ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اپنی حالیہ ٹویٹ میں میں نے کہا تھا: مہذب معاشرے میں خواتین کو تحفظ چار دیواری کے باہر دیا جاتا ہے اور اسی کو کامیاب پولیسینگ کہتے ہیں۔ اگر عورت کی عزت وقت اور حالات کی پابند ہے تو پھر ریاست کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ عورتیں تو سپیس تک جا پہنچی ہیں

اور ہم انہیں اندھیروں سے روک رہے ہیں۔نامور قانون دان بیرسٹر علی ظفر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس ٹویٹ پر مختلف طرح کی آرائیں سامنے آئیں۔ ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ مجرموں کو سر عام تختہ دار پر چڑھا دیا جائے ۔ کچھ نے انہیں ناکارہ بنانے کی تجویز دی۔ بعض کا مشورہ تھا کہ انہیں سنگ سار کیا جائے۔ ایک طبقہ سی سی پی او لاہور کے بیان سے بھی نالاں تھا اور ان کے ہٹانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے سی سی پی او کے بیان کی حمایت کی، جس میں موصوف نے کہا تھا:ــ ـ “عورتوں کو رات کے وقت اکیلے سفر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ” اور ایک مخصوص طبقے نے تختہ دار کی سزا کو بطور سزا مسترد ہی کر دیا ۔ پاکستانی قوانین کے مطابق بدفعلی میں ملوث افراد کو پچیس سال قید یا تختہ دار کی سزا دی جاتی ہے۔ سیالکوٹ لاہور موٹروے پر ہونے والا اندوہناک واقعہ جس میں خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے ظلم کا نشانہ بنایا گیا نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ طلملا اٹھے اور مطالبہ کیا کہ مجرموں کو عبرت ناک اور سخت ترین سزا دی جائے۔ ہر ملک سزاؤں کا تعین اپنے مخصوص حالات کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے۔ بہت سے یورپی اور امریکہ کی دس ریاستوں میں بداخلاقی میں ملوث افراد کو بطور سزا طبی طور پر ناکارہ کر دیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اس سزا کو مجرم کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

اگر وہ مدت سزا میں کمی چاہے تو بدلے میں اسے ناکارہ ہونا ہو گا۔ پاکستانی قوانین میں ترمیم کر کے ان سزاؤں کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بداخلاقی میں ملوث مجروموں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سزائیں آئین پاکستان سے متصادم نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سخت سزاؤں کے قانون سے ہم مجرموں کو اس گھنائونے جرم سے روک سکتے ہیں؟ تحقیق بتاتی ہے کہ تختہ دار پر پہنچنے سے بچنے کے خوف سے اکثر مجرم ظلم کا نشانہ بننے والے شخص کو زندگی سے محروم کر دیتے ہیں تاکہ جرم تک پہنچنے کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ مگر پاکستانی سوسائٹی میں تختہ دار ہی ایک ایسا مرہم ہے جو مظلومہ اور اس کے خاندان کے زخم پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ اس لیے اس سزا کا اطلاق ضروری ہے۔ حالانکہ معاملہ یہ ہے کہ مجرم سزا کی درشتگی سے اتنا خائف نہیں ہوتا جتنا پکڑے جانے کے ڈر سے ہوتا ہے۔ اس لیے سزاؤں کو یقینی بنانے نہ کہ سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ سال پہلے زینب نامی ایک بچی کو ظلم کا نشانہ بنایا اور پھر اسے زندگی سے محروم کردیا گیا ۔اس واقعہ سے پاکستان میں کہرام مچ گیا۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ اس واقع کو مثال بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس قسم کی قبیح حرکت نہ کرے۔ ہم نے دیکھا کہ زینت کا مجرم پکڑا گیا اور اسے سزا بھی دی گئی ۔ مگر اس جرم کے ارتکاب میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی۔