرف خواتین سے ترقی کے مواقع ان سے چھینتا ہے بلکہ انہیں ادارے میں اپنی بہترین صلاحیت کا اظہار کرنے سے بھی روکتا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

عوام لاعلم!! دنیا کی مقبول ترین ایپلی کیشن واٹس ایپ نے چپکے سے اہم تبدیلی کر دی

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا کی مقبول ترین میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نےاپنے استعمال کنندگان کے لیے ایک اہم تبدیلی کردی ہے۔واٹس ایپ میں ہونے والی تبدیلیوں پرنظررکھنے والی ویب سائٹ وے بی ٹا انفو کے مطابق اس اہم تبدیلی کا اعلان میٹا کے بانی نے اپنی فیس بک پوسٹ پرکیا ہے۔فیس بک بانی نے ’ کمیونٹی ‘ فیچرکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم بامقصد اورموثرروابط کے لیے یکساں نوعیت کے حامل مختلف واٹس ایپ گروپس کو ایک ہی کمیونٹی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ کمیونٹی فیچرکی مدد سے عمومی نوعیت کے اعلانات بھی کیے جاسکتے ہیں، جب کہ اسی طرزپردیگرکمیونیٹیزبھی تخلیق کی جاسکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فیچرابھی ڈیولپمنٹ کے مراحل میں ہے۔ جوابھی تک بی ٹا صارفین کے لیے بھی دست یاب نہیں ہے۔ تاہم اسے تجرباتی طورپرکچھ صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ ممکنہ طورپراس فیچرکواس سال کے آخرتک تمام آئی او ایس اور اینڈروئیڈ صارفین کے لیے جاری کردیا جائے گا۔واٹس ایپ نے آفیشل ٹوئٹراکاؤنٹ سے بھی اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایک ویڈیوشیئرکی ہے۔ مارک زکربرگ کی پوسٹ میں واٹس ایپ صارفین کے لیے مزید نئے فیچرز کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس میں میسیجز ری ایکشنز، بڑی فائلزکی شیئرنگ بھی شامل ہیں۔

Categories
بڑی خبر

بڑے بڑوں کے پیچھے چھوڑ دیا!!!!! عمران خان ٹوئٹر سپیس پر چھا گئے، کونسا ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا؟ جانیے

لاہور: (ویب ڈیسک) بدھ کی رات پاکستان میں ٹوئٹر صارفین کی ایک بڑی تعداد دنیا کے تمام موضوعات کو چھوڑ کر صرف ایک ہی موضوع پر گفتگو کررہی تھی کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر سپیس پر کیا باتیں کیں اور انہیں سننے والے لوگوں کی تعداد کتنی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس ٹوئٹر سپیس میں سابق وزیراعظم نے اپنے سیاسی کیریئر، اپنی حکومت، چیلنجز اور سول ملٹری تعلقات سمیت دیگر موضوعات پر سوالات کے جوابات دیے۔

ان سوالات کے جوابات کسی کو پسند آئے تو کوئی ان پر تنقید کرتا ہوا نظر آیا لیکن اس سپیس کو سننے والے افراد کی تعداد اتنی تھی کہ اسے نظرانداز کرنا مشکل تھا۔ ٹوئٹر پر کئی صارفین بشمول (پاکستان تحریک انصاف) پی ٹی آئی کے حامی اسے ورلڈ ریکارڈ قرار دے رہے ہیں۔ ایک وقت میں پی ٹی آئی کے سپیس میں تقریباً 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد لوگ سابق وزیراعظم کو سن رہے تھے۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن جبران الیاس نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کسی بھی ایک سپیس میں سب سے زیادہ لوگوں کی شرکت کا ریکارڈ 57 ہزار تھا جو پی ٹی آئی نے نے توڑ دیا ہے۔ انہوں سپیس کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی سپیس میں ایک وقت میں 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد لوگ موجود تھے۔ عمران خان کے سابق فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کے مطابق ایک گھنٹے جاری رہنے والے اس سپیس میں مجموعی طور پر 5 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ لوگوں کی شرکت کے اعتبار سے یقیناً گذشتہ رات ہونے والے ٹوئٹر سییس کا شمار بڑے سپیسز میں ہوتا ہے۔ تاہم اس سپیس سے کوئی ریکارڈ ٹوٹا یا نہیں اس حوالے سے ٹوئٹر کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ اور سرٹیفیکیٹ کا سکرین شاٹ ضرور گردش کررہا ہے جس کے مطابق ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے اور یہ بات خود ’گنیز ورلڈ ریکارڈز‘ کی جانب سے کہی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل یہ ٹویٹ اور سرٹفیکیٹ دونوں ہی جعلی ہیں۔ ٹویٹ میں ’گنیز ورلڈ ریکارڈز‘ نے وہی ہیش ٹیگ استعمال کیا جو پی ٹی آئی کے حامی چلا رہے ہیں جو کہ ’امپورٹد حکومت نامنظور‘ ہے۔ ’گنیز ورلڈ ریکارڈز‘ کے اصلی اکاؤنٹ کو کئی مرتبہ کھنگالنے کے بعد بھی کوئی ایسی ٹویٹ نہیں ملی جس میں انہوں نے ٹوئٹر سپیس یا ورلڈ ریکارڈ کی بات کی ہو۔

Categories
انٹرنیشنل

‘فی منٹ سوچنے کی 10 لاکھ ڈالر کمائی’!! معروف امریکی کمپنی کے سربراہ نے بڑی بات کہہ ڈالی

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) الیکٹرک کاریں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی سوچ کا ہر منٹ ٹیسلا کو 10 لاکھ ڈالر کمانے میں مدد کر رہا ہے۔جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والی کاروباری شخصیت نے اعتراف کیا کہ انہوں نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی اور ایرو سپیس ٹرانسپورٹیشن کمپنی سپیس ایکس کے لیے ’سوچ کی آخری حد تک‘ کام کیا۔ انہوں نے ایک ملاقات کو یاد کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کمپنی کے لیے ’مالی فائدے کو‘ 10 لاکھ ڈالر تک لے گئے۔

امریکی میڈیا ادارے ٹی ای ڈی سے کے سربراہ کرس اینڈرسن کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا: ’جو چیز نیند کو لازمی طور پر مشکل بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ٹیسلا کے بارے میں سوچنے کے ہر اچھے گھنٹے حتیٰ کہ منٹ کا کمپنی پر اتنا زیادہ اثر پڑتا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میں واقعی اتنا کام کرنے کی کوشش کرتا ہوں جتنا ممکن ہو یعنی سوچ کی آخری حد تک۔‘ان کا کہنا تھا: ’ٹیسلا اس مقام کی طرف بڑھ رہی ہے یا شاید اس سال بعد میں کسی وقت اس جگہ پہنچ جائے گی جہاں سوچنے کے ہر اچھے، اعلیٰ معیار کے ہر منٹ کا ٹیسلا پر 10 لاکھ ڈالر کا اثر پڑے گا۔ یہ نہایت شاندار بات ہے۔‘ ’اگر ٹیسلا ہفتے میں دو ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کر رہی ہے تو یہ یومیہ 30 کڑوڑ ڈالر بنتا ہے۔ ہفتے میں سات دن۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں آدھے گھنٹے کی ملاقات ہوئی جہاں میں کمپنی کے مالی فائدے کو آدھے گھنٹے میں 10 کروڑ ڈالر تک لے جانے میں کامیاب رہا۔‘مسک جنہوں نے گذشتہ ہفتے ٹیسلا کی خریداری کے لیے 43 ارب ڈالر کی حیران کن بولی کا آغاز کیا، انہوں نے اپنے آپ کو دنیا کا امیر ترین شخص قرار دیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 251 ارب ڈالر کے ذاتی اثاثوں کے مالک ہیں۔مسک کے بقول: ’یہ بہت بڑا مسئلہ ہوتا اگر میں ذاتی طور پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہوتا لیکن یہ بات نہیں ہے۔‘’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت میرے پاس ذاتی مکان تک نہیں ہے۔ میں عملی طور پر دوستوں کے گھر سوتا ہوں۔ میرے پاس کشتی نہیں ہے۔ میں واقعی چھٹیوں سے لطف اندوز نہیں ہوتا۔ میرے ذاتی اخراجات زیادہ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ بس ایک بات ہے کہ میرے پاس طیارہ ہے۔ اگر میں طیارہ استعمال نہ کروں تو اس صورت میں کام کے لیے میرے پاس کم وقت بچے گا۔‘